کیا گوادر آسمان سے ٹپکا تھا؟


گوادر۔ گوادر۔ گوادر۔ اب آپ کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھیں تو گوادر کا کہیں نا کہیں ذکرِ خیر مل جائے گا؛ بندر گاہ، یا سی پیک، یا چین کے حوالے سے۔ پاکستان کے تقریباً ہر شہری کو گوادر کا نام اور اس کی اہمیت کے بارے میں تھوڑا بہت اندازہ ہے۔ لیکن جب 1947 ء میں پاکستان بنا تو یہ پاکستان کی سر زمین کا حصّہ نہیں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں بچّہ تھا تو کراچی سے کئی کاروباری لوگ کشتیوں میں بیٹھ کر گوادر گئے اور غیر ممالک کی بنی ہوئی روز مرہ کے استعمال کی اشیا کے ساتھ لدے پھندے واپس آئے۔ ان میں میرے ایک قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے ان اشیاء کو بیچ کر خاطر خواہ پیسے کمائے۔ تب میں نے پہلی بار ہوائی چپّل کو دیکھا تھا۔ پتا چلا کہ گوادر جو پہلے سلطنت اومان میں تھا، اب وہ پاکستان کی سرزمین کا حصّہ بن گیا تھا۔

اس کے بعد گوادر کو، جو اس وقت ایک مچھیروں کی بستی تھی، سب بھول گئے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل اس کے نام کا ہر سو چرچا ہونے لگا جب چین نے وہاں بندرگاہ بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ کیا کسی نے یہ سوچنے یا ذکر کرنے کی زحمت کی کہ گوادر پاکستان کا حصہ کیسے بنا؟ اس کے بارے میں شاذ و نادر ہی کوئی بات کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک صبح اومان کا جھنڈا غائب ہو گیا اور اس کی جگہ پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا ہو۔

1783 ء میں جب سید سعید ’مسقط اور اومان‘ ( 1749 ء میں قائم ہونے والی اس آزاد ریاست کا یہ نام رکھا گیا تھا) کا حکمران بنا تو اس کے اپنے بھائی امام سلطان سے اختلافات پیدا ہو گئے۔ سید سعید مکران میں محفوظ مقام پر فرار ہو گیا اور قلات کے ناصر خان سے رابطہ قائم کیا۔ سعید کو گوادر کی آمدنی میں سے حصہ دیا جانے لگا۔ وہ 1797 ء تک جنگ کی تیّاری کے لئے گوادر میں رہا جب تلک کہ وہ جنگ جیت کر مسقط اور عمان پر حکمرانی کرنے واپس نہیں چلا گیا۔ لیکن اس نے گوادر کو واپس نہیں کیا اور ستمبر 1958 ء تک سلطنت کے حصے کے طور پر گوادر اومانی قبضے میں ہی رہا۔

فیروز خان نون

1947 ء میں پاکستان وجود میں آیا تو پاکستان کو قلات تَو مل گیا لیکن گوادر تب بھی اومان کے پاس تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ خود اومان اس وقت برطانیہ کی نوآبادی بن چکا تھا، اور گوادر کی موجودگی پاکستان کے لئے ایک خطرہ تھی۔ کوئی بھی ملک گوادر کے ذریعے پاکستان پر حملہ آور ہو سکتا تھا یا کم از کم پاکستان پر دباؤ ڈال سکتا تھا۔

وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد پاکستان میں پے در پے وزیر اعظم بدلتے رہے۔ دسمبر 1957 ء میں جس سیاستدان نے وزیراعظم کے عہدہ کا حلف لیا ان کو اکتوبر 1958 ء میں صدر اسکندر مرزا اور کمانڈر انچیف ایوب خان نے مارشل لاء لگا کر سبکدوش کر دیا۔ لیکن ان چند ماہ میں اس وزیر اعظم اور اس کی بیگم کی انتھک کوششوں کے طفیل اومان سے گوادر کو خرید لیا گیا۔

قوم کے اس بھلائے گئے ہیرو نے اعلیٰ تعلیم لاہور اور لندن سے حاصل کی اور لندن سے ہی بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ 1917 ء میں ہندوستان واپسی کے بعد انہوں نے وکالت شروع کی، 1920 ء میں سیاست میں قدم رکھا، اور پنجاب کی حکومت میں وزیر بھی رہے۔ 1932 ء اور اس کے بعد کے چند سالوں میں انہیں انگریز حکومت سے اچھے تعلقات اور ان کی خدمات کی وجہ سے کئی خطابات سے نوازا گیا۔ 1947 ء تک انہوں نے انگریزوں کی حکومت میں اہم عہدوں پہ کام کیا مثلاً برطانیہ کے لئے بھارت کے ہائی کمشنر اور بھارت کی طرف سے اقوامِ متحدّہ کے لئے سفیر بنے۔ انہوں نے قلات میں امریکی پٹرولیم کمپنیوں کی آمد اور کام کرنے کی سخت مخالفت کی، دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کی حمایت کی، اور برطانوی وزیر اعظم چرچل کو کانگریس کی ’بھارت چھوڑو‘ مہم کو نہ ماننے کے لئے مرعوب کیا اور انہیں انگریزوں کے لئے بھارتی مسلمانوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

پاکستان بننے کے بعد وہ کئی اہم سرکاری عہدوں پہ فائز ہوئے اور 1953 ء میں پنجاب کے و زیرِ اعلیٰ مقرّر ہوئے۔ 1955 ء میں فیروز خان نون نے مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے قیام میں حصہ لیا۔ انہوں نے ون یونٹ پروگرام کی حمایت کی، جس کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ایک انتظامی اکائی میں ضم کر دیا گیا۔ تاہم، یہ فیصلہ غیر مدبرانہ ثابت ہوا، کیونکہ اس سے سندھی، بلوچی، اور پختون قومیتوں نے اپنے سیاسی و ثقافتی استحصال کا شکوہ کیا جو بعد میں پنجاب کے خلاف ناراضگی اور نفرت کا سبب بنا۔

Feroz Khan Noon (1893 – 1970), Minister of Labour in the Viceroy’s Executive Council, in his office in India, 10th April 1942. (Photo by Fox Photos/Hulton Archive/Getty Images)

عوامی لیگ کے حسین سہروردی اور مسلم لیگ کے آئی آئی چندریگر کے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفوں کے بعد نون نے کامیابی کے ساتھ کئی دوسری پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا جس سے انہیں وزیراعظم کی حیثیت سے حکومت بنانے کے لئے اکثریت حاصل ہو گئی۔ 16 دسمبر 1957 ء کو نون نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا اور مخلوط حکومت تشکیل دی۔ نون نے اس وقت کے صدر اسکندر مرزا کے دوبارہ صدارتی انتخاب کی حمایت نہیں کی بلکہ ان کا تین جماعتی اتحاد 1958 ء میں صدر مرزا کی جگہ لینے کے لئے کسی اور امیدوار کو نامزد کرنے کے لئے بات چیت کر رہا تھا۔

1956 ء کے آئین کے مطابق نومبر 1958 ء تک ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہونا تھا۔ لیکن صدر اسکندر مرزا نے فروری 1959 ء تک انتخابات کو مؤخر کر دیا اور 7 / 8 اکتوبر 1958 ء کی آدھی رات کو صدر مرزا اور کمانڈر انچیف ایّوب خان نے مل کر حکومت کے خلاف بغاوت کی، مارشل لاء نافذ کیا، اور اس طرح اسکندر مرزا نے صدر کے عہدے پہ فائز رہنے کے لئے اور تمام سیاسی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے اپنے ہی مقرر کردہ وزیر اعظم کو برطرف کر دیا۔ مگر ایّوب خان نے کچھ ہی دنوں بعد صدر مرزا کو بر طرف کر کے تمام اختیارات خود سنبھال لئے۔ اور اس طرح فوج ہمیشہ کے لئے پاکستان کی سب سے زیادہ مضبوط ’سیاسی جماعت‘ بن گئی۔

خوش قسمتی سے نون نے اپنے وزارت اعظمیٰ کے تھوڑے عرصے کے دوران سلطنت اومان کے ساتھ گوادر کی ملکیت کے لئے پیچیدہ لیکن کامیاب مذاکرات کیے، جسے 8 ستمبر 1958 ء (یعنی نون کی برطرفی سے صرف ایک ماہ قبل) کو تقریباً تیس لاکھ ڈالر کی قیمت پر خرید لیا گیا اور 8 دسمبر 1958 ء گوادر کو پاکستان کے حوالے کرنے کی تاریخ طے پا گئی تھی۔ لیکن دسمبر 1958 ء میں ایّوب خان کی حکومت برسرِ اقتدار آ چکی تھی۔ اس طرح گوادر قانونی طور نئی حکومت کے دور میں پاکستان میں شامل ہوا۔ یہ ستم ظریفی کی بات ہے کہ فیروز خان نون کی محنت اور مہارت کا تاج ایّوب خان کے سر پر رکھ دیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آغا خان چہارم نے گوادر کی خریداری کے لئے فنڈز کا ایک بڑا حصہ فراہم کیا۔

نون نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ اگر ان کی حکومت کو بندوق کی گولی سے نہ ہٹایا جاتا تو شاید دونوں ممالک کے عوام جنگ و جدل کے بجائے امن و سکون کی زندگی بسر کر رہے ہوتے۔

فیروز خان نون کی اہلیہ وقار النساء نون نے بھی گوادر کو پاکستان میں ضم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل سے ملنے کے لئے لندن کا دورہ کیا، برطانوی پارلیمنٹ میں لابنگ کی، اور ہاؤس آف لارڈز سے گوادر کو خریدنے کی منظوری حاصل کرنے کے لئے کوششیں کیں کیونکہ اس وقت اومان برطانیہ کے قبضے میں تھا۔ وقار النساء نون پیشے کے لحاظ سے ایک سماجی کارکن تھیں۔ انہوں نے 1945 ء میں فیروز خان نون سے شادی کی تھی۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بھی حصہ لیا تھا۔ وہ پیدائشی طور پر آسٹریا سے تعلق رکھتی تھیں اور پیدائش کے وقت ان کا نام وکٹوریہ رکھا گیا تھا۔ ان کا انتقال 16 جنوری 2000 ء کو ان کے شوہر کے آبائی گاؤں نورپور نون، ضلع سرگودھا میں ہوا۔ 1959 ء میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ملک کے لیے ان کی خدمات پر نشان امتیاز (میڈل آف ایکسیلینس) سے نوازا گیا۔ بنگلہ دیش میں ایک اسکول اور کالج، اور پاکستان میں ایک اسکول وقار النساء نون کے نام پہ ہیں۔

1958 ء کی سیاسی اور فوجی بغاوت کے بعد نون نے قومی سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لی اور دوبارہ سیاسی مصنف بن گئے۔ انہوں نے ریٹائر ہونے سے پہلے چار کتابیں لکھی تھیں اور ریٹائر ہونے کے بعد اپنی سوانح حیات بھی شائع کی۔ ان کا انتقال 9 دسمبر 1970 ء کو ان کے آبائی گاؤں نورپور نون ضلع سرگودھا میں ہوا جہاں وہ مدفون ہیں۔

نون اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ ”گوادر غیر ملکی ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے میں نے محسوس کیا تھا کہ ہم ایک ایسے گھر میں رہ رہے ہیں جس کے پچھلے کمرے میں ایک اور دروازہ ہے، جس پر ایک اجنبی کا قبضہ ہے جو کسی بھی وقت ہمیں پاکستان مخالف طاقت کو فروخت کر سکتا ہے۔“

ہمارے معا شرے میں ایک افسوسناک روایت ہے کہ ہم ان غیر مسلم، لبرل، یا بائیں بازو کی شخصیات کو جنہوں نے اس دھرتی کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں، ہر سطح پہ بھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہی نہیں بلکہ مشرقِ و سطیٰ کی کئی ہستیوں کو جن کا ہماری زمین سے کوئی تعلّق نہیں اور نہ ہی انہوں نے یہاں کے لوگوں کی کوئی خدمت کی ہے، اپنے ہیرو بنائے بیٹھے ہیں۔ ڈان کے ایک مضمون میں عبدالقیّوم نے اس بارے میں لکھا کہ:

”آج اس بندرگاہی شہر کو جو شہرت حاصل ہے وہ مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کچھ معزز لوگوں کی کوششوں اور خدمات کو کسی نہ کسی طرح نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ گوادر 1958 ء میں سابق وزیر اعظم ملک فیروز خان نون اور بیگم وقار النساء نون کی کوششوں سے پاکستان کا حصہ بنا۔ لیکن بدقسمتی سے کسی بھی ہوائی اڈے، اہم عمارت، سڑک، یا پارک کا نام ان کے نام پر نہیں رکھا گیا۔ گوادر کو پاکستان میں ضم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے اور ان کے ناموں کو یاد رکھنا چاہیے، اور ایسا گوادر ائرپورٹ اور دیگر اہم مقامات کو ان کے نام پر رکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ “

میرے نزدیک یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم ترین کارنامہ ہے۔ تعلیمی نصاب کی کتابوں میں واضح طور پر سابق وزیر اعظم ملک فیروز خان نون اور بیگم وقار النساء نون کی اس اہم ترین کامیابی کو سراہنا چاہیے۔

فیروز خان نون کی کتب:

·Wisdom From Fools (1940) , short stories for children
·Scented Dust (1941) , a novel
·India (1941)
·Kashmir (1957)
·From Memory (1966) , autobiography

Facebook Comments HS

10 thoughts on “کیا گوادر آسمان سے ٹپکا تھا؟

  • 30/11/2024 at 5:37 شام
    Permalink

    For Readers there is a v good conversation with Lady Viqar un Nisa Noon with Moneeza Hashmi … worth to watch
    https://www.youtube.com/watch?v=jjDwQZjtVTM&ab_channel=MoneezaHashmi

    I disagree with you that nation forget her. She had her own share of political and social work in Pakistan, Gwadar is just a part of her some work. It is also wrong to give all credit of Gwadar to her.

    Status of Gwadar was like Goa for India,

    A small land, physically attached to another larger country

    Gwadar status was sure to be annexed with Pakistan one day.

    Iran and India (interestingly) were also interested in piece of land alongside USA and Britain as well.

    America wanted to establish its own airbase / naval port (which later somehow established at Badaber as listening post) and Peshawar Airport was used for flying

    State confer Nishan e Imtiaz on her (the highest award)

    There are schools / institute / college in her name

    Various roads and crossings are on her name

    The school estab in 1956 by her in Rwp is now a University with her name (nationalised by Bhutto in 1972)

    She did a very good work of Red Crescent in Pakistan now called as Hilal e Ahmer

    May Allah bless her soul

    • 01/12/2024 at 12:09 صبح
      Permalink

      Thanks for providing information on Viqar un Nisa. What I meant is that there is no major road, park , or any other public place
      named after her or Feroze Khan Noon by Federal Government

    • 01/12/2024 at 8:28 صبح
      Permalink

      Sir Nishan e Imtiaz is not a joke is like Nishan e Haider for living civilians
      What u r asking is like naming monument in name of Bacha Khan in Punjab
      Crossings, roads were given name to her in at least Dhaka and Rwp

      There is now a Govt university in her name and is more impactful than a road or institute (PG College with degree awarding status)

      Likewise, she established school / college for girls in Dhaka also (where her husband was Governor East Pakistan)
      .
      Later on both Rwp and Dhaka institutions were named after her by Federal Govt in her life (which is a rare honor)

      After 56 years (ref Gwadar) we cannot understand what actually was happened at that time, such activities is a team work like game of "Tug of War” where there is no man of the match and every one play a pivotal role in victory,.
      .
      There are many a times Pak Govt asked its Ambassador to carry a message to Govt / Parliament of other country and get some job done, the state perform some other tasks also (overtly or covertly) and finally the job is done … at that instance sometime sometimes people claim that Ambassador achieve the job single handedly, which is incorrect to claim

      Yes, she did play her role but not in personal capacity but she was asked by GoP to visit Britain Parliament and PM Churchill for lobbying

      As far as your cry that Ayub was given unjust credit of Gwadar this is Pakistan, we dont remember whose idea was Nuclear Bomb for Pakistan, who provide funds and men / material and after 24 years, we only remember Nawaz Sharif in whose era the button was pressed, do u think that Nuclear Bomb is work of Nawaz Sharif excellence
      .
      We remember the captain who brought trophy to home and forget who did what in Final, Semi final and crucial round matches we only remember Imran Khan winning WC in 1992 whose own role in Victory was negligible
      .
      Gwadar was taken over by Pakistan government in Ayub era when they
      ordered the Pakistan Navy to send a ship to its new possession, Gwadar
      .
      The navy’s light cruiser, Babur, sailed under Commodore M. Asif Alavi’s
      command to take over this territory on Dec 8, 1958
      .
      So Gwadar will remain remembered as Victory trophy for Ayub because at
      that day, he was head of the state of Pakistan

      Same as we blame Ayub for Badaber and U2 crisis as it happened during his tenure but we forget that deal was signed in times of Bogra and Noon and not Ayub

      We should also remember one fact that in good old days of Pakistan and most of the countries : monuments are rarely named in someone’s life unless approved by Government (this was only bypassed later by Political parties be it related to Ayub or Sharifs etc) so there is always a lesser chance of such activities before 2000 in Mush times when she took her last breath

      There are very few occasion when monument is named in someone’s lifetime (non political person) but again for this Approval is required from relevant Assembly and few names (before 2008) were like Roads on MM
      Alam name, Dr Qadeer, Edhi and Hashim Khan (may be few more)

      

    • 01/12/2024 at 10:34 صبح
      Permalink

      Thanks again for the information you provided. I am really glad that Viqar un Nisa was duly honoured because of her social work accomplishments. But none was honoured for their efforts to get Gwadar for Pakistan.

    • 01/12/2024 at 3:07 شام
      Permalink

      My reply is again same, she cannot be given credit SOLELY for Gwadar
      .
      Gwadar case was initiated in President Iskander Mirza times somewhere in 1956

      Her husband Feroz Khan Noon was Foreign Minister at that time

      Negotiation and lobbying for Gwadar was main responsibility of Foreign Min so he asked his wife Lady Noon to do the needful

      Many reporters and youtubers claimed that she met PM Churchill for lobbying whereas, Churchill was already left the PM office by that time, he may only play
      // his role as an ex PM
      Anthony Eden was PM when she visited Britain and Gwadar merged with Pakistan in times of PM McMillan
      .
      It took more than two and half years for this deal to get matured during which two PM were changed post lady Noon visit to London till end November 1958 when Oman finally agreed on this proposal and Pak took over the area post Agha Khan paid the major chunk of amount.

      As i said it is ridiculous to claim that she solely is responsible for Gwadar, yes she played her role as wife of Foreign Minister and convince the British government.

      Interestingly when Gwadar approval was made by Brit Parliament, same Noon becomes PM of Pakistan people todate think that it was single hand effort of Noon as PM and his wife, which is wrong as it was started in 1956 when Noon was Foreign Min
      Unluckily when Pakistan took over Gwadar in Dec 58, Noon was sacked just two months earlier.

      Pls do read the citation of Lady Noon initiated with Nishan e Imtiaz – for all work she did for Pakistan (this incl both many social work, Red Crescent, and Gwadar etc)

      Ask any person of Ibd, Rwp and Dhaka and they are aware of the name of Lady Noon.

      I dont believe that Pakistan get Gwadar due to her effort only, you may be unaware that in 1958, Ayub announced his intentions that if Oman /Britain did not agree for same, Pakistan Forces are going to attack Gwadar and get it annexed … that was nail in the coffin as far as this story is concerned

      In 2024 we forget that India already attacked at such places in1954 and annexed Portuguese areas (like Goa) of Dadra in 22 July 1954, Naroly on 28 July 54 – 30 July Luhari etc ie Dadra and Nagar Haveli // Even after that in 1954 India announced multiple times its intentions to attack Goa and annex it
      .
      Ayub simply copied the same and get needful from Oman and Britain to get Gwadar // US also played its part in completion of this deal in end 1958, it was too costly solution to protect such places despite having sea port but no runway etc and other military infrastructure
      .
      I certainly and humbly disagree that LVN is key player in getting Gwadar annexing with Pakistan

    • 01/12/2024 at 5:22 شام
      Permalink

      1959 میں جب انہیں نشان امتیاز ملا اس وقت ہی پاکستانی حکومت نے گوادر کے حوالے سے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے دیا تھا۔ باقی اصل گوادر کے ملنے کی وجہ وہی ہے کہ جب ایوب خان نے باربار اس با ت کا اعادہ کیا کہ انڈیا نے جس طرح دادرا اور ناگر حویلی کے پرتگیزی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے ہم بھی گوادر کے ساتھ یہی کریں گے۔ عمان نے یوں بھاگتے چور کی لنگوٹ پکڑ لی۔ اگر یہ علاقہ امریکہ لے جاتا تو زیادہ مشکل ہوتی جس کے امکان بھی زیادہ تھے۔

    • 01/12/2024 at 6:04 شام
      Permalink

      ایک اور اہم بات جو آج کے تناظر میں گوگل یا وکی پیڈیا پر انحصار کرتے وقت لوگ بھول جاتے ہیں۔
      گوادر کا علاقہ بنیادی طور پر ریاست مکران کا حصہ تھا۔ جس کے متعدد علاقے اس وقت ایران، برطانیہ اور اومان کے پاس تھے۔ آزادی کے بعد ریاست مکران نے پاکستان میں ضم ہونے کا اعلان کردیا لیکن اس وقت بھی اس کی حیثیت ریاست کی طرح رہی جیسے بہاول پور کی ہوتی تھی۔
      پاکستان میں شاید بلوچستان کا صوبہ یا انتظامی علاقہ 1952 تک وجود میں ہی نہیں آیا تھا اس لئے سب بکھرا ہوا تھا۔ 1952 میں بلوچستان کا علاقہ (صوبہ نہیں) بنایا گیا جس میں مکران بھی شامل ہوگیا۔ گوادر اور متعدد ساحلی پٹیاں (جو اومان اور برطانیہ کے قبضے میں تھیں) اس وقت بھی عملی طور پر مکران کی حدود میں شامل تھیں۔

      اصل مسئلہ 1955 میں شروع ہوا جب ریاستوں کا وجود ختم ہوگیا اور ریاست مکران عملاً ختم ہوگئی۔ اور سب پاکستان کا حصۃ بن گیا۔

      یادرہے گوادر کی طرح کے کچھ غیر ملکی ساحلی علاقے مکران کو 1951 اور کچھ 1955 میں مل گئے تھے۔ گوادر کا مسئلہ مالی بھی تھا ساتھ فوجی بھی۔

      اومان میں جاری مختلف دھڑوں میں اقتدار کی جنگ کے لئے بھی تھا۔ لیکن امریکی ایران اور انڈیا نے جب گوادر کو اومان سے خریدنے میں دل چسپی کا مظاہرہ کیا 1956 میں پاکستان نے برطانیہ سے اس سلسلے میں بات کی کیوں کہ ایک تو اومان اس وقت ببھی جزوی طور پر برطانیہ کے کنٹرول میں تھا اور دوسرے وہاں کچھ برطانوی فوجی اور جہاز بھی تعینات رہتے تھے۔ 1955 اور 1956 کے اس دور میں پاکستان پر سکندر مرزا کی حکومت تھی اور ایوب آرمی چیف۔

      دل چسپ بات یہ ہے کہ وزیر خارجہ فیروز خان نون تھے۔ چونکہ یہ معاملہ نون کی وزارت میں آتا تھا تو لامحالہ ان ہوں نے اپنی بیگم کو حکومت پاکستان کا نمائندہ بناکر برطانیہ بھیجا لیکن یہ 1956 کے آس پاس کی بات ہے۔ لیکن اس دوران امریکہ مسلسل اس جگہ کو بڈھ بیر کی جگہ لینا چاہتا تھا جو اس کے لئے آئیڈیل جگہ تھی۔ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایوب نے 1957 اور 1958 میں متعدد مرتبہ اس بات کا اعلان کیا کہ جس طرح انڈیا نے دادرا اور ناگرکے پرتگیزی علاقوں پر قبضہ کیا ہے پاکستان بھی اپنی حدود میں موجود گوادر اور مکران کے دوسرے متنازعہ علاقوں پر قبضہ کرے گا۔ یوں اومان نے رقم لے کر علاقے سے دست برداری کا اعلان کیا۔ جو حقیقت میں ہم نے مہنگے داموں خریدا تھا۔

      میری اطلاع کے مطابق صرف گوادر ہی نہیں اس سے ملحقہ ساحلی علاقے جن میں اورمارہ، پسنی، جیوانی شامل ہیں۔ یہ سب ڈیپ پورٹ بن سکتے ہیں۔ کراچی کی دونوں بندرگاہوں کے مسائل دوسرے ہیں۔ ویسٹ وہارف کا چینل بہت چھوٹا اور تنگ ہے اور گند اور کچرے کی وجہ سے سطح آب کم ہوچکی ہے جب کہ پورٹ کے راستے کا بھی یہی حال ہے۔ بن قاسم پورٹ کا راستہ کھاڑیوں اور مشکلات کی وجہ سے بڑے جہازوں کے لئے ناقابل استعمال ہے۔

    • 01/12/2024 at 6:51 شام
      Permalink

      تحقیق کے طالب ایک معاملے میں کنفیوز ہونگے جس کی وضاحت ضروری ہے۔
      8 ستمبر 1958 کو پاکستان نے اومان کو گوادر کے عوض رقم ادا کی تھی۔ اومان نے 3 مہینے کی مہلت مانگی۔
      اس وقت وزیراعظم پاکستان فیروز خان نون ہی تھے۔ اور اس کا باقاعدہ وزیراعظم نے ریڈیو پاکستان سے خطاب میں اعلان کیا تھا۔
      اس کے بعد اومان نے اپنی فوجیں اور لوگوں کو وہاں سے منتقل کرنا شروع کردیا۔
      7 اکتوبر کو اسکندر مرزا نے نون کی حکومت کو برطرف کردیا اور کچھ دنوں بعد اسکندر مرزا کو ایوب خان نے۔
      رقم ادائیگی کے 3 مہینے بعد 8 دسمبر 1958 کو پاک بحریہ کے ایک دستے بحری راستے جاکر (چوں کہ اس وقت مارشل لاء نافذ تھا) گوادر کو پاکستان کا حصہ بنالیا۔

    • 02/12/2024 at 6:50 صبح
      Permalink

      You seem to have lot of insight into this matter. I owe you thanks for your corrections and updates.

    • 02/12/2024 at 10:46 شام
      Permalink

      آپ نے کوشش کی ۔ لکھا اورکسی کو یاد کیا۔ یہ زیادہ اچھی بات ہے۔
      ہمارے یو ٹیوبر اور آج کے محقق (اپ نہیں) ماضی کی کسی ادھوری بات کو پکڑ کر ایسے پیش کرتے ہیں جیسے کوئی بہت بڑا جرم تھا جو صرف ان کو پتہ ہے اور وہ یہ سچ قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ گوادر میں بیگم وقار النساء کا کردار بھی ویسا ہی ہے۔
      ایک اور المیہ یہ ہے کہ کسی شخص کی صرف ایک برائی کی وجہ سے اس کی ہر اچھی چہز کو بھلا دیا جاتا ہے اور اس ایک فیصلے کو بھی اس وقت کے تناظر اور معروضی حالات میں کیا مسائل تھے یہ نہیں دیکھا جاتا۔ فیروز خان نون کے متعدد فیصلے ایسے بھی ہیں جو انتہائی متنازعہ یا نقصان دہ رہے چاہے بحیثیت وزیر اعلی پنجاب لئے گئے ہوں یا گورنر مشرقی پاکستان۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ تو ایک الگ کہانی ہے۔
      دیکھا جائے تو اگر نون ۔۔۔ اسکندر مرزا سے سینگ نہ پھنساتے اور بغاوت کرکے مرزا کی صدارت کے لئے مشکلات نہ کھڑی کرتے تو ایوب کو موقع ہی نہ ملتا۔
      اور سچ تو یہ ہے کہ اکتوبر 1958 میں جو ہوا اچھا ہی ہوا۔ کیونکہ کراچی میں اس وقت جو تماشہ لگا ہوا تھا وہ ختم ہوا عوام نے سکون کا سانس لیا اور قدرے آرام سے دس سال گزارے۔

      ایوب کو لوگ یک جنبش قلم برا کہتے ہیں لیکن اس کے دور میں سینکڑوں ایسے کام ہوئے جنہیں کرنا کسی سیاست دان کے بس کی بات نہیں تھی۔

      اگر انڈیا میں اس وقت نہرو کی جگہ کوئی معتدل اور عقل مند شخص ہوتا تو شاید کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا۔

      جس سے فائدہ دونوں ملک کی عوام کا ہونا تھا۔

      ویسے یاد رہے اومان نے آخر وقت تک کوشش کی کہ گوادر نہ بکے جس کی وجہ یہ تھی کہ برٹش آئل کمپنی کے سروے کے مطابق گوادر کے پاس سمندر اور زمین میں تیل کے ذخائر موجود تھے۔ یہ علاقہ ایران کے تیل کے کنوؤں کی بیلٹ میں واقع ہے۔ اسی لئے جب گوادر کا سودا ہوا تو ریٹ مہنگے لگے اور ساتھ یہ شرط آج بھی شامل ہے کہ اگر اس علاقے سے کبھی بھی تیل نکلا تو اس کی کمائی میں سے اومان کو بھی حصہ ملے گا۔

      یہاں ایوب کی دھمکی کے علاوہ ایک اور اہم بات یاد رکھنی چاہئے کہ جونہی پاکستان نے گوادر کی قیمت ادا کردی اور اس کا قبضہ لینا باقی تھا۔ خان آف قلات جن کے اجداد نے گوادر کو اومان کے حوالے کیا تھا۔ اور اس وقت ان کا بھی جھگڑا گوادر کے حصول کے لئے کئی سالوں سے چل رہا تھا (ریاست قلات کی طرف سے نہ کہ پاکستان کی طرف سے) پاکستان سے اعلانیہ بغاوت کا اعلان کردیا۔

      اکتوبر 58 کے مارشل لاء سے کچھ ہی پہلے یہ بغاوت کچل دی گئی تھی۔

Comments are closed.