سیاسی گیس لائٹنگ
حد درجہ دروغ گوئی کے لیے آج کل ایک نئی انگریزی کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے۔ اس اصطلاح کا نام gaslighting ہے۔ ایسے لوگ نفسیاتی طور پر ایک دوسرے کو سازباز سے الجھا کر معاملے کو شدید ابتری کا شکار کر دیتے ہیں۔ دروغ گوئی کرنے والا یعنی معاملے سے ناجائز فائدہ اٹھانے والا جو کہ دشنام طراز ہوتا ہے وہ اپنے ہی ظلم کا شکار ہونے والے کے اندر شکوک و شبہات کے بیج اس طرح بَو دیتا ہے کہ بیچارہ مظلوم ہکا بکا رہ جاتا ہے۔
در حقیقت دروغ گو دوسرے انسان پر یعنی جس پر ظلم ڈھایا ہوتا ہے اس پر اپنی ناجائز طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اسے اپنے زیرِ اثر لانا چاہتا ہے۔ چاہے اس کے لیے سورج کی طرح واضح نظر آنے والی حقیقت کو جھٹلانا ہی کیوں نہ پڑے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سچائی کو جھوٹ ثابت کر کے اپنے شکاریوں کو اپنے ہی پاؤں تلے کچل دیا جائے۔ سیاست بھی اِن دنوں اسی قسم کی گیس لائٹنگ کا شکار ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی دنگل یا سیاسی میدان میں اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
نفسیات کے ادب و کُتب کے مطابق گیس لائٹنگ کسی خاص شخص یا گروہ کے لوگ جذباتی کار پردازی اور دیدہ دلیری سے حقیقت کی سچائی، ظلم اور ادراک کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کا سچ بیان کیا جائے۔ کسی طرح ریاست میں اگر اس کی اپنی ہی حکومت اپنے ہی عوام کو سچ پر مبنی انصاف مہیا نہیں کر سکے گی تو وہ معاشرہ یقینی طور پر توڑ پھوڑ کر شکار ہو گا۔ آج کل وطنِ عزیز کے حالات دیکھ کر یوں لگتا ہے انسان کی روح مردہ ہو چکی ہے اور انسان انصاف کو حاصل کرنے کے لیے لوہے کی بنی ہوئی دیواروں سے سر ٹکرا رہا ہے۔
سیاسی اعتبار سے گیس لائٹنگ پھیلانے والے دروغ گو سیاست دان اداکار اپنی بے رحم انانیت اور ناقابل تسکین خود پسندی پر چلتے ہوئے معصوم شہریوں کو ہنوز نا انصافی کی سُولی پر لٹکائے ہوئے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہمارے سیاست دان قوم اور عوام کو ایک نیا تحرک اور قوتِ عمل عطا کرتے وہ تو اپنے اپنے عہدوں کی کُرسیوں پر بیٹھنے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جانے کی تمنا پر ظلم در ظلم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اگر قوم کے زوال اور انحطاط کو روکنا ہے تو ہمیں اپنی پرانی تاریخ سے کڑے سبق سیکھنا ہوں گے۔
سیاست دانوں کے مہرے جو ایم۔ این۔ اے اور ایم۔ پی۔ اے کے لبادے اوڑھ کر ٹاک شوز کی بچھی شطرنج کی بساط پر بیٹھے ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ ہمارے تعاون کے بغیر آپ کی حکومت نہ بنتی۔ بھلا وہ عوام کی فلاح کا کیا سوچیں گے؟ اکیسویں صدی میں یہ اصطلاح یعنی سیاسی گیس لائٹنگ استعمال ہونا شروع ہوئی۔ ماہر سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ سماج میں اس طرح کی ہذیان گوئی سے معاشرے تقسیم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور سیاست دان اداکار خود تو غیر مستحکم ہوتے ہی ہیں وہ اپنے عوام کے اندر بھی ٹوٹ پھوٹ کروانا شروع کر دیتے ہیں۔
تاہم سیاسی میدان میں اس طرح کے مکالوں یعنی دروغ گوئی کی باتوں سے ووٹ ڈالنے والوں کے اندر یا تو خود اعتمادی کی کمی ہو جائے گی یا وہ اپنے آئیڈیل موقف پر مزید مضبوطی سے ڈٹے رہیں گے۔ ظاہر آج کی جدید ڈیجیٹل دنیا میں جب معلومات کا ایک سمندر بہہ رہا ہے تو عام آدمی بھی اب اپنے حقوق و فرائض جاننے لگا ہے۔ پاکستانی تو ابھی تک بنیادی ضروریات کے جھمیلے میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم اپنی ذات یا انفرادیت تک جیت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا مجموعی طور پر اپنے ملک کو جوڑے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دیکھا جائے غور کیا جائے تو سیاسی کار پردازی عمومی طور پر فانی ہے۔ اگر لوگوں کی طاقت یکجا ہو جائے تو گیس لائٹنگ آخر کار شکست کھا جائے گی۔ سیاسی دروغ گو اداکار حادثاتی طور پر سامنے نہیں آتے بلکہ یہ ان کی روش ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ برحق لوگوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے انہیں اپنے زیر تسلط لانا چاہتے ہیں۔ ان کے ہاں جان بوجھ کر بولا گیا جھوٹ ایک ضروری عمل بن جاتا ہے۔ سیاسی دروغ گوئی یقینی طور پر جمہوریت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتی ہے ایک کھلا خطرہ بن کر معاشرے کی جڑوں میں بیٹھ جاتی ہے۔
جس حکومت میں بھی اس طرح کی سیاسی گیس لائٹنگ ہوگی وہاں کے ادارے جمہوری طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ میڈیا پر پابندیاں لگ جانے کی وجہ سے اصل سچ عوام تک نہیں پہنچ سکے گا۔ حکومت اپنی اپوزیشن کو اگر سیاسی گند کہے گی تو اس حکومت کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔ اگر اپوزیشن کے بیانیے کو دبایا جائے گا تو اس سے اچھے نتائج برآمد نہیں ہو گے۔ تاہم یہ خطرہ حقیقت میں وہ لال جھنڈی ہے جس پر قابو پانے کے لیے ہر حال میں مذاکرات کی میز پر آنا ہی ہو گا۔
سیاسی گیس لائٹنگ کے بر عکس جمہوریت ہی اس کا حل ہے۔ عدالتوں کے ذریعے جوڈیشل کمیشن بنا کر انصاف پر مبنی فیصلے کیے جانے انتہائی ناگزیر ہو چکے ہیں۔ عدل کے ساتھ ساتھ سچائی اور احسان کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ یہی سبق ہمارے آئین اور دستور کا حصہ بھی ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں کی سیاسی گیس لائٹنگ کی وجہ سے ملک ٹوٹ پُھوٹ کا شکار ہوا۔ حکومتی ادارے غیر مستحکم ہو گئے۔ سیاست دان اداکاروں کو یہ نہیں بُھولنا چاہیے کہ آخر کار ایک نہ ایک دن یہ سب چیزیں فنا ہو جانی ہیں۔
سیاسی گیس لائٹنگ پھیلانے والے طاقتور اربابِ اختیار ہماری قومی یک جہتی اور معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ہمارے بابائے قوم قائدِاعظم نے بھی پہلے قوم بنائی تھی پھر وطن حاصل کیا تھا۔ لہذا پھر سے قوم بنانے کے لیے سیاسی گیس لائٹنگ سے نکلنا ہو گا۔ قابل اعتبار خبر رساں ادارے تحقیق کر کے عوامی پیچیدہ ایشوز کے بارے میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک ایسے سماج کی آبیاری کی جائے جہاں لوگوں کی جان و مال، جذبات، احساسات کو تحفظ ملے ناں کہ سیاسی گیس لائٹنگ کو۔


