سیاسی تجربات اب ختم ہونے چاہئیں
77 سالوں میں اس ملک میں یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ حق حکمرانی کا حق سول حکمرانوں کو ہے یا غیر سول حکمرانوں کو۔ ان دو طبقات کے درمیان ہمیشہ اقتدار کی رساکشی جاری رہی، اور اسی وجہ سے ملک میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک آمریت رہی۔ باقی عرصے میں بھی جمہوریت پر غیر جمہوری قوتوں کا اثر غالب رہا۔ جب تک بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا، اس کی اکثریت کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ ون یونٹ بنا کر مغربی پاکستان کی بالادستی قائم کی گئی۔
یہاں تک کہ بنگالیوں کو نہ فوج میں حصہ دیا گیا، نہ سول بیوروکریسی میں۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ بنگالیوں کو شکایت تھی کہ مشرقی پاکستان کی دولت سے لاہور اور اسلام آباد کی ترقی کی جاتی تھی۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں بنگالی پاکستان سے نفرت کرنے لگے۔ 1970 کے انتخابات میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں اکثریت حاصل کی، مگر پھر بھی شیخ مجیب کو اقتدار نہیں دیا گیا۔
1971 میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت دی گئی، لیکن ان کے خلاف بھی سازشیں شروع ہو گئیں۔ بھٹو صاحب نے ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے تاریخی اقدامات کیے۔ انہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اور زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی، حالانکہ وہ خود بھی جاگیردار تھے۔ بھٹو صاحب پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے قومی اداروں کو نیشنلائز کر کے ملک کو نقصان پہنچایا۔ لیکن ماہر معاشیات قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ اگر بھٹو صاحب ادارے نیشنلائز نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا۔
قیصر بنگالی ان کی نیشنلائزیشن پالیسی کا بھرپور دفاع کرتے ہیں۔ مگر ایسے ایک وژنری لیڈر کو بھی برداشت نہیں کیا گیا اور ایک جھوٹے مقدمے میں پھانسی دے دی گئی۔ اس کے بعد ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے 10 سال تک ملک پر حکمرانی کی۔ ضیاء الحق کے دور میں ملک میں تجربات شروع ہوئے۔ انہوں نے ملک میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر کو فروغ دیا اور پاکستان کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا، جس کا نقصان آج بھی ملک کو ہو رہا ہے۔
ضیاء الحق نے افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور تین لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان لایا۔ یہ مہاجرین آج بھی پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ اپنے ذاتی مفادات کے لیے ضیاء الحق نے ملک کو ایک بڑی جنگ میں دھکیل دیا۔ ضیاء الحق نے سیاسی جماعتیں بنانے کا آغاز کیا۔ انہوں نے سندھ میں ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی، الطاف حسین کو کروڑوں روپے دیے، اور سندھ کے شہروں میں جھگڑوں کی شروعات کی۔ تاریخی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایم کیو ایم نے کراچی اور حیدرآباد میں ہزاروں شہریوں کو قتل کیا۔
اس کے نتیجے میں عام مہاجروں کا بھی قتل ہوا۔ ایم کیو ایم کو سندھ کے شہروں میں اختیار دے کر پیپلز پارٹی اور دیگر سندھ کی سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا گیا۔ الطاف حسین آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان کے بیانات مسلسل آرہے ہیں۔ الطاف حسین اب یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان سے خونریزی کرائی گئی اور انہیں استعمال کیا گیا۔ ضیاء الحق تو طیارے کے حادثے میں مر گئے، لیکن ان کی باقیات آج بھی کسی نہ کسی طرح ملک میں جمہوریت کو کمزور کر رہی ہیں اور مسلسل سیاسی تجربات جاری ہیں۔
ضیاء الحق کی موت کے بعد تھوڑے وقت کے لیے ملک میں جمہوریت آئی، لیکن اسے پنپنے نہ دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں، لیکن انہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔ آئی جے آئی بنائی گئی اور بے نظیر بھٹو کو ہٹا کر نواز شریف کو لایا گیا۔ لیکن نواز شریف بھی نہیں چل سکے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی دو مرتبہ حکومتوں کو ختم کر کے ایک بار پھر جنرل پرویز مشرف نے ملک پر آمریت مسلط کر دی۔ پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے جدوجہد شروع کی۔
جب پرویز مشرف کمزور ہوا تو بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا، اور ملک 50 سال پیچھے چلا گیا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور آصف علی زرداری ملک کے صدر بنے، لیکن سیاسی بحران ختم نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران ہی عمران خان پر کام شروع ہو گیا اور انہیں پروجیکٹ کے طور پر تیار کیا گیا۔ لیکن 2013 کے انتخابات میں عمران خان کو اتنی سیٹیں نہ مل سکیں کہ وہ حکومت بنا سکیں۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے، لیکن ان کے خلاف بھی سازشیں شروع ہو گئیں۔
پاناما کے بہانے اقامہ کے کیس میں انہیں ہٹا دیا گیا، اور اداروں نے عمران خان کو لانے کی تیاری کر لی۔ ملک کے دانشور ہر وقت عمران خان کو مسیحا قرار دینے لگے، اور میڈیا پر عمران خان کا ہی چرچا رہا۔ یہاں تک کہ عدالت نے انہیں صادق اور امین قرار دیا۔ لیکن 2018 کے انتخابات میں عمران خان سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر سکے۔ آزاد اراکین اور اتحادیوں کی مدد سے انہیں وزیراعظم بنایا گیا، لیکن عمران خان کا تجربہ بری طرح ناکام رہا۔
اداروں اور عمران خان کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور انہیں ہٹا دیا گیا، جو کہ اسٹیبلشمنٹ کی بڑی غلطی تھی۔ عمران خان کے ہٹنے کے بعد وہ ہیرو بن گئے۔ اس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت آئی مگر بری طرح ناکام رہی۔ 2024 کے انتخابات میں عمران خان نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کامیابی حاصل کی، لیکن فارم 47 کی بنیاد پر حکومت نواز لیگ کو دی گئی۔ آج شہباز شریف ملک کے وزیراعظم ہیں، لیکن ان کے مینڈیٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور ملک میں سیاسی استحکام موجود نہیں۔
یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ملک میں جتنے بھی سیاسی تجربات کیے گئے، وہ سب ناکام ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جب تک ملک میں سیاسی جماعتوں کو آزادی نہیں دی جائے گی، سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔ اس وقت ملک میں نہ سیاسی استحکام ہے اور نہ امن۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں لوگ شام کے بعد باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ملک میں سیاسی تجربات بند کیے جائیں۔ عمران خان سے مذاکرات کر کے سیاسی درجہ حرارت کو کم کیا جائے اور معیشت اور امن و امان کو بہتر بنایا جائے، تاکہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آ سکے۔


