غلط رویوں کو قبول کرنا کمزوری اور نظر انداز کرنا اصل بہادری ہے


sajid mehmood chohan

کاروباری دنیا میں جہاں اہداف کی تکمیل اور کامیابی کا حصول اولین ترجیح ہے، وہاں ورک پلیس پر رویوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ کسی بھی کمپنی کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے منصوبوں اور حکمت عملی پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے افراد کے رویوں پر بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، اچھے ورکرز اور ٹیموں کو اکثر ایسے سخت اور غیر ضروری رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے مورال کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ایسے رویے نہ صرف انفرادی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پوری ٹیم کے مورال اور اُن کی روح کو بھی کمزور کر سکتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ان رویوں کو قبول کرنے کے بجائے نظرانداز کر کے آگے بڑھتے ہیں، وہی اصل میں بہادر، تجربہ کار اور کامیاب لیڈر بن سکتے ہیں۔

ورک بیلنس کے سخت رویے : کیا ہیں وجوہات؟

سخت رویے یا منفی طرز عمل کا مظاہرہ اکثر ان افراد کی طرف سے کیا جاتا ہے جو ذہنی یا نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ان رویوں کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں :

1۔ عدم تحفظ کا احساس: سخت رویہ رکھنے والے افراد اکثر اپنے کردار اور کام کے حوالے سے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی کامیابی ان کی ناکامی ہے۔

2۔ جذباتی دباؤ: ذاتی یا پیشہ ورانہ مسائل کی وجہ سے پیدا ہونے والا جذباتی دباؤ بھی ان کے رویے کو منفی بنا دیتا ہے۔

3۔ اختیارات کا غلط استعمال : کچھ افراد اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنی برتری ظاہر کر سکیں۔

4۔ عدم اعتماد : یہ رویہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان افراد کو خود پر یا اپنی ٹیم پر اعتماد نہیں ہے۔

سخت رویوں کا اثر :

غلط رویے نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پوری ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا نتیجہ مورال میں کمی کا باعث بنتا ہے کیونکہ سخت رویے ورک پلیس کی مثبت توانائی کو کمزور کرتے ہیں، جس سے ورکروں کی حوصلہ افزائی ختم ہو جاتی ہے اور وہ الٹا مایوسی پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور پیداواری صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے، مسلسل دباؤ اور منفی رویوں کا سامنا کرنے سے کارکنوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ حتیٰ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی اکثر سخت رویوں سے برداشتہ ہو جاتے ہیں۔

خصوصاً سرکاری اداروں میں نہ انسان تبادلہ کروانے والا ہوتا ہے اور نہ ہی نوکری چھوڑنا ممکن ہوتی ہے۔ کارپوریٹ لائف پر تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگ کمپنیز کی وجہ سے ملازمت نہیں چھوڑتے بلکہ اپنے باس کے سخت رویہ کی وجہ سے نوکری چھوڑ دیتے ہیں۔ حال ہی میں میرے بھانجے نے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی نوکری صرف اپنے باس کے برے رویہ کی وجہ سے چھوڑی جبکہ وہ کمپنی اُس کو بے حد پسند تھا۔ ٹیم ورک کا فقدان بھی اِسی منفی رویہ کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ منفی رویے ٹیم کے اندر تقسیم اور بداعتمادی کا باعث بنتے ہیں۔

ایک مضبوط لیڈر کا کام صرف اپنی ٹیم کو اہداف تک پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ ان کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہوتا ہے۔ سخت رویوں کو قبول کرنا بہادری نہیں بلکہ ان کو نظرانداز کر کے آگے بڑھنا ایک سچی لیڈرشپ کی نشانی ہے۔

مثبت سوچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ٹیم لیڈر کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم میں مثبت سوچ کو پروان چڑھائے۔ اگر کوئی سخت رویے کا مظاہرہ کرے تو اس کا بہترین جواب پیشہ ورانہ رویہ ہوتا ہے۔ ورکرز میں اعتماد پیدا کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے اور لیڈر کو اپنی ٹیم کے ساتھ ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں ہر فرد اپنی بات کہنے میں آزاد ہو اور اپنے خیالات کا اظہار کر سکے۔ غلط رویوں کو اپنی توانائی کا مرکز بنانے کے بجائے اہداف پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

سخت رویے رکھنے والے افراد کا نفسیاتی تجزیہ:

ماہرین نفسیات کے مطابق، سخت رویے رکھنے والے افراد اکثر ”Cognitive Dissonance“ یا ”Inferiority Complex“ کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ رویہ ان کے اندرونی خوف اور جذباتی عدم توازن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو ذاتی توجہ اور معاونت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے رویے کو بہتر بنا سکیں۔ دوسرے افراد کی کامیابی کو دیکھ کر حسد کی وجہ سے سخت رویے پیدا ہو سکتے ہیں۔ خود اعتمادی کی کمی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے اور ان افراد کو خود پر یقین نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ دوسروں کو نیچا دکھا کر اپنی برتری ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماضی کے تلخ تجربات بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے اور افراد کے ذاتی یا پیشہ ورانہ تجربات بھی ان کے رویے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

سیلز ٹیموں کو سخت رویوں کا سامنا:

سیلز کے شعبے میں، جہاں ہر دن ایک نئی چیلنج کا سامنا ہوتا ہے، سخت رویوں کا سامنا معمول کی بات ہے۔ یہ رویے عموماً ٹیم کے اندر یا کلائنٹس کی جانب سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ایک کامیاب سیلز پرسن وہی ہوتا ہے جو ان رویوں کو اپنی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیتا بلکہ اپنی توجہ اپنے کام پر مرکوز رکھتا ہے۔ سیلز پروفیشنلز کو اکثر کلائنٹس کی طرف سے سخت باتیں سننے کو ملتی ہیں، لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیشہ ورانہ رویہ اپنائیں اور ہر حال میں مثبت انداز میں کام کریں۔ ٹیم کے اندر موجود افراد کے درمیان اختلافات کو حل کرنا بھی لیڈرشپ کی اہم ذمہ داری ہے۔

غلط رویوں کو برداشت کرنا یا ان کے سامنے جھک جانا بہادری نہیں، بلکہ ان کو نظرانداز کر کے اپنی توانائی کو مثبت سمت میں استعمال کرنا اصل کامیابی ہے۔ لیڈرشپ کا اصل جوہر یہ ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو ان رویوں کے باوجود متحرک اور پرعزم رکھے۔

سخت رویے رکھنے والے افراد کو سمجھنا اور ان کے ساتھ پیشہ ورانہ طریقے سے نمٹنا ایک اہم مہارت ہے۔ لیڈرز کو چاہیے کہ وہ ایسے ماحول کی تخلیق کریں جہاں ہر فرد اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے اور منفی رویے کام کے معیار کو متاثر نہ کر سکیں۔ صرف مضبوط ٹیم ورک، مثبت سوچ اور توجہ سے ہی ہم ان رویوں کو شکست دے سکتے ہیں اور ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔

سیلز کیریئر میں بھی کئی بار ایسے مواقع آئے جہاں مجھے یا میری ٹیم کو ان رویوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔

ایک مرتبہ، میں اور میری ٹیم نے ایک ایسا سیلز پلان تیار کیا جس سے کمپنی کی سیلز میں نمایاں اضافہ ہو سکتا تھا۔ ہم نے یہ پلان اپنے ٹیم لیڈ کے سامنے پیش کیا، لیکن انہوں نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ وقت کا ضیاع ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ چند دن بعد ، وہی ٹیم لیڈ اس پلان کو اپنے نام سے ٹاپ مینجمنٹ کے سامنے پیش کر رہے تھے، اور مینجمنٹ نے اسے منظور کر لیا۔

”سونے پہ سہاگہ“ یہ ہوا کہ چند مہینوں بعد سیلز میٹنگ کے دوران سی ای او نے ہمارے ٹیم لیڈ سے پوچھا کہ انہوں نے اس پلان کو کہاں سے تیار کیا یا کس چیز سے متاثر ہو کر اسے ترتیب دیا؟ ٹیم لیڈ کوئی واضح جواب دینے سے قاصر رہے۔ اس دوران، ہماری ٹیم کے چہروں پر چھپی مسکراہٹ شاید سی ای او نے بھانپ لی۔ انہوں نے ہم سے مخاطب ہو کر دریافت کیا کہ کیا ہم نے اس سیلز ماڈل کو کہیں دیکھا یا سنا ہے؟ اس پر ہماری ٹیم نے نہ صرف کئی مثالیں دیں بلکہ ماڈل کے عملی مسائل اور ان کے حل کے بارے میں بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔

یہی وہ لمحہ تھا جب مینجمنٹ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ اس سیلز ماڈل کی حقیقی محنت کس نے کی تھی۔ اس واقعے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اب سیلز پلاننگ میٹنگز میں مجھے بھی شامل کیا جانے لگا، جو کہ پہلے ممکن نہیں تھا۔

یہ کامیابی ہماری ٹیم کے پروفیشنل رویے کی بدولت ممکن ہوئی۔ ہم نے فوری ردعمل دینے کے بجائے صبر، سمجھداری، اور بہترین حکمت عملی سے کام لیا۔ آفس کا ماحول خراب کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی، اور وقت نے ثابت کر دیا کہ محنت اور دیانتداری کا صلہ ضرور ملتا ہے۔

Facebook Comments HS