کھلاڑی کی ناکامی: نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں


تاریخ میں کبھی چاند بی بی، جھانسی کی رانی اور رضیہ سلطانہ کا تذکرہ پڑھا تھا۔ بشریٰ بی بی اسلام آباد آئیں اور خطاب کیے اس میں کچھ بہادری کی جھلک نظر آئی تو یہ بہادر خواتین یاد آئیں، ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ وہ ایسے انداز میں شیدائیوں کو چھوڑ کر غائب ہوئیں کہ اسد اللہ خان غالب کا بیان کردہ منظر نامہ یاد آنے لگا عمران خان بھی اس منظر کو دیکھ نہ پاتے۔

رَو میں ہے رخش ِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

گزرتا وقت جو تلخ و شیریں یادیں، کہانیاں اور نشانیاں چھوڑ جاتا ہے وہ دیر تک افسردہ رکھتی ہیں۔ کوئی کوئی لمحہ تو اتنا جان لیوا ہوتا ہے کہ اس کی گرفت سے نکلنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے، عمران خان کی فائنل کال بھی ایسا ہی لمحہ تھا جس کا دھڑن تختہ ”مرشدہ“ کے ہاتھوں ہو گیا۔ احتجاج کی مبینہ ناکامی پر جہاں پی ٹی آئی کی صفوں میں مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، وہاں حکومتی حلقے احتجاج کو ناکام بنانے پر جشن منا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے میدان میں اپنے لیڈر کی رہائی تک ڈٹے رہنے اور سر پر کفن باندھ کر جان دینے کے بلند و بانگ دعوے محض ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور پر جوش کارکنان مایوسی کی حالت میں اہداف حاصل کیے بغیر لوٹ گئے۔ اس فلاپ کال کے نتائج پی ٹی آئی کو مستقبل میں بھگتنے پڑیں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ دھرنا جاری ہے جس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ

”اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا“ ۔

علیمہ خان کی جانب سے ’فائنل کال‘ کا اعلان علی امین گنڈاپور سمیت تحریک انصاف کے بہت سے رہنماؤں کے لیے ’سرپرائز‘ تھا۔ رہنماؤں نے تحفظات کے اظہار کے ساتھ احتجاج کی تاریخ آگے بڑھانے کے لیے عمران خان سے ملاقاتیں بھی کیں لیکن بات نہ بنی اور عمران خان نے ہر صورت 24 نومبر کو نکلنے اور ڈی چوک پہنچنے کے احکامات دے دیے۔ خان صاحب کی افتاد طبع مشورے ماننے کی نہیں وہ ہر کام مقبولیت کے دم پر نکالنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ارکان پارلیمنٹ، پارٹی رہنماؤں اور ورکرز سے ملاقاتیں اور ان سے خطابات بھی کیے۔

بشریٰ بی بی نے ایم این ایز کو 10 اور ایم پی ایز کو 5 ہزار افراد لانے اور ان کے ویڈیو ثبوت فراہم کرنے کا پابند بھی بنایا، بصورت دیگر انہیں پارٹی سے نکالنے کا اعلان بھی کیا۔ اس پر پارٹی میں اختلافات کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق احتجاج میں کب کیا اور کس طرح کرنا ہے، پلان بی کیا ہو گا، اس کے متعلق تحریک انصاف کے پاس کوئی لائحہ عمل تھا، نہ وہ اس بات کا ادراک کر سکی کہ موجودہ صورت حال میں کس طرح احتجاج کرنا ہے۔ اس ملک میں اقتدار اور اختیار کو ہاتھ سے نکلنے میں دیر نہیں لگتی اور عالم یہ ہوتا ہے۔

صبح کے تخت نشیں، شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا

عمران خان کبھی ایک پیج پر تھے مگر وقت بدلنے میں دیر نہیں لگی اور آج وہ مذاکرات کے خواہش مند ہیں مگر دروازے کھلنے کے آثار نہیں۔ اس حقیقت کو سمجھ لیتے تو آئے دن ان کی مشکلات میں اضافہ نہ ہوتا اور وہ تنہائی کا شکار نہ ہوتے۔

اسی لیے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے ہیں
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر

تحریک انصاف سے اس احتجاج میں جو غلطیاں سرزد ہوئیں ان پر نظر ڈال لیتے ہیں۔

1۔ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔ جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں نہ آنے اور حکومت کو ضروری اقدامات کرنے کا کہہ دیا تھا تو انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ فی الوقت احتجاج سود مند نہیں۔

2۔ ورکرز کو لسانی بنیادوں پر اکسانا قومی سیاسی جماعت کے دعوے داری کے خلاف تھا۔

3۔ احتجاجی مارچ کی روانگی سے پہلے یہ اطلاعات آنا کہ علی امین گنڈاپور بشریٰ بی بی کے درمیان اختلاف ہیں، تکرار کے بعد بشریٰ بی بی احتجاج میں شامل ہوئیں۔

3۔ توقعات کے برعکس تحریک انصاف کی تمام تر امیدوں کا مرکز خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلے ہی رہے ملکی سطح پر کال کامیاب نہیں ہوئی جس کا چرچا تھا۔

4۔ دو دن کی جدوجہد کے بعد قافلہ 26 نمبر چونگی پہنچا تو انہیں سنگ جانی میں دھرنے کے لیے جگہ کی فراہمی کی پیش کش کی گئی جو رد کر دی گئی۔

5۔ باقی جماعتوں میں موروثی سیاست پہلے سے ہی موجود تھی اب وہ تحریک انصاف میں بھی در آئی ہے۔ احتجاج میں گنڈاپور بشریٰ بی بی کے حکم کے پابند نظر آئے۔ کسی رہنما کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ بشریٰ بی بی کے آگے بول سکے۔

4۔ بشریٰ بیگم نے آمدہ اطلاعات کے مطابق عمران خان کے حکم کو بھی نظرانداز کیا۔ پرجوش ورکرز صرف ان کی بات مان رہے تھے۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ احتجاج کی کامیابی ممکن نہ ہو سکی۔

6۔ دو دن کے تھکے ہارے ورکرز اسلام آباد پہنچے تو جڑواں شہروں کے ورکرز باہر نہ نکلے جبکہ یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ 15 سے 25 ہزار کارکنان اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہیں، جس سے صورت حال مزید خراب ہوئی۔

7۔ ورکرز 26 نمبر چونگی کے بعد پولیس کے مزاحمت ترک کر دینے کے عمل کو اپنی طاقت منوانے سے تعبیر کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے جو بالآخر ایک بڑی مشکل صورتحال میں بدل گیا۔ ڈی چوک پہنچنے پر ورکرز نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پارٹی قیادت میں سے کوئی انہیں روکنے والا نہ تھا۔ دوسری جانب جوں جوں وقت آگے بڑھتا رہا جوشیلے ورکرز لیڈرشپ کے خلاف ہوتے گئے اور آگے بڑھنے کے لیے زور ڈالتے رہے۔ جب کنٹینر آگے نہ بڑھا تو ورکرز کی بڑی تعداد واپس جانا شروع ہو گئی جس سے سکیورٹی اداروں کو باقی ماندہ لوگوں کو منتشر کرنے میں آسانی ہوئی۔

8۔ تحریک انصاف یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ مزید طاقت کے استعمال کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس کے باوجود ورکرز کو اکسایا گیا، ان کو ڈنڈے اور باقی ساز و سامان دیا۔ مار کٹائی اور گاڑیاں جلانے تک کے عمل کو سپورٹ کیا گیا۔ مظلومیت کے دعوے اور بدمعاشی ایک ساتھ نہیں چلا کرتے۔

9۔ احتجاج کے دوران تحریک انصاف کو کچھ حاصل کرنے کے مواقع ملے۔ سیاسی قیادت کے فقدان، باہمی روابط کی کمی، مرکزی قیادت کی احتجاج سے عملی لاتعلقی کے باعث وہ ضائع ہوئے۔

10۔ تحریک انصاف کو پہلی بار لاڈ کے بجائے ریاستی طاقت سے پالا پڑا جس سے جانی اور مالی نقصان کے ساتھ ناکامی کا داغ بھی لگا اس سے بارگیننگ پوزیشن مزید کمزور ہو گئی۔ عمران خان کا جلد باہر آنا اور طاقتوروں سے مذاکرات کی خواہش اب شاید تشنہ ہی رہے۔ سیاست میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پیش نظر رکھنا پڑتی ہے۔ موقع محل دیکھ کر مخالف کے کمزور پہلوؤں پر حملہ آور ہوا جاتا ہے مشکلات یا ناکامی کی صورت میں بھی وقار اور بھرم قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ نہیں کہ ایک طرف اتنے بلند بانگ دعوے اور اعلانات کیے جائیں کہ اگر ہم واپس نہ آئیں تو گھر والے ہمارے جنازے پڑھ لیں دوسری طرف ”پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے“ کے مصداق ایسی پسپائی جس کے مداوے کے لیے وقت درکار ہو گا۔ اب مظلومیت کا واویلا ہے کوئی کہتا ہے 8 مرے کوئی 20 کا دعوے دار ہے ایک وکیل صاحب کے نزدیک یہ تعداد 278 ہے، گنڈاپور کے بقول سینکڑوں شہید ہوئے ہر ایک کے لئے ایک کروڑ کا اعلان۔ ”کرم“ والے شاید انسان نہیں اسی لیے ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

شنید یہ بھی ہے کہ احتجاج کی اس فائنل کال کا اصلی مدعا ڈی چوک پہنچ کر پارلیمنٹ اور پرائم منسٹر ہاؤس میں گھسنا تھا تاکہ پورا سسٹم مفلوج اور جام کر دیا جائے ڈھاکہ کی مثالیں یونہی نہیں دی جا رہی تھیں۔ جن طاقتوروں سے کھلاڑی مذاکرات کا خواہاں ہے انہوں نے احتجاج کا مکو اس طرح ٹھپ دیا کہ مسلح احتجاج کے منصوبہ ساز مہینوں ایک دوسرے پر تبرے بھیجتے رہیں گے۔ اس کال نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ کھلاڑی سیاست کا اناڑی ہے۔

Facebook Comments HS