دسمبر وہ نہیں آیا۔
دسمبر کبھی خوبصورت ہوا کرتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم خوبصورت تھے۔ جاڑا تب اچھا لگتا تھا جب ہمیں گرم کپڑے پہننے کا شوق تھا۔ تب برفباری دیکھنے دور راز نکل جایا کرتے تھے۔ سفر جتنا مرضی کٹھن ہوتا راستے خوبصورت لگتے تھے۔ ان دنوں خزاں کا موسم اور پیلے پتے سب رنگوں کو مات کرتے دکھائی دیتے۔ ہم پہاڑوں پر پیلے اور زردی مائل پتے گھنٹوں دیکھتے رہتے۔
یہ زرد پتے ہماری وقتی پریشانیاں اور دکھ درد دور کرنے میں معاون ہوا کرتے۔ ہم سوچتے یہ پتے کبھی سرسبز تھے جو مرجھاتے، رنگ بدلتے پیلے ہو کر سائیں سائیں کرتی ٹھنڈی یخ بستہ ہواؤں کے رحم وکرم پر اڑتے چلے جا رہے ہیں کوئی راستے میں پڑا ہے تو کوئی ڈھلوان پر۔ پھر برف گرے گی اور یہ برف اور بارش کے ساتھ گڈ مڈ ہو کر مٹی میں ملتے چلے جائیں گے۔ برف پگھلے گی مگر یہ جانبر نہ ہو سکیں گے۔ درختوں پر نئے پتے آ جائیں گے مگر یہ دوبارہ سانس نہ لے سکیں گے۔
پتر پیلے ہو کے اڈدے مٹّی تے
پھل بہاراں پٙے نیں رلدے مٹّی تے
مٹی دی اے کھیڈ ساری حسن دی
مٹّی جانڑا، مٹّی پا دے، مٹّی تے
پیارے دوستو! یہ دسمبر کے آخری دنوں کی بات ہے۔ سال کون سا تھا مجھے یاد نہیں۔ تب میری چھوٹی بیٹی کرن پانچ سال کی تھی۔ ہم بمعہ فیملی مری آئے ہوئے تھے۔ برف باری اچھی خاصی ہو گئی تھی۔ دور تک پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی تھی۔ کافی سالوں کے بعد ہمیں مری میں لائیو برف باری کے نظارے دیکھنے کو ملے۔ ورنہ ہوتا یہ تھا کہ موسم دیکھ کر ہم لاہور سے مری کا رخت سفر باندھتے، خوشی خوشی مری پہنچتے تو برف گرنی بند ہو جاتی، پھر کئی دن ٹھنڈ برداشت کرتے مگر برف نہ گرتی۔
بہت سال پہلے کی بات ہے شاید بیس سال پہلے اسی طرح کا موسم دیکھنے مری آئے تھے۔ دوپہر کے وقت ہم پتریاٹہ پہنچے تھے۔ چیئر لفٹ پر لمبی لائن تھی۔ کوئی ساڑھے تین بجے ہماری باری آئی۔ جب دوسرے سٹاپ سے ہم کیبل کار میں بیٹھے۔ درمیان میں پہنچے تو کیبل کار رک گئی۔ بجلی چلی گئی تھی شاید۔ ہم نے کم از کم یہی سوچا تھا۔ آدھا گھنٹہ گزر گیا تو ہمیں یقین ہو گیا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔
اسی دوران تیز ہوا چل پڑی۔ کیبل کار یوں جھول رہی تھی جیسے ہوائی جہاز کسی ائر پاکٹ میں آ گیا ہو۔ ہوا کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور سورج ڈھلتا جا رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اندھیرے اور خوف کے سائے مسلط ہوتے جا رہے تھے۔ برف کے پہاڑ سفید جن بھوت لگ رہے تھے۔ بچے بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔ سردی سے چھوٹی کرن کانپ رہی تھی اور اونچا اونچا رو رہی تھی۔ میں نے اپنی جیکٹ بھی اتار کر اس کو لپیٹ دی تھی مگر اس کی تکلیف ٹھیک نہیں ہوئی۔
رات نو بجے کیبل کار چلی تو جان میں جان آئے۔ ٹاپ پر اترتے ہی واپسی کی لائن میں لگ گئے۔ مگر موسم کی خرابی اور تیز ہوا کے باعث انتظامیہ نے کیبل چلانے سے انکار کر دیا۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ گاڑی نیچے بیس پر کھڑی تھی۔ پیدل راستے کا بھی علم نہ تھا اور خطرناک بھی تھا۔ نیچے سے پرائیویٹ ویگنیں آنے لگیں تو کچھ حوصلہ ہوا۔
وہاں مگر آپا دھاپی اور خود غرضی ایسی تھی کہ لوگ ہر ویگن کو آخری سمجھ کر بھڑ بکریوں کی طرح اس میں ٹھسے جا رہے تھے۔ کسی کو بچوں اور عورتوں کا خیال نہیں تھا۔ میرے ساتھ بچے تھے اس لئے سب سے آخری وین میں منہ مانگے پیسے دے کر نیچے پہنچے۔ شکر ہے کار پارکنگ کا گارڈ ہمارے انتظار میں کھڑا تھا کہ پارکنگ میں ہماری گاڑی آخری گاڑی تھی۔
ڈپریشن دور کرنے کو ہم نے ڈٹ کے کھانا کھایا اور کشمیر پوائنٹ کی طرف چل پڑے۔ موسم اتنا شاندار تھا کہ ساری کوفت دور ہو گئی۔ چودہویں کی رات تھی۔ آسمان بالکل صاف تھا اور دور تک سفید برف چاندنی میں سنہری ہو رہی تھی۔ ایسا سماں پھر کبھی دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ تب احساس ہوا دسمبر شعرا کو شاعری پر کیوں مجبور کرتا ہے۔ شعرا نے دسمبر پر خوبصورت شاعری کی ہے۔ ایسی ہی ایک نظم سے پیش ہے
اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر جمی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو برف کیسے پگھلے گی
اسے کہنا کہ لوٹ آئے
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
(عرش صدیقی)
دوستو! گزشتہ کئی سالوں سے دسمبر ویسا خوبصورت نہیں آتا۔ دسمبر میں چھائی سموگ ماحول کو ناگوار لگتی ہے۔ سموگ طرح طرح کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ ایسے میں شاعر بھی بدمزہ ہو کر دھند میں لپٹے سموگی دسمبر کو یاد کر کے اپنا جی بہلاتا ہے۔
فضا تو دھندلائی ہے، دسمبر وہ نہیں آیا
سموگی دھند چھائی ہے دسمبر وہ نہیں آیا
گرم کپڑے ابھی پہنے نہیں بھائی کسی نے بھی
بھلے مچھلی پکائی ہے دسمبر وہ نہیں آیا
گزشتہ سال بھی سردی نہیں آئی نہ وہ آیا
جلیبی گرم کھائی ہے دسمبر وہ نہیں آیا
مرے یوسف سنا تم نے، دسمبر وہ نہیں آیا
مرے شاعر دہائی ہے دسمبر وہ نہیں آیا


