ہمارا ماضی کیسے ہمیں اچھا یا برا بناتا ہے


 

وقت گزرنے پر داستان گوئی اسطورہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جسے کلاسیک اور لیجنڈ بھی کہتے ہیں۔ صدیاں گزرنے پر خرافات ایسے قصوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جس سے قصہ کی اصلیت متاثر ہو جاتی ہے۔ اسی لئے تو اسے خرافیہ کہتے ہیں۔

بہت سی تاریخی شخصیات ایسی ہیں۔ جنہیں آج ہم حقیقت تصور کرتے ہیں۔ مگر ان میں سے زیادہ تر وجود نہیں رکھتیں۔ اصل میں وقت عوامی سطح پر ان کی تخلیق کرتا ہے اور قدامت ان کو تقدس کا درجہ عطا کرتی ہے۔ ایسے مقدس عناصر کی چار اشکال ہو سکتی ہیں۔

وہ انسانی شکل کے علاوہ کسی واقعہ، مقام یا نظریہ کی شکل میں بھی ظہور پذیر ہوسکتے ہیں۔ مثلاً رام چندر جی قبل از تاریخ دور کے ہندوؤں میں ایک اچھے اور مصلح انسان گزرے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ رام مقدس ہستی بن چکی ہے۔ یہاں تک کہ ہندو اس کو بھگوان کا اوتار بنا کر پوجتے ہیں۔ اور ان سے منسوب تمام افراد مقامات اور افکار مقدس بن چکے ہیں۔ رام جہاں پیدا ہوئے ہندو اس مقام کو رام کی جنم بھومی کہہ کر وہاں رام مندر بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ رام سے نسبت نے اس جگہ کو بھی تقدس عطا کر دیا۔ اب جس جس نے بھی رام کی کہانی میں رام چندر جی کا ساتھ دیا ہے۔ وہ بھی قابل احترام ٹھہرا۔ اور جس جس نے مخالفت کی وہ برا ٹھہرا۔ مثلاً راون رام کے ساتھ لڑا وہ رام لیلا کا ولن ہے۔

جب بھی کوئی قوم کسی کو اپنا دشمن تصور کرے۔ پھر اس پر جھوٹی تہمتیں لگاتی ہے۔ اور جسے پسندیدہ قرار دے اس کی شان میں حد سے زیادہ مبالغہ کرتی ہے۔ اسی طرح شمالی ہندوستان کے ہندو راون کو ظالم اور شیطان کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔ لیکن جنوبی ہندوستان کا ایک قبیلہ اسی راون کا پجاری ہے۔ اور وہ دیگر ہندؤوں کے برعکس راون کی عزت کرتے ہیں۔ کیونکہ اس نے ایک بیرونی حملہ آور رام کی مزاحمت کی اور لنکا کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ جس میں ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کی نظروں میں زیرو ٹھہرا۔ مثال کے طور پر وہ مسلمان جو ماضی میں فاتحین بن کر ہندوستان آئے ہندوؤں کی نظر میں وہ قابضین اور ملیچھ ہیں۔ لیکن مسلمانوں کی نظر میں وہ ہیروز ہیں۔

اورنگ زیب عالمگیر مسلمانان ہند کی نظر میں ہیرو ہے۔ انہوں نے اسے محی الدین یعنی دین کو زندہ کرنے والا کہا۔ لیکن ہندو ان کو اچھا نہیں کہتے۔ اور سمجھتے ہیں کہ اسی بادشاہ نے ان کے بہت سے مندر ڈھا دیے۔ ایسی منفی سوچ وہ محمود غزنوی کے بارے میں بھی رکھتے ہیں۔

اسی طرح احمد شاہ ابدالی افغانوں کی نظروں میں اسلام کے غازی ہیں۔ جس نے ہندوستان جا کر وہاں باغیوں کو مارا پیٹا۔ لیکن ہندو ان کو ڈاکو اور حملہ آور کہتے ہیں۔

محمد بن قاسم مسلمانوں کا ہیرو ہے۔ جس نے سندھ پر حملہ کیا اور وہاں مسلمانوں کی حکومت قائم کی۔ لیکن آج کے سندھی قوم پرستوں کی نظر میں وہ ایک لٹیرا تھا۔ جو مال غنیمت اور عورتیں لینے آیا تھا۔

چنگیز خان آج بھی منگولیا والوں کا ہیرو ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک وہ ایک ظالم اور بے رحم انسان تھا۔ کیونکہ اس نے ہمارے لوگوں کے سروں کے مینار کھڑے کر دیے تھے۔

سکندر آج بھی یونانیوں کا سکندر اعظم ہے۔ لیکن ہمارے لئے وہ سکندر اعظم نہیں، کیونکہ ہم اس کی عظمت کے قائل نہیں ہیں۔

تقریباً سوا دو صدیاں قبل انگریز ہندوستان پر قابض ہونا شروع ہو گئے۔ تو ہندوستانیوں نے مزاحمت کی۔ اور انگریزوں کو ظالم کہا۔ لیکن انگریز سمجھتے تھے کہ وہ ہندوستانیوں کو تہذیب سکھانے آئے ہیں۔ ایسی سوچ وہ افغانوں کے بارے میں بھی رکھتے تھے۔

اسی طرح جب روسیوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو اسے دفاع افغانستان کا نام دیا۔ لیکن افغانوں کی کثیر تعداد نے ان سے لڑائی لڑی۔ ابھی دو دہائیاں قبل جب امریکہ افغانستان گھس آیا تو اس نے بھی مزاحمت کا سامنا کیا۔ امریکیوں نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے ہمیں دہشتگرد حملوں کا خطرہ ہے۔ اور ہم دہشتگردوں کو ختم کرنے افغانستان آئے ہیں۔ لیکن بہت سے افغانوں نے اسے خود مختار افغانستان پر حملہ قرار دیا اور شدید مزاحمت کی۔

بات یہ ہے کہ ہمیشہ کسی واقعہ، شخصیت، مقام اور نظریہ کو لے کر دونوں جانب سے متضاد آراء پیش کی جاتی ہیں۔

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ یہ بالکل بھی عجیب نہیں ہے۔ کہ وقت گزرنے کے ساتھ شخصیات کو تراشا جاتا ہے۔ دشمن اس کی برائیاں کرتے ہیں۔ اپنے اس کے حق میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ دونوں جانب سے اس قدر مبالغہ آمیزی ہوتی ہے۔ کہ سچائی بیچ میں دب جاتی ہے۔ اور اصلی چہرہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جو غیر جانبدار ہوتے ہیں۔ وہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ سچ کیا ہے۔ اور جھوٹ کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی شخصیت کے حقیقی پہلؤوں کو پرکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بے جا تہمت اور بے جا تعریف دونوں منفی اثرات رکھتے ہیں۔ اور ان سے بچنا ضروری ہے۔ تاکہ اس شخصیت کو اچھائی اور برائی کے غلاف سے نکالا جائے۔ اور چاہے وہ اچھا ہو یا برا اس کو صرف اور صرف انسان بنا کر پیش کیا جائے۔ تا کہ عام انسان کے لئے اس کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

Facebook Comments HS