لاہور، ماضی و حال کے آئینے میں


لاہور پاکستان کا دوسرا اور دنیا کا اٹھارہواں بڑا شہر ہے۔ اس کو کالجوں کا شہر، پھولوں کا شہر، پارکوں کا شہر، داتا کی نگری، اور پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہے۔

بلاشبہ لاہور ایک ایسا شہر ہے جس کو دیکھنے کی تمنا ہر پاکستانی کو رہتی ہے کیونکہ اس شہر میں دیکھنے اور کھانے کو اتنا کچھ ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے بس جیب بہت بھاری ہونی چاہیے۔ اتوار اور چھٹی والے دن تگڑا ناشتہ اور دوپہر و شام کے مزیدار کھانے آپ کے منتظر ہوتے ہیں، جی ہاں، حلوہ پوڑی، نان چھولے، بونگ پائے، سری پائے، نہاری، دہی کی لسی، مرغ چنے، چکڑ چھولے، حلیم نان، چنے انڈا، بریانی، کڑاہی گوشت، بار بی کیو کے ساتھ ساتھ فاسٹ فوڈ بھی مل سکتا ہے، لاہور میں کسی بھی طرف نکل جائیں یہ سب سوغاتیں آپ کو مل جائیں گی لیکن اگر ساتھ تفریح بھی کرنی ہے تو پھر لذیذ کھانوں کے مخصوص مقامات پر چلے جائیں، جیسا کہ لکشمی چوک، ایم ایم عالم روڈ گلبرگ، اندرون لاہور بھاٹی گیٹ، فوڈ سٹریٹ گوالمنڈی، پرانی انار کلی، بیڈن روڈ، یہ سبھی کھانوں کے مشہور مرکز ہیں جہاں کھانوں کی بھینی بھینی خوشبو اور مہک ہر طرف پھیلی ہوتی ہے۔

دیکھنے کو ہر طرح کی عمارتیں اور تاریخی مقامات اس قدر لاہور میں ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لئے کئی دن درکار ہیں ان میں قدیم، تاریخی اور جدید مقامات اور عمارتیں شامل ہیں، ایک حسین مرقع اور امتزاج ہے۔ ان میں شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، عجائب گھر، مینار پاکستان، شالامار باغ، نور جہان کا مقبرہ وغیرہ اور مال روڈ پر واقع دیگر اہم تاریخی عمارتیں شامل ہیں۔ خوبصورت پارکوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ اورنج ٹرین کے اجراء نے لاہور کو مکمل طور پر بدل ڈالا ہے، جدید لاہور نے پرانے لاہور کو نگل لیا ہے۔

کبھی مال روڈ سمیت لاہور کی سڑکوں پر تانگوں کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں سننے کو ملا کرتی تھیں اور اکا دکا موٹر کار اور سائیکل سوار نظر آیا کرتا تھا۔ ایک وقت تھا کہ لاہور کی سڑکوں کی دلکشی ڈبل ڈیکر بسیں ہوا کرتی تھیں لیکن اب یہ مناظر پرانی تصاویر میں ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں لاہور ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، اور آج گاڑیوں کے ہارنوں اور انجنوں کے شور نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔

اب یہاں اوور برج، انڈر پاسوں اور فلائی اووروں کی بہتات ہو چکی ہے۔ اوپر نیچے، دائیں، بائیں ہر طرف ٹریفک ہی ٹریفک دکھائی دیتی ہے۔ موٹر سائیکلوں، چمکتی قیمتی کاروں اور دیگر ٹرانسپورٹ کا رش سڑکوں پر ہر وقت دکھائی دیتا ہے۔ نوجوان نسل اور اوورسیز شاید نہیں جانتے کہ آج کے لاہور کے اندر بھی ایک لاہور موجود ہے اور حقیقت میں وہی اصلی لاہور ہے۔ اس اندرون لاہور کو پرانا لاہور بھی کہتے ہیں۔ اس گمنام شدہ پرانے لاہور کے آثار آج بھی موجود ہیں، پرانی حویلیاں، پرانے دروازے، پرانے گھر، پرانے وقتوں کی ایسی یادگاریں ہیں جن کو دیکھ کر انسان صدیوں سال پیچھے چلا جاتا ہے۔

یہاں تک کہ اس کے نام بھی ہر زمانہ میں بدلتے رہے ہیں۔ تاریخ کی کتب میں جو نام درج ہیں ان میں لھور، لہانور، لوہاور، لوھور، لوھاوؤر، لاوھور، لا ہاور، لانہور، لھاوار شامل ہیں۔ لاہور کے نام کی طرح اس کی تاریخ بھی بہت پرانی اور قدیم ہے صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آج بھی اس کا شمار دنیا کے اہم شہروں میں ہوتا ہے۔ 630 عیسوی میں چین کے ایک باشندے نے ہندوستان جاتے ہوئے لاہور کا ذکر اپنی تحریر میں کیا تھا۔ یہیں سے اس شہر کے قدیم ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ علامہ احمد بن یحییٰ بن جابر بلازی کی کتاب فتوح البدان میں لاہور کا ذکر ملتا ہے جس میں 664 عیسوی کے اہم واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ لاہور شہر کی تاریخ کو اگر چند سطروں میں لکھا جائے تو کچھ یوں لکھا جائے گا۔ تاریخ کی کتب کے مطابق رام کے بیٹے لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک قلعہ تعمیر کرایا، دسویں صدی تک یہ شہر ہندوؤں راجاؤں کے زیر تسلط رہا۔ 11 ویں صدی میں سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کیا تو ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا۔

1186 میں شہاب الدین غوری نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔ 1290 میں خلجی خاندان، 1320 میں تغلق خاندان، 1414 میں سید خاندان اور 1451 میں لودھی خاندان کے قبضے میں رہا۔ ظہیرالدین بابر نے 1526 میں ابراہیم لودھی کو شکست دی اور برصغیر میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ لاہور شہر اپنے اندر ماضی کے حکمرانوں کے عروج و زوال کو سموئے ہوئے ہیں۔ ہر دور میں یہ شہر حکمران وقت کی توجہ اور حکومت کا مرکز رہا ہے اور صوبے کا صدر مقام رہا ہے۔

لاہور کی بربادی اور آباد کاری کی داستاں جہاں بہت طویل ہے وہیں سبق آموز بھی ہے۔ بیرونی حملہ آوروں نے یہاں کے باسیوں کو اس کو لوٹا اور اجاڑا۔ بالآخر مغلیہ دور جب آیا تو انہوں نے انہی حملوں سے بچانے اور اس کو خوبصورت بنانے کا فیصلہ کیا، یوں لاہور کے گرد مضبوط بلند فصیل قائم کی گئی جس کی بلندی 30 فٹ تھی جو سکھوں کے دور میں کم ہو کر 15,20 فٹ کی رہ گئی تھی۔ اس کے داخلی اور خارجی راستوں کے لئے 12 دروازے بھی تعمیر کیے گئے تھے، 1 چھوٹا دروازہ بھی الگ تعمیر کیا گیا تھا، یہ سب نقش و کنندہ کاری کے سبب خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھے۔

ان دروازوں کو باقاعدہ نام دیے گئے تھے۔ ان میں 1 دہلی دروازہ، 2 اکبری دروازہ، 3 موتی دروازہ، 4 شاہ عالمی دروازہ، 5 لوہاری دروازہ، 6 موری دروازہ، 7 بھاٹی دروازہ، 8 ٹکسالی دروازہ، 9 روشنائی دروازہ، 10 مستی دروازہ، 11 کشمیری دروازہ، 12 خضری دروازہ اور 13 یکی دروازہ شامل ہیں۔ دہلی دروازہ اس دور میں سب سے زیادہ مصروف گزرگاہ ہوا کرتی تھی، کیونکہ اس کا منہ دہلی کی طرف تھا اسی لئے شاہی قافلے اور سواریاں اسی دروازہ سے لاہور میں داخل ہوا کرتی تھیں۔

بہت سے دروازے تجاوزات کی زد میں آ کر اپنا وجود کھو چکے ہیں لیکن چند دروازے آج بھی موجود ہیں اور عظیم عہد رفتہ کی یاد دلاتے ہیں۔ پرانے لاہور کو راستہ انہی دروازوں سے ہو کر جاتا تھا اور یہ دروازے سرشام ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔ اندر تنگ گلیوں اور بازاروں والا حقیقی لاہور بستا تھا۔ آج کل اسی پرانے لاہور کو از سر نو زندہ کرنے کی سرکاری کوششیں ہو رہی ہیں۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے نام کا ایک ادارہ اندرون لاہور کی صدیوں پرانی رونقیں بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پرانے لاہور کو زندہ رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے، چار دیواری کے اندر موجود تنگ گلیوں، پرانے قدیم طرز کے مکانوں اور حویلیوں پر مشتمل لاہور کی تزئین و آرائش ہو نے کے بعد ایک میلہ سجایا گیا ہے۔ جس میں قدیم لاہور کی تنگ گلیوں کی نمائش کی گئی ہے اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے پرانے لاہور کی قدیم شان و شوکت کو دیکھا اور انتہائی پسند کیا ہے اور اب لاہور میں سیاحت کے جانے والوں کے لئے نیا سیاحتی مقام کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اب اس شہر کے اندر بڑھتی مذہبی انتہا پسندی، مذہبی تنظیموں اور ان کے ٹھکانوں کی موجودگی اس عظیم شہر کی عالمی شناخت و شہرت کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

 

Facebook Comments HS