صنم آخر خدا نہیں ہوتا


پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈی چوک میں دیے جانے والے دھرنے کو تمام تر ریاستی جبر اور بزور بندوق ناکام بنا دینے کے بعد حکومت وقت اور اس کے تمام تر سہولت کاروں کے موقف میں جہاں مزید سختی آ گئی ہے وہیں ایک منظم میڈیا مہم کے تحت سابق وزیر اعظم عمران خان، ان کی جماعت، قائدین اور کارکنوں کی کردار کشی نہایت زور و شور سے جاری ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم، ان کے وزراء اور دیگر حکومتی حلیف جن کی سربراہی بلاول زرداری کے ہاتھ میں ہے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے قائدین کو ملک دشمن قرار دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے۔ وزیر اعظم شہباز کی مخلوط حکومت اب ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان تحریک انصاف کے زیر حکومت کے پی کے میں گورنر راج نافذ کرنے کو خارج الامکان قرار نہیں دے رہے جس کا عملی نفاذ پاکستان میں جاری بدترین سیاسی بحران کو ممکنہ طور پر ایک نئی پرتشدد مزاحمتی مہم کی طرف با آسانی دھکیل سکتا ہے۔

حکومت وقت اپنی جانب سے تحریر اور تقریر، پرامن سیاسی احتجاج پر لگائی گئی پابندیوں اور اپنے سیاسی حریفوں اور ناقدین کو پابند سلاسل رکھنے کے نہایت افسوسناک طرز عمل کو معاشی ترقی اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کی آڑ میں حق بجانب قرار دینے کی پرزور کوشش کر رہی ہے جو کہ کسی بھی لحاظ سے کوئی قابل تحسین طرز عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اگرچہ آئین پاکستان انسانی حقوق اور تحریر و تقریر کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ یقین دہانی اب عملی طور پر آئین کی کتاب تک محدود ہو چکی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایک آزاد اور خود مختار عدالتی نظام ریاست کا تیسرا اور شاید سب سے اہم ستون ہوتا ہے لیکن 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد ملکی عدلیہ اب مکمل طور پر حکومت وقت کے زیر نگیں ہے جس کے باعث ماتحت اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے انتہائی جانبدارانہ فیصلوں کا اجرا اب روز کا معمول بن چکا ہے جس سے ملک میں سیاسی اور قانونی بہتری کی تمام تر امیدیں دم توڑتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ مرے کو مارے شاہ مدار پارلیمنٹ کی جانب سے پاس کیا جانے والا وہ قانون ہے جس کے تحت ریاستی ادارے کسی بھی شخص کو محض شک کی بنیاد پر تین ماہ تک اپنی تحویل میں لے سکتے ہیں جس دوران ملزم کو کسی بھی قسم کی قانونی چارہ جوئی جس کا ضامن آئین پاکستان ہے کہ حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

ملک میں جاری جبر و استبداد پر مبنی طرز حکومت، ایک مخصوص سیاسی جماعت اور عوام الناس کو تحریر و تقریر کی آزادی سے محروم کر دینے کے حکومتی اقدامات نے ملک کو عملی طور پر ایک گسٹاپو سٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے جس عمل کی پرزور مذمت ملکی اور غیر ملکی غیر جانبدار سیاسی ادارے اور قانونی ماہرین ایک تواتر کے ساتھ کر رہے ہیں جس کے جواب میں حکومت اور ان کے مددگار ریاستی ادارے بدترین شرائط پر حاصل کردہ آئی ایم ایف پیکج اور دوست ممالک کی جانب سے اپنے واجب الوصول قرضہ جات کی محدود عرصے تک معطلی کی بدولت حاصل کیے گئے کچھ مثبت اقتصادی اعشاریوں کی آڑ میں تمام تر ریاستی تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کے اقدامات کو جائز قرار دینے میں مصروفِ کار ہیں۔

ملکی تاریخ کے اس مشکل ترین دور میں حکومت وقت کو اس بات کا مکمل ادراک ہونا چاہیے تھا کہ پاکستانی عوام معاشی ترقی کے نام پر انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی پامالی، من پسند آئینی ترامیم اور قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان کی جانب سے دیے گئے حکومتی مینڈیٹ کو رات کی تاریکی میں بدل دینے کے ریاستی اقدام کو کسی بھی طور قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ متحدہ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ انگریز حکمران ایک لنگڑی لولی مغلیہ حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے 90 سالہ دور اقتدار میں کسی بھی طور عوامی پذیرائی حاصل نہیں کر سکے۔

برصغیر کے عوام نے انگریزوں کی جانب سے دیے گئے دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام آبپاشی، ریلویز، طبی اور فنی تعلیم کے علاوہ عسکری تعلیم و تربیت کے لیے قائم کیے جانے والے اداروں، محکمہ پولیس، مربوط نظام انصاف کے ساتھ ساتھ متعدد نئے شہروں کی تعمیر جس میں لائل پور، منٹگمری، کیمبل پور، جیکب آباد، ایبٹ آباد اور فورٹ سنڈیمن نمایاں ہیں کو رد کرتے ہوئے ایک آزاد مملکت کو حاصل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی۔ جس کا واحد مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں عوام الناس کو تمام تر مذہبی، قانونی اور آئینی آزادی میسر ہونا تھی۔ ایک ایسا ملک جہاں طاقت کے بل بوتے پر ان سے تحریر و تقریر اور آزاد اور منصفانہ رائے دہی کے حق کو ریاستی اداروں کی حمایت سے چھین لینے کے طرز عمل کا مکمل خاتمہ ہونا تھا۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان میں متعدد بار عام انتخابات اور ریفرنڈم منعقد کیے گئے جن کی شفافیت آج تک کسی بھی تنقید سے بالا تر ہے۔ یاد رہے کہ یہ انگریز حکمرانوں کی جانب سے 1946 میں منعقدہ آزاد اور منصفانہ ریفرنڈم ہی تھا جس کی بدولت سابقہ شمال مغربی سرحدی صوبہ جسے اب کے پی کے نام سے جانا جاتا ہے پاکستان میں شامل ہوا لیکن اس کے برعکس آزاد اور خود مختار پاکستان میں ہونے والے تمام انتخابات ماسوائے 1970 کے انتخاب کے انتہائی جانبدارانہ اور دھاندلی کا شکار ٹھہرائے گئے۔

انتخابات میں مکمل دھاندلی کا نقطہ عروج بہرحال آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات تھے جو کہ ملکی اور غیر ملکی سیاسی حلقوں اور رائے عامہ کے اداروں کی جانب سے بدترین دھاندلی زدہ انتخابات قرار پائے۔ جہاں الیکشن کمیشن کی جانب سے دو تہائی اکثریت سے جیتی ہوئی جماعت کو محض فارم 47 پر کچھ ہندسوں کے ہیر پھیر کے بعد اقتدار میں آنے سے نہ صرف روک دیا گیا بلکہ اس کی قیادت اور کارکنوں کو بدترین ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کے بعد جیل کی کال کوٹھریوں میں پھینک دیا گیا۔

حکومت وقت اور ان کے سہولت کار ریاستی اداروں نے 26 نومبر کی رات ملک کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا جب نہتے مظاہرین پر بذریعہ بندوق ریاستی جبر و تشدد کی بدترین داستان رقم کی گئی اور بعد ازاں اس انتہائی گھناؤنے فعل کو معاشی ترقی کے نام پر حق بجانب قرار دینے اور اپنے زور زبردستی سے حاصل کردہ اقتدار میں من چاہے اضافے کی تمام تر حکومتی کاوش تا دم تحریر کسی بھی عوامی تائید کے بغیر جاری و ساری ہے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ موجودہ حکومت اور حقیقی حکمران سقوط ڈھاکہ کے عظیم سانحے کو مکمل فراموش کرنے کے ساتھ بنگلہ دیش کی سابقہ وزیر اعظم حسینہ واجد کی جانب سے حاصل کردہ معاشی ترقی کے باوجود حکومت سے بے دخلی جیسے واقعات کو کسی بھی طور خاطر میں نہیں لا رہے ہیں جس کے باعث ان کے اور عوام کے درمیان تناؤ اور بے اعتمادی کی فضا میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ جو کہ ملکی سلامتی، یکجہتی اور ایک آزاد اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان کے لیے انتہائی خطرے کا باعث ہے جس کا فی الفور سدباب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS