ضلع کرم اور پاراچنار کی صورتحال کا پس منظر
ضلع کرم، خاص طور پر پاراچنار، پاکستان میں ایک حساس علاقہ ہے، جو طویل عرصے سے فرقہ ورانہ تنازعات کا شکار رہا ہے۔ بدقسمتی سے، زیادہ تر لوگ اس علاقے کی تاریخی اہمیت اور پس منظر سے ناواقف ہیں، جس کی وجہ سے موجودہ حالات کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ضلع کرم ابتدا سے پختونوں کا علاقہ رہا ہے، جہاں بنگش قبیلہ آباد تھا۔ 16 ویں اور 17 ویں صدی میں صفوی سلطنت کے قیام کے بعد ، صفویوں نے اس علاقے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔ پاراچنار میں صفوی فوج اور بنگش قبیلے کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوئی، جو شیعہ اور سنی کے درمیان پہلا بڑا معرکہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں بنگش قبیلہ شکست کھا گیا، اور صفوی سلطنت نے علاقے پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا۔
بنگش قبیلہ اپنی آزادی کے لیے مشہور تھا اور اکثر طاقتور حکمرانوں کے خلاف مزاحمت کرتا رہا۔ صفوی دور میں بھی یہ قبیلہ مزاحم رہا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بنگش قبائل نے ٹل، کوہاٹ، اور ہنگو کی طرف ہجرت کر لی۔ صفوی حکومت کے خاتمے ( 1736 ) کے بعد ، کئی ایرانی خاندان پاراچنار میں آباد ہو گئے، جن میں سید، شیرازی، اور کاظمی نسل کے لوگ شامل تھے۔
جدید تنازعات کا آغاز
فرقہ ورانہ کشیدگی انگریز دور میں بڑھنا شروع ہوئی۔ پاراچنار سے ایک لشکر لکھنؤ کی طرف روانہ ہوا، لیکن مقامی سنی آبادی نے اسے روک دیا۔ یہ واقعہ تنازع کی بنیاد بنا۔ بعد میں، پاراچنار کی جامع مسجد پر حملہ ان لڑائیوں کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
1990 کی دہائی میں ایران نے لبنان میں حزب اللہ کی بنیاد رکھی اور پاراچنار میں اس کی شاخ قائم کی۔ ایران سے مالی امداد اور تربیت کے ذریعے اہل تشیع کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ 2007 میں، فرقہ ورانہ تنازع شدت اختیار کر گیا، اور سنیوں کو پاراچنار کے بازار سے نکال دیا گیا۔ ان کے گھروں کو جلا دیا گیا، اور صرف ”بوشہرہ گاؤں“ ان کا مرکز رہ گیا۔
2007 میں پاڑا چنار میں فرقہ ورانہ کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ دونوں فریقین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اہل تشیع کو ایران سے، جبکہ اہل سنت کو سعودی عرب اور شمالی وزیرستان سے حمایت حاصل تھی۔ جنگجو بڑی تعداد میں اہل سنت کی حمایت میں لڑنے آئے، جس کے باعث اہل تشیع کو زیادہ نقصان ہوا۔
2007 کی جنگ اور مری معاہدہ
2007 میں ہونے والی لڑائی میں دونوں فرقوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اہل تشیع کو ایران سے، جبکہ اہل سنت کو سعودی عرب اور شمالی وزیرستان سے مدد ملتی رہی۔ سنیوں کی طرف سے قبائلی علاقوں سے جنگجو اہل تشیع کے خلاف لائے گئے، جس سے اہل تشیع کو زیادہ نقصان ہوا۔
ان حالات میں، سنجیدہ شخصیات نے مداخلت کی اور دونوں فریقین کے رہنماؤں نے مذاکرات کیے۔ مری معاہدہ وجود میں آیا، جس کا مقصد فرقہ ورانہ کشیدگی کو کم کرنا اور کرم ایجنسی میں امن قائم کرنا تھا۔
مری معاہدہ کے اہم نکات:
فرقہ ورانہ ہم آہنگی:
دونوں فرقوں کو ایک دوسرے کے عقائد اور رسومات کا احترام کرنے کا پابند کیا گیا۔
قبائلی امن:
تمام گروہوں کو ہتھیار ڈالنے اور مسلح تصادم ختم کرنے کی ترغیب دی گئی۔
آزادانہ نقل و حرکت:
علاقے میں آمد و رفت پر پابندیاں ختم کی گئیں۔
حکومت کی ذمہ داری:
حکومت نے امن قائم کرنے اور تمام فریقین کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
معاشی اور سماجی استحکام:
ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے علاقے میں خوشحالی لانے کا عزم کیا گیا۔
موجودہ حالات اور چیلنجز
بدقسمتی سے مری معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا۔ وقت کے ساتھ کشیدگی دوبارہ بڑھنے لگی۔ آج خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت ہے، جس پر امن قائم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تاہم، حکومت کی توجہ سیاسی معاملات، خاص طور پر عمران خان کی رہائی، پر مرکوز ہے، جبکہ امن و امان کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) بھی امن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن انہیں مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ فرقہ ورانہ کشیدگی کو بڑھانے میں دونوں فریقین کے کچھ علماء نے بھی کردار ادا کیا ہے، جو خود تو جنگ میں شامل نہیں ہوتے لیکن دوسروں کو اکساتے ہیں
حل اور مستقبل کی راہ
حالات کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں :
سنجیدہ مذاکرات:
تمام متعلقہ فریقین کے درمیان دوبارہ مذاکرات کر کے مسائل کا حل نکالا جائے۔
ریاست کی فعال مداخلت:
حکومت کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔
تعلیمی اور سماجی اصلاحات:
فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اور سماجی منصوبے شروع کیے جائیں۔
مذہبی رہنماؤں کا کردار:
علماء کو امن کا پیغام دینے اور تنازعات کو ختم کرنے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو گا۔


