مصنوعی ذہانت کا انسانوں پر غلبہ قریب تر


 

سائنسدانوں کے لئے شاید یہ عجیب بات نا ہو کہ جب وہ اپنی ایجاد سے دنیا کو خبردار کریں کہ ان کی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی سے دنیا تباہی کے دہانے پر پہنچ رہی ہے۔

جیسے ایٹم بم کے موجد اوپن ہائیمر ایٹم بم بنانے کے بعد اس کے کنٹرول بلکہ ایٹم بم سے چھٹکارے کی کوششیں کرتے پائے گئے، ٹیلی ویژن کے موجد لوگوں کو ٹی وی سیٹ پر وقت ضائع کرتے ہوئے دیکھ کر شرمندہ رہے، میخائیل کلاشنکوف، کلاشنکوف کے وسیع ترین استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں سے رنجیدہ رہے، ماحولیاتی سائنسدان 1980 سے ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی طاقتوں کو ماحولیاتی بحران کی تباہ کاریوں سے خبردار کرتے رہے لیکن فضاء میں زہریلی گیسز کا اخراج بھی نا روکا جا سکا، اب جبکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس/مصنوعی ذہانت کے سائنسدان جیسے اوپن اے آئی کے سیم آلٹ مین، گوگل کے جیفری ہنِٹن، ٹیسلا کے ایلون مسک اور سینکڑوں سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ انسانوں کے بنائے گئے کمپیوٹر پروگرامز اگلے کچھ سالوں میں انسانوں پر اپنا حکم کامیابی سے چلانے کے قابل ہو جائیں گے جو پوری دنیا کے لئے یکساں چیلنج ہے۔

مصنوعی ذہانت کیا ہے

مصنوعی ذہانت ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو کمپیوٹرز اور مشینوں کو کسی بھی کام کو سرانجام دینے، کوئی مسئلہ سمجھنے، تخلیق کاری کرنے، فیصلہ سازی کرنے، خودمختاری سے کام کرنے کو ممکن بناتی ہے۔

انسانی ذہانت کیا ہے

انسانی ذہانت دراصل انسانی جینیات، پرورش، ماحول وغیرہ کے امتزاج کا نام ہے، انسان کا ذہنی معیار تجربات سے سیکھنا، یاداشت رکھنا، سوچنا و دلائل رکھنا، تصؤرات و تجریدی سوچ کا سمجھنا، حالات سے سیکھنا، مسئلہ کا حل نکالنا / اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرنا وغیرہ کو عمومی انسانی ذہانت کہا جاتا ہے۔

انسانی دماغ کیسے کام کرتا ہے

انسانی دماغ میں تقریباً 86 ارب خلیے /سیل یا نیوران ہوتے ہیں جو پیچیدہ مگر باہم جڑے ہوئے نیٹ ورک بناتے ہیں نیوران انسانی جسم میں معلومات لے جانے کے ذمہ دار ہیں۔ برقی اور کیمیائی سگنلز کا استعمال کرتے ہوئے، وہ زندگی کے تمام ضروری افعال کو مربوط کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کیسے کام کرتی ہے

مصنوعی ذہانت کے مختلف طریقوں میں سے ایک طریقہ نِیورل نیٹ ورک کہلاتا ہے اس طریقے میں کمپیوٹر ایک عام انسانی دماغ کی طرح معلومات پر عمل کرنا سیکھتا ہے نیورل نیٹ ورک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نوڈز (نیوران) یا مصنوعی نیوران کے پیچیدہ نیٹ ورکس ہوتے ہیں جس سے کمپیوٹر خود اپنی غلطیوں سے سیکھتا اور اپنی کارکردگی بہتر بناتا ہے۔

کیا مصنوعی ذہانت انسانوں پر حکمرانی کرے گی

مصنوعی ذہانت کے بانی اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان جیفری ہنِٹن نے کہا ہے کہ میرے خیال میں ہم ایک ایسے دور میں جا رہے ہیں جب پہلی بار ہمارے پاس موجود چیزیں /مشینیں ہم سے زیادہ ذہین ہوں گی۔

جیفری نے مزید کہا کہ ہاں مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح معمولات سے سیکھتی، فیصلے کرتی ہے اور اپنے آپ کو بہتر بناتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ محض (مصنوعی ذہانت ) ایک کمپیوٹر پروگرام ہے۔

جیفری ہنِٹن نے انکشاف کیا کہ ہم نے تو صرف انسانی دماغ کی طرز پر (مشینیوں کا سافٹ وئیر) سیکھنے کا الگورتھم ڈیزائن کیا تھا لیکن ڈیٹا/مواد کے ساتھ مل کر اس مصنوعی ذہانت نے خود ہی پیچیدہ (نیوران) نیورل نیٹ ورک بنائے جو بہت کا رآمد ثابت ہوئے۔

جیفری ہِنٹن نے کہا لیکن یہی سب سے زیادہ تشویش ناک بات ہے کہ کس طرح ایک پروگرام/سافٹ وئیر ڈیٹا کے ساتھ مل کر خود فیصلے لینا شروع کر دے، اپنے پروگرام کوڈز خود لکھنا شروع کر دے، خود ہی نئے نیورل نیٹورک بنانا شروع کر دے یعنی انسانی احکامات ماننے سے ہی انکار دے، جس کا سامنا دنیا کو بالآخر کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS