پنجاب کٹہرے میں: کتاب پر تبصرہ


یہ ایک شاندار کتاب ہے جس کا ٹائٹل محاورے کی زبان میں صرف ٹپ آف آئس برگ ہے۔ علم و تاریخ، تجزیہ و زاویہ نظر کا ایک خزانہ ہے۔ آپ کئی دفعہ کتاب رکھ کر سوچنا شروع کر دیں گے اور کئی دفعہ سوچتے سوچتے دوبارہ اٹھائیں گے۔ کئی دفعہ تو آپ کو مصنّف پر شدید غصہ آئے گا لیکن جلد ہی وہ غصہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے سلیبس بنانے والے اور کاسہ لیس تاریخ دانوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔

مصنّف امجد نواز وڑائچ نے اِس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ کیا قرار واقعی پنجاب کے رہنے والوں نے ہر حملہ آور یا اکثریتی حملہ آوروں کو خوش آمدید کہا، ان کا سدراہ بننے کے بجائے ان کو ذرائع نقل و حمل اور خوراک اور آسانیاں فراہم کر کے آگے کی طرف روانہ کیا ہے؟ مصنّف نے نہایت عرق ریزی اور دلائل سے اس تاثر کو نہ صرف غلط بلکہ بدنیتی کی بنیاد پر پھیلایا گیا پروپیگنڈا ثابت کیا ہے۔ بلکہ اصل سہولت کاروں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس عمل میں وہ اتنا آگے گئے ہیں کہ پنجاب کی دھرتی کے غاصبوں اور غداروں کو پورا چارج شیٹ کیا ہے۔ لیکن اِس مرکزی موضوع کے اردگرد مصنف نے اتنے دوسرے موضوعات چھیڑ دیے ہیں جن میں سے ہر ایک پر الگ کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ مصنف کی خوبصورت بات جو کہ ایک تحقیقی مصنّف کے شایان شان ہے، جو کہ بجا طور پر مَیں نے مقامی طور پر بلال زبیری کی تاریخ جھنگ میں اور بین الاقوامی طور پر سٹینلے لین پول اور گب کی بالخصوص صلاح الدین ایوبی پر کتابوں میں دیکھی، وہ تعصب سے بالاتر ہو کر قلم سے انصاف ہے۔

اس کتاب کا کینوس بہت وسیع ہے۔ یہ بجا طور پر قرۃالعین حیدر کے فکشن ”آگ کا دریا“ کا تاریخ کے مضمون میں متبادل ہے۔ جہاں ”آگ کا دریا“ تقریباً ڈھائی ہزار سالوں پر محیط خط ِزمانی کا فکشن میں احاطہ کرتی ہے، وہیں ”پنجاب کٹہرے میں“ بھی ڈھائی ہزار سالوں کا تاریخ میں احاطہ کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں تقریباً وقت اور جگہ کا ایک ہی ٹکڑا زیرِ قلم لاتے ہیں اور وہ آغاز ہے چندر گپت موریہ کا نندا اور مگدھ ریاست پر قبضہ اور عدل و انصاف، تعمیر و ترقی، ”امن“ بھائی چارے اور عوامی بہبود کے ایک شاندار دور کا آغاز۔ گو ”پنجاب کٹہرے میں“ اس سے بھی ذرا پہلے پورس اور سکندر اعظم کی لڑائی سے اپنا سفر شروع کرتی ہے۔

مشتاق احمد یوسفی نے خاکم بدہن میں کیا خوبصورت شگفتگی سے بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے کہ ”آگ کا دریا“ اتنا مشہور ہو گیا تھا کہ عام دریا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا پڑتا تھا کہ پانی کا دریا۔ تو جناب دس سال بعد یہ کتاب بھی کچھ ایسی ہو جائے گی کہ کہیں کٹہرے کا ذکر آئے گا تو ”پنجاب کٹہرے میں“ کی طرف توجہ جائے گی۔

اب ہم کتاب کا تفصیلی معروضی تجزیہ کرتے ہیں۔ امجد وڑائچ نے تاریخ کی کئی غلط رپورٹوں کو درست کیا ہے۔

1۔ بقول کے کے عزیز ”مرڈر آف ہسٹری“ کے شکار کرداروں کو تعصب کی قید سے رہائی فراہم کی ہے۔ اُن کو اُن کی خدمات کے صحیح پس منظر میں لے کر آئے ہیں اور اُن کو وہ مقام دیا ہے جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے، لیکن اپنی ہی آنے والی نسلوں کے احساس کمتری کے ہاتھوں تاریخ کے قتل کا شکار تھے۔ بجا طور پر پہلا متبرک، مقدس اور عظیم نام راجہ پورس کا ہے۔ مصنف نے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ پورس کی کم فوج نے اسکندر اعظم جو کئی براعظموں پر حکمران اور فارس اور کئی بلند و بالا سلطنتوں کو شکست دے کر ایک طوفان بن کر آیا تھا اسے پورس نے چکنا چور کر دیا۔ اسکندر کے خوابوں کو شکست فاش دی۔ لیکن بدقسمتی سے تاریخ نے پورس کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ آج بھی اِس دھرتی کے لوگ اسکندر تو نام رکھتے ہیں جو غیر تھا، بت پرست یا دیوتا پرست تھا لیکن پورس کا نام تک بھی بچوں کا رکھنا گوارا نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح غیر مسلم چنگیز خان جس نے باقی دنیا کے علاوہ مسلمانوں کی بھی تباہی کر دی تھی اس کے نام پر چنگیز نام رکھتے ہیں۔ لیکن چندر گپت نام کہیں نظر نہیں آئے گا۔

صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ پنجابی مسلمانوں نے بچوں کو مکمل عربی نام دینا شروع کر دیے ہیں۔ وہ اب اپنے بچوں کے نام دھرتی سے جڑے ناموں سے نہیں رکھتے۔ اب بالخصوص ضیا الحق دور سے آپ کو سارنگ، سردول، وریام وغیرہ جیسے نام نہیں ملیں گے۔ چونکہ پاکستانی خصوصاً پنجابی ترک ثقافت سے بہت زیادہ متاثر ہیں، اس لیے آئیے اس تناظر میں بات کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ ترک پاکستانیوں سے زیادہ جذباتی مسلمان ہیں اور اسلام کے پھیلاؤ میں ان کی جدوجہد پاکستانیوں سے کہیں زیادہ ہے، ان کے ناموں کا کم از کم ایک حصہ تمام عربی ناموں کی بجائے ترک ہوتا ہے۔ آئیے ہم ان کے وزرائے اعظم کے چند نام بتاتے ہیں۔ نجم الدین اربکان، عدنان میندریس، رجب طیب اردگان۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اربکان، میندریس، اردگان ترکی کے نام ہیں۔ اسی طرح ترگت اوزال مکمل طور پر ترک نام ہے۔ یہی معاملہ انڈونیشیا اور ملائشیا کا بھی ہے جیسے سوئیکارنو اور مہاتیر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام قومیں حقیقی معنوں میں قومیں ہیں اور اپنی سرزمین کو سراہتی ہیں اور اس سے پوری طرح محبت کرتی ہیں۔ دوسری قوموں بالخصوص عربوں کے سامنے ان میں کوئی احساس کمتری نہیں ہے۔

پاکستان میں بھی بلوچ اس حوالے سے بہت بہتر ہیں۔ بلوچوں میں آپ کو مقامی نام یا مقامی ہیروز یا آبا و اجداد کے نام ملیں گے، جیسے ہونک، وشین، براہمداغ، بیبگر وغیرہ۔

اگرچہ اعتزاز احسن ”انڈس ساگا“ میں دعوی کرتے ہیں کہ پورس نے اسکندر اعظم کو شکست دی لیکن زیادہ تر تاریخ دان ایسا نہیں سمجھتے۔ اسکندر کے درباری تاریخ دانوں کی بات مان لی جائے تو پھر بھی جان کہیں برابر پر چھوٹی تھی۔ چونکہ ان کے بقول اسکندر کے بعد بھی اس علاقے پر پورس حکمران رہا۔ پورس نے اسکندر اعظم کو بہت تھکا دیا تھا۔ رہی سہی کسر ملتان کے ملہی قبائل نے نکال دی تھی۔ اسکندر کی فوج اتنا خوفزدہ ہوئی کہ راستے میں عام سول آبادی کو تہہ تیغ کرتے ہوئے واپس یونان کی راہ لی۔ بعد میں چندر گپت موریہ نے یونانی عاملوں کو نکال باہر کیا اور پہلی دفعہ ایک متحدہ ہندوستان کی بنیاد ڈالی۔

یہاں مصنّف نے بجا طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے بالخصوص اور پاک و ہند کے لوگوں نے بالعموم اپنے سپوت چندر گپت موریہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ اسی طرح چانکیہ جو کہ سرگودھا سے تعلق رکھتے تھے انہیں بھی امورِ ریاست اور سفارت کاری اور انتظام و انصرام میں جو مقام دیا جانا چاہیے تھا وہ نہیں دیا۔ اس کی وجوہات میں وہ بجا طور پر لکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں تاریخ مذہب کی بنیاد پر لکھی گئی ہے نہ کہ نسل اور جغرافیہ کی بنیاد پر۔ وہ کہتے ہیں ”نسل اور جغرافیہ کی بنیاد پر تاریخ لکھنے کو کفر کے متبادل سمجھا گیا ہے“ ۔

چانکیہ کا جہان بانی میں وہی مقام ہے جو سن زو اور میکاولی کا ہے۔ اگر آپ موخر الذکر دونوں کی کتابیں ”آرٹ آف وار“ اور ”پرنس“ پڑھیں تو چانکیہ کو دونوں ہاتھوں سے سلام کریں۔ تینوں نے ریاستی ڈھانچے اور جنگی حکمتِ عملی پر نہایت اعلیٰ پائے کی کتابیں لکھی ہیں انہیں بدقسمتی سے اخلاقی طور پر ملامت کیا جاتا ہے۔ لیکن ہر طاقت کا علمبردار خود وہی طریقے استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ یہی حال چانکیہ کی تصانیف کا ہے۔ مَیں نے ایک کتاب ”چانکیہ نیتی“ پڑھی ہے، مجھے تو وہ ایک قابل قدر لیڈر نظر آتے ہیں۔ سیاست میں وہ گرو ہیں اور سیاست کے داؤ پیچ کو وہ برا نہیں سمجھتے، لیکن ہر وقت ان کو استعمال کا مشورہ بھی نہیں دیتے بلکہ انتہائی ضرورت کے وقت۔ ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کا آبائی علاقہ اب مسلمان ہو گیا ہے جو کہ اب ان کو گالی دینا اپنے ایمان کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ حالانکہ ان کے آٹھ سو سال بعد اسلام آیا۔

مجھے ایران کے شہر زاہدان جانے کا موقع ملا تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے رستم کا ایک شاندار مجسمہ لگایا بلکہ سجایا ہوا تھا اس کے ساتھ ایک بہت بڑا فوارہ چل رہا تھا۔  ایرانی اسے تاریخ کا ایک قابل قدر فرد سمجھتے ہیں اور اس کے مذہب کی وجہ سے کسی شرمندگی کا شکار نہیں۔ اسی لئے تو ایران ایک تہذیب ہے جس کو اپنی شناخت پر فخر ہے اور پورا یورپ اور امریکہ اپنی کوششوں کے باوجود ایران کو نہیں جھکا سکے۔ برصغیر میں واحد ڈاہر قبیلہ مَیں نے دیکھا ہے جسے اپنی شناخت پر فخر ہے۔ سندھ کے راجہ ڈاہر کی اولاد ہونے پر ان کو اپنی ذات اور شناخت پر کسی قسم کا احساس کمتری نہیں۔ سندھ اور پنجاب میں بسنے والے اس قبیلے کے کئی لوگ تو اِس بات پر فخر کرتے ہیں کہ شہادت امام حسین ؑ کے بعد اُموی جبر و استبداد اور انسانیت کی تذلیل کے راستے میں اگر کوئی موثر رکاوٹ بنی تو وہ ان کا جد امجد راجہ ڈاہر تھا۔ مَیں ڈاہر قبیلہ کی اِس عزتِ نفس کو سراہتا ہوں۔

مَیں ریاست اور سیاست میں مذہب کی بحث سے بچنا چاہتا ہوں لیکن امورِ ریاست کو اگر مذہبی عینک سے ہی دیکھنا ہے اور چونکہ مذہبی طبقہ دھرتی کے ان ہیروز کو صرف مذہب کی عینک سے ہی دیکھتا ہے تو اپنے بھائی مسلمانوں سے پوچھتا ہوں کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے سیاسی طریقہ کار کو وہ کس خانے میں فٹ کریں گے؟ تو جناب طاقت کی اپنی ایک زبان ہے اور ہر طاقت کا خواہش مند اس زبان کو کسی نہ کسی طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ چندر گپت موریہ اور اس کے پوتے اشوک نے قانون دیا، نظم دیا، امن دیا یہاں تک کہ عوامی بہبود کی وہ شاندار ریاست قائم کی کہ تاریخ نے ان کے نام کے ساتھ ”اعظم“ لگایا۔ یاد رہے کہ ہندوستان کے دو بادشاہ ایسے ہیں جن کو اعظم کا لقب دیا گیا، اشوک اعظم، اکبر اعظم۔

ہندو مصنّفین اور مؤرخین نے بھی موریہ اور اشوک کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔ اشوکا نے تو بدھ مت کو پورے ہندوستان میں پھیلا دیا۔ آج بھی بدھ مت انسان کے اندر موجود تلاطم کو سکون دینے میں اور جذبات کو قابو میں رکھ کر مجموعی انسانی امن و یقین کا ایک موثر نظام دینے میں پیش پیش ہے۔ اُس دور میں تو یہ خدا کا انسانوں کے لئے ایک تحفہ تھا جب کہ ابھی حضرت عیسیٰ ؑ بھی مبعوث نہیں ہوئے تھے تو بدھ مت کو سمجھنا اور اسے نافذ کرنا اشوکا کی عام انسانیت کے لئے اتنی بڑی خدمت ہے کہ پنجاب اور پاک و ہند والے اس پر جتنا فخر کریں کم ہے۔

اب آتے ہیں کتاب کے مرکزی خیال کی طرف۔ مصنّف نے بڑے اعلیٰ پائے کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ پنجاب نے حملہ آوروں کو ہمیشہ روکے رکھا ہے۔

1۔ مثلاً محمد بن قاسم اور بعد کے عرب حکمرانوں کو تین سو سال ملتان سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔

2۔ محمود غزنوی کو سترہ حملے کرنے پڑے تب جا کر اہل پنجاب کچلے جا سکے۔ غزنوی کی آخری جنگ دریا کے پانیوں پر کشتیوں پر لڑی گئی اور وہ اتنی تباہ کن تھی کہ گو کہ محمود فاتح ہوا لیکن اس کی فوجی طاقت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ دونوں طرف اتنا شدید اور وسیع جانی نقصان ہوا کہ جنگ میں جنگجووں کے ایسے نقصان کے بارے میں اُردو میں نیا محاورہ ”کشتوں کے پشتے لگ جانا“ شامل ہو گیا۔

3۔ سخت جدوجہد کے بعد غوری اگرچہ پنجاب کو زیر کرنے میں کامیاب ہوا لیکن ایک کھوکھر نے اسے فدائی مشن کے تحت قتل کر دیا۔

4۔ ابدالی کو پنجاب نے بہت مشکل وقت دیا۔ گو پنجاب میں ان سارے حکمرانوں بالخصوص غوری اور غزنوی کی طرز پر ابدالی نے بہت لوٹ مار کی لیکن بالآخر چودھری چڑت سنگھ وڑائچ، چودھری سبحان وڑائچ، چودھری غلام محمد وڑائچ، اور چند دیگر رہنماؤں کی بدولت پنجاب نے قبضہ واپس لے لیا۔

5۔ انگریز نے 1757 ء میں جنگ پلاسی کے صرف پنتالیس سال کے بعد پورے پاک و ہند پر قبضہ کر لیا۔ اسے گیارہ جنگیں لڑنی پڑیں۔ جبکہ پنجاب پر قبضے کے لئے اسے پندرہ جنگیں اور پچاس سال لگے۔

6۔ سرہند اور پانی پت اور ترائن کے میدان بھی بنیادی طور پر پنجاب کا حصہ تھے۔ لہٰذا اگر لشکر وہاں تک پہنچے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پنجاب نے وہاں تک پہنچایا بلکہ خود دہلی کے حکمرانوں نے پنجاب کے ان میدانوں کو لڑائی کے لئے چنا۔

7۔ بلبن اور کئی ایک حکمرانوں نے تو پنجاب پر بیرونی حملہ آوروں سے زیادہ ظلم ڈھائے کنویں بھروا دیے، فصلیں تباہ کر دیں، آبادیوں کو جنگلوں میں دھکیل دیا تاکہ پنجاب ”نو مین لینڈ“ (خندق نما) بن جائے اور حملہ آور دہلی نہ پہنچ سکیں۔

8۔ کابل نے سکندر اعظم (الیگزینڈر) سے لے کر ہر حملہ آور بشمول، ظہیر الدین بابر، ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار وغیرہ کو خوش آمدید کہا، سہولتیں فراہم کیں رشتے تک دیے اور آگے ہندوستان پر حملہ کرنے کے لئے اپنی فوجیں دے کر روانہ کیا۔

9۔ بابر نے پشتون بیلٹ دو سال میں فتح کر لی۔ لیکن اسے پانی پت تک پہنچنے میں بائیس سال لگے۔

چند چیزیں جو عام تاریخ دانوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں، امجد وڑائچ نے ان کی طرف بہت دانائی سے اشارہ کیا ہے۔ ان میں سے اوّل غیر ارادی نتائج ہیں۔

1۔ راجپوت کنفیڈریشن کے سرکردہ رانا سانگا نے صرف دہلی کے مسلمان حکمران ابراہیم لودھی کو کمزور کرنے کے لئے ظہیر الدین بابر کو حملہ پر اکسایا لیکن بابر کا اونٹ جب ہند کے خیمہ میں آ گیا تو اُس نے رانا سانگا کو بھی نکال باہر کیا۔ رانا کا خیال تھا کہ بابر سنٹرل ایشیا اور دیگر ترک یا یورپی لٹیروں کی طرح لوٹ مار کر کے واپس چلا جائے گا اور رانا سانگا دہلی کی کمزور مسلم بادشاہت کو ختم کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لے گا۔

2۔ اسی طرح نادر شاہ افشار کو محمد شاہ رنگیلا کے دیوان نظام الملک نے بیس لاکھ روپے لے کر واپس جانے پر راضی کر لیا تو نواب آف اودھ سعادت خان نے حسد میں آ کر دہلی جانے کو کہا جہاں اصل دولت ہے۔ دہلی پہنچ کر وہ قتل و غارت ہوئی کہ خدا کی پناہ! ستر کروڑ روپے نقد، کوہ نور ہیرا، تخت طاؤس اور کتنی کنیزیں اور غلام لے کر نادر شاہ ٹلا۔

3۔ نادر شاہ افشار اپنے افغان بھگوڑوں کے خلاف کارروائی چاہتا تھا۔ مغل بادشاہ نے ہامی بھر کر ایسا نہیں کیا۔ ان کے پیچھے پیچھے جب وہ ہند آ گیا تو پھر عذاب الہٰی کی صورت میں قہر بن کر ٹوٹا۔ قسمت کا مذاق دیکھئے کہ تب کے ہندوستان اور اب کے پاکستان نے بار بار افغان بھگوڑوں کو پناہ دینے کی خوفناک قیمت چکائی لیکن سیکھ یہ پھر بھی نہیں رہے۔ ہیگل نے کیا خوبصورت فقرہ کسا ہے ”ہم نے تاریخ سے یہی سیکھا ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے“ ۔

4۔ شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کو خط لکھا کہ وہ مرہٹوں کی طاقت ختم کرے اور یوں دلی حملہ پر اکسایا لیکن ابدالی نے آ کر دہلی میں وہ لوٹ مار اور قتل عام کیا کہ خود شاہ ولی اللہ کو اپنی جان بچانے کے لالے پڑ گئے۔

یہ پالیسی میکرز کے لئے ایک سبق ہے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ جو ملک کی تقدیر پر اثر انداز ہو اس کے غیر ارادی نتائج ضرور دیکھیں۔ پاکستان میں 2001 سے ہونے والی دہشت گردی بھی افغانستان کی بے جا حمایت اور جہاد کو سپورٹ کرنے کے لیے مہاجرین کی شتر بے مہار آمد اور پورے ملک میں پھیلاؤ اور سخت گیر مذہبی مدارس کا بے ہنگم پھیلاؤ تزویراتی گہرائی کی پالیسی جو پورے ایشیا کی ترقی اور گروتھ کے خلاف تھی اس کے ان چاہے نتائج ہی ہیں اور ”اسٹریجک ڈیپتھ“ اب ”اسٹریجک ڈیتھ“ بن چکی ہے۔

جس طرح ہم نے بہت ہی شروع میں عرض کیا کہ امجد وڑائچ صاحب نے اس کتاب کے ذریعے تاریخ کے کئی غلط احوال درست کیے ہیں۔ چند ایک مشہور غلطیاں انہوں نے اس طرح درست کی ہیں۔

1۔ افغانوں کا بابا محمود ہوتکی تھا جس نے صفوی حکمرانوں سے افغانوں کی جان چھڑا کر ایک افغان ایمپائر کی بنیاد رکھی۔ احمد شاہ ابدالی تو نادر شاہ افشار کا کمانڈر تھا۔ اس نے حریت پسند محمود ہوتکی کا بیڑہ غرق کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب نادر شاہ مر گیا تو ہرات کے اس افغان نے نئی سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔

2۔ جی ٹی روڈ چندر گپت موریہ نے بنایا تھا۔ شیر شاہ سوری نے البتہ اسے بحال کیا اور سہولتوں میں بھی اضافہ کر دیا۔

3۔ مغل حکمران اور دہلی کے دیگر حکمران مثلاً بلبن وغیرہ نے پنجاب کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کیا۔ 50 فیصد تک ٹیکس لیا جاتا تھا جبکہ کسانوں کے لیے کوئی بھی سہولت نہیں تھی۔ جہاں میں مصنف سے کافی حد تک اتفاق کر رہا ہوں، وہاں میں یہ عرض کروں گا کہ کچھ اعلیٰ پائے کے بادشاہ بھی تھے جنہوں نے ظلم و ستم کی بجائے امن و محبت اور انصاف اور ویلفیئر سٹیٹ قائم کی۔ سب سے بڑی مثالیں فیروز شاہ تغلق، شیر شاہ سوری اور اکبر اعظم ہیں۔

4۔ احمد شاہ ابدالی کے حملے کی وجہ کوئی مغل سلطنت کو طاقت فراہم کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ کا خط نہیں تھا بلکہ اسے مرہٹوں پر غصہ تھا جنہوں نے اس کی قلمرو کے صوبہ پنجاب پر حملہ کیا تھا۔ البتہ شاہ ولی اللہ کے خط نے ایک موثر جواز ضرور فراہم کیا اور مغل سلطنت کی اندرونی کمزوریوں کا دشمن کو بتا کر دشمن کے حوصلے ضرور بلند کیے اس کو نفسیات کی زبان میں ”اِن ایبلنگ“ کہتے ہیں۔

5۔ انگریز سے کہیں زیادہ مغلیہ مسلم سلطنت کے زوال کے اسباب میں نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملے تھے۔ ابدالی کے نمائندے صوبے دار غلام قادر روہیلہ نے مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کو آنکھوں میں سلائی پھرا کر اندھا کر دیا تھا۔ نتیجتاً جب انگریز کمانڈر دہلی میں داخل ہوا تو شاہ عالم ثانی ایک شامیانے کے نیچے بے بسی کے عالم میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔

6۔ اگر احمد شاہ ابدالی اور اس کے خاندان کی جنگیں کفر اور اسلام کی جنگیں تھیں تو اس نے لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں پنجاب کے مسلمانوں کو بھی نہیں بخشا۔ 1788 ء میں جب احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ نے سندھ اور بہاولپور پر حملہ کیا تو بہاولپور جو کئی سو سالوں سے مسلم تھا اس کو کیوں تباہ و برباد کر دیا؟ عوام الناس کو قتل کر دیا جو کہ سارے مسلمان تھے۔ دہلی کے حوالے سے تاریخ عالمگیری میں درج ہے۔ ”لوگوں سے جرمانہ وصول کرنے کے لیے جگہ جگہ مراکز قائم کیے گئے۔ یہ تمام جرمانے کٹڑہ روشن دولہ کے مرکز میں لا کر جمع کرائے جاتے تھے۔ جنھیں افغان فوج کے ہمراہ ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ ان میں سے ایک وہ مغل شہزادی بھی تھی کہ جس کی شادی نادر شاہ کے لڑکے سے ہوئی تھی۔ جادو ناتھ سرکار نے اپنی کتاب میں ایک مرہٹہ خط کا ذکر کیا ہے کہ جس میں ان بدنصیب شہزادیوں کے بارے میں ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ پٹھانوں نے امراء کی خوبصورت بیویوں کو ہتھیا لیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ اس حملہ میں اس قدر مال غنیمت تھا کہ اس کو لے جانے کے لیے 28 ہزار اونٹ، ہاتھی اور خچروں کا بندوبست کیا گیا“ ۔

7۔ اِسی موضوع پر مشہور عالم، شاعر اور محقق میر تقی میرؔ نے لکھا ہے ”شہر کو آگ لگا دی۔ گھروں کو جلانا اور لوٹنا شروع کر دیا۔ صبح کو، جو صبح قیامت تھی، ساری فوج اور روہیلوں نے مل کر پورے شہر کو تاخت و تاراج کر دیا اور قتل و غارت گری مچا دی۔ گھروں کے دروازے توڑ دیے، لوگوں کی مشکیں باندھیں۔ کئی ایک کو نذر آتش کر دیا اور کتنوں کے سر قلم کر دیے۔ ایک عالم کو خون میں لت پت کر دیا۔ تین دن اور تین رات تک وہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے۔ نہ کھانے کو چھوڑا نہ پہننے کو، چھتوں میں شگاف ڈال دیے اور دیواریں مسمار کر دیں۔ لوگوں کے کلیجے بھون دیے اور دل جلا ڈالے۔ شہر کے اکابرین کی عزت خاک میں ملا دی۔ امیر امراء مفلس و نادار بن گئے، رذیل و شریف سب ننگے دھڑنگے ہو گئے۔ بہتوں کی عورتیں اور بچے گرفتار کر لیے گئے۔ قتل عام اور غارت گری کا بازار گرم تھا۔ نیا شہر خاک کا ڈھیر ہو کر رہ گیا“ ۔ (ذکرِ میرؔ، صفحات 46۔ 145 ) ۔

ڈاکٹر مبارک علی کے بقول ”اور یہ وہ حملہ تھا کہ جس نے لوٹ مار، قتل و غارت گری اور عورتوں کی عصمت دری کرنے میں کسی مذہب، رنگ و نسل کا خیال نہ کیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے باوجود، ان تاریخی حقائق کی روشنی میں بھی، لوگ اسے مجاہد اور ہیرو کا درجہ دیتے ہیں“ حوالہ: ڈاکٹر مبارک علی، ”گمشدہ تاریخ“ صفحات 101 تا 107۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس سب کے باوجود ہمارا ایک مذہبی طبقہ اور مقتدرہ کا ایک حصہ طالبان کی شکل میں اس ظلم و ستم کا دوبارہ شکار ہونے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ وہی بے وقوفی کرنا چاہتا ہے جو شاہ ولی اللہ نے کی۔ یہ طبقہ ”مِزری ایڈکشن“ یا مصیبت کی لت کا شکار ہے۔ یعنی اسے مار پیٹ کھانے اور ذلیل ہونے میں لذت آنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ واضح علامات ہیں کہ قوم کے اس طبقہ کو سٹاک ہوم سنڈروم ہے۔

بقول حبیب جالبؔ

چنگیز خان شہید، ہلاکو شہید ہے
آیا جو اس زمین پہ ڈاکو، شہید ہے

لیکن قصور ان کا بھی نہی۔ اگر تعلیمی نصاب میں صحیح تاریخ پڑھائی جائے تو ان کو پتہ چلے۔ آخر سوشل اینیمل ہونے کے ناتے اکثریتی انسان لکیر کے فقیر ہی ہوتے ہیں۔

8۔ حقیقت یہ ہے کہ کابل کے راستے سے آنے والے یا کابل کے حملہ آوروں کو اسلام سے کوئی بھی غرض نہ تھی بلکہ لوٹ مار ہی ان کا منشاء تھا۔ ابدالی اور نادر شاہ تو ابتدائی پیشہ کے لحاظ سے بھی ڈاکو ہی تھے۔ ہاں البتہ جہاں اسلام کے نام کی بطور ایک اوزار ضرورت پڑتی تھی وہاں یہ لوگ ضرور اسلام کے نام کا استعمال کرتے تھے۔

9۔ شاہ ولی اللہ کے خانوادے اور جانشین مثلاً شاہ اسمعٰیل اور سید احمد نے کبھی انگریز کے خلاف جہاد تک نہ کیا، نہ ہی فتویٰ دیا بلکہ صرف اور صرف سکھوں کے خلاف جنگ کی۔ مصنّف نے دستاویزی شہادت سے یہ ثابت کیا ہے کہ انگریزوں نے رضاکاروں کی بھرتی، چندہ اکٹھا کرنے یا ان سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ خاموش مدد فراہم کی۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ دونوں میں کسی نہ کسی لیول پر کوئی سمجھوتہ موجود تھا۔ کیونکہ پنجاب کی سکھ سلطنت انگریز کے لیے آخری رکاوٹ تھی اس کے بعد اس کا پورے ہندوستان پر قبضہ ہونا تھا۔

بہت سے قارئین کو یہ پڑھ کر دکھ اور تکلیف کا جھٹکا لگے گا لیکن یہ حقیقت ہے کہ انگریز غاصب تھے لوٹ مار کر کے انگلینڈ تعمیر کر رہے تھے۔ قریباً پانچ ہزار بلین پونڈ انگریز نے ہندوستان سے لوٹا۔ یہ ساری تفصیلات ڈاکٹر ششی تھرور نے اپنی دو کتابوں ”انگلوریس ایمپائر“ اور ”اَین اِیرا آف ڈارکنیس“ میں قلمبند کی ہیں۔ انگریز کی آمد سے پہلے دنیا کی جی ڈی پی کا پچیس فیصد انڈیا میں تھا۔ انگریز کی آمد کے بعد سے گروتھ ریٹ منفی ہو گیا۔ جبکہ سکھ سلطنت ایک سیکولر حکومت تھی جس میں ہندو مسلم اور سکھوں کو برابر کے حقوق تھے۔ شرح خواندگی تقریباً سو فیصد تھی۔ شاہ ولی اللہ کا خاندان جتنا علم و فضل والا تھا ان سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ انہیں انگریز اور سکھ میں ہندوستان کے لئے بالعموم اور مسلمانوں کے لئے بالخصوص تباہ کن کون ہے حقیقی اندازہ نہ ہوا ہو۔

علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے بھی مصنف کے اس نقطہ نظر کی بین السطور میں تصدیق کی ہے۔ گو اس معاملہ میں کئی تاویلیں دی جا سکتی ہیں مثلاً فقہی طور پر علماء اہلِ کتاب کے بارے میں ہمیشہ نرم گوشہ رکھنے کے قائل رہے ہیں۔ یہاں میں دو امور کی معذرت کروں گا۔ ایک پختون بھائیوں سے کیونکہ انہوں نے احمد شاہ ابدالی کے ظلم و ستم نہیں دیکھے اس لئے وہ ان کے لئے خاصی حد تک قابل احترام شخصیت ہیں۔ لیکن چونکہ پنجابیوں نے ابدالی کے ظلم بھگتے ہیں اس لئے یہ صرف وہی جانتے ہیں۔

اور دوسری پنجابی بھائیوں سے۔ شاہ اسماعیل اور سید احمد کے ظلم و ستم پختون عوام نے بھگتے ہیں اور وہی جانتے ہیں کہ وہ طالبان کی ایک شکل یا خوارج کی پالیسیوں پر عمل پیرا تھے۔ پنجاب والوں نے چونکہ ان کے ظلم و ستم نہیں دیکھے اس لئے یہ اُن کو آج بھی شہید کہتے ہیں۔ یہاں مَیں خود کچھ کہنے کی بجائے اپنے ایک پختون بھائی بلاگر سید محمد اور تاریخ کے ایک محقق فرہاد علی خاور کی تحقیق کو درج کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔

”برصغیر کے لوگ صوفی تعلیمات کے تحت مسلمان ہوئے تھے لیکن سید احمد بریلوی (سید احمد شہید) نے ان تعلیمات کو غلط قرار دیا انہوں نے صدیوں سے رائج تصوف کو اسلام کے خلاف قرار دیا اور اسلام کی کشادگی، بردباری، رواداری کی تاریخ کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے برصغیر میں تنگ نظری اور عدم برداشت کی روایت کا آغاز کیا۔ انہوں نے جہاد کا نظریہ متعارف کروایا حالانکہ برصغیر میں جنگ کو ایک سیاسی معاملہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کا کسی مذہب سے تعلق نہیں جوڑا جاتا تھا۔ انہوں نے دہلی میں انگریزوں کے امن میں کوئی خلل نہیں ڈالا بلکہ برصغیر میں انگریزوں کے متوازی سب سے بڑی حکومت سکھوں کی حکومت کے خلاف مذہبی بنیادوں پر لڑائی کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے بھی انہوں نے اپنے یوپی کے ملحقہ کسی علاقے میں جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ پختون علاقے میں جا کر لڑنے کا فیصلہ کیا جہاں سکھوں کا براہ راست قبضہ نہیں تھا بلکہ ان کی حمایت سے ایک مسلمان پختون کی حکومت تھی۔ انہوں نے پنج تار آ کر عملاً اپنی حکومت قائم کر لی اور اپنے فہم کے مطابق شرعی قوانین نافذ کر دیے۔ یہ ان کی نرم دلی تھی کہ انہوں نے اپنے مفتوحہ علاقے کی خواتین کو لونڈیوں کے طور پر اٹھانے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ اپنے ہندی مجاہدین کو اجازت دی کہ وہ کسی بھی پختون خاتون کا چہرہ دیکھ کر شادی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے سے عشر اور زکوٰۃ کا مطالبہ کر دیا۔ انھوں نے کسی بھی بزرگ کی عزت کی ضرورت نہیں سمجھی کہ ان کے خیال میں ان کا فہم اسلام سب سے اہم تھا۔ انہوں نے اختلاف کرنے والوں کو باغی قرار دیا اور ان کے قتل کو جائز قرار دیا۔ یہ پختونوں کے لئے ایک سخت آزمائش تھی چنانچہ پرگنہ یوسف زئی کے پختونوں نے اپنی باعزت اور باپردہ خواتین کی بے حرمتی اور توہین، اپنے بزرگوں کی بے عزتی اور بے گناہ مقتولین کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ سید احمد بریلوی اور سید اسماعیل کی چیرہ دستیوں اور مظالم سے تنگ یوسف زئی سرداروں نے ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا رخ موڑ کر ایک عہد کا خاتمہ کر دیا۔

مردان، صوابی کے خوانین اور ملکان نے ایک جرگہ کیا اس جرگے کے مقام کا اب تک معلوم نہ ہو سکا اس خفیہ جرگے میں ایک بڑا فیصلہ ہوا لیکن اس فیصلے کی خبر کسی کو بھی نہیں ماسوائے ملکان کے، فیصلہ یہ ہوا کہ ہر گاؤں کے ملک اپنے گاؤں کے جوانوں کو کسی بھی بہانے مسلح حالت میں تیار رہنے کا حکم دیں گے اور جب ضرورت ہو گی وہ دشمن پر حملہ آور ہوں گے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ مسلح پختون نوجوان حملے کے لئے انتظار کریں گے جب پہاڑ کڑامار پر آگ کا شعلہ بلند ہو ہر گاؤں کے جوان منتخب ٹارگٹ پر حملہ کریں گے۔ اِس ضمن میں بہت احتیاط کا مظاہرہ کیا گیا۔ سید امیر المعروف کوٹھا ملا کے لوگوں کو اپنے فیصلوں کی اطلاع بھی نہیں دی کیونکہ یہ لوگ بریلوی کے ساتھیوں میں سے تھے۔ نومبر کی ایک سرد رات کو ملکان نے اپنے نوجوانوں کو مسلح ہو کر تیار رہنے کا حکم دیا اور حجروں میں انتظار کرنے لگے۔ یوسف زئی مشران اس سگنل کے انتظار میں پہاڑ کی جانب دیکھنے لگے کہ آدھی رات کو کڑامار کی چوٹی پر ایک شعلہ بلند ہوا۔ شعلہ دیکھتے ہی یوسف زئی سرداران نے نوجوانوں کو نکل کر مجاہدین پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ حکم ملتے ہی مردان اور صوابی کے ہر گاؤں ہر محلہ میں لڑائی شروع ہو گئی۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ردِّعمل بہت شدید اور بہت سی جگہ پر جوابی ظلم پر مشتمل تھا۔ ہر جگہ اِن خود ساختہ مجاہدین کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا اور ان کو بے رحمی اور جوابی تشدد سے قتل کیا گیا۔ ردعمل سے مغلوب یوسف زئی بہت غضب کی حالت میں تھے اور وہ بے رحم اور ظالم گروہ کا روپ اختیار کر گئے تھے۔ مساجد اور مجاہدین کے مراکز میں داخل ہو کر مجاہدین کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کرنے لگے۔ پشاور میں سید احمد بریلوی کے ٹیکس کلکٹر ارباب فیض اللہ خان اور قاضی مولوی مظہر علی کو ساتھیوں اور ان کے حفاظتی دستوں سمیت قتل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پورا علاقہ عملاً ایک مذبح خانہ بن گیا۔ بہت بڑے بڑے کمانڈروں اور نامی گرامی علماء کے سر تنوں سے جدا ہو رہے تھے۔ یوسف زئی جوان انتقامی جذبے میں پاگل ہو رہے تھے۔

ہندی مجاہدین کو چن چن کر قتل کیا گیا۔ اسماعیلہ کے خان نے بذات خود بہادر شاہ رام پوری کا سر سجدہ کی حالت میں تن سے جدا کر دیا۔ شیوا میں مولوی رمضان کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔ بھاگتے ہوئے مجاہدین کو راستوں، گلیوں اور محلوں میں پکڑ کر قتل کیا گیا۔ مینی میں مجاہدین کو خارجی قرار دے کر مسجد میں گھیر کر آگ لگادی گئی۔ زندہ بچ کر نکلنے والے مجاہدین کو پکڑ کر ان کی سر تنوں سے جدا کرتے رہے۔ جن ہندی مجاہدین نے زبردستی پختون خواتین سے شادی کی تھی ان میں سے بہت سے ہندی مجاہدوں کو جبراً زنا کے الزام کے تحت سنگسار کر دیا گیا۔ مردان ہوتی میں کئی نامور کمانڈر مسجد کے اندر ذبح کر دیے گئے۔ جبکہ درجنوں ہندی مجاہدین کو گلی محلوں میں پکڑ پکڑ کر ذبح کر دیا گیا۔ خان سلطان کمال نے ہوتی کی مسجد میں مولانا حبیب اللہ رامپوری کو درخت سے باندھ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ہر گاؤں میں موت کا رقص جاری رہا۔ صبح تک یہ خونی کھیل جاری رہا آٹھ سو ہندی ٹیکس کلکٹر مجاہدین یوسف زئی جوانوں کے غضب کا نشانہ بنے کوئی بھی شخص زندہ بچ کر پنچ تار نہ پہنچ سکا۔ یوسف زئی مشران نے فیصلہ کیا کہ اب پنچ تار میں سید احمد بریلوی کو انجام تک پہنچانا ہے۔ بریلوی کے پاس صرف ڈیڑھ سو مجاہد باقی تھے۔ سید احمد بریلوی نے مقامی خوانین جو ابھی تک ان کے ساتھ تھے کو بلا کر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی۔ سب نے یک زبان ہو کر صاف صاف بتا دیا کہ ٓاپ کے مقرر کردہ افسروں کی سختیوں پختونوں کی لڑکیوں کا اُن کی اجازت کے بغیر ہندی مجاہدین سے نکاح کروانا اور آپ کی درشت مزاجی اور بد اخلاقی اِس حادثہ کا سبب تھی۔ سید احمد بریلوی یہ باتیں سن کر کہنے لگے کہ اب مَیں نے یہاں نہیں رہنا کیونکہ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ ان کا ساتھی فتح خان قابل اعتبار ہے اور دوسری جانب سوات کے سیدو بابا نے بھی کھل کر مخالفت کر کے یوسف زئی لوگوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور کچھ لوگوں کو اس مقصد کے لیے روانہ بھی کر دیا گیا تھا۔ یہ صورتحال دیکھ کر سید احمد بریلوی کے پاس یہاں سے نکلنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اِس خطرناک صورت حال کو دیکھ کر پنجتار کے فتح خان نے پہاڑی دروں سے سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کو اباسین پار کر کے ہزارہ پہنچایا، جہاں سکھ فوج آ پہنچی۔ چھ مئی کو سید احمد بریلوی اور سید اسماعیل اپنے انجام کو پہنچ گئے اور ظلم جبر کے ایک سیاہ ترین عہد کا اختتام ہو گیا ”۔ بعد میں آنے والے طالبان بھی انہی دو بزرگوں کے پیروکار ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ تعلیمی نصاب میں ان دو (سید احمد، شاہ اسماعیل ) کو ہیرو پڑھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبانیت اور خارجی فتنہ اس ملک اور دھرتی سے ختم نہیں ہو رہے۔ کیونکہ ایک طرف پاک فوج اس فتنے کو ختم کرتی رہتی ہے اور دوسری طرف ہمارا تعلیمی نصاب بیرونی حملہ آوروں کی تعریف کر کے بچوں کے دماغوں کو زہر آلود کر کے دھڑا دھڑ خوارج پیدا کرتا رہتا ہے۔

پختون محقّق اور صحافی شازار جیلانی ”۔ چیک پوسٹ پر رکھا گیا سر اور پختون عورتوں کا مال غنیمت“ کے نام سے کرم اور پارہ چنار میں نومبر 2024 کو ہونے والی شدید لڑائی پر یوں تبصرہ کرتے ہیں۔ ”یہ انسانی سر حیوانیت نے ایک۔ چیک پوسٹ کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ جو اسلام، پختون ولی اور اتھارٹی تینوں کا مذاق اڑانے کی کھلی کوشش ہے۔ پختونوں کی عورتوں کو کوئی پہلی دفعہ مال غنیمت سمجھ کر آپس میں بانٹا نہیں گیا۔ مغل تو وحشی تھے، ہندوستانی اور پختونخوا کے رسم و رواج سے نابلد تھے، سید احمد بریلوی تو فقیہ العصر اور پتہ نہیں کیا کیا تھے، اس نے بھی پشاور، زیدہ اور مردان میں پردہ دار پختون خواتین کو اپنے ساتھ لائے ہوئے ہندوستانی موالیوں میں مال غنیمت کے طور پر تقسیم کر دیا تھا۔ پختونوں کے ایسے سرداروں (خوانین) کی بیویاں اور بیٹیاں بھی آپس میں تقسیم کردی گئی تھیں، جن کے گھروں کے مرد یا تو مسٹر بریلوی کے موافق نہیں تھے یا اس کے خلاف لڑے تھے۔ پتہ نہیں کیوں خلافت اور امامت کا قہر ہمیشہ کمزور عورتوں پر ٹوٹ کر ٹھنڈا ہوتا ہے۔ افغانستان میں روسی آئے اور پاکستان و افغانستان کے انپڑھ و جاہل، امریکی ڈالروں اور پاکستانی ملاؤں کے زور پر“ مجاہد ”بنا کر افغانستان پر چھوڑے گئے، تو ان دنوں بھی افغانستان کے تعلیم یافتہ پختونوں کی بیویاں اور بچیاں مال غنیمت سمجھ کر پاکستان لائی گئیں تھیں۔ جن کی مثالیں آج تک، میرے کالج کے دنوں کے ڈراؤنے خواب ہیں، جو میں نے مردان میں رہائش پذیر ایک کانے مجاہد کے گھر میں پانچ نوجوان اور سہمی ہوئی افغان بچیوں کو دیکھنے کے بعد اپنے اردگرد سرسراتے ہوئے محسوس کیے ہیں۔ چار بچیاں اس نے اپنے جیسے دوسروں کو بیچ دیں اور ایک جو سب سے خوبصورت تھی، اپنی وحشت کو کھلانے کے لئے رکھ لی“ ۔

بہرحال یہ کتاب تہہ در تہہ تاریخ میں چھپے کئی ہیرے سامنے لے آئی ہے مثلا؛

1۔ رنجیت سنگھ نے ایک سیکولر اسٹیٹ کی بنیاد ڈالی اس کے سب سے اہم وزراء میں فقیر عزیز الدین شامل تھے۔

2۔ دلے بھٹی (عبداللہ بھٹی) نے کس طرح اپنی جان کی قربانی دے کر انڈین میگنا کارٹا حاصل کیا جس کے تحت کسی فرد کی زمین اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء میں جائے گی۔ ورنہ یہ ظالمانہ قانون تھا کہ زمیندار کے مرنے کے بعد زمین واپس بادشاہ کی ملکیت ہوجاتی تھی اور وہ جس کو چاہتا تھا دیتا تھا۔

3۔ گرو گوبند سنگھ کے کمانڈر انچیف بندہ بیراگی نے کس طرح شاندار زرعی اصلاحات کیں اور بڑی جاگیریں نوابوں سے چھین کر غریب مزارعوں میں تقسیم کر دیں۔ بہت بعد میں کانگریس کی حکومت نے یہ انڈیا میں کیا یا پھر محدود پیمانے پر ایوب خان اور بھٹو نے زرعی اصلاحات کیں اس کے بعد تو مذہب کا نام لے کر اس شاندار پالیسی کو غیر اسلامی قرار دیا گیا جو کہ ایک المیہ ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ بڑی بڑی جاگیریں ہیں ہی بیرونی حملہ آوروں کی یا ان کے کاسہ لیس درباریوں کی۔ جن میں سب سے نمایاں انگریز کے نمک خوار اور ان کے کتے نہلانے والے تھے۔ اسلام کے نام پر غیر اسلامی کاموں کے تحفظ کا یہ المیہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہی دیکھا گیا ہے۔

4۔ پنجاب نے اپنے عمومی مزاحمتی مزاج کو زندہ رکھا۔ انگریز کے خلاف ہر طرح کی قربانیاں دیں۔ انڈین نیشنل آرمی کی بنیاد رکھنے والوں میں ایک عظیم نام کیپٹن موہن سنگھ کا ہے۔ اس فوج کے ستر فیصد سپاہی پنجاب سے تھے۔

5۔ بھگت سنگھ بھی ایک عظیم حریت پسند خاندان سے تھے۔ ان کے چچا اجیت سنگھ نے ”پگڑی سنبھال جٹا“ اور ”بھارت ماتا“ جیسی آزادی کی شاندار تحریکوں کی بنیاد رکھی۔ ان کے والد کش سنگھ بھی حریت پسند تھے۔

6۔ فیصل آباد کے اس جوان (بھگت سنگھ) نے بارہ سال کی عمر میں جاکر جلیانوالہ باغ کی دھرتی کو چوما اور مٹی کو آنکھوں سے لگایا اور آزادی کی قسم کھائی۔ میرے لئے ذاتی طور پر یہ ایک رومانوی سین ہے۔ انگریز نے ظلم و تشدد کر کے 66 سالہ دمے کے مریض لالہ لجپت رائے کو لاہور میں شدید تشدد کر کے موت کے حوالے کر دیا اور بھگت سنگھ نے اس کا انتقام لیا۔ یہ ایک بھرپور رومانوی داستان لگتی ہے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر بھگت سنگھ کے سوشلسٹ نظریہ نے ہی مجھے متاثر کیا ہے ”یہ شادی کا وقت نہیں بلکہ وطن کی خدمت کا دور ہے“ کہہ کر جس طرح وہ کانپور پہنچا اور ہندوستان ری پبلک ایسوسی ایشن میں شمولیت اختیار کی بلکہ سوشلسٹ کا نام میں اضافہ کروایا وہ تاریخ میں امر ہے۔ بدقسمتی سے ہم ان کا دن منانے اور اس کی قربانیوں کو صرف اس لئے تاریخ کے نصاب میں شامل نہیں کرتے کہ وہ سکھ تھا اور ہم اب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ اس طرح ہم خود ایک شناخت کا بحران پیدا کرتے ہے اور پھر گلہ کرتے ہیں کہ عوام پاکستانی ہونے سے زیادہ مذہبی شناخت یعنی شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور نسلی شناخت یعنی پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون اور غیرملکی شناخت یعنی ایرانی، عربی، ترکش اور افغانی خون کا مالک کہلانے پر زیادہ فخر کیوں کرتے ہیں۔ شناخت کا یہ المیہ کرم، پارہ چنار اور بلوچستان میں ہونے والے حالیہ ( 2024 ) واقعات کے بعد تو ”وجود کا المیہ“ بنتا جا رہا ہے۔ میرے استاد ڈاکٹر ظفر اللہ کھوکھر کے شعر کی زبان میں :

کون سمجھے گا تیرے میرے المیہ وجود کو قاسم
ہر طرف گرگ آتش ہیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر

7۔ آزادی کے تاریخی عمل میں پنجاب کا ایک اور بڑا حصہ رائل انڈین نیوی کی بغاوت ہے جس میں این سی اوز شامل تھے۔ فروری 1946 کی اِس بغاوت نے انگریز کے چھکے چھڑوا دیے کیونکہ اب تک وہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ کیے ہوئے تھا۔ بقول شاعر؛

؂ جن پہ تھا تکیہ وہی پتے ہوا دینے لگے

اب انگریز نے بوریا بستر پیک کرنے (باندھنے ) کی ٹھانی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی اپنی کتاب ”انڈیا ونز فریڈم“ میں اس بغاوت کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اب ہندوستانی فوجی بالخصوص بحریہ کے لوگ مجھے کھلے عام ملتے، استقبال کرتے اور آزادی کا پوچھتے۔ یہ انگریز کے لئے شدید دردِ سر تھا اور اسے نوشتہ دیوار نظر آ گیا کہ اب آزادی دینی پڑے گی۔ اس بغاوت کی کمانڈ ”نیول سنٹرل سٹرائیک کمیٹی“ کے ہاتھ میں تھی، جس کے صدر ایم ایس خان اور نائب صدر مدن سنگھ دو پنجابی تھے۔ مصنف کے بقول انگریز حکومت کو اس بغاوت نے ہلا کر رکھ دیا تھا اور اگلے ہی دن کیبنٹ مشن پلان کا اعلان کر دیا تاکہ ہندوستان کی آزادی کو واضح شکل دی جا سکے۔

یہاں مَیں مصنّف کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتا۔ انڈین نیوی کے جوانوں کی بغاوت نے یقیناً اپنا اثر ڈالا تھا لیکن کیبنٹ مشن پلان اس کا فوری نتیجہ نہیں تھا۔ بلکہ اس کی داغ بیل بغاوت شروع ہونے سے کافی پہلے ستمبر 1945 ء میں انگلینڈ کی نئی منتخب کردہ لیبر حکومت ڈال چکی تھی۔ جو کہ وہ اعلان کر چکی تھی کہ آئندہ ہندوستان کی اسمبلی ایک آئین ساز اسمبلی ہوگی جو کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ کے برابر ہونی تھی۔ مصنّف کے اِس نقطہ نظر سے بھی مَیں اتفاق نہیں کرتا جس میں وہ کانگریس اور لیگ کی بغاوت روکنے کو دبے لفظوں میں مستحسن نہیں سمجھتے۔ اس وقت آزادی کا سورج قریب تھا اور مسلح افواج کی بغاوت فوج کی حکمرانی یا کسی اور مسئلے کا سبب بن سکتی تھی جیسا کہ افریقہ کے کئی ممالک میں بعد میں ہوا۔ اس نازک موقع پر غیرارادی نتائج کو نظر میں رکھنا، پاک و ہند کی سیاسی قیادت کی بلند تر آدرش اور دانائی کا غماز ہے۔

مصنف کے ایک اور نقطہ نظر سے میں اختلاف کی جسارت کروں گا وہ ہے کہ بھگت سنگھ کا مقدمہ سننے کی غرض سے اور حمایت کا تاثر دینے کے لیے موتی لال نہرو، قدوائی اور دیگر کانگریس کے زعماء تو لاہور تشریف لائے لیکن گاندھی صاحب نے بھگت سنگھ کے اس عمل سے برات کا اظہار کر کے آنے سے انکار کر دیا۔ مصنّف نے اس عمل کو گاندھی کے روایتی برہمن تعصب کا نتیجہ ہی قرار دیا ہے۔ میرے خیال میں مصنّف کی یہ رائے صریحاً غلط ہے۔ گاندھی جی ہمیشہ سے ہی عدم تشدد کے حامی رہے اور عدم تشدد کو انہوں نے مزاحمت کی وہ شاندار پالیسی بنا دیا جس کا فکر و عمل اور نتیجہ نیلسن منڈیلا کی جنوبی افریقہ کی آزادی کی کامیاب تحریک اور امریکہ میں کالوں کے حقوق اور آزادی کی تحریک جو کہ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کی رہنمائی میں کامیابی سے سرخرو ہوئی کی شکل میں ہم ہندوستان سے باہر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا گاندھی جی کا نہ آنا ان کے ”فلسفہ عدم تشدد“ کی بنیاد پر تھا نہ کہ کسی برہمن تعصب کی بنیاد پر۔ مصنّف نے ایک اور کنفیوژن کا ذکر کیا ہے وہ ہے پورس کے اگلی نسل سے راجہ جسرت کے بارے میں کہ وہ گکھڑ تھا یا کہ کھوکھر تھا؟ جسرت کی حریت پسندی ایک ضرب المثل ہے۔

جسرت کی اولاد ہونے کے ناتے سینہ بہ سینہ یہی سنا ہے کہ وہ کھوکھر تھے۔ اب بھی دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ سے دس کلومیٹر دور ”جسرت“ نام کا موضع آباد ہے جس میں ساری کی ساری آبادی کھوکھر ہی ہے۔ دریائے چناب کے کنارے ہونے کی وجہ سے کئی دفعہ مکمل یا جزوی طور پر یہ موضع دریا برد اور پھر آباد ہوتا رہا۔ ملک لال خان ایس پی جو خود ایک محقق ذہن رکھتے ہیں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے میرے دادا کا گھر جسے پنجابی میں ”ہاتا“ اور اُردو میں احاطہ کہتے ہیں وہاں دیکھا ہوا ہے، گو مَیں نے دادا کے قریب گاؤں موضع حسین خان میں بستے دیکھا۔ جسرت کی آبادی اکثر دور دور پھیلتی رہی۔ جس میں موضع کیکری والہ، موضع حسین خان، موضع رشیدہ وغیرہ ہیں۔ لیکن یہ سارے کھوکھر ہیں۔ جسرت اور اس کے بالمقابل ہی دریائے چناب کے دوسرے کنارے پر موجود موضع ڈاور ہے۔ وہاں بھی ساری آبادی کھوکھروں کی ہے۔ میرے آبا و اجداد بھی اسی موضع سے جسرت کی طرف ہی آ کر آباد ہو گئے۔ یہ ثبوت اور بزرگوں اور میراثیوں سے سینہ بہ سینہ چلنے والی روایات جسرت کو کھوکھر ہی بتاتی ہیں گو کہ حریت پسند اور دھرتی کا محافظ کسی نسل خاندان یا مذہب سے ہے امر ہے، قابل فخر ہے۔ یاد رہے کہ میراثیوں کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ پیڑھیاں یعنی جینوگرام ازبر رکھیں اور یہ ان کی روزی روٹی ہے اور وہ اس فن میں طاق ہیں۔ لہذا جسرت کھوکھر ہی تھا۔ جس کی اولاد جہلم سے نیچے دریائے سندھ کے کناروں پر پھیلتی لاڑکانہ اور ٹنڈو اللہ یار تک آباد ہے۔

اس کتاب میں ذاتی طور پر میرے لئے ایک اور فخر ہے۔ وہ ہے ٹیپو سلطان کا میری دھرتی کے سپوت ہونے کا۔ میں مصنف کی تحقیق سے متفق ہوں۔ میرے دوست میاں مالک جو کہ محمد بہلول کے گاؤں کے ہی نمبردار ہیں، سپرا جاٹ ہیں۔ وہ اس بات کی خاندان میں چلنے والی سینہ بہ سینہ روایات کی بنیاد پر تصدیق کر رہے ہیں۔ البتہ ایک تصحیح ہے۔ محمد بہلول جو کہ خود ولی کامل تھے، ان کا اپنا گاؤں ٹبہ شاہ بہلول چنیوٹ پنڈی بھٹیاں روڈ پر ہے اور لالیاں میں موجود کوٹھا شاہ بہلول ہے، جو کہ ان کی چلہ گاہ تھی اور وہ وہاں اکثر مقیم رہے۔ ٹبہ دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر ہے اور کوٹھا شاہ بہلول مغربی کنارے سے تھوڑا ہٹ کر ہے اور موضع ونوکے میں نہیں بلکہ موضع بہاؤ الدین میں ہے۔ البتہ ونوکے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیر میسور اور حیدر علی نے بتیس سال تک تن تنہا انگریز کو روکے رکھا اور میسور کے گرنے کے بعد باقی سارا ہندوستان سوائے پنجاب کے انگریز کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرا تعلق اس ضلع اور ریجن سے ہے، جہاں کی دھرتی اور پانی نے شیران میسور کے ڈی این اے کو سیراب کیا۔

ایک اور امر جو کہ نسلی اعتبار سے کافی توجہ کا طالب ہے گو کہ معنوی اعتبار سے اس کی وہ اہمیت نہیں۔ وہ ہے مصنّف کھوکھر اور بھٹی قبائل کو جاٹ قرار دے رہے ہیں۔ ”جاٹ“ یا پنجابی ”جٹ“ گوت اور نسل کے علاوہ، ”کسان“ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک اور خاص رومانوی استعارے کے لئے استعمال ہوتا ہے وہ ہے وہ شخص جو سادہ دل، سیدھا، کرپشن سے پاک، زبان کا پکا، وعدہ کا پابند اور دھرتی سے تعلق مضبوط رکھتا ہو اور اس پر نازاں ہے۔ اگر تو مصنف نے ان معانی میں شیخا اور جسرت کھوکھر اور دلا بھٹی کو جٹ یا جاٹ قرار دیا ہے تو صحیح ورنہ اگر گوت کے حساب سے دیکھیں تو یہ قبائل راجپوت ہیں، جاٹ نہیں ہیں۔ لیکن یہاں مصنف کی بات میں ایک حد تک وزن بھی ہے کئی جگہوں پر ریونیو ریکارڈ میں کھوکھر اور بھٹی کو جٹ لکھا گیا ہے۔

تحریر بہت ہی لمبی ہو گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بڑے عرصے بعد تاریخ کے ایک موضوع پر ایسی کتاب ملی ہے جو کہ دل کو چھو گئی ہے۔ اب مصنف کے کچھ نتائج پر اختتام کرتا ہوں۔

1۔ ولائیتی مسلمانوں کا مقصد دھرتی کی حفاظت کبھی بھی نہیں رہا بلکہ اقتدار کے فوائد سمیٹنا تھا۔ جو کہ مغلوں کے بعد انگریزوں کے ساتھ بھی مل کر کیا جا سکتا تھا۔ اس لئے انہوں نے انگریزوں کی نمک خواری کی۔ بلکہ حیدر علی اور شیر میسور کی طاقت کے ڈھانچے میں شمولیت پر حسد کیا اور نظام آف حیدر آباد اور نظام آف کرناٹک نے وعدہ خلافی سے لے کر براہ راست جنگ تک ہر حربے سے شیران میسور کو ناکام کیا اور بعد میں پورے ہندوستان میں آزادی کے متوالوں کو ناکوں چنے چبوائے اور انگریز کی کاسہ لیسی کی اور آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

2۔ انگریز نے ہمیشہ ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی کو استعمال کیا۔ مسلمانوں کو سکھ ایمپائر کے خلاف کیا اور جھوٹی داستانیں گھڑیں۔ 1848 ء میں ملتان پر قبضہ کے لئے پٹھان بھرتی کیے اور عام مسلمانوں کو سکھ اور ہندوؤں کے خلاف بھڑکایا گیا۔ 1947 میں جاتے ہوئے بھی جان بوجھ کر فساد کروا گیا تا کہ یہ خطہ متحد نہ ہو سکے۔ یہ تقسیم کے ظلم صرف انگریز کی نا اہلی، بے رحمی اور سازشوں سے ہوئے۔ اس کی تفصیل ایچ ایم سیروائی کی ”پارٹیشن آف انڈیا، لیجنڈ اینڈ ریئلٹی“ جس کا ترجمہ جنگ پبلشرز نے تقسیم ہند: حقیقت و فسانہ کے نام سے شائع کیا ہے میں انڈیا آفس لندن اور باقی دفاتر کے سرکاری کاغذات کی بنیاد پر قلمبند کی گئی ہے۔ کم وقت والے اور کتابوں سے نالاں ماسٹر تاج الدین انصاری کی ”سرخ لکیر“ دیکھ سکتے ہیں۔ پنجاب کا بٹوارا مصنف ڈاکٹر اشتیاق احمد انتہائی تحقیقی کاوش ’غیر جذباتی اور حق سچ ہے۔ فکشن کا شوق رکھنے والے علی اکبر ناطق کی ”نولکھی کوٹھی“ سے استفادہ کریں تاکہ ان کو اندازہ ہو کہ جنگ عظیم دوم کے بعد پنجاب کی تقسیم چند خوفناک انسانی المیوں میں سے ایک تھا۔ کم از کم بیس لاکھ ہندو، مسلمان اور سکھ اپنے ہی خونی بھائیوں (برادرز اِن بلڈ اینڈ ڈی این اے ) جن کا صرف مذہب مختلف تھا کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ تقسیم ہند اور وسائل و آبادی کی دو آزاد ریاستوں میں تقسیم اتنا بڑا کام (پراجیکٹ) تھا کہ ابتدا میں دی گئی تاریخ یعنی جون 1948 بھی کم تھی لیکن پھر ماؤنٹ بیٹن کی ہٹ دھرمی کی بنا پر اچانک پندرہ اگست 1947 کر دیا گیا۔ یعنی اتنے بڑے پراجیکٹ کے لیے صرف چھ ہفتے۔ تاریخ دانوں کو اس پر بھی ریسرچ کرنی چاہیے کہ اتنے نازک موقع پر یعنی فروری 1947 میں لارڈ ویول جیسے انسان دوست، قدآور لیڈر جو ثابت شدہ مردِ بحران ( مین آف کرائسس) تھا اسے ماؤنٹ بیٹن جیسے نرگسی، کوتاہ اندیش سے تبدیل کرنا برصغیر پاک و ہند کے خلاف کوئی سازش تھا یا روایتی برطانوی تساہل۔ ماؤنٹ بیٹن کے زیرانتظام انڈین خون کی وہ ندیاں بہیں کہ مسلم تاریخ میں اس کا متبادل حجاج بن یوسف تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو کام حجاج نے بذریعہ عمل کیا وہ ماؤنٹ بیٹن نے بذریعہ بے عملی کیا۔ بہت سے لوگ کہیں گے کہ منگولوں وغیرہ کے ہاتھوں کہیں زیادہ مظالم ہوئے تو میں عرض کروں گا وہ بیرونی حملہ آور تھے یہاں اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کے خون بہنے کی بات ہو رہی ہے۔ ایڈمنسٹریشن سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ مسئلے کو ابھارنا ہو تو اور آدمی لگایا جاتا ہے، حل کرنا ہو تو اور۔ ابھارنا اور حل کرنا ہو تو اور۔ بہرحال مجھے ماؤنٹ بیٹن کا لگنا، تاریخ کو ایک سال پہلے کر دینا، قتل و غارت گری، برطانیہ کی سوچی سمجھی پالیسی لگتی ہے تا کہ یہ خطہ اگلے ایک سو سال تقسیم کے زخموں کی بنیاد پر آپس میں ہی دست و گریباں رہے۔ یہ کلونیلزم سے نیو کلونیلزم کی ٹرانزیشن کے پالیسی فیصلے کا ایک حصہ تھا۔

3 انگریز نے اپنے و لائیتی مسلمان کاسہ لیس درباریوں سے کام لیا۔ اکثریت دیسی سپاہی تھے۔ ملتان کی جنگ میں صرف افسر انگریز تھے، سارے سپاہی دیسی تھے۔

4۔ بدقسمتی سے افغانستان جو کہ پاکستان کا ہمیشہ سے ہی دشمن رہا ہے اسے دوست سمجھا گیا ہے حتیٰ کہ پاکستان کی معیشت کو افغانستان کے لئے برباد کرنے دیا گیا۔ ڈرگز اور اسلحہ کی اسمگلنگ کی لعنت اس کے علاوہ پاکستان کے گلے میں پڑی۔ بین الاقوامی برادری میں بدنامی الگ سے ہوئی ہے۔ ہمارے طاقتور حلقے اسٹیبلشمنٹ افغانستان اور افغانیوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ناممکن! اور ناممکن کو ممکن بنانے کی جدوجہد ہمیشہ فرسٹریشن اور ذلت لاتی ہے۔ نتیجتاً پاکستان افغانستان کے ہاتھوں خود کنٹرول ہو گیا ہے۔ ڈالر، کھاد، آٹا کی سمگلنگ، تیل، ٹرانسپورٹ، یہاں تک کہ عام لیبر مارکیٹ، اغوا برائے تاوان اور بہت کچھ کیا ”کنٹرول کی کوشش میں خود کنٹرول ہو جانے“ کا ثبوت نہیں؟ اب پہلی دفعہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی لعنت (I) / 2023 SRO 1395,1396,1397 vide بند کر کے غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو باہر نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر یہ احسن اقدام کامیاب ہو۔ جاتے ہیں تو پاکستان کی معیشت سنبھلنے کے امکانات روشن ہیں۔

5۔ چونکہ اسلام ولایتی مسلمان یہاں لے کر آئے تو دیسی مسلمان اپنے آپ کو یا کسی کی مسلمانی پرکھنے کی کسوٹی وہ اصول مانتے ہیں جو ولائیتی مسلمان طے کرتے ہیں۔ ایک طرف تو دیسی مسلمانوں کو ان کے ہیروز سے محروم کر دیا گیا، ان کو مفتوح اور ذلیل قرار دیا گیا۔ ”ذلت کے ماحول میں غیرت کے متلاشی نہیں پیدا ہوتے اور دوسری طرف سے اپنے آبا و اجداد کے دفاع کی ہر کوشش کو مسلمان کے مقابل کافر ہندو، سکھ، بدھ کی حمایت گردانا گیا ہے۔“ نتیجتاً دیسی مسلمان سر جھکا کر ذلت محسوس کرتے ہیں یا جھوٹ موٹ کے شجرہ نسب بنا کر حملہ آوروں سے اپنا نسلی تعلق جوڑتے ہیں۔ اپنے آبا و اجداد کی عزت اور محبت ہونی چاہیے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہوں۔ کیوں کہ آپ ”وہ“ ہیں۔ آپ کا ڈی این اے ان ہی سے آیا ہے۔

6۔ آپ مسلمان رہ کر بھی اپنے آبا و اجداد اور مٹی سے محبت کر سکتے ہیں۔ آپ کی دھرتی کے بیٹے ہونے کا فخر آپ کو آپ کے ایمان سے محروم نہیں کرتا ہرگز نہیں! ”پنجاب آج پژمردہ اور مضحمل نظر آتا ہے کیونکہ اُسے اس کے آبا و اجداد کے ورثے سے محروم کر دیا گیا ہے یہ سازش ہے کہ آبا و اجداد پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ دفاع کی کوشش پر انگلی کھڑی کر کے اسے ہندو، سکھ، بدھ آباء کے ساتھ کھڑا کر کے اس کے ایمان پر انگلی کھڑی کردی جاتی ہے۔“ تو پنجاب کے جوانوں کو خم ٹھونک کر بغیر معذرت کیے اپنے ایرانی بھائیوں اور ڈاہر قبیلے کی طرح آباء پر فخر اور دفاع کرنا چاہیے تاکہ پاکستان ایک موثر شناخت والی قوم بن سکے ہماری شناخت کے المیہ کا جو بائیولاجیکل حصہ ہے اس کا صرف یہی حل ہے۔

یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن میرا اعتبار کیجئے مانگے کی شناخت آپ کو اور تباہ کرے گی۔ ایگنس ریپلائر نے کیا خوب کہا ہے۔

”It is not easy to find happiness in ourselves and it is not possible to find it elsewhere“

7۔ غزوہ ہند ایک ضعیف حدیث ہے اس کے راویوں کی لڑی میں سے ایک پر اسماء الرجال کے مصنف نے کہا ہے کہ وہ 100 ضعیف احادیث کے بعد ایک صحیح حدیث بیان کرتا ہے۔ غامدی نے اس پر تحقیق کر کے اس کو ضعیف ثابت کیا ہے۔ بنوریہ ٹاؤن نے اِسے اسلام کے پھیلاؤ کے لئے جدوجہد کے معانی دیے ہیں نہ کہ قتال کے۔ مَیں مصنّف کی اس رائے سے متفق ہوں کہ غزوہ ہند کی آڑ میں افغانی یا ان کے پاکستانی ہمدرد پاکستان کے وسائل پر ہی قبضہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ خود وہ ہندوستان کی حکومت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے رہتے ہیں۔ ایبک اور کتنے ہی مسلم حملہ آوروں کے ہند پر حملہ کرنے کے بعد غزوہ ہند کی پشین گوئی کب کی پوری ہو چکی۔ بھئی اب مزید گنجائش رہتی ہے؟ اب آ گے کا سوچ کر معاشی ترقی کریں۔

اب میرا آخری تبصرہ تین نکات کی شکل میں جو کہ تین نفسیاتی عوارض جو کہ اتنی لمبی جدوجہد کی وجہ سے پنجابیوں میں در آئے ہیں ان کا علاج ہے۔

1۔ پنجاب کے باسیوں نے معلوم تاریخ کے ڈھائی ہزار سالوں میں غیر ملکی حکمرانوں کو سخت مزاحمت دی ہے، جس سے ان کا مزاج ”مزاحمتی مزاج“ ہو گیا ہے۔ غیر ملکی حکمرانوں کے وسائل پر چھاپہ مار کارروائیوں کی بدولت سرکاری وسائل کو نقصان پہنچانا ایک عادت ثانیہ بن چکا ہے۔ جس کی عام مثال پکی سڑک پر گھسٹتے ہوئے ہل، سہاگہ وغیرہ ہیں۔ پبلک عمارات کی دیواروں پر لگی ہوئی پاتھیاں ہیں۔ اب ہماری اپنی حکومت، اپنا پنجاب، اور اپنا پاکستان ہے لہٰذا سرکاری املاک کی حفاظت اور احترام کو اپنا مشن بنائیں۔ جلسے جلوسوں پر پوری طرح احتیاط کریں۔ درخت، بلڈنگز، پل غرض ہر چیز کی حفاظت کریں۔

2۔ میرا یقین کیجئے! ہم کسی دوسرے کے آبا و اجداد یا اپنے آبا و اجداد کو برا بھلا کہے بغیر بڑے پیار سے سچائی بیان کر سکتے ہیں۔ اپنی ذات، اپنے خون اور اپنے ڈی این اے پراعتماد سے بڑی کوئی طاقت آپ کے پاس نہیں ہے۔ جب آپ اپنے ماضی کے ساتھ صلح کر لیں گے، تو آپ کی اپنے ”حال“ کے ساتھ صلح ہو جائے گی۔ جب آپ اپنے ”اندر“ سے صلح کر لیں گے تو آپ کی اپنے ”باہر“ سے صلح ہو جائے گی۔ اور یہ بیک وقت بہت بڑا اور بہت آسان اور بہت مشکل کام بھی ہے۔ بس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے پرکھوں کو مذہب کی بنیاد پر ذلیل سمجھنے کے بجائے ان کی دلیری، شجاعت، انسانیت کے لئے خدمات کی بدولت ان پر فخر کرنا ہے۔ مانا کہ ہم سارے ولائیتی مسلمانوں کے بقول ”نومسلم“ ہیں لیکن ہمیں ایسا احساس کمتری نہیں ہونا چاہیے کہ ہم نے دوسروں سے زیادہ اپنے آپ کو مسلمان ”ثابت“ کرنا ہے، الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور اتنا ہی کافی ہے، مصر کے شاہ فاروق نے بہت پیاری بات کی تھی کہ ”کلمہ تو ہم نے بھی پڑھا ہے لیکن پاکستانی تو پاگل ہی ہو گئے ہیں“ اپنی انڈس ویلی تہذیب پر فخرکریں۔ اگر ہم یہ کرلیتے ہیں تو میلوڈی بیٹی کے بقول اس قابل ہوجائیں گے۔ ”To move from the chaotic close of the past age and enter the age of Aquarius“

مجھے فخر ہے پورس، اور حسبرت کے بیٹے ہونے پر اور ٹیپو سلطان کی دھرتی، دلے بھٹی، احمد خان کھرل، بھگت سنگھ، لالہ لاجپت رائے، چڑھت سنگھ، رنجیت سنگھ، گنگا رام اور مراد فتیانہ کی دھرتی کے بیٹے ہونے پر۔ ”

3۔ غیر ملکی حملہ آوروں بالخصوص غزنوی، نادر شاہ اور ابدالی کی لوٹ مار کی بدولت ہماری نفسیات؛

کھادا پیتا لاہے دا
باقی احمد شاہے دا

بن چکی ہے یعنی کہ جو کھا لیا، پی لیا، پہن لیا وہی بچے گا۔ باقی تو احمد شاہ ابدالی جیسے لٹیرے آئیں گے اور لوٹ کر لے جائیں گے۔

میری عرض ہے کہ اب ہماری مضبوط ریاست ہے۔ بین الاقوامی حالات کے ساتھ نفسیات بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ اب ملکوں پر قبضہ اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ لٹیروں کے آگے رنجیت سنگھ نے جو بند باندھا تھا اور سرحد قائم کی تھی اس کو انگریز نے بھی ڈیورنڈ لائن کی شکل میں مضبوط کیا اور اب ہماری اپنی حکومت اور فوج بھی اس پر قائم اور خاردار تار لگا کر اسے مضبوط کرچکی ہے لہٰذا اب لٹیروں کا کوئی ڈر نہیں ہے لہٰذا شادی بیاہ میں بالخصوص اور عام زندگی میں بالعموم فضول خرچی، خوراک کا ضیاع اور عام زندگی میں دکھاوا نہ کریں اور سادگی اپنا کر بچت کریں اور اگلی نسلوں کی تعمیر پر یہی پیسہ لگائیں۔

مَیں اس جائزے کو جارج آرویل کے مشہور ناول ”1984“ کے الفاظ پر ختم کروں گا۔ ”ماضی کو مِٹا دیا گیا تھا۔ مِٹانا بھلا دیا گیا تھا۔ تو جھوٹ سچ بن گیا“ امجد نواز وڑائچ کا شکریہ کہ انہوں نے جھوٹ کی تہہ در تہہ کو تہہ و بالا کر کے اصل سچ کو بحال کیا۔ بقول شاعر

یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں
کہ شبنم کے لئے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے
نشورؔ اہل زمانہ بات پوچھو تو لرزتے ہیں
وہ شاعر ہیں جو حق کہنے سے کترایا نہیں کرتے

Facebook Comments HS

محمد قاسم کھوکھر

محمد قاسم کھوکھر نے انجینئرنگ میں ایم فل کیا ہے اور تاریخ خصوصاً قدیم تاریخ، عمرانیات، بشریات، فلسفہ، معاشیات اور انتظامی سائنس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ توانائی، تجارت اور تاریخ پر مختلف روزناموں میں کالم لکھ چکے ہیں۔ امجد نواز وڑائچ کی کتاب ”پنجاب کٹہرے میں“ کے ان کے جائزے کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ روزنامہ سماء میں بھی یہ قسط وارشائع ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل خصوصاً جذباتی ذہانت، انٹیگریٹی مینجمنٹ اور ڈپریشن پر بات کرتے رہتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر ان کی کتاب ”دی ڈیوائن پرنٹس“ فی الحال زیرِ اشاعت ہے۔

muhammad-qasim-khokhar has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-qasim-khokhar