کشمیر : علاقائی قوم پرستی کا نوآبادیاتی تصور
کشمیر پر پاکستان اور انڈیا میں جب بھی کوئی گفتگو، مباحثہ، سیمینار یا کانفرنس ہوتی ہے تو وہ پاکستان اور انڈیا کے ریاستی نقطہ نگاہ اور سیاسی مفادات کے تشکیل شدہ بیانیوں کے اندر رہتے ہوئے کی جاتی ہے۔ چونکہ تقسیم کے وقت تقسیم کی کوششیں علاقائی قوم پرستی کے نوآبادیاتی تصور کی بنیاد پر رکھی گئی تھیں لہٰذا انڈیا کی تقسیم میں دیگر بہت سارے مالی، سیاسی اور معاشی عوامل کے ساتھ جداگانہ شناخت کی سیاست کا کالونیل پروجیکٹ بھی کار فرما تھا۔ اس لیے تقسیم کے بعد زمین کا کوئی بھی ٹکرا ”قومی شناخت“ (مسلم / ہندو) کے لیے لازم و ملزوم ٹھہرا۔ لہٰذا ان شناختوں کو ”قومی سلامتی“ (National Security) جیسے ریاستی نظریات و تصورات کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی یونیورسٹیوں میں تاریخ، سیاسیات، بین الاقوامی تعلقات، ڈیفنس اسٹیڈیز اور دیگر متعلقہ شعبہ جات سے وابستہ اکثر و بیشتر پروفیسرز، ریسرچرز اور ان کے علاوہ حکومتی نمائندے، سیاستدان، سیاسی تجزیہ نگار، دانشور اور صحافی کشمیر کے موضوع پر اپنے اپنے ریاستی مقتدرہ کے نقطہ نگاہ کو دہرانے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ چونکہ پاکستان بھر میں علمی، سیاسی اور عوامی سطح پر کشمیر کے حوالہ سے عسکری نقطہ نگاہ مقبولِ عام ہے لہٰذا بیانیہ کی یکسانیت (Uniformity of Narrative) کے دوران ”عام کشمیری عوام“ کی خواہشات، سیاسی سوچ اور دونوں ممالک کی امن پسند آوازوں اور متبادل بیانیوں کو نا صرف نظرانداز کر دیا جاتا ہے بلکہ انہیں شعوری طور پر ”جنگی معیشت“ (War Economy) کے مفادات تلے کچلا جاتا ہے۔
تقسیم سے قبل کی ریاست جموں و کشمیر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تقسیم کے بعد دونوں قومی ریاستیں (پاکستان / انڈیا) توسیع پسندی اور ہوس ملک گیری کے تحت مکمل کشمیر کو اپنی اپنی ریاستوں میں ضم کرنا چاہتی ہیں (جزوی طور پر پہلے ہی ضم کرچکی ہیں ) ۔
پاکستان اور انڈیا کے اپنے اپنے ”آزاد“ اور ”مقبوضہ کشمیر“ ہیں اور ان نام نہاد آزاد اور مقبوضہ کشمیر میں کہیں پر بھی کشمیری عوام نہیں، نہ ہی ان کی کوئی آواز ہے۔ کشمیر پر حکمرانی کرنے والے پاکستان اور انڈیا کشمیر کی مقامی سیاسی اشرافیہ (Local Political Elites) جو کہ بنیادی طور پر دونوں ممالک کے قبضہ، انتظام و انصرام کو مستحکم کرنے اور تقویت دینے میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہیں کشمیر میں عوامی آوازیں، متبادل اور متضاد بیانیوں اور خیالات کو ”بلیک آؤٹ“ اور ”سنسر“ کرتے رہتے ہیں۔ دونوں ریاستوں کی جانب سے انھی مقامی حکمران سیاسی اشرافیہ کو کشمیر کا نمائندہ چہرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اکثر و بیشتر تاریخی طور پر کشمیریوں کی جدوجہد کو مذہبی رنگ میں دیکھا جاتا ہے یا کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کو محض جہادی گروپوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محض چند پراکسی جہادی گروپ پورے کشمیر کی نمائندگی نہیں کرتے تھے۔ ریاستیں نان اسٹیٹ ایکٹرز کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتی رہتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کے مسلم عوام تقسیم سے قبل بھی ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کرتے چلے آرہے تھے۔ ان کی جدوجہد ”مسلم شناخت“ کی بنیاد پر ہوتی رہی ہے تاہم یہ جدوجہد کوئی مذہبی تنازعہ یا عقائد و نظریات کے حوالہ سے نا تھا بلکہ ان کی جدوجہد سیاسی، معاشی اور سماجی معاملات کے حوالہ سے تھی۔ ڈوگرہ راج کے خلاف کشمیری عوام کی مزاحمت سیاسی نا انصافیوں، معاشی استحصال اور سماجی پسماندگی کے خلاف ”مسلم شناخت“ کی ثقافتی علامت کے ساتھ تھی۔ ”مسلم شناخت“ کے گرد کشمیری عوام نے اپنی جدوجہد کو منظم کیا لیکن یہ جدوجہد کشمیر میں کوئی ہندو۔ مسلم کمیونل تنازعہ نا تھا جیسا کہ آج کل اسے پیش کیا جاتا ہے۔ مسلم شناخت کے ذریعہ جدوجہد کا مقصد کشمیری عوام کی سیاسی طاقت، سماجی انصاف، معاشی برابری، مالی استحکام اور تعلیمی رسائی کا حق حاصل کرنا تھا۔ مسلم شناخت کو سیاسی بے چینی کے اظہار اور بطور ایک کمیونٹی حقوق و مراعات کے حصول کے راستہ کے طور پر چنا گیا۔ تاہم پاکستان اور انڈیا جنگی معیشت کے فوائد سمیٹنے کے لیے اپنے اپنے عوام کے جذبات کو متضاد انداز میں ابھارنے کے لیے اسے ”کفر و اسلام“ اور ”ہندو۔ مسلم“ جھگڑا بنا کر پیش کرنے کی کالونیل پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ مذہبی تقسیم کی بنیاد پر نفرت کی سیاست دونوں ملکوں کے حکمراں طبقہ کے مفاد میں ہے۔
کشمیر کارڈ کا استعمال دونوں ممالک کے ”انتخابی سیاست (Electoral Politics)“ میں ایک اسٹریٹجی کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ”کشمیر فائلز“ جیسی غیر متوازن اور جانبدار فلمیں انڈیا میں دائیں بازو کی شدت پسند سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں سیاسی فائدہ پہنچاتی ہیں اور کشمیر پر ان کی مسلم دشمنی پر مبنی بیانیہ کو تقویت دیتی ہے۔ اس طرح پاکستان میں ”انگار وادی“ جیسے ڈرامے کشمیر پر ایک خاص زاویہ نگاہ کی ترویج کرتے ہیں جو کہ دراصل عسکری مقتدرہ کے بیانیہ کو مضبوط، مروج اور راسخ کرتے ہیں۔
کشمیر کے مسئلے کو پاکستان اور انڈیا کے دیے گئے ریاستی شعور، ریاستی نصاب، ریاستی تھنک ٹینکس اور ریاستی فنڈڈ سیمیناروں اور کانفرنسوں سے ہٹ کر ایک نئے اور متبادل بیانیے کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ علمی طور پر کشمیر پر دو طرفہ ”ریاستی نظریات“ کو چیلنج کیا جا سکے۔


