پاکستان بھارت کرکٹ یا دشمنی: فیصلہ کون کرتا ہے


پاکستان انڈیا ٹاکرا جیو، اے آر وائے پہ میچ سے ایک دن پہلے شعیب اختر، ہربھجن سنگھ کی لڑائی، ہر ایک بال پہ جان جانے کا ڈر۔ اس سارے عمل میں میڈیا ایک ایسے بیانیے کو فروغ دیتا ہے جو قومی فخر سے زیادہ نفرت کو ہوا دیتا ہے۔

یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ میڈیا ایسا کیوں کرتا ہے؟ کیا یہ صرف قومی فخر کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے؟ جواب یہ ہے کہ (ریٹنگز اور مالی فوائد) میڈیا کے لیے یہ میچ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک بزنس ماڈل ہے۔ جتنے زیادہ جذبات بھڑکیں گے، اتنی ہی زیادہ ریٹنگز آئیں گی، اور اسی کے ساتھ اشتہارات اور اسپانسرز سے آمدنی بڑھے گی۔ میڈیا صرف جذبات ہی نہیں بھڑکاتا بلکہ نفرت کو ایک پروڈکٹ کے طور پر بیچتا ہے۔ ہر لمحے، ہر بحث، ہر جھگڑے کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہو۔ یہ بیانیہ عوام کے ذہنوں میں اس قدر گہرائی سے بٹھا دیا گیا ہے کہ دونوں قومیں ایک دوسرے کو دشمن سے کم نہیں سمجھتیں۔

کیا سب یہی ہے؟ بس اگر آپ کی سوچ یہاں تک ہی جاتی ہے تو آگے کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

ایک ادارہ ایسا بھی ہے جو پورے میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے، پاکستان۔ انڈیا میچ کے شعلے جب تک نہ بھڑکیں ان کی روٹی نہیں پکتی اور یہ سنسنی، دشمنی، نفرت اسی آگ پر پک پک کر ہمارے ذہنوں کے اندر گھس گئی ہے۔

کرکٹ کے اس کھیل میں بلا وہ اور گیند دونوں اطراف کے عوام ہوتے ہیں، جن کے پاس ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سوا کچھ نہیں چھوڑا گیا۔ اب جب سے سوشل میڈیا کا دور آیا تو کفر ٹوٹنے لگا ان پر، یہ پاگل کروڑوں اربوں لگا کر سچ کے اس فائر پر بھی وہی وال لگانا چاہتے ہیں جو ان کی سوسائٹیز، اداروں کے ارد گرد ہیں اور وہاں عام انسان کی رسائی نہیں ہے۔ کوئی نہیں جانتا اندر کیا ہے؟ کون ہے؟ قیاس آرائیاں ہیں کہ کلب ہیں، پول ہیں، ٹینس، سکواش، گالف، روڈ کٹنگ ہلز، بہترین گاڑیاں، بڑے گھر اور اونچی اونچی دیواریں ہیں، اور اگر کوئی ان کے اندر جھانکنے کا سوچے بھی تو یہ ان کے گرد firewall تک لگا دیتے ہیں۔

ہمیں اس کھیل کو سمجھنا ہو گا کہ جو کھیل ہمیں ٹی وی اسکرین پر نظر آتا ہے، جہاں گیارہ لوگ میدان میں کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیں، وہ صرف ایک دکھاوا ہے۔ اصل کھیل اس کے پیچھے ہو رہا ہوتا ہے، دشمنی اور نفرت کا کھیل۔ یہ ایک بیج ہے جو بویا جاتا ہے اور جب دونوں اطراف کے لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہونے لگیں تو اسے ایک بڑی اور منظم حکمت عملی کے ذریعے پروان چڑھایا جاتا ہے، ان کے لیے اس وقت محبت نغمہ سرا ہوتی ہے جس کا فائدہ ان کی نسلیں آکسفورڈ، ہارورڈ جا کر اٹھاتی ہیں۔ بس عرض یہی ہے کہ کرکٹ عام کھیلوں کی طرح سادہ سا کھیل ہے، اس کو جتنا رنگین دیکھو گے اتنا ہی بڑا کالا کپڑا آنکھوں کے سامنے آئے گا۔

Facebook Comments HS