اچھے دوست زندگی میں جنت سے کم نہیں


دور حاضر ہو یا گزرے ہوئے پل۔ انسانوں سے یہ دنیا بھری ہوئی تھی اور بھری پڑی ہے۔ کیا سمجھا جائے سچائی دم توڑ چکی ہے۔ سچے دوست اور ساتھی نہیں ملتے۔ سیانے بات کرتے ہیں میاں ڈھونڈنے سے تو خدا مل جاتا ہے۔ جو فاصلے کی صورت میں اربوں میل دور مگر انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہے تو پھر اس کی مخلوق جو ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں میں موجود ہے۔ تو اس میں ہمیں کوئی بھی سچا اور مخلص دوست نہیں مل سکتا ہے۔ چلیں پھر بتاتا ہوں کہ سچا دوست کیسا ہوتا ہے۔ سچا اور مخلص دوست اپنی ذات سے بڑھ کر آپ کو اہمیت دیتا ہے۔ وہ اپنی ضروریات زندگی کو پس پردہ ڈالنے میں دیر نہیں کرتا اور اس کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح میں اپنے دوست کی خدمت کر سکوں۔ اسی لیے مجھے آج میرے اس عظیم الشان مخلص دوست اور جو بھائی ہے اس کی ذات پر لکھنا میرے لیے باعث فخر ہے۔

میں لمبے لمبے عرصے تک گھر نہیں جاتا مگر جب جاتا ہو تو اکثر رات گئے گھر پہنچتا ہوں۔ میرے ایک عزیز کی شادی تھی مجھے اپنے گاؤں جانا تھا۔ میں نے دو دن پہلے چھٹی کی درخواست دی اس پر عمل ہوا مجھے بدھ کی شام چھے بجے چھٹی مل گئی میں اس وقت بچو کو پڑھانے میں مصروف تھا خیر کلاس میں جو جو کام مکمل کروانا تھا وہ پورا کروانے کے بعد وہاں سے نکلا اور اڈے کی طرف چل دیا جب وہاں پہنچتا ہو تو کسی بھی اے سی ٹرمینل سے گاڑی نہیں ملی میں ہوں تو لوئر مڈل کلاس مگر سفر کے لحاظ سے میرا اعتماد فیصل موور یا ڈیوو بس سروس پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی گاڑی میسر نہ ہو تو پھر جو مل جائے اس میں ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔ جب میں جنرل بس اسٹینڈ پر گیا تو صادق آباد والی بس فیصل آباد کے لیے تیار کھڑی تھی میں نے غنیمت جانتے ہوئے اسی کو اپنے سفر کا ساتھی بنانے میں دیر نہ کی۔ بس چھ بج کر تیس منٹ پر چلی اور تقریباً نو بج کر چھبیس منٹ خانیوال پہنچ گی۔ جب میں شام کو نکل رہا تھا تو میرے بہت ہی عزیز بھائی ارشد چوھدری صاحب کو میں نے بتایا تھا کہ میں دس بجے میاں چنوں آپ کے پاس پہنچ جاؤں گا۔ اسی وجہ سے انہوں نے میرا انتظار کرنا شروع کر دیا۔ جب میں خانیوال پہنچا تو وہاں کسی بھی روٹ کی گاڑی نہیں مل رہی تھی۔ میں انتظار کرتے کرتے تھک گیا۔ اللہ اللہ کر کے ایک گاڑی ملی اس کی منت سماجت کی مگر ماننے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ کسی نہ کسی طرح مان گیا اور میں اللہ اللہ کر کے میاں چنوں میں کوئی ایک بجے کے لگ بھگ پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ یہاں ارشد بھائی انتظار پے انتظار کیے جا رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ارشد بھائی بھی میاں چنوں سے تھوڑا دور رہتے ہیں۔ دن کے وقت بندہ محفوظ نہیں تو رات کی تاریکی میں کوئی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ جیسے ہی ارشد بھائی کے گھر پہنچا مجھے ملے تو کہنے لگے کہ حالات پہلے بہت خراب ہیں اور آپ کا علاقہ بھی اتنا خطرناک ہے جہاں دن دیہاڑے لوگوں کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ آپ ایسا کریں میرے پاس رک جائیں اور صبح میری بائک لے کر چلے جانا۔ میں نے بتایا ارشد بھائی ابھی گاؤں نہیں جانا بلکہ جنڈیالی بنگلہ جانا ہے وہاں امی جان کو میرا ابھی ملنا لازمی ہے۔ کیوں کہ آج تک میری اس سروس میں امی جان کو ملنے سے پہلے میں کبھی گھر نہیں گیا۔ ہمارا گھر تو سب بھائیوں کا ایک ہی ہے مگر میں پہلے پوچھ لیتا ہوں کہ امی جان کہاں پر ہوں گی۔ خیر ارشد بھائی نے بتایا کہ یہ والا علاقہ تو آپ کے علاقہ سے بھی خطرناک ہے۔ میں نے عرض کی کہ بھائی آپ دعا فرمائیں اور مجھے رخصت کریں۔ میں اپنے دوست کی اس قربانی اور ایثار پر کن لفظوں سے اس کی تعریف کروں۔ اور بلا مقصد کسی مفاد کے بغیر ایک عرصے سے ارشد بھائی مجھ پر احسانات کرتے آ رہیں ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنی قیمتی بائیک متعدد بار دی اور کتنی مرتبہ مجھے پیسے وغیرہ کے ساتھ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں اور آج تک ایسے ہی یہ رشتہ چل رہا ہے۔ ارشد بھائی انتہائی مخلص ایمانداری کے پیکر ہیں مجھے اتنے سال ہو گئے اللہ کریم نے ان کو وہ سب کچھ دے رکھا ہے جو میرے پاس نہیں مگر ان کی ذات میں ذرا بھی غرور نظر نہیں آتا۔

دیکھا جائے تو میں اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھتا نہ میرے پاس پیسہ نا جائیداد سوچتا ہوں اس دور جدید میں اپنے بھائی میرا حال تک نہیں پوچھتے۔ حالانکہ ناراضگی کسی سے بھی نہیں مگر سب اپنے گھروں میں مصروف ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں نیک دوست اللہ کی طرف سے آپ کے لیے رحمت ہوتے ہیں۔ اللہ کریم کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جیسے دوست مالک کی ذات نے مجھے عطاء کیے ہیں۔ مالک سب کو ایسے یار عطاء فرمائیں۔ انشاءاللہ میں اپنی آنے والے تحریروں میں اپنے باقی دوستوں کی خوبیوں سے آگاہ کروں گا تاکہ باقی لوگوں کو یہ پتا چل سکے جن کے پاس دولت جاگیر نہیں ہوتی ان کے دوست ہوتے ہیں۔ بس انسان کی اپنی ذات میں انسانیت ہونی چاہیے مالک نیت کو دیکھ کر کچھ انعام آپ کو بھی عطاء فرمائیں گے۔ بس زندگی گزارنے کے طور طریقوں کا خیال رکھیں اور چلتے رہیں ایک منزل کی تلاش کرتے رہیں آخر مل ہی جائے گی۔ آپ لوگوں نے اپنے ان گنے چنے دوستوں کے لیے ہر حد سے گزرنے میں دیر نہیں کرنی جو اس قدر ملنسار اور جان دینے والے ہیں۔

Facebook Comments HS