کہانی پوچھتی ہے


سجاد جہانیہ ایک مشہور کالم نگار خاکہ نگار اور افسانہ نگار ہیں لیکن میرا تعارف سجاد جہانیہ سے مرزا یاسین کے ذریعے ہوا اگرچہ سجاد جہانیہ صاحب اور ہم دونوں ملتان کے رہنے والے ہیں اس لیے ہم ملتانی بھائی ہیں لیکن وسعت شہر کا رونا روئیں یا روزی روٹی کی مشقت کا کہ ان سے تعارف مرزا یاسین صاحب نے لاہور میں کرایا اور یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ وہ محکمہ اطلاعات میں کام کرتے ہیں اور ہم نے بھی اپنی نوکری کا آغاز محکمہ اطلاعات سے ہی کیا مگر ملاقات نہ ہو سکی اس سے ہمیں اخذ کرنا پڑا کہ سجاد صاحب اللہ لوک ہیں اور سیکرٹریٹ کے چکر بھی ان کے کم لگتے ہیں اس لیے ملاقات کا سبب نہ بن سکا سجاد صاحب سے تو ہماری بالمشافہ ملاقات دو تین مرتبہ ہوئی ہے اس کی بظاہر وجہ یہی نظر آتی ہے کہ وہ ملتان میں بس رہے ہیں اور ہم لاہور کی خاک چھانتے پھرتے ہیں عصر حاضر کا ایک تو فائدہ ہے کہ بالمشافہ ملاقات نہ بھی ہو فیس بک پر ملاقات ہوتی رہتی ہے اپ اس کو چاہے ادھوری ملاقات سمجھیں لیکن انسان کے نظریات مطمح نظر اور رجحانات کا علم ہو ہی جاتا ہے۔

انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا کہ وہ سرکاری ملازم ہونے کے ناتے سیاسی کالم لکھنے کی بجائے سماجی کالم لکھتے ہیں اپ کے کالموں کا ایک مجموعہ ”بے ثمر راہ کا مسافر“ بھی چھپ چکا ہے جس کے بارے میں ہم یہ کہنا چاہیں گے یہ ایسی تحریریں ہیں جو نہ کبھی پرانی ہوتی ہیں نہ بوڑھی۔ ہمارا قیاس ہے سماجیات پر لکھتے اس کا بغور مشاہدہ کرتے ہوئے اپ کو چند کہانیاں بھی ملی ہوں گی جن کو آپ نے تخیل اور قلم کے ذریعے ہمارے تک ”کہانی پوچھتی ہے“ کے ذریعے پہنچائی ہیں اپنے نام کی طرح کتاب کی ہر کہانی ہم کو سوچنے اور سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ بنیادی طور پر ہر کہانی عورت کے گرد گھومتی ہے جو دکھ مجبوری اور سماج کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے کہانی کا ماحول دیہات ہے اس لیے کہانی اس ماحول سے جنم لیتی نظر آتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام کہانیاں سجاد صاحب نے خود دیکھی ہیں یا محسوس کی ہیں یا اس کے کرداروں کے ساتھ ساتھ دکھوں کو جھیلا ہے کہانیوں کے سب کردار ہمارے معاشرے کی دین ہیں اور آپ باآسانی اپنے ارد گرد ان کو دیکھ سکتے ہیں محسوس کر سکتے ہیں سجاد صاحب کو منظر نگاری پر عبور ہے ایک اقتباس سے ملاحظہ کریں۔

”قریب 10 فٹ چوڑی شکستہ اینٹوں کے فرش والی وہ گلی شرقاً غرباً لیٹی رہتی تھی اور دونوں ہی جانب وہ خود ایسی ابتر حال گلیوں سے صلیب کا نشان بناتی تھی۔ یہ گلی کچھ ایسی طویل نہ تھی دونوں جانب کل ملا کے کوئی 20، 25 مکانات تھے جو مکینوں کے حوالے سے صرف اپنی تنگی داماں کا گلہ ہی زبانِ حال سے نہ کرتے تھے بلکہ ان کے بدن زمانے کے سرد و گرم کا مقابلہ کرتے کرتے تھکاوٹ سے چور تھے“ ۔

ان کی کہانیاں پڑھ کر تو ایک بار مایوسی گھیر لیتی ہے اور دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو کرتا ہے کہ ہم کیسے لوگ ہیں اور ہمارے درمیان کیسے کیسے درندے بستے ہیں جو کسی معصوم عورت کو جینے بھی نہیں دیتے لیکن انہی کہانیوں کو پڑھ کر امید بھی پیدا ہوتی ہے اگر درندے ہیں تو فرشتہ صفت لوگ بھی موجود ہیں جو مشکل وقت میں ان بے سہارا عورتوں کو چادر پہناتے ہیں اپنا دست شفقت ان پر رکھتے ہیں اور سہارا بنتے ہیں۔

کہانی پوچھتی ہے میں 11 کہانیاں شامل ہیں کچھ طویل اور کچھ مختصر ہر کہانی ایک نئی داستان سناتی ہے اور سوچنے پہ مجبور کرتی ہے۔ مصنف اپنی کتاب کے بارے میں خود لکھتے ہیں یہ کتاب سب کی سب دریافت ہیں اور کچھ کچھ بازیافت ایک منظر میں چلتے جانا اور دائیں بائیں جو نظر آئے اسے طالب علمانہ تحیر سے دیکھ کر لکھتے جانا یافت ہی تو ہے۔ میں گم ہو چکے منظروں کی باز یافت کے لیے کہانیاں لکھتا ہوں وہ منظر جن سے میں گزرا ہوں۔ وہ منظر وقت کے غبار نے جن کو ڈھانپ لیا۔

آخر میں انتساب سے نظم سے ایک ٹکڑا

جو ضیض کی تقلید میں
سینہ ارض پر ہر گھڑی
درد کی ضرب سہتی ہوئی
بنت حوا کے نام
اس فضیلت کے نام
جس کی عظمت کے قصے سنائے گئے

”کہانی پوچھتی ہے“ ہر اس شخص کے لیے ہے جو ہماری سماجیات کو سمجھنا چاہتا ہے جو نفسیات کا علم لینا چاہتا ہے اور عورت کے ساتھ ہونے والے ظلم پر نالاں رہتا ہے۔

Facebook Comments HS