اوسلو میں فرگنر پارک کی سیر
آج میرا یہاں آخری دن تھا۔ کل میں لکسمبرگ واپس جا رہا تھا۔ آج ہم یہاں فرگنر پارک دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ اوسلو کے جنوبی ضلع میں واقع اوسلو کا سب سے بڑا پارک ہے۔ جو 32 ہیکٹر رقبہ پر مشتمل ہے۔ یہ سیاحوں کے لیے رات دن ہر وقت کھلا رہتا ہے اور اسے دیکھنے کے لیے کوئی ٹکٹ بھی نہیں ہے۔ اس پارک کی شہرت کی اصل وجہ اس میں موجود گسٹووائج لینڈ سکلپر پارک ہے۔ جہاں گسٹو وائج لینڈ جو کہ اوسلو کا ایک مشہور مجسمہ ساز ہے۔ اس کے بنائے گئے 212 مجسمے نمائش کے لیے موجود ہیں۔ سکلپر پارک کی داستان ایک ایسی ریاست کی داستان ہے جو اپنے باشندوں کے لیے ماں کا کردار ادا کرتی ہے۔ اُن کی ضروریات کا احساس کرتے ہوئے زندگی کے ہر مرحلے پر اُن کے لیے سہولت اور آسانیاں فراہم کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔
یہ داستان ہے اُن ریاستی باشندوں کی جو خود کو ریاست کی اولاد تصور کرتے ہوئے ہمہ وقت اس کی خدمت کے لیے تیار رہتے ہیں۔ جو اپنی صلاحیتیں، اپنا وقت، اپنا سرمایہ، اپنا فن اور حتیٰ کہ اپنی زندگی بھی ریاست کے لیے وقف کرنے کو اپنے لیے سرمایٔہ افتخار سمجھتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ناروے کی ریاست اور اس ریاست میں بسنے والے ایک شہری گسٹو وائج لینڈ کی جو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک چھوٹے سے گھر میں مقیم تھا۔ ریاست کو توسیعی مقاصد کے پیشِ نظر اس جگہ کی ضرورت پڑی تو اس نے اس گھر کو گرا کر اس جگہ کو سرکاری منصوبہ بندی کے مطابق استعمال کر لیا۔ لیکن اس نے گسٹو وائج لینڈ کو تنہا اور بے یارو مدد گار نہیں چھوڑا بلکہ اس کا گھر گرانے سے پہلے اس کی رہائش اپنی طرف سے دیے گئے ایک بہتر اور بڑے گھر میں منتقل کی گئی۔
گسٹو وائج لینڈ ایک مجسمہ ساز تھا اس کو حکومتی سطح پر نہ صرف رہائش کے لیے گھر عطیہ کیا گیا بلکہ اس کے لیے ایک ایسے دفتر کا انتظام کیا گیا جہاں پر وہ اپنے فن مجسمہ سازی کو جاری و ساری رکھ سکے۔ گسٹو وائج حکومتی حسن ِ سلوک سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے نہ صرف اپنے بنائے گئے تمام مجسمے، تصویریں اور نقشے حکومت کو عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا بلکہ اس نے اپنی بقیہ زندگی بھی حکومتی خدمات کے لیے وقف کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس نے حکومت کے سامنے اپنا منصوبہ رکھا کہ وہ اپنے اب تک کے بنائے گئے دھاتی مجسموں اور آئندہ بنائے جانے والے مجسموں کی اوپن ائر نمائش لگانا چاہتا ہے۔ حکومت نے اسے اس کام کے لیے 32 ہیکٹر پر مشتمل فرگنر پارک پیش کر دیا تاکہ وہ اس پارک میں اپنے بنائے گئے مجسموں کی نمائش کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھ سکے۔
اس نے زندگی کے بقیہ انیس سال بھی اسی کام کے لیے وقف کیے رکھے اور آج اس فرگنر پارک کا بڑا حصہ گسٹو وائج لینڈ سکلپر پارک پر مشتمل ہے۔ جس میں اس محبِ وطن مصور کے بنائے ہوئے 212 انسانی مجسموں کی نمائش ہمہ وقت جاری و ساری رہتی ہے۔
اس کام کے لیے حکومت وقت نے اس کی بھر پور مالی مدد کی۔ اس پارک کا سب سے شاہکار مجسمہ ایک یک سنگی مجسمہ ہے جو زمین سے 17 میٹر کی بلندی پر نصب کیا گیا ہے اور اس مجسمے کی اپنی بلندی 14 میٹر ہے۔ یہ مجسمہ 121 انسانی مجسموں کا مجموعہ ہے۔ 121 مردوں عورتوں اور بچوں کے انسانی مجسمے جو زندگی کے مختلف مراحل میں ہیں اس یک سنگی مجسمے کے بنیادی اجزاء ہیں اور اس عظیم الشان مجسمے کا تاج انسانی بچوں کے مجسموں سے مل کر بنا ہوا ہے۔ گسٹو وائج لینڈ نے اس مجسمے کی شکل میں دنیا کے سامنے (Obstract Art) ایبسٹرکٹ آرٹ کا ایک ایسا نادر نمونہ پیش کر دیا ہے جو اہل عقل و علم کے سامنے ایک سوالیہ نشان کی شکل میں موجود ہے۔
اس کے معنی و مفہوم ہر اہلِ نظر اپنے فہم وا دراک کے مطابق اخذ کیے جا رہا ہے۔ فن کار نے اسے دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق اس یک سنگی منصوبے کی تشریح کرتے رہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر فرد اس عظیم الشان یک سنگی مجسمے کے مفاہیم و معانی اپنے اپنے علم و عقل اور تصور و تخیل کے مطابق الگ الگ نکالتا ہے اور اس کے خالق کو داد و تحسین سے نوازتا جاتا ہے۔
آج ہم لوگوں کے پروگرام میں شہر کی مٹر گشت کے علاوہ فرگنر پارک کی سیر بھی شامل تھی۔ ہم بازار میں آئے تو دُھوپ خوب چمک رہی تھی اور موسم بہت خوبصورت تھا۔ آج ڈاکٹر مجھے لوکل ٹرانسپورٹ کے بارے میں عملی تجربے کے ذریعے علم و آگہی سے نوازنا چاہتے تھے۔ اس لیے ہم لوگوں نے اپنے لیے آج کے دن کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے ٹکٹ خرید لیے۔ ڈاکٹر کو یہ ٹکٹ 64 کرونے میں ملا۔ جب کہ مجھے سینئیر سٹیزن ہونے کی وجہ سے اس سے نصف قیمت یعنی 32 کرونے میں ملا۔
اب ہم پورا دن پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بس، ٹرام، اور ٹرین کو حسب ِ منشا اور حسبِ ضرورت اپنے استعمال میں لا سکتے تھے۔ پہلے مرحلے پر ہم نے بس کا انتخاب کیا کیوں کہ آج کا اصل کام تو فرگنر پارک کی سیر ہی تھا۔ اس لیے ہم بس پر سوار ہو کر پارک کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں معلوم ہوا کہ پارک کا یہ راستہ سڑک کی مرمت کی وجہ سے بند ہے اس لیے اس کا متبادل راستہ استعمال کیا جائے گا۔ ہم اگلے سٹاپ پر بس سے اُتر گئے اور سڑک کا وہ حصہ جو مرمت کے لیے بند تھا۔ پیدل طے کر کے اگلے سٹاپ پر پہنچ گئے۔ اب یہاں سے ہم نے دوسری بس پکڑ کر اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔
میرے ساتھ ہی ایک نوجوان جوڑا کھڑا تھا اور آپس میں محوِ گفتگو تھا۔ لمحہ بھر کے لیے میری نظر اُن سے ہٹی اور جب دوبارہ اُن پر نظر پڑی تو وہ جسدِ واحد کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔ ابھی تو بھلے چنگے کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ میرے ذہن میں فوری طور پر جو خیال آیا وہ وطنِ عزیز کے گلی محلوں میں کھڑے ہوئے بجلی کے اُن کھمبوں کے متعلق تھا جو کھڑے کھڑے ارتھ ہو جاتے ہیں اور اس حالت میں اگر کوئی فرد اُن سے چھو جائے تو پھر وہ اس کو اپنی گرفت میں کچھ اس طرح جکڑتے ہیں کہ اُن کا ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا کچھ ایسا آسان کام نہیں ہوتا کچھ ایسے ہی حالات یہاں بھی نظر آرہے تھے۔
بجلی میں بھی دراصل مثبت اور منفی چارجز کا ہی سارا کھیل ہوتا ہے۔ جب تک یہ دونوں چارجز آپس میں مل نہیں پاتے پکڑن اور جکڑن کی یہ کیفیت اس میں بھی پیدا نہیں ہوتی اور غالباً یہاں پر یہ دونوں چارج آپس میں مل چکے تھے میں اپنے قومی مزاج کے مطابق اس پیدا شدہ گمبھیر مسئلے کے حل کے بارے میں غور و خوض کر ہی رہا تھا کہ ڈاکٹر نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لیتے ہوئے وہاں سے نکل لیا اور ساتھ ہی اس نے منہ پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ بعد میں اس نے وضاحت کی کہ یہاں پر دوسرے لوگوں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنا دست درازی پولیس کے زمرے میں آتا ہے۔
اس لیے آپ بس اپنے کام سے کام رکھیں اور اُن کے کام میں بے جا مداخلت مت کریں۔ کبھی کبھار یہاں ایسے مناظر بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ اسی اثنا میں ہماری بس آ گئی اور ہم اس میں بیٹھ کر آگے بڑھ گئے۔ بس نے ہمیں پارک کے گیٹ پر اُتار دیا اور ہم گیٹ کے ذریعے پارک میں داخل ہو گئے۔
تھوڑی ہی دور آگے گئے ہوں گے کہ سڑک کے دونوں طرف چبوتروں پر ایستادہ پتھر کے انسانی مجسمے مختلف حالتوں میں نظر آئے۔ یہ مجسمے مختلف عمر کے مردوں، عورتوں اور بچوں کے تھے۔ سنگ تراش نے پتھر کی بے جان مورتیوں میں لگتا تھا کہ جان ڈال دی ہے۔ یہ مورتیاں ہنس رہی تھیں، رو رہی تھیں، پریشان تھیں، خوش تھیں۔ اُن کے چہرے اُن کے حالات اور جذبات کی بھرپور عکاسی کر رہے تھے۔ میں نے آج تک جو بھی مجسمے دیکھے تھے اُن میں اُن کے جنسی اعضا ء کو عموماً مخفی ہی رکھا گیا تھا لیکن یہ مجسمے بناتے وقت سنگ تراش نے ان حصوں کو معمول سے زیادہ واضح کیا ہوا تھا بلکہ مرد و زن کے مجسموں کو باہمی اختلاط کی مختلف حالتوں اور صورتوں میں بھی دکھایا گیا تھا۔
میرے لیے یہ مناظر بڑے حیران کن بلکہ پریشان کن تھے لیکن جب میں نے اپنے ارد گرد دیکھا کہ درجنوں لوگ انہیں تخلیقی نقطۂ نظر سے بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں بلکہ خواتین کی محویت تو مردوں سے بھی بڑھ کر تھی تو میں بھی اس حیرانی پریشانی بلکہ تھوڑی سی شرم ساری کی کیفیت سے باہر نکل کر نارمل حالت میں آ گیا۔
ویسے کمال کا فن تھا جو سنگِ تراش نے ان مجسموں کی شکل میں تخلیق کیا تھا۔ ہر سنگی مجسمے کے پورے وجود سے اس کی حالت اور کیفیت کے عین مطابق جذبات و احساسات کا اظہار واضح ہو رہا تھا۔ خوشی غمی، غصہ، لڑائی جھگڑا پیار محبت ایثار قربانی جیسے جذبے پتھر میں دائمی طور پر نقش کیے ہوئے تھے۔
کہیں ایک مرد اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ہوئے تھا کہیں عورت ماں کے روپ میں اپنے بچوں سے پیار کر رہی تھی اور کہیں یہی تحفہ مرد کو پیش کیا جا رہا تھا۔ غرض کہ ان پتھریلی مورتیوں کی شکل میں یہاں پر پورا ایک جہان آباد کیا ہوا تھا۔ جنہیں لوگ اپنی اپنی نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی اپنی عقل سمجھ اور بساط و استطاعت کے مطابق اس سے مفاہیم و معانی اخذ کر رہے تھے۔
میں ایک ذمہ دار لکھاری کی طرح انہیں دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی وڈیو بھی بنا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے احساسات اور معلومات بھی ریکارڈ کیے جا رہا تھا تاکہ جب میں لکھنے لگوں تو ان سے مدد حاصل ہو سکے۔
اب یہ الگ بات ہے کہ جب میں نے بعد میں لکھتے وقت کیمرے کو کھول کر مطلوبہ ویڈیوز ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ تو یہاں پر کچھ بھی نہیں تھا۔ بہت غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ ویڈیو کا متعلقہ بٹن دبائے بغیر ہی موبائل کے کیمرے کو گھماتا پھراتا رہا اور یہی سمجھتا رہا کہ ویڈیو ریکارڈ ہو رہی ہے لیکن حقیقتاً ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ چلتے چلتے ہم اس پارک کے شاہکار یک سنگی عظیم الشان مجسمے کے پاس جا پہنچے جو زمین سے 17 میٹر کی بلندی پر 121 انسانی مجسموں کو آپس میں جوڑ کر تیار کیا گیا ہے اور اس مجسمے کی اپنی کل اونچائی 14 میٹر ہے۔ یہ ایک ایسا شاہکار ہے جس کی بے شمار جہتیں ہیں اور ہر دیکھنے والا فرد اس کو اپنی مرضی سے مطابقت رکھتی ہوئی جہت میں دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے۔
عریاں انسانی مجسموں کے اس پارک میں کافی دیر تک گھومنے پھرنے کے بعد ہم یہاں پر بنے ہوئے ایک ریستوران میں آ بیٹھے۔ یہاں کی مشہور ِ زمانہ قہوہ نما کافی کا ایک ایک کپ پیا۔ جن کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ کافی یہاں کی سردی کا شافی علاج ہے۔ کافی پینے کے بعد اب ہمیں ٹرین کے ذریعے ڈیرے پر پہنچنا تھا۔ ہم دو مختلف ٹرینیں بدلتے ہوئے جس ریلوے سٹیشن پر اُترے اس سٹیشن کے نیچے اظہر کا ریستوران ہے۔
آج ریستوران میں مصروفیت بہت تھی۔ ایک بھگدڑ سی مچی ہوئی تھی اُن کا ایک باورچی آج غیر حاضر تھا اور کام معمول کی نسبت کافی زیادہ تھا۔ ڈاکٹر بھی جا کر ریستوران کے سٹاف میں شامل ہو گیا۔ میری پیشکش کے باوجود مجھے اس سعادت سے محروم رکھا گیا۔
آج اظہر بتا رہا تھا کہ بیس ہزار کرونے کا کام وہ اب تک کر چکے ہیں۔ میں نے ساتھ ہی گرہ لگادی کہ اگر ہم جیسے درویشوں کی خدمت کرو گے تو کھٹ جاؤ گے۔ خلاف معمول آج کافی دیر بعد فارغ ہوئے۔ آج کے لیے کھانا سپیشل تیار کیا ہوا تھا۔ کیوں کہ آج میرا یہاں الوداعی کھانا تھا اور کل صبح میں واپس لکسمبرگ جا رہا تھا۔ کھانے کے بعد سب لوگوں سے الوداعی رخصت اس وعدے کے ساتھ لی گئی کہ اگلے سال میں جون جولائی میں اُن لوگوں کے پاس آؤں گا اور وہ لوگ مجھے پورا ناروے گھمائیں گے۔
بہرحال ان لوگوں کے ساتھ یہ ایک ہفتہ بڑے مزے کا گزرا۔ میں اپنے آپ کو خاصا ری لیکس محسوس کر رہا تھا۔ واپسی پر ہم لوگ ڈاکٹر کی گاڑی بھی ساتھ لیتے آئے۔ کیوں کہ اگلی صبح ہمیں اوسلو ائر پورٹ پہنچنا تھا۔ حسبِ پروگرام اگلے دن ائر پورٹ پہنچے وہاں کوئی خاص رش نہیں تھا بہت جلد میں تمام مراحل سے فارغ ہو کر لاؤنج میں پہنچ گیا۔ میں نے گیٹ نمبر 8 سے جہاز پکڑنا تھا۔ میں اس کا تعاقب کرتے ہوئے نیچے ایک بڑے سے ہال میں جا پہنچا جہاں ایک طرف ایک کا ؤنٹر سا بنا ہوا تھا اور اس کے اوپر بڑے واضح حروف میں گیٹ نمبر 8 لکھا ہوا تھا۔ اب میری تسلی ہو گئی تھی میں واپس اوپر والی منزل پر آ گیا جہاں پر ایک ریستوران موجود تھا اور کھانا پینا چل رہا تھا بلکہ کھانا کم اور پینا زیادہ چل رہا تھا۔
فلائٹ میں ابھی ڈیڑھ ایک گھنٹہ باقی تھا میں نے یہاں کا ؤنٹر پر ایک کپ کافی کا آرڈر دے دیا۔ کا ؤنٹر پر موجود خاتون انگریزی زبان سے تو نا بلد تھی لیکن بہرحال میں نے جیسے تیسے کر کے اس کو سمجھا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہی کافی کا کپ کا ؤنٹر پر میرے سامنے پڑا ہوا تھا۔ اب مجھے اس کی ادائیگی کرنا تھی۔ جس کے متعلق مجھے کوئی فکر نہیں تھا کیوں کہ میرے پرس میں یورو کی شکل میں کرنسی بھی موجود تھی اور یہاں سے بدر نے مجھے اپنا ایک کارڈ بھی دیا تھا کہ آپ نے کوئی بھی پیمنٹ کرنا ہو تو اس کارڈ سے ہو جائے گی اور لکسمبرگ سے چلتے وقت آمنہ نے بھی ایک کریڈٹ کارڈ میرے پرس میں میرے نہ نہ کرنے کے باوجود رکھ دیا تھا کہ اگر آپ کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو اس میں دو ہزار یورو کے قریب موجود ہیں۔ میں نے بڑے شاہانہ انداز میں اپنا پرس کھولا اور اس میں سے سو یورو کا نوٹ نکال کر کافی لے کر آنے والی خاتون کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اس نے نوٹ کو دیکھا پھر مجھے دیکھا پھر ایک بار نوٹ کو دیکھا اور پھر کوئی چوں چاں سی مقامی زبان میں کی جو میری سمجھ سے باہر تھی۔
اب میں نے اپنی عقل سلیم کے زور پر اندازہ لگایا کہ دو ہی ممکنات ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ کافی کی قیمت اس سے زیادہ ہو اور وہ بقیہ پیسے مانگ رہی ہو اور دوسرا یہ کہ اس کے پاس سو یورو کی چینج نہ ہو اور وہ چھوٹا نوٹ مانگ رہی ہو۔ مجھے دوسرا امکان غالب نظر آیا کیوں کہ کافی کے ایک کپ کی قیمت ایک سو یورو سے زیادہ تو نہیں ہو سکتی تھی۔ میں نے پرس سے بیس یورو کا نوٹ نکال کر اُسے دیا۔ اب اس نے ذرا زیادہ اور بلند آواز میں کچھ چوں چاں کی اور ساتھ ہی اس نے کہا، کرونے اب میں سمجھا کہ وہ مجھ سے مقامی کرنسی کرونے طلب کر رہی تھی۔ جو میرے پاس موجود نہیں تھی۔ میں نے نفی میں سر ہلا کر اُسے بتایا کہ کرونے تو میرے پاس نشتہ اس نے جواب میں کافی میرے آگے سے اٹھالی۔
اتنی دیر میں مجھے کریڈٹ کارڈز یاد آ گئے میں نے اُسے رکنے کا اشارہ کیا اور وہاں سے ایک کریڈٹ کارڈ نکال کر کارڈ ہی اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس نے ایک بار پھر مجھے حیرانی سے دیکھا اور کریڈٹ کارڈ اپنی مشین کے سامنے کر دیا۔ مشین نے اس میں سے اپنے پیسے وصول کر لیے۔ اس کے بعد کافی کا کپ اٹھا کر میں وہاں پر پڑے ہوئے ایک اونچے سے سٹول پر بیٹھ گیا اور آہستہ آہستہ کافی پینا شروع کر دی۔
اب میں کافی پینے کے ساتھ ساتھ ماحول کا بھی جائزہ لے رہا تھا۔ لوگ آ جا رہے تھے۔ بہرحال میں نے کافی بڑے سکون اور آرام کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پی کیوں کہ اس کے بعد جس گیٹ میں سے گزر کر مجھے اپنے جہاز میں جانا تھا وہ میں پہلے ہی دیکھ کر آ چکا تھا۔ کافی پینے کے بعد بھی میں اطمینان سے ادھر اُدھر پھرتا رہا۔ جب فلائٹ جانے میں پندرہ منٹ رہ گئے تو میں نے اپنا بیگ اپنے ہاتھ میں کیا اور اپنے مطلوبہ گیٹ کی طرف چل دیا۔ جب میں سیٹرھیاں اُتر کر نیچے اس ہال میں پہنچا تو نہ صرف یہ کہ وہ ہال خالی تھا بلکہ وہاں پر گیٹ نمبر 8 بھی غائب شد تھا۔ یعنی جس کا ؤنٹر کے اوپر گیٹ نمبر 8 کا نمبر روشن تھا وہ اب روشن نہیں تھا اور یہاں پر کوئی ائنڈنٹ بھی موجود نہیں تھا۔
فلائٹ کے روانہ ہونے میں صرف پندرہ منٹ باقی تھے اور ان پندرہ منٹوں میں ہی اب نئے سرے سے مجھے اپنا جہاز تلاش کرنا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب میں ان معاملات میں تھوڑا سا سیانا ہو گیا ہوں۔ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو سامنے سیڑھیوں کے ساتھ گیٹ نمبر 8 لکھا ہوا تھا اور تیر سے اُوپر کی طرف اشارہ کیا ہوا تھا۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر پہنچا تو گیٹ نمبر 8 یہاں موجود تھا میں اب یہاں سے ہوتا ہوا اپنے جہاز میں جا کر بیٹھ گیا اور اپنا سامان اوپر بنے ہوئے کیبن میں رکھ دیا۔
تھوڑی دیر کے بعد جہاز اپنے مقررہ وقت پر ہوا میں اُڑ گیا۔ پندرہ بیس منٹ پر ائر ہوسٹس کھانا وغیرہ سر و کر رہی تھی۔ میرے پاس آئی تو میں نے اُسے بتایا کہ میرے لیے حلال فوڈ لے کر آئے۔ یہاں پر اس نے کھانا لانے کی بجائے الٹا تقریر شروع کر دی۔ میں خاموشی سے سنتا رہا مجھے جو چیز سمجھ آئی وہ کہہ رہی تھی کہ اس کے لیے آپ کو ایڈوانس بتانا پڑتا ہے۔ میں نے بس کوکا کولا کی ایک چھوٹی سی گلاسی پر ہی اکتفا کر لیا۔ وقت پر ہم لکسمبرگ ائر پورٹ پہنچ گئے۔ جہاں آمنہ، ضوحا اور عمیر میرے منتظر تھے۔ اُن کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر ہم ناروے میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد واپس گھر پہنچ گئے۔


