عصر حاضر کے علما اور قیادت کے لیے ایک مضبوط حکمت عملی

قرآن مجید کی روشنی میں حضرت ہارون علیہ السلام کا کردار نہ صرف قیادت کے اعلیٰ اصولوں کا مظہر ہے بلکہ عصری قیادت کے لیے ایک بہترین نمونہ عمل بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرماتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام کو ان کے معاون کے طور پر منتخب کیا، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے :
”وَاجْعَل لِّی و َزِیراً مِّنْ اَھْلِی ہَارُونَ اَخِی“
”اور میرے لیے میرے اہل میں سے ایک وزیر مقرر فرما، ہارون میرا بھائی“ (سورۃ طٰہٰ: 29۔ 30 )
یہ دعا نہ صرف حضرت ہارون علیہ السلام کی منصبی ذمہ داریوں کی اہمیت کو واضح کرتی ہے بلکہ قیادت میں مشاورت اور معاونت کے اصول کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے گئے، تو ان کی غیر موجودگی میں سامری نے ایک سنہری بچھڑے کی پرستش کا فتنہ کھڑا کیا۔ بنی اسرائیل کی ایک بڑی تعداد اس فتنے میں مبتلا ہو گئی۔ اس نازک موقع پر حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں حکمت، صبر، اور بصیرت کے ساتھ قیادت کی ذمہ داری ادا کی۔ انہوں نے قوم کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:
”یَا قَوْمِ اِنَّمَا فُتِنتُم بِھِ و َاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِی و َاَطِیعُوا اَمْرِی“
”اے میری قوم! تم اس کے ذریعے آزمائے گئے ہو، اور تمہارا رب تو رحمان ہے، سو میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو“ (سورۃ طٰہٰ: 90 )
لیکن بنی اسرائیل کے گمراہ گروہ نے ان کی نصیحت کو رد کر دیا۔ ایسے موقع پر حضرت ہارون علیہ السلام نے سختی یا زبردستی کے بجائے صبر، تحمل، اور نرمی کا راستہ اپنایا تاکہ قوم مزید اختلاف کا شکار نہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی پر جب انہوں نے بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھی تو غصے میں آ گئے اور حضرت ہارون علیہ السلام سے بازپرس کی۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے اس حکمت عملی کو ان الفاظ میں بیان کیا:
”اِنِّی خَشِیتُ اَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِی اِسْرَائِیلَ و َلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِی“
”میں نے (سختی نہ کی کیونکہ) مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ آپ کہیں گے : تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا“ (سورۃ طٰہٰ: 94 )
یہ حکمت عملی ایک بصیرت افروز سبق دیتی ہے کہ قیادت کا مقصد قوم کو متحد رکھنا اور بڑے فتنے یا داخلی انتشار سے بچانا ہے۔ حضرت ہارون علیہ السلام کے طرز عمل میں صبر، نرمی، اور بصیرت جیسے اصول شامل ہیں، جو آج کے علما اور قیادت کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کے اسوہ کو موجودہ تناظر میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اختلافات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے نرمی اختیار کر کے بنی اسرائیل کو کسی بڑے انتشار سے محفوظ رکھا۔ آج کے علما کو بھی چاہیے کہ وہ اختلافات میں شدت پیدا کرنے کے بجائے اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں۔
حضرت ہارون علیہ السلام کا یہ عمل قیادت میں حکمت اور دور اندیشی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ علما اور رہنما اپنے فیصلوں میں بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کے طویل مدتی مفادات کو پیش نظر رکھیں۔ نرمی اور تحمل سے فتنوں پر زیادہ موثر انداز میں قابو پایا جا سکتا ہے۔ سختی اور زبردستی کے بجائے افہام و تفہیم سے مسائل کو حل کرنا قیادت کی دانش مندی کو ظاہر کرتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق فرمایا:
”تمہارے ساتھ میری نسبت وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“ (صحیح بخاری، ج 5، ص 19 )
حضرت علی علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد امت کو انتشار سے بچانے کے لیے صبر اور حکمت کا راستہ اختیار کیا۔ وہ ہمیشہ اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرتے رہے اور امت کے اتحاد کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔
حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت علی علیہ السلام کے طرز عمل کو سامنے رکھتے ہوئے، آج کے علما اور رہنماؤں کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ اختلافات کو دور کرنے کے لیے حکمت عملی اپنائیں، انتشار اور فرقہ واریت سے بچنے کے لیے نرمی اور بصیرت کا مظاہرہ کریں، اور امت کی وحدت اور فلاح کو ہر حال میں مقدم رکھیں۔ حضرت ہارون علیہ السلام کا طرز عمل قیادت کے ان اصولوں کو اجاگر کرتا ہے، جن میں صبر، حکمت، اور نرمی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
عصر حاضر میں علما اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ان اصولوں کو اپناتے ہوئے امت کی اصلاح کریں اور اسے اتحاد و اتفاق کی راہ پر گامزن کریں۔ دین اسلام کا پیغام رحمت، حکمت، اور رواداری ہے، اور یہی وہ اوصاف ہیں جو علما کو عظمت عطا کرتے ہیں۔

