کہانی کے اختتام پر ادبی جھڑپ


سال تھا 1913، جب جارج برنارڈ شاہ کا مشہور ڈرامہ Pygmalion پہلی بار تھیٹر پر پیش کیا گیا۔ یہ کہانی پروفیسر ہنری ہیگنز کی ہے، جو ایک ماہر لسانیات ہیں اور ایک عام پھول بیچنے والی لڑکی، الیزا ڈولیٹل، کو اعلیٰ طبقے کی خاتون بنانے کا چیلنج قبول کرتے ہیں۔ ڈرامے میں زبان، طبقاتی تفریق، اور انسانی عزتِ نفس جیسے گہرے موضوعات کو نہایت ہنر مندی سے پیش کیا گیا۔ شاہ نے اختتام میں دکھایا کہ الیزا اپنی آزادی کا اعلان کرتی ہے اور پروفیسر ہیگنز کو چھوڑ کر فریڈی کے ساتھ اپنی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ لیکن ناظرین کا ایک بڑا طبقہ، جو عام طور پر روایتی ”ہیرو اور ہیروئن کی شادی“ کے اختتام کا عادی تھا، اس انجام سے مطمئن نہیں تھا۔

تھیٹر میں ڈرامہ دیکھنے والوں نے مطالبہ کیا کہ اگلے سیکوئل میں الیزا اور پروفیسر ہیگنز کو شادی شدہ جوڑے کے طور پر دکھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہانی کے اندر موجود کیمسٹری اور الیزا کی ہیگنز کے لیے نرم گوشہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔ شاہ کو عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ اپنی تخلیقی آزادی پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھے۔ یہ دباؤ تھیٹر انتظامیہ تک پہنچا۔ جب ڈرامہ لندن میں پیش کیا گیا تو پروڈیوسر نے اختتام بدلنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اگلے سیکوئل میں الیزا اور پروفیسر ہیگنز کو شادی شدہ جوڑے کے طور پر پیش کیا، یہ سوچ کر کہ اس سے ڈرامہ زیادہ مقبول ہو گا اور زیادہ منافع کمایا جا سکتا ہے۔ اس ڈرامے کا امریکہ میں، پروڈیوسرز اور ہدایت کاروں نے اختتام بدل دیا تاکہ ناظرین کی توقعات کے مطابق اسے زیادہ خوش کن بنایا جا سکے۔ 1914 کے فلمی ورژن میں الیزا اور ہیگنز کے درمیان رومانوی تعلق کی تجویز دی گئی۔

جب یہ خبر شاہ تک پہنچی تو وہ سخت ناراض ہوئے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا:

”الیزا کا ہیگنز سے شادی کرنا ایک ایسی توہین ہے جو میری کہانی کے تصور کو مکمل طور پر بگاڑ دیتی ہے۔ ہیگنز ایک خودغرض اور غیر متوازن شخص ہے، جو کسی بھی طرح شوہر بننے کے قابل نہیں۔ الیزا نے اپنی خودمختاری پانے کے لیے جدوجہد کی، اور اس کا ہیگنز سے رشتہ ایک استاد اور شاگرد کا ہے، نہ کہ ایک محبت کرنے والے جوڑے کا۔“

شاہ نے یہ بھی کہا کہ الیزا اور فریڈی کی شادی اس کے کردار کی ترقی اور آزادی کی علامت ہے۔
جارج برنارڈ شاہ نے اپنی دلیل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کہا

”میری کہانی کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے قابل ہو، نہ کہ معاشرتی روایات کے جال میں پھنس جائے۔ اگر الیزا نے ہیگنز سے شادی کی ہوتی، تو وہ اپنی جدوجہد کا مقصد کھو دیتی۔“

شاہ نے اپنے ایک خط میں لکھا،

”شادی کو ہر کہانی کا منطقی اختتام سمجھنا ایک روایتی سوچ ہے، جسے میں قبول نہیں کرتا۔ الیزا کا مقصد اپنی آزادی حاصل کرنا تھا، نہ کہ ہیگنز کے ماتحت زندگی گزارنا۔“

شاہ نے 1938 تک ہیگنز اور الیزا کے خوشگوار انجام کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے 1938 کی فلم کے پروڈیوسر گیبریل پاسکل کو ایک ایسا اختتام تجویز کیا جو انہیں مناسب لگا۔ اس میں ایک جذباتی الوداعی منظر تھا جہاں ہیگنز اور الیزا ایک دوسرے کو الوداع کہتے ہیں، اور اس کے بعد ایک منظر دکھایا گیا جس میں فریڈی اور الیزا اپنی سبزی اور پھولوں کی دکان پر خوش نظر آتے ہیں۔

شاہ کا موقف بالآخر غالب آیا، اور ان کے مداحوں نے ان کی تخلیقی آزادی کا احترام کیا۔ Pygmalion ایک شاہکار کے طور پر جانا گیا، جس نے صرف ایک رومانی کہانی ہونے کی بجائے سماجی طبقاتی فرق پر تنقید کی۔ آج بھی یونیورسٹی میں پڑھایا جانے والا ورژن وہی ہے جو شاہ نے ابتدائی دور میں لکھا۔ ادب محض عوام کو خوش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ انہیں سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔

جوزف وائزن بام نے اپنے مشہور چیٹ بوٹ کمپیوٹر پروگرام کو ELIZA کا نام دیا، جو جارج برنارڈ شا کے ڈرامے Pygmalion کی کردار الیزا ڈولیٹل سے متاثر تھا۔ وائزن بام نے 1960 کی دہائی میں ELIZA کو تخلیق کیا تھا، اور یہ پروگرام قدرتی زبان کی پروسیسنگ کے ذریعے انسانوں کے ساتھ بات چیت کرتا تھا۔ الیزا نام رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ پروگرام کسی بھی دیے گئے سیاق و سباق کے مطابق خود کو ڈھال سکتا تھا، جیسے کہ ڈرامے میں الیزا ڈولیٹل اپنی زبان اور رویے کو تبدیل کر کے ایک اعلیٰ طبقے کی خاتون بننے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ نام علامتی طور پر اس تبدیلی اور موافقت کی عکاسی کرتا ہے۔

Facebook Comments HS