مقبول سیاست کا چلن: سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
روایتی سیاست دانوں سے تنگ عوام ان کی جگہ اچھے سیاست دانوں کو موقع دینے کی بجائے متبادل کے طور پر شہرت یافتہ مزاحیہ اداکاروں، کھلاڑیوں یا ٹی وی، اور فلمی شخصیات کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ انتخاب اُردو محاورے ”اپنے پاؤں پَر کُلہاڑی مارنے“ کے مترادف اور ”سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں“ والا معاملہ ہے۔ اس سے ملک، اداروں اور معیشت و معاشرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ مقبول لیڈرز خواب دکھاتے ہیں کہ:
بہار کیف کی بدلی اتر آئے گی وادی میں
سرود و نور کا کوثر چھڑک جائے گی وادی میں
سیاست دانوں کی پہچان اُن کے نظریات یا تصورات ہوتے ہیں۔ لیکن شہرت یافتہ افراد سیاست دان بنیں تو ان کے لیے صرف ایک ہی نکتہ کافی ہوتا ہے کہ یہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے اسے ان جیسی کرشماتی شخصیت ہی درست کر سکتی ہے۔ عام سیاست دانوں کے حامی اور ساتھی ہوتے ہیں جب کہ مشہور شخصیات کے مداح۔ حامی ایشوز کی بنیاد پر اپنی حمایت تبدیل کرتے رہتے ہیں لیکن مداح ایسے سخت جان عقیدت مند ہوتے ہیں جن کی وابستگی کسی استدلال اور معقولیت کی محتاج نہیں ہوتی۔ نامور شخصیات کے طرزِ حکمرانی ملاحظہ ہوں۔
1۔ اٹلی کے مزاحیہ اداکار، بپ گریلو (beppe grillo) نے سیاسی جماعت بنائی اور 2010 تا 2018 سیاست کے مرکزی اسٹیج پر چھائے رہے۔ لیکن فائیو سٹار موومنٹ کے رہنما کے طور پر وہ اٹلی کے سیاسی اور معاشی مسائل کے حل میں ناکام رہے۔
2۔ ڈونلڈ ٹرمپ 2016 میں صدر بنے۔ ٹی وی شو ”اپرینٹس“ کی میزبانی سے شہرت حاصل کی۔ اس شو میں ٹرمپ نے اپنی کمپنیوں کے 16 افراد میں سے 15 کو ناقص کارکردگی پر نکالا۔ اس سے تاثر ابھرا کہ ٹرمپ کامیاب بزنس مین اور قوت فیصلہ کے حامل ہیں۔ جلسوں میں، حریفوں پر طنزیہ وار کیے اور کرپٹ سیاسی نظام کا چرچا کیا۔ روایتی سیاست دانوں سے مایوس عوام نے ٹرمپ کو اس توقع سے ووٹ دیا کہ وہ ملک کو ایسے ہی خوشحال بنائیں گے جیسے انہوں نے خود کو خوشحال بنایا۔ ٹی وی سے پیدا ہونے والے تاثر نے یہ حقیقت چھپانے میں مدد دی کہ ٹرمپ حکمرانی یا مقننہ میں بیٹھنے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔ وہ دوبارہ صدر بننے والے ہیں دیکھیں اب کامیابی کے کون سے جھنڈے گاڑتے ہیں؟
3۔ یوکرینی کامیڈین صدر زیلنسکی نے سٹیج ڈراموں سے اپنی ذہانت اور اداکاری کا رنگ جمایا۔ ایک ڈرامے میں ان کا صدر کا کردار لوگوں کو ایسا بھایا کہ انہیں سچ مچ صدر بنا دیا گیا۔ ان کے دو نعرے تھے۔
1۔ یوکرین کو روسی اثر و رسوخ سے آزادی دلانا۔
2۔ کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ ایلیٹ کو انجام تک پہنچانا۔
2019 ء میں یوکرین کا صدر بننے کے بعد اعلان کیا کہ یوکرین کو روس سے اصل آزادی یوکرین کی نیٹو میں شمولیت سے ملے گی۔ یہ یوکرین کی پرانی خواہش تھی۔ زیلنسکی کے صدر بنتے ہی یوکرینی عوام میں یہ نعرہ مقبول ہو گیا کہ ”کیا ہم غلام ہیں“ ؟ اب نیٹو میں شمولیت سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ زیلنسکی نے اپنا انتخاب درست ثابت کرنے کے لیے ممولے کو شہباز (روس) سے لڑا دیا اور اڑھائی برس میں اپنے ملک کا آدھا حصہ گنوا دیا۔ ”سو جوتے اور سو پیاز“ کھانے کے بعد حال ہی میں یوکرینی صدر نے سکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے روسی صدر کو پیشکش کی کہ وہ اپنی شرائط پر جنگ بند کر دیں۔ روس قبضہ شدہ علاقے اپنے پاس رکھے۔ نیٹو میں یوکرین شامل نہیں ہو گا۔ نیٹو کے لیے زیلنسکی نے ہزاروں لوگ مروائے اور اپنے علاقے روس کو دیے اُس نے یو کرین کو ممبرشپ نہیں دی۔ یوکرین جو کچھ عرصہ پہلے پوری دنیا کو گندم برآمد کرتا تھا ’اس کے شہری اب یورپ کے مہاجر کیمپوں میں خیرات پر گزارہ کر رہے ہیں۔
4۔ پاکستان بھی کرکٹ کے نامور کھلاڑی، عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے نتائج بھگت رہا ہے۔ پاکستانی سوچتے تھے کہ ان کا ہیرو کرپشن کا قلع قمع، معاشیات کے میدان میں چھکا اور شوکت خانم ہسپتال کی طرح ملک کو فلاحی ریاست بنا دے گا، وہ ٹی وی کی مکمل کوریج اور ایمپائر کے ساتھ 126 دن کنٹینر پر اپنے مداحوں کو محظوظ اور مخالفین کا مذاق اڑاتے رہے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی۔ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے، غیر ملکی بینکوں سے ”کرپٹ پاکستانیوں کے اربوں ڈالر“ لانے، 90 دن میں بدعنوانی کا خاتمہ کرنے، گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرانے، 1 کروڑ نوکریاں، 50 لاکھ گھر، پولیس کو غیر سیاسی بنانے اور ملک کو قرضوں سے پاک کرنے کے دیومالائی وعدے کیے جو دیوانے کا خواب ثابت ہوئے۔ اقتدار میں پیسہ نہیں بناؤں گا مگر ”پراپرٹی ٹائیکون“ سے ہیرے کی انگوٹھیاں لیں اور توشہ خانے کی گھڑیاں بیچیں۔ یوٹرنز کا یہ عالم کہ ایک پیج والے راتوں رات میرجعفر اور ضرورت کے وقت ”مولانا ڈیزل“ مولانا فضل الرحمان بن جاتے ہیں۔ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو (پرویز الٰہی) پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جاتا ہے۔ جس (شیخ رشید) کو چپراسی نہیں رکھنا چاہتے تھے اسے امور داخلہ اور ریلوے کے قلم دان سونپے۔ کبھی بیانیہ تھا کہ حکومت امریکہ نے گرائی کبھی جنرل باجوہ نے۔ ”ایبسلوٹلی ناٹ“ اور ”ہم کوئی غلام ہیں“ دوسری جانب امریکہ میں لابنگ کے ذریعے کانگریس کے ارکان سے رہائی کے لیے قرار دادیں، ٹرمپ سے وابستہ امیدیں اور انقلاب کے نعرے، اور اب سعودی عرب پر الزام۔ ڈی چوک پر چڑھائیاں اور پسپائیاں 26 منٹ میں لیڈرز فرار اور مداح بھی گئے۔ دعوے نعرے اور تقریریں تو بہت ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ عوامی مقبولیت اور آزادی کے نام پر بار بار احتجاجی کالیں دے کر، منیر نیازی کے بقول:
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اس نے منیرؔ
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا
ایسے تجربات کا سبق ہے کہ سیاست اور گورننس جیسے سنجیدہ معاملات مشہور شخصیات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ سیاست مزاحیہ اداکاروں، کھلاڑیوں یا ٹی وی، فلمی شخصیات کے بس کا روگ نہیں۔ مائیکل گیرسن کہتے ہیں کہ ”شہرت یافتہ شخصیات کی بلندی حقیقی کی بجائے ظاہری صلاحیتوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔ اس کلچر میں، رقابتیں، جھگڑے اور ڈرامائی تلخی کا فروغ کہانی کے لئے ضروری ہیں، مشہور شخصیات اپنے عہدے کی طاقت کو ذاتی انتقام کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جب لوگ ناراض کریں تو چیخنے کے بجائے، عملی طور پر انہیں تکلیف پہنچانے کے لیے طاقت استعمال کرتے ہیں۔ پالیسی وژن پر عمل کے بجائے، مشہور شخصیت کی پہلی ضرورت اپنے برانڈ کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ نتیجتاً پاپولر حکمران عدم استحکام، تباہی و بربادی تو لاتے ہیں ’امن یا ترقی نہیں“ ۔
ہمارے پاپولر راہنما نے ساڑھے تین سالہ دور میں پاکستان کا معاشی دیوالیہ نکالا۔ سیاسی قائدین کو چور اَور عیار کے القاب دیے اور سیاسی مکالمے سے انکار کیا۔ اُن کی جاہ طلبی 9 مئی کے واقعات کا سبب بنی۔ وہ عوامی طاقت کے بل بوتے پر رہائی چاہتے ہیں۔ 24 سے 26 نومبر تک 25 سے 30 ہزار کا لشکر اِسلام آباد پر حملہ آور ہوا۔ ایک طرف یہ چڑھائیاں اور دوسری جانب خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مخدوش حالات نے ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مکالمہ نہیں مجادلہ ہو گا۔
پروپیگنڈے، فیک نیوز، وڈیوز سے ذہن سازی، بے بنیاد الزام، گالیاں، جھوٹ، ریاست پر چڑھائی، اپنے ہی فوج اور حکومت کے خلاف دشمنوں سے زیادہ پروپیگنڈا، عالمی اداروں سے ملک کی امداد کی بندش کے لیے خطوط سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانا، اداروں کے خلاف مختلف بیانیوں سے لوگوں کو مشتعل کر کے ملکی املاک کو نقصان پہنچانا، راستے اور شاہراہیں بند کرانا معمول ہے۔ جس سے شہر کٹ اور لوگ بٹ رہے ہیں۔
اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں مَیں
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں


