آؤ محُبت کریں!

تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو محبت اور شادی کا تصور ہر زمانے اور معاشرے میں بدلتا رہا ہے۔ قدیم معاشروں میں شادی عمومی طور پر ایک سماجی معاہدہ تھا جس کا مقصد خاندان کی بقا اور معاشی استحکام ہوتا تھا۔ رومانوی محبت کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی بلکہ رشتوں میں فرض، ذمہ داری اور خاندانی روایات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ قرونِ وسطیٰ اور روایتی معاشروں کی لوک کہانیوں میں عشق ضرور ملتا ہے (ہیراں جھا اور

Read more

تف ہے بھئی

کیا یہ امر تعجب خیز نہیں کہ ہم ایک ایسی سرزمین میں جی رہے ہیں جس کی بنیاد تو بظاہر آزادی جیسے عظیم نصب العین پر استوار تھی، لیکن آج یہی آزادی ”زنجیرِ قوم“ ٹھہری؟ کبھی ہم جمہوریت کے چراغ کو فخر سے ہوا دیتے تھے، چراغ امید لے کر چلتے تھے، اور دل میں چاند تارے توڑ لانے کے خواب سجایا کرتے تھے۔ پھر کیا ہوا کہ یکایک ہماری آنکھوں سے امید کے سُرمے جھڑ گئے، اور ہمیں احساس

Read more

خبردار! آپ کا بینک اکاونٹ خالی ہو سکتا ہے

ارضِ پاکستان میں ویسے تو کچھ بھی محفوظ نہیں کہ حکومتی ادارے "بڑے بھائی” کی سرپرستی میں عوامی فلاح و بہبود کی "دیگر” سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ایسے میں فِشنگ (Phishing) اور آن لائن فراڈ کی بڑھتی ہوئی وبا ایک تشویشناک اور سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ جس رفتار سے ڈیجیٹل بینکاری اور آن لائن لین دین روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں، اسی تیزی سے شاطر مجرم اور موقع پرست عناصر بھی عوامی لیڈران اور رہبرانِ مملکت

Read more

نظریہ حیات اور ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی الجھن

پاکستان کی نوجوان نسل آج کل ایک پیچیدہ اخلاقی مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ روایات، مذہب، جدیدیت، ذرائع ابلاغ (میڈیا) ، اور تعلیمی ادارے۔ یہ سب مل کر ایک ایسی اُلجھن پیدا کر رہے ہیں جس میں نوجوانوں کے لیے صحیح اور غلط کی تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہر سمت سے مختلف اصول، مختلف اقدار، اور جداگانہ اخلاقی ضابطے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف مذہبی حلقے شریعت اور مسلکی تشریحات پر زور دیتے ہیں، تو دوسری

Read more

نظریہ ارتقا، معاشرتی تبدیلیاں اور مصنوعی ذہانت کی خفیہ سازش

جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسان نے صرف دھرتی، دریا، پہاڑ یا ستاروں پر ہی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وہ یہ کوشش بھی کرتا رہا کہ ”انسانیت“ کی تعریف، بقاء اور رفتار کو بھی خالص سائنسی اصولوں پر سمجھا جائے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی یورپی تہذیب میں جب طبیعیات، کیمیا، فلکیات اور ریاضی انسانی شعور کے آسمان پر نئے سورج طلوع کر رہے

Read more

!سستی بجلی بھی مبارک ہو پاکستانیو

جب تاریخ کے دھندلکوں میں جھانکتے ہیں تو ہمیں ایسے نادر نظارے نظر آتے ہیں جہاں بادشاہوں کے دربار میں ہر حکم کی تعمیل کی جاتی، گویا کوئی مذاکرہ، کوئی مکالمہ، یا خدانخواستہ کوئی سوال پوچھنا گناہِ کبیرہ ہو۔ ہم آج بھی ارض پاک پر انہی معتبر روایات کے وارث ہیں، جہاں ”بڑے بھائی“ کی مہربانیوں کی برکت سے ہم سب نہ صرف نفسِ مطمئنہ سے بہرہ مند ہیں بلکہ ”ارزاں برقی رو“ کی اُس کہکشاں میں داخل ہو چکے

Read more

ہماری جامعات کے در پر زوال کی دستک

جب اندلس کے علمی کتب خانوں کے اوراق دھوئیں کے مرغولے بن کر ہوا میں تحلیل ہو رہے تھے، اُس وقت بھی کئی احاطوں میں نام نہاد عالم و فاضل حضرات اپنی علمی فتوحات کے بارے میں بڑے طمطراق سے گفتگو کر رہے تھے۔ جب بغداد کی دانش گاہوں کو تاتاری یورشوں نے جلا کر راکھ کر دیا، وہاں بھی کچھ درباری علما روایتی مباحث میں مگن رہے، گویا علمی عظمت کا طلسم اب بھی برقرار ہے۔ یہ تاریخ کے

Read more

ڈرنا مبارک ہو پاکستانیو!

پاکستان، جہاں ”میرے عزیز ہم وطنو“ کا دل جمہوری بے چینی اور سیاسی اضطرار کی کیفیت میں کسی بُوٹ کی آہٹ کے مدہم سروں پر دھڑکتا تھا، وہاں آج ہم سب ”بڑے بھائی“ کی شفقت بھری قیادت کے سائے میں امن و آشتی سے جی رہے ہیں۔ اس سکون میں کوئی بے ترتیبی نہیں، کوئی آزادی کا دھوکا نہیں، کوئی اختلاف کا نعرہ نہیں۔ یہ وہ مثالی کیفیت ہے جس کی خواہش تاریخ میں گزرے ہر آمر نے کی مگر

Read more

جارج آرویل کی تصور کردہ دنیا اور آج کا پاکستان

اگر جارج آرویل آج زندہ ہوتے، تو وہ اپنی تصور کردہ دنیا سے بھی زیادہ بھیانک حقیقت کا سامنا کرتے۔ پاکستان میں حالیہ دنوں میں بے گناہ مظاہرین کے قتل نے ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جو آرویل کے تخیلاتی ڈراؤنے خوابوں سے بھی زیادہ تاریک ہے۔ آرویل کی کتاب 1984 میں ایک ایسی معاشرت کا ذکر ہے جہاں حکومت کی مطلق العنانیت، سچائی کی تحریف اور اختلاف رائے کا قلع قمع کیا جاتا ہے۔ مگر پاکستان کی موجودہ

Read more