”یونی کارن“ انقلاب


”یونی کارن“ (پیشانی پر ایک سینگ والا گھوڑا) ایک جادوئی و دیو مالائی کردار ہے جو ہزاروں سالوں سے تقریباً تمام خطوں کی تہذیبوں میں طاقت، خوبصورتی اور مافوق الفطرت قوتوں کے حامل کے طور پر جانا اور بیان کیا جاتا ہے، بہت سی میتھالوجیز میں اس افسانوی کردار کا حصول خوش بختی اور خدا کی طرف سے خاص انعام کی علامت ہے۔

ویسے تو ایسے کردار تقریباً ہر مذہب میں کسی نہ کسی صورت موجود ہیں لیکن عیسائیت میں اس کا ذکر بہت اہم ہے کیونکہ بائبل میں مختلف مقامات پر اس کا ذکر ملتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یونی کارن کے حصول کے لیے پاکیزگی اور پیورٹی شرط ہے، یونی کارن ”ہالی وڈ“ میں بھی بہت مقبول ہے جس پر بے شمار بچوں کی فلمیں اور ٹی وی سیریز بن چکی ہیں۔

آج کا دور سائنس کی ترقی کا زمانہ ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ پرانے وقتوں میں اس کردار کے نام پر اس زمانے کے لوگوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے وقوف بنایا جاتا رہا ہو، مذہبی لیڈروں اور پیشواؤں نے لوگوں کو یہ باور کرایا ہو کہ ہم پاکیزہ بندے، خدا کی خاص مہربانی سے ”یونی کارن“ کو قابو کر کے اپ لوگوں کے تمام روحانی اور دنیاوی مسائل حل کر دیں گے۔ ہمارے پیچھے چلو اور ہم جو کہتے ہیں وہ خاموشی سے کرتے جاؤ، کچھ مت سنو، کچھ مت پوچھو، کچھ مت دیکھو، بس ہمارے منہ سے نکلے لفظ تم لوگوں کے لیے حرف آخر ہونے چاہئیں، کیونکہ ہم پاکیزگی میں تم سے بہت بہتر ہیں اور صرف ہم ہی ہیں جو ”یونی کارن“ کو دیکھ چکے ہیں اور اس کے وجود کو اچھی طرح سمجھتے بھی ہیں۔

”یونی کارن“ کی طرح انقلاب کے نام پر عوامی استحصال کی مثال ہر دور میں مل جاتی ہے، کیا انقلاب نام کی چڑیا اپنا وجود رکھتی بھی ہے یا نہیں؟ یا سیاسی طاقت کے حصول کے لیے عوامی لیڈروں نے انقلاب کا ہیولا کرییٹ کیا، نا تو ان لیڈروں کو اس کی سوجھ بوجھ ہے اور نا ہی پیروکاروں کو۔

انقلاب کسی بھی قوم میں ایک مثبت تبدیلی کا نام ہے، کسی خطے میں موجود ایک ریاست کے تمام ستونوں میں بہتری کی طرف تیزی سے بڑھنے کا نام ہے، یہ کوئی ”چھو منتر“ نہیں، جیسا کہ بڑے بڑے جلسوں میں سیاسی مقاصد کے وقتی حصول کی خاطر اس کا بیان کیا جاتا ہے، لوگوں کا خون گرمانے اور خون گرانے کے لیے۔ یہ بتدریج تبدیلی اور آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے، یاد رکھیے اس کے لیے خون گرانا ضروری نہیں، ماضی قریب میں جن قوموں میں ہم نے اپنی آنکھوں سے انقلاب دیکھا، ان میں ملائشیا سر فہرست ہے، جہاں تین دہائیوں میں مسلسل سیاسی استحکام ان میں انقلابی تبدیلیوں کا باعث بنا، ترکی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جو 90 کی دہائی میں ایک ایسا ملک تھا جہاں زلزلہ آتا تھا تو پاکستان جیسے ممالک اس کی مدد کو پہنچتے تھے، لیکن آج وہ ایک مثال بن چکے ہیں۔

تھوڑا پیچھے چلے جائیں تو سب سے مشہور فرانسیسی انقلاب ہے، جس کی مثال سب سے زیادہ دی جاتی ہے، یونیورسٹیوں اور دنیا بھر کے کالجوں میں تاریخ اور سیاسیات کے طالب علم اس کا مطالعہ کرتے ہیں، لیکن اگر آپ اس کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ فرانس میں 1789 میں شروع ہونے والی جدوجہد 1799 میں کہیں جا کر ایک بیج بونے میں کامیاب ہوتی ہے، پھر تقریباً پانچ دہائیوں تک وہ بیچ ایک پودا اور پھر ایک پھلدار درخت میں تبدیل ہوتا ہے، اس دوران میں فرانس کے حالات انتہائی کربناک اور دردناک ہیں، جن کا ذکر کرنا اکثر تاریخ دان یا اساتذہ بھول جاتے ہیں، سرسری تذکرے کے بعد وہی خون گرمانے والی واہ واہ۔

لیکن یہاں بھی یہ امر واضح رہے کہ نا صرف فرانس بلکہ دنیا بھر میں ایسی تبدیلیاں آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی، فرانس اس معاملے میں خوش قسمت تھا کہ وہ دور صنعتی ترقی کا دور تھا، اور فرانس کے اپنے حالات کچھ ایسے سازگار ثابت ہوئے کہ وہ تبدیلی مثبت تبدیلی بنتی گئی، انقلاب کے اس مدار میں تھوڑی سی لغزش یا جنبش سارے کھیل کو بگاڑ سکتی تھی، بہت سے عوامل ہیں جس کی تفصیل میں جانا اس وقت شاید بہت زیادہ ہو جائے گا۔

لیکن یاد رکھیے، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں انقلاب کا نعرہ، صرف اور صرف ٹرک کی بتی ہے، حقیقی انقلاب کے لیے سیاسی استحکام اور تمام سیاسی طاقتوں کا ایک پیج پر ہونا شرط ہے، (صرف اور صرف سیاسی طاقتوں کا ) ۔

Facebook Comments HS