’تلنگے‘ انقلاب نہیں لایا کرتے
عاشقان عمران ان دنوں اس مشتعل شخص جیسا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں جو گدھے سے گرنے کا ذمہ دار کمہار کو ٹھہرا دیتا ہے۔ ”انقلاب“ برپا کرنے کی خاطر ان عاشقان کو 24 نومبر کے دن اسلام آباد محترمہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پورلائے تھے۔ پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہی ”کارروان انقلاب“ کا یہاں کی ”پلس“ سے مقابلہ شروع ہوگیا۔ میرے اور آپ کے دیے ٹیکسوں سے خریدے پنجاب کی پولیس نے پشاور سے آئے قافلے پر آنسو گیس کے شیل پھینکے تو کارروان میں گھسے صوبہ خیبر پختونخواہ کے پولیس اہلکاروں نے بھی جوابی شیلنگ کی۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے بالآخر علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی اسلام آباد میں داخل ہو گئے۔ یہاں داخلے کے بعد ان کی منزل ریڈزون میں واقع ڈی چوک تھی۔
ڈی چوک وہ مقام ہے جو ریاست اور حکومت پاکستان کی نمائندہ عمارتوں مثلاً پارلیمان، سپریم کورٹ اور ایوان صدر کے عین سامنے ہے۔ مظاہرین اس مقام پر جمع ہوکر درحقیقت ریاست وحکومت پاکستان کو للکارتے ہیں۔ 24 نومبر کی رات سے اسلام آباد داخلے کی کاوشوں میں مبتلا ہجوم کو یہاں پہنچ کر اس وقت تک دھرنا دیے رکھنا تھا جب تک ان کے قائد عمران خان کو اڈیالہ سے رہا نہیں کیا جاتا۔ ریاستی قوت کو مختصراََ نیچا دکھانا مقصود تھا۔
پاکستان جیسے ملکوں میں اقتدار سے محروم ہوئے سیاستدانوں کی گرفتاری ان کے چاہنے والوں نے کبھی بھی واجب و جائز نہیں سمجھی۔ سیاست کا دیرینہ طالب علم ہوتے ہوئے میں بطور صحافی اس سوچ سے متفق ہوں کہ ہماری حکومتیں مقبول سیاستدانوں سے خوف کھاتی ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے سیاستدانوں کو جائز و ناجائز مقدمات کی بدولت زیادہ سے زیادہ عرصہ تک جیل میں رکھا جائے۔ ہمارے کئی سیاستدانوں نے محض مقبول ہونے کے جرم میں اپنی زندگیاں جیلوں کی نذر کردیں۔ انہیں اگرچہ دورِ حاضر کے انقلابی بھول بھال چکے ہیں۔
اپنی حکومتوں کے جابرانہ رویے کا شاہد ہونے کے باوجود میں اصرار کرتا رہا کہ عاشقان عمران کے انتہائی جذباتی ہجوم کو اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچا کر بھی ریاست کوجھکایا نہیں جاسکتا۔ ہجوم سے دب جانے کے بجائے ریاست بلکہ ہجوم کے ”زعم“ کو مزید جبر سے کچلنے کو مصر ہو جاتی ہے۔
اس سوچ کا اظہار اس کالم اور سوشل میڈیا پر کیا تو عاشقان عمران کا غول میرے خلاف مغلظات سے بھری واہی تباہی بکنے لگا۔ بنیادی گناہ میرا یہ ٹھہرایا گیا کہ میں ”بڈھا“ ہو گیا ہوں۔ اپنے ذہن میں جمع ہوئے فرسودہ اور شکست خوردہ خیالات دہراتے رہنے کے بجائے مجھ ”ٹاﺅٹ“ صحافی کو ریٹائر ہوجانا چاہیے۔ ریٹائر ہونے کا مشورہ دینے والے تاہم یہ سمجھا نہ پائے کہ صحافت چھوڑ دی تو گھر کا خرچہ کیسے چلاﺅں گا۔ فرض کیا میں جابر قوتوں کا ”ٹاﺅٹ“ ہوں تب بھی وہ اسی صورت ”چائے پانی“ کے لئے کچھ رقم دیں گے اگر میں اپنی تحریروں اورٹی وی کے علاوہ سوشل میڈیا پر ادا کئے کلمات کے ذریعے دورِ حاضر کے انقلابیوں کو گمراہ یا دل شکستہ کرنے کی کاوش میں مصروف رہوں گا۔
سوشل میڈیا پر چھائے دونمبر انقلابیوں کا غول مجھے ریٹائر ہونے کو مجبور نہ کرپایا تو نہایت رعونت سے بتانا شروع ہو گیا کہ میں تاریخ کی ”غلط سمت“ کھڑا ہوں۔ تاریخ کی غلط سمت ”کھڑا ہونا“اپنے تئیں ایک فیشن ایبل مگر فرسودہ تصور ہے۔ مجھ بدنصیب نے جتنی تاریخ پڑھی ہے اس میں تاریخ بذاتِ خود مظلوم نہیں بلکہ ہمیشہ ظالم کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔
آج کی خبر نہیں مگر جن دنوں میں سکول میں تھا تو ہمیں نصاب میں جنگ پلاسی پڑھائی جاتی تھی۔ انگریزوں نے یہ جنگ بنگال کے نواب سراج الدولہ پرمسلط کی تھی۔ ہمیں یہ بھی پڑھایا گیا کہ اپنی دھرتی کو سامراج کی غلامی سے آزاد رکھنے کو ڈٹے نواب سراج الدولہ کو انگریز محض اس وجہ سے شکست دے پائے کیونکہ اس کا آرمی چیف -میر جعفر- ”غدار“ہوکر دشمنوں سے مل گیا تھا۔ 1980 میں لندن گیا تو کئی دنوں تک روزانہ وہاں کی انڈیا آفس لائبریری جاتا رہا۔ وہاں بہت لگن سے میں نے ایسا مواد جمع کرنے کی کوشش کی جو سمجھاسکے کہ نواب سراج الدولہ کو شکست کیوں ہوئی تھی۔ میری تحقیق نے جو اجاگر کیا اسے لکھنے سے خوف آتا ہے۔ محض یہ کہتے ہوئے جند چھڑالیتا ہوں کہ تاریخ نے اس وقت نواب سراج الدولہ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ جذباتی ذہن سے جانچنے کی کوشش کریں تو تاریخ اس وقت ”درست“ سمت کی جانب رواں نہیں تھی۔
کالم کی تنگ دامنی کی وجہ سے اپنی بات سمجھانے کے لئے مثالوں کا انبار لگا نہیں سکتا۔ فقط 1857ء یاد کر لیتے ہیں۔ انگریز اس برس میں جو ہوا اسے ”غدر“ اور ہم ”جنگ آزادی“ پکارتے ہیں۔ ”جنگ آزادی“ کے نام پر جو ”مجاہدین“ 1857ء کی دلی میں گھس آئے تھے انہیں وہاں کے رہائشی ”تلنگے“ پکارنا شروع ہو گئے۔ وہ کسی بھی گھر یا دوکان میں گھس کر اپنی جدوجہد کا ”خراج“ وصول کرنا شروع ہو جاتے۔ ان کے خوف سے مرزا غالب اپنے گھر میں محصور ہوگئے۔ خوش نصیب تھے کہ جس علاقے میں رہتے تھے وہاں مہاراجہ پٹیالہ کئی عمارتوں کا مالک تھا۔ ان کی نگہبانی کے لئے اس نے اپنے ہاں سے ”مشٹنڈے“ بھیج رکھے تھے۔ ”غالب“ لہٰذا محفوظ رہے۔ گھر سے نکل کر تاریخ کی ”درست سمت“ کھڑے ہونے کے بجائے وہ گھر بیٹھے ہی دوستوں کو چٹھیاں لکھتے رہے۔ ان کے لکھے خطوط پڑھنے کی بدولت ہی یہ قلم گھسیٹ اردو کے ایک دو فقرے لکھنے کے قابل ہوا ہے۔ کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ غالب جوش میں اپنا گھر بار چھوڑ کر تلنگوں کے ساتھ ”تاریخ کی درست سمت“ کھڑے ہو جاتے تو مجھ جیسے سینکڑوں افراد اردو میں چند فقرے لکھنے کے قابل بھی ہوتے یا نہیں۔ ”تاریخ“ ہمیشہ جیتنے والی قوتوں نے لکھی ہے۔ اس نے ”درست راہ“ کبھی دکھائی نہیں اور تاریخ ہی نے بتایا ہے کہ ”تلنگے“ انقلاب نہیں لایا کرتے۔ جابر قوتوں کو بلکہ مزید جابر بنا دیتے ہیں۔
(بشکریہ نوائے وقت)



انگریزوں نے ہندوستان میں جو پہلی "باوردی” فوج بھرتی کی تھی وہ تلنگانہ (تیلگو بولنے والے) سے تھی اور اسی سے تلنگا ایک گالی کی طرح نکلا۔
–
ہندوستان کی ادبا، شعراء اور بڑے بوڑھے "تلنگا” کو گالی یا معیوب اسی لئے کہتے اور سمجھتے تھے کہ وہ کالے انگریز تھے۔ بے چارے دونوں طرف سے مار کھاتے تھے۔ سو جب جب داؤ لگتا وہی کچھ کرتے جو "طنز” میں فرحت اللہ بیگ سے لے کر غالب بیان کرتے رہے۔
–
آندھرا پردیش (جس میں حیدرآباد شامل ہوتا تھا) سے تیلگو بولنے والے لوگوں نے بالآخر سن 2014 میں الگ صوبہ یا ریاست بنواکر علیحدگی حاصل کرلی۔ اور اب تلنگانہ انڈیا کی ریاست کا نام ہے۔ جہاں تیلگو بولنے والوں کی اکثریت ہے اور مقامی لوگ بدستور تلنگا بھی کہلاتے ہیں