شام کا تنازعہ: علاقائی اور عالمی طاقتوں کا کھیل


شام کی موجودہ صورتحال سیاسی، مذہبی، اور علاقائی مفادات کے ایک پیچیدہ جال میں تبدیل ہو چکی ہے، جس میں مختلف بین الاقوامی اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے جنگ میں مصروف ہیں۔ اس میں بشار الاسد کی حکومت، ایران، روس، امریکہ، ترکی، اور دیگر عرب ممالک کا بڑا کردار ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے اسرائیل، فلسطین تنازع کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ بشار الاسد کی حکومت ہمیشہ اسرائیل مخالف رہی ہے اور فلسطین کے حق میں مضبوط موقف اختیار کرتی آئی ہے۔ شامی حکومت کے تعلقات فلسطینی گروہوں کے ساتھ مضبوط ہیں، خاص طور پر ”فلسطین لبریشن آرگنائزیشن“ (PLO) اور ”حماس“ کے ساتھ۔ حافظ الاسد سے لے کر بشار الاسد تک، شام فلسطین کے حق میں سیاسی اور عسکری مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ بشار الاسد کی حکومت نے فلسطینی گروہوں کو نہ صرف پناہ دی ہے بلکہ ان کے سیاسی موقف کو بھی عالمی سطح پر سپورٹ کیا ہے، خاص طور پر فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف۔ ایران بھی فلسطین کی آزادی کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اپنے موقف کو مضبوط رکھتا ہے، جبکہ کئی دیگر اسلامی ممالک کا موقف فلسطین کے معاملے پر واضح اور مضبوط نہیں رہا ہے۔ ایران اور شام مل کر اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے اسرائیل، امریکہ اور ترکی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور شام میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب روس اور ایران بشار الاسد کے مضبوط حامی اور اتحادی ہیں۔ بشار الاسد کی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے روس سیاسی اور عسکری مدد بھی فراہم کرتا رہا ہے، کیونکہ شام میں اسد کی حکومت کا برقرار رہنا روس کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مشرق و سطیٰ میں روس اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے ساتھ مغربی اتحادیوں کے خلاف طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ روس کے لیے یہ خطہ اسٹریٹجک لحاظ سے بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس شام میں اپنے فوجی اڈے قائم کر کے مغربی ممالک کے اثر کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران بھی شام کو اپنا اہم اتحادی سمجھتا ہے۔ ایران کے نزدیک شام شیعہ اتحاد کو مضبوط کرنے اور عرب دنیا میں سنی شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران اسرائیل کے خلاف اپنی طاقت بڑھانے کے لیے شام کو ایک اہم محاذ کے طور پر دیکھتا ہے۔ ترکی کے شام میں مفادات مختلف نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف، ترکی سنی مسلمانوں کی حمایت کرتا ہے، تو دوسری طرف، شام میں کئی فوجی مداخلتوں میں بھی ملوث ہے۔ ترکی خاص طور پر ”پی وائی ڈی“ (PYD) اور ”وائی پی جی“ (YPG) جیسے کرد گروہوں کو خطرہ سمجھتا ہے۔ یہ گروہ ترکی میں سرگرم کردستان ورکرز پارٹی (PKK) سے جڑے ہوئے ہیں، جسے ترکی دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ اسی لیے، ترکی شام میں کردوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے فوجی مداخلت کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب اور قطر بھی شام میں اسد مخالف گروہوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔ ان کا مقصد شام میں شیعہ حکومت کا خاتمہ کر کے سنی حکومت قائم کرنا ہے۔ اس کے برعکس، کچھ عرب ممالک، جیسے مصر، اسد کی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے میں دلچسپی دکھاتے رہے ہیں۔ 1970 میں حافظ الاسد نے شام کے اقتدار پر قبضہ کیا اور 2000 میں وفات کے بعد اقتدار ان کے بیٹے بشار الاسد کو وراثت میں ملا۔ انہوں نے اپنے والد کی پالیسیوں کو جاری رکھا۔ ان کا خاندانی تعلق علوی فرقے سے ہے، جبکہ شام کی اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

2011 میں عرب اسپرنگ کی لہر شروع ہوئی، جس میں مصر، لیبیا، اور یمن سمیت دیگر کئی حکومتیں گر گئیں، اور کئی عرب ممالک میں سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا آغاز ہوا۔ یہ لہر شام تک پہنچی، اور وہاں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے۔ ان مظاہروں کے دوران کئی نئے گروہ وجود میں آئے، جو اسد حکومت کے مخالف تھے۔ ان میں آزاد شامی فوج (Free Syrian Army۔ FSA) ، النصرہ فرنٹ (Jabhat al۔ Nusra) ، جو اب ”حیات تحریر الشام“ (HTS) کے نام سے مشہور ہے، داعش (ISIS) ، اور آزاد اسلامی گروہ شامل ہیں۔ 2013 میں امریکہ نے ”سی آئی اے“ کے ذریعے ان مخالف گروہوں کو فوجی تربیت دینے کے لیے پروگرام شروع کیے۔ یہ پروگرام اردن اور ترکی میں چلائے گئے۔ امریکہ کا مقصد ان مخالف گروہوں کو مضبوط کرنا تھا، تاکہ بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ خلیجی ممالک، جیسے سعودی عرب، قطر اور ترکی بھی ان گروہوں کی حمایت اور مدد کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیتے رہے۔ خاص طور پر اسرائیل اس جنگ میں اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم رہا ہے۔ امریکہ شامی مخالف گروہوں کو فوجی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مالی اور سیاسی مدد بھی فراہم کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے اسد کی حکومت کمزور پڑ گئی۔ امریکہ شام میں مختلف مذہبی اور علاقائی گروہوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، اور انہیں ہتھیار فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، اس کا واحد مقصد شام میں روس اور ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور اپنے عالمی طاقت اور اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ شام میں تیل کے بڑے ذخائر ”دیر الزور“ ، ”الحسکہ“ ، اور ”رقہ“ کے علاقوں میں واقع ہیں۔ جنگ سے پہلے شام میں تیل کی پیداوار روزانہ 400,000 بیرل تھی، جو جنگ کے بعد بڑی حد تک کم ہو گئی۔ قدرتی گیس کے ذخائر خاص طور پر بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں اور شام کے اندرونی حصوں میں موجود ہیں۔ امریکہ شام کے تیل کے ذخائر کو اسد حکومت سے دور رکھنے کے لیے شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کی مدد کرتا ہے۔ تاکہ اپنے مفادات کو مستحکم کر سکے۔ شام کی زرخیز زمینیں، جو فرات اور دجلہ دریاؤں کے قریب واقع ہیں، شام کی زراعت اور معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں، خاص طور پر گندم، زیتون، اور کپاس کی پیداوار کے لیے۔ ترکی شام کی زرخیز زمینوں اور پانی کے وسائل پر کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ فرات کے بہاؤ پر قابو پانے کے لیے ترکی کئی ڈیم بنا رہا ہے، جو شام اور عراق کے لیے مستقبل میں سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ترکی کی ان تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے دجلہ اور فرات کے ذریعے، خاص طور پر عراق کو ملنے والے پانی میں 80 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

”حیات تحریر الشام“ (HTS) ، جو پہلے القاعدہ سے منسلک تھی، ترکی کی مدد سے کام کر رہی ہے۔ اور شمالی شام میں سرگرم ہے، اس تنظیم نے نومبر میں شام کے شمال میں حلب اور ادلب کے علاقوں میں وسیع حملے شروع کیے، 32 گاؤں سمیت حلب کے ہوائی اڈے پر قبضہ بھی کیا۔ سرکاری فوج کے ساتھ جھڑپوں کی وجہ سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کا اہم مقصد ”دمشق۔ حلب ایم 5 شاہراہ“ کو کاٹنا تھا، جو حکومتی سپلائی کے لیے بہت اہم ہے۔ شامی اور روسی فضائی فوجیں HTS کے زیرِ قبضہ علاقوں پر بمباری کر رہی ہیں اور علاقے واپس حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ حالانکہ کچھ علاقوں پر حکومت نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ جنگ کی وجہ سے لاکھوں عام شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، اور کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حالات انتہائی خراب ہیں، جس کی وجہ سے انسانی بحران بڑھ رہا ہے۔ 2011 سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں 600,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 7.5 ملین سے زائد افراد اندرونی طور پر پناہ گزین بن چکے ہیں۔

مجموعی طور پر شام کی جنگ عالمی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات، قدرتی وسائل کی تقسیم، اور سیاسی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ شام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سیاست میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ روس، ایران، ترکی، امریکہ، اور عرب ممالک کے مفادات اور ان کی حکمت عملیوں نے اس جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مشرق و سطیٰ میں جنگوں کا ایک اہم سبب فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ اور عرب ممالک کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنے کے سامراجی مفادات رہے ہیں۔

Facebook Comments HS