کیا پختون من حیث القوم مجرم ہیں؟

پاکستان کے نام میں لفظ ”ا“ افغانوں کی مملکت پاکستان میں ان کی موجودگی بلکہ ملکیتی حصہ داری کی طرف واضح اشارہ ہی نہیں بلکہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ یہی افغان افغانستان میں فارسی بانوں، پشتونوں، ازبک، تاجک اور دیگر کئی قومیتوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ کیونکہ آج بھی من حیث القوم وہ خود کو افغان کہتے چلے آ رہے ہیں۔
تاریخی طور پر سابقہ شمال مغربی سرحدی صوبہ آج کا خیبر پختونخوا افغانستان کا حصہ تھا۔ جو سال 1893 میں انگریزوں نے سامراجی طاقت کے بل بوتے اور کئی دیگر سیاسی جغرافیائی، جنگی، توسیع پسندی اور بارڈر تحفظاتی پالیسی کے تحت اس وقت کے کمزور شاہ افغانستان سے ”گندمگ معاہدے“ کے تحت سو سال کے لیے ہتھیایا۔ لیکن جس طرح ملک کی جغرافیائی سرحدیں بدلتی ہیں اور وطن کی سرحدیں غیر متبدل ہوتی ہیں۔ اسی طرح قوم اور قومیت بھی مستقل اور غیر متبدل ہوتی ہیں۔ اسی لیے آج بھی جہاں دوسرے صوبوں کے محکمہ مال اور دیگر سرکاری ریکارڈ اور کاغذات مال میں جہاں دیگر قوموں کے نام لکھے جاتے ہیں جیسے راجپوت، آرائیں، گوجر، اعوان، بھٹی، وغیرہ یہاں پختونخوا میں قوم کے خانے میں ”افغان“ ہی لکھا جاتا ہے۔ اس لیے کہ یہاں کے سارے پشتون، پشتون افغان ہی ہیں اور رہیں گے۔
مطالعہ پاکستان اور نصابی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کا نام چودھری رحمت علی نے تجویز کیا تھا اور اس میں ”ا“ بمعنی افغان ہے۔ اس سے اس وقت کا NWFP صوبہ ہی مراد تھا (جس کے جفرافیہ میں اٹک، میانوالی اور مارگلہ تک کا علاقہ پاکستان کے قیام کے بعد بھی شامل تھا) ۔ اس طرح تو یہ پہلے سے طے شدہ امر تھا۔ اس کے باوجود جب دیگر صوبوں یا ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کو پاکستان یا ہندوستان کے چناؤ کا اختیار دیا گیا تو NWFP کی اسمبلی کو ایسا اختیار دینے کی بجائے عوامی ریفرنڈم کیوں کرایا گیا؟
بات تو تعارف تعارف میں بہت لمبی ہو گئی۔ لیکن آج جو بھی ہے حقیقت یہ ہے کہ صوبہ پختونخوا پاکستان کا نہ صرف آئینی حصہ ہے بلکہ وفاق تشکیل دینے والے یونٹوں میں ایک مضبوط اور ہر قسم کے لاتعداد وسائل کا حامل ایک فیڈریٹنگ یونٹ ہے۔
یہاں کے باشندے پاکستانی بھی ہیں اور آئین کے مطابق ان کو برابر شہریوں کے حقوق بھی حاصل ہیں۔ ساتھ ان کو تقریر، تحریر، نقل و حرکت، کاروبار سمیت دیگر بہت سے بنیادی آئینی اور قانونی حقوق حاصل ہیں۔ جب کہ جمہوری نظام کے مطابق ان کو اپنی مرضی کی سیاسی پارٹی میں شمولیت اور کسی بھی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے اور اپنی مرضی کی حکومت بنانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ جو دنیا جہاں کے کسی بھی قانون، چارٹر وغیرہ کے عین مطابق اور تحفظ کا حامل ہے۔
یہ سارے بنیادی حقوق، آئینی و جمہوری حقوق، انسانی، آزادی اور دیگر تمام حقوق، ہیں تو صحیح، لیکن پختونوں کی حد تک صرف کتابوں میں اور نمائشی طور پر جب کہ حقیقی اور عملی طور پر جو حالات اور واقعات سامنے آتے رہے ہیں وہ تو کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔
پختونوں نے ہندوستانی مہاجرین، بین الاقوامی سازش کے شکار افغان مہاجرین، مشرقی پاکستان کے مہاجرین، کشمیر کے مہاجرین اور نہ جانے کن کن مہاجرین کو نہ صرف اپنی تمام تر بے سر و سامانی، کمزوریوں اور مشکلات کے باوجود اپنی سر زمین پر پناہ دی، ان کو بسایا بلکہ اپنے دلوں میں ہی ان کو جگہ دے دی۔ جبکہ پاکستان کے دیگر سارے صوبوں کے ہر قسم کے ہنرمندوں، مزدوروں اور دیگر بندوں کو اپنے ہاں روزگار اور عزت و تحفظ دیتے چلے آرہے ہیں۔ اور ان کے ماتھے پر بل تک نہیں آتا۔
لیکن یہی پختون جب بھی ریاست کی ناکام پالیسی اور ناکام امن و امان پالیسی کی وجہ سے اپنا گھر بار، کاروبار، زمین جائیدادیں چھوڑ کے اپنے ہی ملک میں در بدر ہوکے IDPS بنتے ہیں۔ تو مشکلات کے پہاڑ ان پر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ ان مشکلات اور بے سرو سامانی سے نکلنے کے لیے جب یہ اپنا آئینی حق نقل و حمل اور حق روزگار استعمال کرتے ہیں تو کہیں پر صوبہ پنجاب اور کہیں پر صوبہ سندھ ان کو صوبوں میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں دیتے اور ان کو اپنے پاکستانی ہونے پر ہی شک پیدا ہوتا ہے۔
ثقافت کسی بھی قوم کا عظیم ورثہ ہوتا ہے۔ جس کا ہر جگہ تحفظ، احترام اور ترویج کی جاتی ہے حتیٰ کہ اقوام متحدہ نے بھی اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک مستقل ادارہ بنا رکھا ہے اور پاکستان بحیثیت ممبر ملک اس معاہدے پر عمل درآمد اور اس کے احترام کا پابند ہے۔ لیکن اس کے باوجود دیگر کو چھوڑ کے پختونوں کی چادر کی جس طرح بے توقیری کی جاتی ہے اور پختونوں کو اس کا استعمال ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔ اس کا رونا تو وہ رو ہی رہے تھے مگر اب کے تو بات اس نہج پے آن پہنچی کہ پختون نام، پختون قومی شناختی کارڈ جو پاکستانیت کا ہی ثبوت ہے ان کا دشمن بن چکا ہے۔
پنجاب اور خاص کر اسلام آباد میں پختونوں کے ساتھ جو کیا جا رہا ہے سمجھ سے بالا ہے۔ ان کو گرفتار کیا جا رہا ہے، جھوٹے مقدمے بنائے جا رہے ہیں، جیلوں میں ڈالے جا رہے ہیں، ان کے کاروبار بند کیے جا رہے ہیں اور طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو باقاعدہ اور رسمی طور پر احتجاجی مراسلہ لکھنا اور شکایت وزیر اعظم کو کرنا پڑی۔
آج کل ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کہ پختونوں وہ بھی سارے پختونوں نے تو نہیں البتہ اکثریت نے پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر صوبے میں ان کی حکومت بنائی ہے۔ اور ان کے احتجاج میں سارے پختونوں میں سے بہت ہی قلیل تعداد کے بندے شامل ہوئے ہیں، وہ بھی اپنے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پختون ہونا پاکستان میں جرم ہے؟ کیا پختون من حیث القوم مجرم ہیں؟ یہ سوال حقیقی معنوں میں جواب طلب ہے۔ اور اس کا حقیقی جواب ہی ملک کے اعلیٰ تر مفاد کا ضامن ہے۔

