لوگوں کو پڑھنے کی آزادی دو


اچھی بھلی دنیا چل رہی تھی۔ اگر کوئی کتاب لکھ دیتا تھا تو اسے ہاتھ سے نقل کرنے میں اگر سال نہیں تو کئی مہینے ضرور لگتے تھے۔ اگر کوئی کتاب لکھ بھی دے تو اسے کون نقل کرے؟ اور یہ نسخہ کتنے لوگ پڑھ لیں گے؟ کسی کسی امیر یا نواب کو توفیق ہوتی تھی کہ اپنی لائبریری بنائے۔ اور اس سے استفادہ کرنے کے لئے بھی سفارش درکار ہوتی تھی۔

اتنے پر سکون ماحول میں لگ بھگ 1450 میں گوٹن برگ نامی شخص کو خدا جانے کیا سوجھی کہ اس نے پرنٹنگ پریس ایجاد کیا اور اس کے ذریعہ 1456 میں بائیبل شائع کی گئی۔ شروع شروع میں تو چرچ کے عمائدین خوش ہوئے کیونکہ مقدس بائیبل شائع ہوئی تھی لیکن اس کے بعد کی دہائیوں میں تو گویا ایک طوفان بد تمیزی برپا ہو گیا۔ جس کو دیکھو قلم گھسیٹ کر کتاب لکھ رہا ہے اور ہر کس و ناکس کتاب پڑھ کر اپنے آپ کو علامہ سمجھ رہا ہے۔

پوپ لیو دہم نے 1515 میں یہ ارادہ کیا کہ روم میں چرچ کے مرکز ویٹیکن کی تعمیر نو کریں تو اس کے لئے مالی وسائل مہیا کرنے کے لئے یہ راستہ اپنایا گیا کہ جو مطلوبہ رقم مہیا کرے گا اسے گناہوں کی معافی کا ایک پروانہ دیا جائے گا۔ اسے indulgences کہا جاتا تھا۔ یونیورسٹی آف و یٹن برگ کے ایک پروفیسر اور راہب مارٹن لوتھر کو اس سے اختلاف ہوا تو اس نے نائنٹی فائیو تھیسس لکھ کر شہر کے چرچوں کے باہر آویزاں کر دیا۔ اور یہ مقالہ پریس سے شائع ہو کر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی یورپ میں چرچ تقسیم ہو گیا اور پروٹسٹنٹ وجود میں آئے۔ اگر کتابیں نہ ہوتیں تو اتنا کھڑاگ ہی نہ ہوتا۔

پہلے بائیبل صرف لاطینی زبان میں موجود تھی۔ عام آدمی تو درکنار پڑھے لکھے اشخاص میں سے بھی کوئی کوئی اسے پڑھ سکتا تھا۔ اس لئے مذہبی راہنمائی کے لئے چرچ کا مرہون منت ہونا پڑتا تھا۔ اگر کوئی بائیبل کا کسی عام فہم زبان میں ترجمہ کرتا تو اسے غائب کرنا آسان ہوتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہر ایرا غیرا اس کو پڑھ کر بحث شروع کر دے۔ لیکن پریس کی ایجاد کے بعد یہ کام آسان نہیں رہا۔ چنانچہ جب انگلستان کے ولیم ٹینڈیل نے بائیبل کا انگریزی میں ترجمہ شروع کیا۔ چرچ کو اس کے خیالات کا اندازہ تھا۔ ایک راہب نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ چرچ کے عمائدین کی اطاعت ضروری ہے تو اس نے وہ مشہور جملہ کہا کہ اگر خدا نے مجھے کچھ سالوں کی زندگی دی تو میں ایسا بندوبست کروں گا کہ کھیتوں میں ہل چلانے والے لڑکے کو تمہارے سے زیادہ ان صحائف کا علم ہو گا۔ بائیبل کا انگریزی ترجمہ کرنے کے لئے اسے یورپ منتقل ہونا پڑا۔ اس کے ترجمے پر تو پابندی لگی مگر اس کے علاوہ 1536 میں اس کا گلہ گھونٹ کر اس کی لاش کو صلیب پر جلایا گیا۔ مصنف کا گلا گھونٹنا آسان تھا لیکن اس کا ترجمہ پھیلتا رہا۔ روز روز کے جھنجھنٹ سے تنگ آ کر چرچ نے ایک فہرست جاری کی کہ ان کتب کو پڑھنا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ اس فہرست کو Index Librorum Prohibitorum کہا جاتا تھا۔ اس میں ممنوعہ مذہبی کتب کے علاوہ فلسفہ اور سائنس کی کتب بھی شامل ہوتی تھیں۔ ایسی پہلی فہرست 1557 میں کیتھولک چرچ کی طرف سے پوپ پال چہارم کے حکم پر جاری کی گئی تھی۔ اور ممنوعہ کتب کی فہرستیں جاری ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ 1961 تک جاری رہا۔

کیا ان اقدامات سے کوئی فائدہ ہوا؟ تاریخ گواہ ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہ فہرستیں فلسفہ اور سائنس کا راستہ نہ روک سکیں۔ کیا گلیلیو کی سائنسی دریافتیں غلط ثابت ہو گئیں؟ کیا سورج نے زمین کے گرد گھومنا شروع کر دیا؟ ایسی فہرستیں بہت سے بادشاہوں کی طرف سے بھی جاری کی گئیں کہ ما بدولت کا حکم ہے کہ رعایا ان کتب کا مطالعہ ہر گز نہ کرے۔

صرف چرچ کو مورد الزام ٹھہرانا بالکل غلط ہو گا۔ ہٹلر کی نازی پارٹی اقتدار میں آئی تو ریاست نے شب و روز ایک کر کے ان مصنفین اور کتب کی فہرست مرتب کرنی شروع کی جن کو پڑھنا نازی طبیعت پر گراں گزر رہا تھا۔ ماہرین نفسیات میں فرائڈ، سائنسدانوں میں آئن سٹائن اور ناول نگاروں میں ارنسٹ ہیمنگوے بھی اس کے سنسر کی زد میں آ گئے۔ آج اگر کوئی ہٹلر کی خود نوشت سوانح حیات پڑھتا ہے تو اس کی نفسیاتی بیماری کا جائزہ لینے کے لئے پڑھتا ہے۔ لیکن کتنے صاحبان شعور ہیں جو فرائڈ، آئن سٹائن اور ہیمنگوے کے کام سے واقف نہ ہوں؟

جب چین پر نیشنلسٹ حکومت تھی تو کمیونسٹ کتب پر پابندی لگائی گئی۔ لیکن ماؤزے تنگ کا راستہ نہ روک سکے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں چین میں کلچرل انقلاب کا طوفان بد تمیزی برپا کیا گیا تو بہت سے مغربی مصنفین کے ناولوں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ اور چینی مصنف با جن کے ناول بھی ممنوعہ فہرست میں شامل تھے۔ ان میں سے کوئی کتاب دنیا سے معدوم نہیں ہوئی۔ کلچرل انقلاب ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

اتنی لمبی تمہید کا مقصد کیا ہے؟ مذہبی رسالہ ’الاعتصام‘ کا 29 نومبر کا شمارہ ملاحظہ فرمائیں۔ اس میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ”مستشرقین سے علمی استفادہ“ ہے۔ اس مضمون میں یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ کمیونزم، سوشلزم، فیمنزم، ہیومن ازم، ہندو مت، بدھ مت، کنفیوشس ازم کی کتب کا مطالعہ ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ مطالعہ گمراہی کی طرف لے جائے گا اور مذہبی امور کی طرف توجہ کم ہو جائے گی۔ بلکہ اس سے بڑھ کر آخر میں یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے لئے یہ کتابیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس لئے مشتری ہوشیار باش۔

صاحبو! کس دور میں جی رہے ہو۔ جن تحریروں میں صرف گند یا تشدد کی تعلیم ہو اسے پڑھنا تو کوئی شریف انسان پسند نہیں کرتا۔ لیکن کسی خاص نظریہ یا مسلک کی کتب کو اس طرح شجرہ ممنوعہ قرار دینے سے کیا نتیجہ حاصل ہو گا؟ کبھی تاریخ میں اس طرح کے اقدامات نے مثبت نتائج پیدا کیے ہیں؟ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے۔ صرف یہ کہنے سے یہ پڑھو اور یہ نہ پڑھو کوئی ذی ہوش کسی نقطہ نظر کا قائل نہیں ہو سکتا۔ البتہ یہ خیال ضرور کر سکتا ہے کہ انہیں اپنے موقف پر خود اعتماد نہیں ہے۔ لوگوں کو یہ تحریریں پڑھ کر خود ہی کسی نتیجہ پر پہنچنے کی آزادی دو۔ سوچ کا گلہ نہ گھونٹو۔

اس کے مقابلہ پر دوسری طرف یورپ میں بعض ممالک میں یہ انتہا ظاہر ہو رہی ہے کہ بعض انتہا پسند یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگاؤ۔ اور سویڈن جیسے کئی ممالک میں بعض شرپسندوں نے قرآن مجید کے نسخوں کو نذر آتش کر کے اپنے ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے۔ اس قسم کی حرکات کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسی حرکات وہی لوگ کرتے ہیں جن میں کتاب کو سمجھنے اور دلائل سے اپنا موقف بیان کرنے کی صلاحیت نہ ہو۔

Facebook Comments HS