ساگ
سبز پتوں پر مشتمل سبزی کو عموماً ساگ کہتے ہیں۔ لیکن اصل ساگ سے مراد سرسوں کا ساگ ہوتا ہے۔ جسے دیسی گندلوں کا ساگ بھی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گوبھی سرسوں، پتوں، نک سک، کینچ مینچ اور مینا کا بھی ساگ پکایا جاتا ہے۔ دیسی گندلوں اور گوبھی سرسوں کے ساگ کے سوا مؤخر الذکر ساگ خود رو پتوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ساگ کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے جسے موڑواں ساگ کہتے ہیں۔ اس میں اچھی موٹی اور نرم گندلوں کو انچ انچ کے ٹکڑوں میں کاٹ کر اتنے ہی آلو اور تھوڑے پتے ڈال کر پکایا جاتا ہے جو ظاہراً آلو پالک کا سالن لگتا ہے لیکن ذائقے میں ساگ ہوتا ہے، ساتھ میں ہر سبزی کے ساتھ رشتہ جوڑنے والے آلو میاں بھی اپنی بہار دکھاتے ہیں۔
پنجاب کے دیہات میں موسم سرما کا یہ اہم پکوان ہوتا ہے جو اب پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ دسویں جماعت کی بیالوجی میں سرسوں کا پودا بطور نصاب شامل تھا جس کا نباتاتی نام براسیکا تھا اور اس کی ساری نباتاتی زندگی کے حالات پڑھتے تھے۔ اندرون لاہور کے رہائشی مرتے مر جائیں گے لیکن ساگ گوشت اور بریانی کو نہیں چھوڑیں گے۔ برسوں پہلے کا واقعہ ہے میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں کام کرتے ہوئے گوالمنڈی سے ایک پہلوان صاحب سینے کے درد کے ساتھ آئے۔ لواحقین سے ان کی بیماری کے متعلق دریافت کیا تو بتانے لگے، ابا جی ساگ اور بریانی، شامی کباب کے ساتھ بڑے شوق سے کھا رہے تھے کہ اچانک انہیں سینے میں درد شروع ہوا۔ ہم نے انہیں ہسپتال چلنے کا کہا تو کہنے لگے، پتر، مر تے میں جانا ای اے، مینوں اے آخری ساگ گوشت تے بریانی کھا لین دیو (بیٹا، مر تو میں نے جانا ہی ہے، مجھے یہ آخری ساگ اور بریانی کھا لینے دو ) ۔
ساگ کی فصل اکتوبر میں شروع ہو کر جنوری فروری تک رہتی ہے۔ ساگ ایک بہت ہی لذیذ اور ڈھیٹ قسم کی سبزی ہے۔ سارا موسم سرما آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ اکتوبر سے شروع ہو کر فروری تک آپ کو ہر دوسرے تیسرے دن اس کا دیدار کر کے آنکھوں کو ٹھنڈک دینی ہوتی ہے۔ اس کے کھانے سے آنکھوں کی چمک اور روشنی دو چند ہو جاتی ہے اور ہر سو ہریالی دکھائی دینے لگتی ہے۔ صبح ساگ کا پراٹھا، دوپہر کو مکئی کی روٹی کے ساتھ اور رات کو ابلے سفید چاولوں کے ساتھ ساگ کا یارانہ برسوں سے جاری و ساری ہے۔
ان تین چار مہینوں میں ساگ خاتون خانہ کے ہاتھوں، لباس، گھر بار اور کھانے والوں کو ہرا کچور کر دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے انسان کے اندر باہر ہریالی آ گئی ہے۔ ساگ منافقت سے پاک ایک سچی اور کھری سبزی ہے۔ کھیتوں سے بازار آنے، خریدنے کاٹنے، پکانے اور کھانے تک یہ اپنا رنگ نہیں بدلتی ہے۔ بچپن میں اماں اور اب خاتون خانہ سے شکایت کریں کہ بس کر دیں اب تو اندر باہر ساگ ہی ساگ ہو گیا ہے تو وہی پرانا جواب ملتا ہے ابھی تو ایک ہی دن ہوا ہے۔ یہ موسم سرما کی سوغات ہے کون سا روز روز آتی ہے، ایک ہفتہ تو چلنے دیں، یہ کون سا خراب ہونا ہے۔
ساگ تیار کرنا بہت ہی محنت کا کام ہے پہلے ساگ کی گندلوں کو ترتیب دیں۔ پھر گندلوں کے چھلکے اتاریں، زائد اور خراب پتوں کو الگ کریں۔ پھر چھلکے اتری گندلوں اور نرم و نازک پتوں کے چھوٹے چھوٹے گٹھے بنائیں۔ بنائے گئے چھوٹے گٹھوں کو دات، چاقو، چھری یا چھوٹے دستی ٹوکے یا مشینی ٹوکے سے باریک باریک کاٹ لیں۔ اسی طرح ساگ کے وزن سے آدھے وزن کی پالک اور چوتھائی وزن باتھو بھی کاٹ کر تیار کریں۔ ان تینوں کو ہلدی اور نمک حسب ذائقہ ملا کر کھلے منہ والے پتیلے یا مٹی کی ہانڈی میں ڈال کر کھلا پانی ڈال کر دو سے تین گھنٹے تک ابالیں۔ ہلدی کے استعمال سے اس کا ہرا بھرا رنگ تھوڑا سا زردی مائل ہو جاتا ہے۔ ساگ جب ابل جائے تو خوب گھوٹا لگایا جاتا ہے تاکہ سب چیزیں یک جان ہو جائیں۔ گھوٹا لگاتے ہوئے تھوڑا تھوڑا گندم یا مکی کا آٹا بھی ڈالتے جائیں، جس کو الن کہتے ہیں یہ ڈالنے سے ساگ مزید مزیدار ہو جاتا ہے جس سے اس کی ہیت نرمی اور سختی کے درمیان ہو جاتی ہے۔
ساگ کو ہمیشہ ہاتھ سے گھوٹا لگائیں، اس سے اس کے ریشے ختم نہیں ہوتے ہیں۔ کبھی مشین اور گرائنڈر کا استعمال نہ کریں۔ اگر ساگ کو آنے والے دنوں میں فریج میں محفوظ رکھنا ہے تو بغیر دیسی گھی کا تڑکا لگائے اسے پلاسٹک کی تھیلیوں میں ڈال کر محفوظ کر لیں اور بے موسم میں دیسی گھی کا تڑکا لگا کر اس سے اپنی گزشتہ یاری کا اعادہ کر لیں۔ اگر اسی وقت استعمال کرنا ہے تو جتنا کھانا ہے اس کو دیسی گھی میں لہسن اور پیاز کا تڑکا لگا کر کھائیں۔ اگر تازہ مکھن ڈال کر کھائیں گے تو یہ خود بخود ہی منہ سے معدے کے اندر چلا جائے گا، بس آپ کو منہ میں رکھنے کی تکلیف اٹھانی ہوگی۔
پہلے پہل تو موسم سرما میں صرف ساگ، آلو، شلجم اور گاجریں مولیاں ہی ملتی تھیں اور زبردستی کھلائی جاتی تھیں۔ لیکن موجودہ دکھاوے اور ترقی کے دور میں ساگ کو کافی اہمیت مل گئی ہے۔ یہ ایک اعلیٰ معاشرتی پکوان کا مقام حاصل کر چکا ہے۔ ہر بڑے ریستوران میں ساگ، مکئی کی روٹی اور لسی کو بطور پنجابی ثقافت پیش کیا جاتا ہے۔ امیر کبیر لوگ اپنی ثقافت سے وابستگی دکھانے کے لیے اسے کافی رقم خرچ کر کے تناول کرنے یا چھکنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جب کہ ہمیں بچپن میں اور اب بھی ڈرا دھمکا کر اسے زبردستی کھلایا جاتا ہے، بچپن میں اماں جی کے غصے اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور اب خاتون خانہ سے رہی سہی عزت خانگی بچانے کے لیے اس سبزی کو کھانے کا فریضہ سر انجام دینا پڑتا ہے۔
ویسے ساگ بہت زود ہضم اور صحت افزاء پکوان ہے اگر روز نہ کھانا پڑے تو، ہمیں کیا تھا برا اگر ایک ہی بار ”کھانا“ ہوتا۔ اس میں حیاتین اے، بی، کیلشیم، فاسفورس اور فولاد کی فراوانی پائی جاتی ہے۔ ایک دفعہ پک جائے تو تین دن تک خاتون خانہ کو امور خانہ داری سے فرصت مل جاتی ہے اور اخراجات کی بھی بچت ہو جاتی ہے۔ ساگ کا ذکر کیا ہے تو برسوں پہلے کے دیہات کا منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا ہے جب اس موسم میں سارے کھیت کھلیان سرسوں کی فصل سے ہرے بھرے ہو جاتے تھے۔ مٹیاریں اور خواتین رنگ برنگے پیرہن میں ساگ کی گندلیں اور پتے اپنی نرم و نازک انگلیوں سے توڑ رہی ہوتی تھیں اور دور کہیں کسی ٹریکٹر کے ٹیپ ریکارڈر سے لال دین شہبازی کا گایا ہوا لوک گیت کانوں میں رس گھول رہا ہوتا تھا۔
نی گندلاں توڑ دیے مٹیارے
ذرا مکھ نوں ادھر موڑ
نی گندلاں توڑ دیے مٹیارے
کھلیاں زلفاں تے گل وچ منکے
ہتھ وچ تیرے چوڑا چھنکے
کدھرے نہی تیرا جوڑ
ذرا مکھ نوں ادھر موڑ
نی گندلاں توڑ دیے مٹیارے
اب ساگ بھی آ گیا ہے، گاجریں اور مولیاں بھی آ گئی ہیں، مونگرے، مٹر، گوبھی اور نئے آلو بھی آ گئے ہیں، نہیں آئی تو سردی نہیں آئی ہے۔

