پِٹ سیاپا!
رونا دھونا، خود ترسی و خود رحمی، خود کو برا بھلا کہنا، اپنی تحقیر کرنا آج کل ہمارے قومی رویے ہیں۔
ہر بندہ جو کہ خود اسی قوم کا حصہ ہے، وہ درج بالا کام زوروشور سے کرتا ہے اور اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ بھی اس میں شامل ہے۔ جیسا کہ ہمارے پسندیدہ جملے ہیں :
یہ قوم نہیں، ہجوم ہے، (بھائی آپ بھی اسی کا حصہ ہیں ) ۔
یہ قوم نہیں، بھیڑ بکریاں ہیں، (تو بھائی آپ اس میں کیا ہیں؟ بھیڑ یا بکری؟ )
ساری قوم ہی کرپٹ ہے۔ (بھائی جان محترم تو کیا آپ بھی؟ )
یہ قوم نہیں بلکہ نکمے، جاہل اور احمقوں کا ٹولا ہیں، (محترمی، ان سب میں سے آپ کا کیا عہدہ جلیلہ ہے؟ ) ۔
یقین کیجئے، ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے بزرجمہر صاحب ہتھے سے ہی اُکھڑ جائیں گے اور آپ کی طبیعت صاف کر دیں گے۔ یعنی یہ جملے کہنے والے تو فرشتہ صفت انسان ہیں اور بقیہ سب کے سب (شاید اس میں اہلِ خانہ بھی شامل ہوں ) اوپر والے والے تمام القابات کے صحیح حقدار ہیں۔
ایک مشہور کالم نگار جو کہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ بھی ہیں، آج کل بیوروکریسی کے کیا خوب لتے لیتے ہیں۔ لکھتے ہیں، یہ نو آبادیاتی نظام کی پیداوار ہیں، محترم آپ کو یہ نادر خیال تمام حلوہ جاتی میٹھے کھانے کے بعد آیا، کیا خوب آیا۔ بلکہ ابھی بھی کھا رہے ہیں، پنشن وغیرہ۔ یہ نامراد سچائی بھی تمام مربہ جات کھانے کے بعد ہی یاد آتی ہے۔ اپنے تیس مئی 2024 کے کالم میں بھی ایک موازنہ لکھ مارا، اور کیا خوب لکھا، فرماتے ہیں، 28 مئی کو ہم نے یومِ تکبیر منایا، ایٹم بم بنایا ہے ہم نے، کوئی مذاق تھوڑا ہی ہے۔ اور آج ہی ایک روح فرسا خبر دیکھی کہ ایک حافظِ قرآن نے اپنی بیوی کو مارا کہ اس نے دوسری بیٹی ہی کیوں پیدا کی۔ یہ ہے ایٹمی قوت کی اصل طاقت۔
ان دونوں چیزوں کا تقابل مجھ ناچیز کو تو بالکل سمجھ نہیں آیا، یعنی ایٹم بم بنانے کے بعد پوری قوم کو اعلی اخلاقی اقدار پر عمل پیرا ہونا چاہیے، تمام جرائم ختم ہو جانے چاہیے، معاشرہ پاکیزگی کا نمونہ بن جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس عجیب و غریب منطق پر کئی نابغوں نے واہ واہ کے ڈونگرے خوب برسائے۔ آخر کالم کا پیٹ بھی تو بھرنا ہے نا کسی نہ کسی طرح۔ یہ لکھنے والے بھی اس قوم کے متعلق جملہ بازی (جو اوپر لکھی گئی ہے ) سے بخوبی واقف ہیں، اس لئے یہ بھی ہمیں بھگو بھگو کر مارتے ہیں اور ہم جو کہ پہلے ہی احساسِ کمتری کے آخری درجہ پر ہیں، اس پر آہیں بھرتے ہیں، کالم نگار کو داد دیتے ہیں اور خود کو پھر سے برا بھلا کہہ کر اپنے اپنے کاموں مشغول ہو جاتے ہیں۔
ہمارا مجموعی رویہ کمتری کی طرف ہے۔ کوئی مثبت بات کر کے دیکھ لیں، آپ کے ایسے لتے لئے جائیں گے کہ آپ گبھرا کر اپنے موقف سے ہی دستبردار ہو جائیں گے۔ کیونکہ دلیل و منطق سے زیادہ بد تہذیبی، طنز و تشنیع کارگر ہتھیار ہیں۔
مجھے آج تلک یہ سمجھ نہیں آئی، جو بندہ اس قوم کو گالی دیتا ہے، کیا وہ یہ سوچتا ہے کہ اس میں وہ خود بھی شامل ہے، اس کے ماں باپ، اہل و عیال، دوست رشتہ دار سب شامل ہیں۔ بالکل نہیں سوچتا، کیونکہ بد تہذیبی کے لئے سوچ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، جو منہ میں آئے کہہ دیں۔ اپنی فرسٹریشن نکالنے کے لئے سوشل میڈیا پر جو بیہودگی پھیلائی جاتی ہے یہ سب اسی کمتری کا نتیجہ ہے۔ ہم نے خود کو اتنا گرا لیا ہے کہ ہمیں کوئی دوسرا برا بھلا کیوں کہے، ہم اپنے لئے خود ہی کافی ہیں۔
ایک بھتیجا صاحب کا پُرلطف جملہ یاد آ گیا،
ایک ہاتھ میں چائے کا کپ، تو دوسرے ہاتھ سے اوپر جمنے والی تہہ کو ہٹانے میں مصروف، بس دو گھونٹ ہی بھرے ہوں گے کہ دوبارہ تہہ جم گئی، کہنے لگے، زندگی میں اور سیاپے کیا کم ہیں کہ اب بندہ اس نامراد چائے کے اوپر جمی تہہ کو ہی صاف کرتا رہے ”۔
کیا کیجئے، ہر ایک کا اپنا اپنا سیاپا ہے۔


