خیبر پختونخوا میں تنازعات کے حل کے لیے جرگہ سسٹم کا کردار
خیبر پختونخوا کے مختلف قبائلی اضلاع خاص طور پر کرم ایجنسی کے علاقے طویل عرصے سے قبائلی تنازعات، فرقہ ورانہ کشیدگی اور امن و امان کے مسائل کا شکار رہے ہیں۔ ان مسائل کی بنیادی جڑ قبائلی روایات، زمین کے تنازعات اور مختلف گروہوں کے درمیان مفادات کا تصادم ہے۔ عدالتی نظام کے باوجود حکومتِ خیبر پختونخوا نے ماضی میں بھی ان تنازعات کے حل کے لیے جرگے کے نظام کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ نظام پشتون روایات اور قبائلی معاشرت کا اہم حصہ ہے۔
گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی جرگے میں شرکت کی اور کئی اقدامات اٹھائے۔ وزیر اعلیٰ نے کرم ایجنسی میں جاری کشیدگی کو حل کرنے کے لیے کوہاٹ میں ایک گرینڈ جرگے میں شرکت کی۔ حکومت خیبرپختونخوا کے اس اقدام سے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدگی اور قبائلی علاقوں میں روایتی ذرائع کے استعمال کی حمایت کا اظہار ہوتا ہے۔ جرگے میں دیے گئے اہم احکامات میں سے چند درج ذیل ہیں :
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے امن خراب کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے جو کہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔
اسلحہ ضبط گی اور بنکرز کے خاتمہ پر توجہ دی جائے، وزیر اعلیٰ نے ہتھیاروں کی ضبط گی اور علاقے میں تمام بنکرز کو غیر جانبداری سے ختم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے وفاقی حکومت سے اضافی ایف سی پلاٹونز کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے۔ تاکہ علاقے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے بے گھر افراد کی بحالی کے لیے فنڈز کے فوری اجراء کا وعدہ کیا ہے اور ان کی باعزت واپسی کا بھی یقین دلایا۔
جرگے کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ جرگے کے فیصلوں کو مزید موثر اور پائیدار بنانے کے لیے حکومتی اور قبائلی رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ جرگہ ممبران کی تربیت اور ان کے فیصلوں کی قانونی حیثیت کو مزید تقویت دی جائے۔
عوام میں امن و امان کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے مہم چلائی جائے۔ مقامی آبادی کو یہ سمجھایا جائے کہ امن کے قیام کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
کرم ایجنسی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعلیم اور صحت کے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ تنازعات کی وجوہات کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
پورے صوبے میں مصالحتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ عدالتوں پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک مستقل مصالحتی کمیشن قائم کیا جائے جو کسی بھی تنازعے کو ابتدائی مراحل میں حل کرنے کے لیے کام کرے۔
جرگے اور فیصلہ سازی مین قبائلی نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ نوجوانوں کو امن کی بحالی کے عمل میں شامل کیا جائے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کا ذہن تخریبی سرگرمیوں کی طرف مائل نہ ہو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے حالیہ اقدامات پشتون روایات کے احترام اور خیبرپختونخوا حکومت کی امن و امان کے قیام کی پالیسی کے عکاس ہیں۔ تاہم ان اقدامات کو کامیاب بنانے کے لیے حکومتی، قبائلی اور عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومتی پالیسیوں کا تسلسل اور تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے۔


