آپ کے بچوں کے لیے کون سا تعلیمی شعبہ بہتر رہے گا؟
آج صبح جب فیس بک کھولی تو پینڈو منڈے نامی ایک صارف کی ایک تشہیری پوسٹ دیکھ کر کلیجہ منہ کو آ گیا۔ اشتہار میں موصوف نے لکھ رکھا ہے کہ وہ جینٹس اور لیڈیز کپڑے بناتا ہے۔ اور نیچے اپنا موبائل نمبر دے رکھا تھا میں نے کمنٹس کیا اور اجازت لی کہ کیا میں اس کو سٹیٹس پر لگا سکتا ہوں؟ پینڈو منڈا ایم اے میں سلور میڈلسٹ ہے اور میرا ایم۔ فل کا کلاس فیلو رہا ہے، بہت ہی محنتی، لائق طالب علم ہے اور ایم فل میں بھی گولڈ میڈلسٹ ہے۔
پنجاب کے پسماندہ شہر سے ان کا تعلق ہے۔ وہاں کے پرائیویٹ سکولز اور کالجز میں نامور اساتذہ کی شخصیت میں ان کا نام آتا ہے۔ ابھی ایک پرائیویٹ سیکٹر میں بطور استاد اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ مہنگائی مناسب وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تنگ آ کر بالآخر انہوں نے یہ کام شروع کر دیا۔
میں سنہ 2022 میں ایڈمیشن سیل میں شعبہ کی طرف سے نئے آنے والے طالب علموں کو مضمون کا انتخاب کروانے میں ایک استاذی رہنما کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ہمارے نظریے کے مطابق آنے والا وقت کمپیوٹر اور انٹرنیٹ آن لائن کی دنیا کا نظر آ رہا تھا میں نے ہر ایک طالب علم کو مشورہ دیا کہ وہ کوئی سی بھی ڈگری کرے لیکن کمپیوٹر مہارت ضرور حاصل کرے تاکہ مستقبل میں اسے روزگار نہ بھی ملے تو وہ آن لائن کے کسی بھی پلیٹ فارم سے اپنا پیٹ پال سکے گا۔ سن 2023 ء میں اپنے ایم۔ فل تحقیقی مقالہ ( پاکستانی جامعات میں اقبالیاتی تحقیق کا اشاریہ) کے لیے مختلف جامعات کا دورہ کیا ہے، ابھی 12 فروری 2024 ء سے میں جامعہ کے مختلف امتحانات میں بطور ممتحن فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔
پاکستان بھر میں 200 سے زیادہ جامعات موجود ہیں اور ہر سال تقریباً 5 لاکھ طالب علم کالجز اور یونیورسٹیز سے فارغ ہو رہے ہیں۔ ایف اے، ایف ایس سی کے بعد طلبہ کسی بھی بی ایس پروگرام میں داخلہ لے لیتے ہیں جس میں ان کو ایک لاکھ فی سمیسٹر فیس ادا کرنا ہوگی۔ ( ( FAST، UMT جیسے اداروں کی دو اڑھائی لاکھ ) یعنی آٹھ سمیسٹر کی فیس کا خرچ آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہو گا۔ اس کے ساتھ چار سال کتب، نوٹس، ہوسٹلوں اور بسوں کا کرایہ کے ساتھ کھانے کا خرچ بھی تقریباً آٹھ لاکھ کے قریب جا پہنچتا ہے۔
اگر وہ مزید دو سال لگا کر اعلی تعلیم یعنی ایم۔ فل کر لے تو اس کا خرچ بھی تقریباً آٹھ لاکھ ہی شامل کر لیں۔ سولہ یا چوبیس لاکھ کے بدلے میں اُسے ایک کاغذ کا ٹکڑا ملے گا۔ جو صرف بڑے تالے والے صندوق میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں اب اُس بندے کا معیار یہ ہے کہ وہ جب کسی بھی کمپنی یا ادارے میں نوکری کرنے جاتا تو اُسے کہا جاتا کہ آپ کی تنخواہ چند ہزار روپے ہے جو کہ آپ کو پہلی بار 45 دن کے بعد ملے گی اب آپ نے اگر یہ نوکری کرنی ہے تو آپ اپنی اصلی اسناد جمع کروائیں گے، آپ ایک عدد خالی چیک جمع کروائیں گے، آپ ضمانت کے طور پہ ایک ماہ کی سیلری رکھوائیں گے
میرے عزیزو: اتنے پیسے خرچ کرنے سے پہلے کسی سے مشورہ کر لیں اب المیہ یہ ہے کہ مشورہ بھی والدین ایسے استاد سے کرتے ہیں جو موجودہ تعلیمی رجحانات سے کوسوں دور ہوتا ہے یعنی اس نے اپنا ماسٹرز دس پندرہ سال پہلے کیا ہوتا ہے یا پھر پرائیویٹ امتحان دے رکھا ہوتا ہے۔ اور اگر کسی نے یونیورسٹی کی دہلیز سے ریگولر تعلیم حاصل کی بھی ہوتی ہے تو وہ خود جس مضمون میں ماہر ہوتا ہے وہ وہاں تک طلبہ کو محدود کر دیتا ہے۔ حالانکہ والدین اپنے بچے کو سی ایس ایس یا پی ایم ایس کروانا چاہتے ہیں اور ان کا استاد انہیں بی ایس میتھ میٹکس کا مشورہ دے دیتا ہے۔
اگر کسی مریض کے لیے اچھے ڈاکٹر کی تلاش کی جا سکتی ہے جو اس کی بیماری کی صحیح تشخیص کرے تاکہ بیمار جلدی صحت یاب ہو جائے۔ تو والدین کو چاہیے کہ بچے کے مستقبل کے لیے اچھے تعلیمی کنسلٹنٹ سے رجوع کریں۔ جتنا فیس بخار کی دوائی کے لیے ایک اچھے ڈاکٹر کو ادا کی جاتی ہے اتنی ہی فیس اگر کسی اچھے نفسیاتی علمی استاذ کو دی جائے تو پھر نسلوں کے روزگار کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی طالب علم ایک اچھے کنسلٹنٹ کی مشاورت سے اپنی ایکسپرٹیز اور اپنی دلچسپی کے مطابق سبجیکٹ سلیکٹ کر لیتا ہے تو وہ آنے والے ٹائم میں ایک ایکسپرٹ کے طور پر ڈگری لے کر کامیابیاں سمیٹتا ہے اور ایکسپرٹ لوگوں کی جگہ ہر محکمہ اور ہر فیلڈ میں موجود ہے انجینئرنگ اور ڈاکٹرز کے علاوہ بہت سے ایسے شعبہ جات موجود ہیں جن میں ڈاکٹر اور انجنیئر سے بھی زیادہ ترقی کی جا سکتی ہے۔ یہ بھی المیہ ہے کہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہمیں ضرورت بھی ہے۔ ہر ترقی یافتہ ملک میں بچوں کی کیریئر کونسلنگ کی جاتی ہے جیسا کہ:
1۔ فن لینڈ: فن لینڈ کی تعلیمی نظام بچوں کی ذاتی ترقی اور ان کی دلچسپیوں پر توجہ دیتا ہے۔
2۔ ڈنمارک: ڈنمارک کی تعلیمی نظام بچوں کو ان کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کے مطابق تعلیم فراہم کرتا ہے۔
3۔ کینیڈا: کینیڈا کی تعلیمی نظام بچوں کی ذاتی ترقی اور ان کی دلچسپیوں پر توجہ دیتا ہے۔
یہ ممالک بچوں کی تعلیم کو ان کے نفسیاتی مزاج کے مطابق بنانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ
ذاتی تعلیمی منصوبے، دلچسپیوں کی بنیاد پر تعلیمی پروگرام، بچوں کی صلاحیتوں کی تشخیص اور ان کی ترقی کے لیے خصوصی پروگرام تعلیمی ماہرین اور مشاورت کی سہولیات، لیکن ہمارے ہاں تو تعلیمی نظام پرائیویٹ ہوتا جا رہا ہے اور پرائیویٹ اداروں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بچے کا مستقبل کیا ہو گا۔ ؟ انہیں صرف مارکس اور فیس سے مطلب ہوتا ہے۔ بہت سے پرائیویٹ سیکٹرز جعلی پوزیشنز اور رزلٹ کو اشتہارات پر لگاتے ہیں، پرائیویٹ اداروں میں نہ تو کوالٹی آف ایجوکیشن، نا کوئی موٹیویشنل ٹیچنگ اور نہ ہی موٹیویشنل ایونٹ منعقد کروائے جاتے ہیں۔
ابھی موجودہ وقت کے مطابق اب بچوں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء کو فنی تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ اگر نوکری نہ بھی ملے تو بھی وہ خود کی کفالت کر سکیں گے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگی بہت آسان کر دیا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں مزید ترقی ہونی ہے اے آئی فیچر ابھی دنیا کو نئی تہلکہ خیز چیزیں دینے جا رہا ہے ناممکن چیزوں کو ممکن میں بدلنے جا رہا ہے۔ ہر ذی شعور کو اپڈیٹ ہونے کی ضرورت ہے وقت اور حالات کے ساتھ تاکہ نئی نسل کی زندگی پر سکون ہو سکے


