بگٹی عورت


2004 کے اعداد و شمار کے مطابق، ڈیرہ بگٹی سے ماہانہ 470 ارب روپے کی گیس نکل رہی تھی۔ اس کے بعد سے کئی نئے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ حال ہی میں اوچ کے مقام پر 34 نئے گیس کے کنویں دریافت کیے گئے ہیں۔ یہ علاقہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے امیر ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔

اگر اس علاقے کی سیاست پر نظر ڈالیں تو یہاں سے منتخب ہونے والے ایم پی اے اور ایم این اے ہمیشہ کسی نہ کسی اہم وزارت پر فائز رہے ہیں۔ ان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بڑی وزارتیں شامل ہیں۔ موجودہ حکومت میں، ڈیرہ بگٹی سے منتخب ایم پی اے میر سرفراز احمد بگٹی بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ہیں، جبکہ ایم این اے میاں خان بگٹی وفاقی سیکرٹری برائے پیٹرولیم کے عہدے پر فائز ہیں۔ لیکن اس تمام سیاسی اثر و رسوخ اور وسائل کی موجودگی کے باوجود، ڈیرہ بگٹی میں آج تک ایک زچہ و بچہ مرکز قائم نہیں کیا جا سکا۔ اس بنیادی سہولت کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہر ماہ 2 سے 3 خواتین اور ان کے نومولود بچے زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ میر احمدان بگٹی کے دور میں زچہ و بچہ مرکز کے لیے 35 کروڑ روپے منظور کیے گئے تھے، لیکن وہ پیسہ کہاں خرچ ہوا، اس کا کچھ پتہ نہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں رہائش پذیر بگٹی قبیلے میں خواتین کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ قبائلی نظام میں خواتین کو آدھا انسان سمجھا جاتا ہے۔ ان کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور تعلیم حاصل کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ کم عمری کی شادی عام ہے، اور 13 سے 14 سال کی عمر میں لڑکیوں کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ ان کم عمر لڑکیوں کو مناسب طبی سہولیات میسر نہیں ہوتیں، اور وہ مسلسل 6 سے 7 بچوں کو جنم دینے کے بعد جسمانی طور پر کمزور ہو جاتی ہیں۔ زچگی کے دن جب یہ خواتین کمزور جسم کے ساتھ بچے کو جنم دینے کی کوشش کرتی ہیں، تو اکثر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ یہ نسل کشی کئی سالوں سے جاری ہے، اور حکومت اسے روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

حکومتی دعووں کے باوجود، زچہ و بچہ مراکز قائم کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ جو ڈاکٹرز وہاں تعینات ہیں، وہ اکثر غیر حاضر رہتے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، اس ماہ تین خواتین زچگی کے دوران انتقال کر چکی ہیں، اور اس سال مجموعی طور پر 20 سے زائد خواتین موت کے منہ میں جا چکی ہیں۔

قبائلی معاشرے میں خواتین کے حقوق پر بات کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ خواتین کو نیم انسان کا درجہ دیا جاتا ہے، ان کی پیدائش پر کوئی خوشی نہیں منائی جاتی، اور موت کو بھی معمول سمجھا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومتِ وقت سے اپیل ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں خواتین کی نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ زچہ و بچہ مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے اور صحت کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ بگٹی خواتین اور ان کے بچوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔

Facebook Comments HS