جارج آرویل کی تصور کردہ دنیا اور آج کا پاکستان


اگر جارج آرویل آج زندہ ہوتے، تو وہ اپنی تصور کردہ دنیا سے بھی زیادہ بھیانک حقیقت کا سامنا کرتے۔ پاکستان میں حالیہ دنوں میں بے گناہ مظاہرین کے قتل نے ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جو آرویل کے تخیلاتی ڈراؤنے خوابوں سے بھی زیادہ تاریک ہے۔ آرویل کی کتاب 1984 میں ایک ایسی معاشرت کا ذکر ہے جہاں حکومت کی مطلق العنانیت، سچائی کی تحریف اور اختلاف رائے کا قلع قمع کیا جاتا ہے۔ مگر پاکستان کی موجودہ صورتحال میں یہ سب کچھ جمہوریت اور نظم و ضبط کے نام پر ہو رہا ہے، جو آرویل کی پیش گوئیوں سے کہیں آگے ہے۔

آرویل کے اوشیانا میں ”تھاٹ پولیس“ اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ادارے جو عوام کی حفاظت کے لیے بنائے گئے تھے، وہی عوام پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ امن و امان کے نام پر سیکیورٹی فورسز نہتے شہریوں پر تشدد کر رہی ہیں جو اپنے بنیادی حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ڈھکی چھپی آمریت نہیں، بلکہ قومی سلامتی اور استحکام کے نام پر ننگے جبر کی حکمت عملی ہے۔

آرویل کی ”وزارتِ سچ“ کا کام تھا کہ تاریخی حقائق کو حکومت کی مرضی کے مطابق بدل دیا جائے۔ آج کے دور میں معلومات کی تحریف ایک نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ریاستی کنٹرولڈ میڈیا مظاہرین کو فسادی اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کو جائز ٹھہراتا ہے۔ آزاد صحافت کو دبایا جا رہا ہے، اور جو صحافی سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، اغوا کیا جاتا ہے یا اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا، جو کبھی اظہارِ رائے کی آزادی کا ذریعہ تھی، اب سخت نگرانی اور سنسرشپ کا شکار ہے، اور اہم مواقع پر انٹرنیٹ بند کرنا معمول بن چکا ہے تاکہ اختلافِ رائے کو دبایا جا سکے۔

آرویل کی ”نیوسپیک“ کا مقصد تھا کہ زبان کی پیچیدگی اور وسعت کو کم کر کے سوچ کی حدود کو محدود کیا جائے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ تنقیدی سوچ پر حملہ کیا جا رہا ہے، سادہ اور دو طرفہ بیانیے پھیلائے جا رہے ہیں جو کسی بھی مخالفت کو قومی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ یہ ذہنی غلامی اس تعلیمی نظام کے ذریعے مزید پروان چڑھتی ہے جو سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور رٹے رٹائے سبق سکھاتا ہے، جس سے ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو موجودہ نظام کو چیلنج کرنے سے قاصر ہے۔

آرویل کے ناول میں پارٹی مسلسل جنگ کی حالت میں رہ کر عوام کو خوف میں مبتلا رکھتی تھی تاکہ وہ فرمانبردار رہیں۔ آج کے دور میں حکومتیں اندرونی اور بیرونی خطرات کا ڈھونگ رچا کر پرامن مظاہرین کو وجودی خطرہ بنا کر پیش کرتی ہیں۔ یہ حکمت عملی نہ صرف حکومتی ناکامیوں سے توجہ ہٹاتی ہے بلکہ شہریوں کے درمیان خوف اور بدگمانی کا ماحول پیدا کرتی ہے، جس سے معاشرتی ہم آہنگی ٹوٹتی ہے اور اجتماعی عمل ایک سہانا خواب بن جاتا ہے۔

آرویل کے ”روم 101“ میں قیدیوں کو ان کے سب سے بڑے خوف کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آج کے دور میں خفیہ حراستی مراکز میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کو ایسی جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی جاتی ہیں تاکہ ان کی روح تک کو توڑا جا سکے۔ مگر جدید جبر کا نظام صرف فرد تک محدود نہیں۔ مظاہرین کے خاندانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، ان کے روزگار تباہ کیے جاتے ہیں، اور پوری برادریوں کو اجتماعی سزا دی جاتی ہے، جس سے دہشت کا ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جو کسی بھی مزاحمت کی خواہش کو ہی دبا دیتا ہے۔

اس تاریک حقیقت کا سب سے افسوسناک پہلو شہریوں میں ہمدردی کا خاتمہ ہے۔ آرویل کی دنیا میں ”ٹو منٹس ہیٹ“ ایک روزانہ کا معمول تھا جس میں اجتماعی نفرت کو فرضی دشمنوں کی طرف موڑا جانا مقصود تھا۔ آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز منظم نفرت انگیز مہمات کے میدان بن چکے ہیں جو اختلافِ رائے رکھنے والوں کو غیر انسانی بنا کر پیش کرتے ہیں اور عوام کو ان کی حالت زار سے بے حس کر دیتے ہیں۔ اس طرح کی مصنوعی رضامندی کے ذریعے ریاستی تشدد کو بے حسی یا یہاں تک کہ قبولیت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ اس پر غم و غصے کا اظہار کیا جائے۔

اگر آرویل آج کے حالات دیکھتے، تو وہ ایک ایسی دنیا پاتے جس نے نہ صرف ان اصولوں کو اپنایا ہے جن سے انہوں نے خبردار کیا تھا، بلکہ انہیں اس انداز میں بہتر اور وسیع کیا ہے جو ان کے تخیلاتی وژن کو بھی شرمندہ کر دے۔ پاکستان میں بے گناہ مظاہرین کا قتل محض ایک المناک واقعہ نہیں، بلکہ جبر کی ایک نئی شکل کا مظہر ہے۔ ایسی شکل جو جمہوریت کے پردے میں کام کرتی ہے، بے مثال موثریت کے ساتھ سچائی کو مسخ کرتی ہے، اور اختلافِ رائے کو ایسے ظلم کے ساتھ دباتی ہے جو بیک وقت ظاہر اور پوشیدہ ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں تاریخ کے اسباق کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ انہیں جبر کو جاری رکھنے کے لیے ہتھیار بنایا جاتا ہے، جو ہمیں اس تاریکی کی طرف لے جا رہا ہے جو آرویل کے تصور سے بھی زیادہ گہری ہے۔

Facebook Comments HS