حکومت اور اپوزیشن کے بیانیہ میں تضادات
24 نومبر 2024 ء کی ناکام کال کو اپنے منطقی انجام پہنچے دو ہفتے ہونے کو ہیں سیاسی حلقوں میں ایک نئی ”کنٹرورسی“ چل رہی ہے حکومت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر گولی چلائی ہے کہ نہیں جس کے نتیجے میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں یہ ایشو یا حال ٹی وی چینلز کا ”پسندیدہ موضوع“ بن چکا ہے لیکن زمینی حقائق دونوں اطراف سے کیے جانے والے دعوؤں سے مختلف ہیں۔ حکومت بشریٰ بی بی کی قیادت میں آنے والے افراد میں ”دہشت گرد“ دریافت کرنے میں مصروف ہے جب کہ پی ٹی آئی ہمدردی کا ماحول پیدا کرنے کے حوالے سے 278 ہلاکتوں کا رونا رو رہی تھی جس سے وہ اب پیچھے ہٹ گئی ہے اب تو پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی سینکڑوں کی تعداد میں ہلاکتوں کا دعویٰ کرنے والوں سے اظہار لاتعلقی کر دیا ہے اب تو دو ہزار سے زائد گرفتار ہونے والے بھی قسمیں اٹھا کر اپنی بے گناہی کی کہانیاں سنا رہے ہیں اور انہیں اٹھا کر لانے کا واویلا کر رہے ہیں پی ٹی آئی کی طرف سے ”نہتے“ مظاہرین کے خلاف طاقت کے ”بے رحمانہ استعمال اور لاشیں گرانے“ کا بیانیہ بنایا گیا شروع میں تو یہ بیانیہ خوب بکا ہر طرف سے آہ وزاری نے پورے پاکستان میں ماحول سوگوار بنا دیا لیکن جھوٹ پر بیانیہ زیادہ دیر تک نہ بک سکا۔ دوسری طرف حکومت بھی پی ٹی آئی کے ”سیاسی لشکر“ میں آنے والوں کو ”دہشت گرد ثابت کرنے میں میڈیا کا خوب استعمال کر رہی ہے پی ٹی آئی کے جلوس کے ساتھ آنے والے 37 افغان شہری بھی دھر لئے گئے اور حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ پی ٹی آئی کے جلوس میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد شامل تھی یہی وجہ ہے وفاقی وزیر داخلہ نے 31 دسمبر 2024 ء تک افغان شہریوں کو اسلام آباد چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
ڈی چوک پر قبضہ کرنے کے لئے پی ٹی آئی نے حکومت کو ”انڈر ایسٹیمیٹ“ کیا حکومت کی نرم پالیسی کو اس کمزوری سمجھا 26 نومبر کی شام تک پی ٹی آئی کے کارکنوں کا رویہ جارحانہ رویہ تھا اور ہر قیمت پر ڈی چوک پر قبضہ کرنے کے نعرے لگانے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے ریاستی طاقت کا استعمال ناگزیر ہو گیا تھا رینجرز اور پولیس اہلکاروں کی مبینہ طور پر جلوس کے شرکاء کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد صورت حال بڑی گمبھیر ہو چکی تھی جلوس کی قیادت سیاست میں ”نووارد“ بشریٰ بی بی کے پاس تھی اس لئے وہ بار بار ڈی چوک کی طرف بڑھنے کا اعلان کر رہی تھیں سیاسی سوچ رکھنے والی قیادت صورت حال کی نزاکت بھانپتے ہوئے اپنی سیاسی قوت کو مروانے کی بجائے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتی رہی پی ٹی آئی کے کارکن کسی مزاحمت کے بغیر تیز رفتاری سے کلثوم پلازہ ( اسلام آباد) تک پہنچ گئے حکومت مزید نرمی کا مظاہرہ کرتی تو اس بات کا قوی امکان تھا پی ٹی آئی کے کارکن نہ صرف ڈی چوک پر قبضہ کر لیتے بلکہ ڈی چوک ”فتح“ کرنے اور حکومت گرانے کا جشن مناتے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا راولپنڈی سے ”بیٹوں (جوانوں ) کی میتیں اپنی منزل ( تدفین) پہنچنے سے قبل بلیو ایریا کو بلوائیوں سے خالی کرانے کا پیغام موصول ہوتے ہی پولیس اور رینجرز نے پورا بلیو ایریا خالی کرا لیا پولی کلینک اور پمز میں لائی گئی لاشوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں پی ٹی آئی نے جو بیانیہ بنایا ہے اس میں بڑی حد تک تضاد پایا جاتا ہے ہسپتال کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ پولی کلینک میں 29 زخمی افراد آئے جبکہ دو نامعلوم افراد کی لاشیں تھیں جب کہ پمز میں زخمیوں کی تعداد بہت کم تھی کچھ زخمی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے خوف سے ہسپتال سے فرار ہو گئے۔ حکومت کی طرف سے طاقت کے“ بے رحمانہ ”استعمال کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بھی سو فیصد حقائق پر مبنی نہیں لیکن پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے لاشوں کی تعداد 278 سے 400 تک پہنچنے کا دعویٰ کر کے“ گوئبلز ”کی روح کو بھی شرمندہ کر دیا اب پی ٹی آئی نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم کر کے 12 کر دی لیکن یہ تعداد بھی زیادہ ہے پی ٹی آئی ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد کے بارے میں کوئی وڈیو پیش نہیں کر سکی صرف ٹی وی شوز میں سینکڑوں کی تعداد میں ہلاکتوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن جھوٹ پر مبنی پی ٹی آئی کا بیانیہ دم توڑ گیا ہے جب کہ حکومت سرے سے یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کوئی شخص فائرنگ سے ہلاک ہوا یا یہ کہ لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے سنائپرز کی خدمات حاصل کی گئیں۔
لیکن حکومت بھی پورا سچ نہیں بول رہی آپریشن کلین اپ کے دوران فائرنگ کی آواز ضرور سنی گئی یہ گولی کس نے چلائی اس کا کسی کے پاس ثبوت نہیں لیکن ہسپتال میں لائے جانے والے کچھ زخمیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں وفاقی وزیر داخلہ پی ٹی آئی کی قیادت سے رینجرز یا پولیس کی طرف سے گولی چلانے کی وڈیو پیش کرنے کا تقاضا کرتے رہے جو تاحال پیش کرنے میں ناکام رہی ہے پی ٹی آئی کی طرف سے ڈی چوک کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جسے حکومت نے بوجوہ مسترد کر دیا ہے پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت نے علیمہ خان کی طرف سے فائنل کال دینے پر سوال اٹھائے ہیں اسی طرح بشریٰ بی بی کی طرف سے عمران خان کے پیغام کو نظر انداز کر کے ہر قیمت پر ڈی چوک پہنچنے کا اعلان ریاستی طاقت کے استعمال کا جواز بن گیا عمران خان نے بشریٰ بی بی کی قیادت میں آنے والے جلوس کو سنگجانی ڈیرے ڈالنے کی تردید نہیں کی تاہم انہوں نے سنگجانی کے راولپنڈی کی حدود میں ہونے کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا اور بشریٰ بی بی کے ڈی چوک جانے کے فیصلہ کی تائید کی جیل میں قائم عدالت میں بیرسٹر گوہر خان اور علیمہ خان کے درمیان ہلاکتوں کی تعداد کم بتانے پر تکرار ہو چکی ہے۔
بالآخر انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان سمیت 143 افراد کے خلاف 9 مئی 2023 ء کے واقعات کے حوالے سے فرد جرم عائد کر دی گئی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو کوئی معافی دینے کے لئے تیار نہیں اسی طرح سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کرنے والوں سے زچ ہو کر ان کا گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مذموم پروپیگنڈے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے جوائنٹ ٹاسک فورس قائم کردی گئی۔ ٹاسک فورس 24 سے 27 نومبر تک جاری رہے والے حالیہ احتجاج میں شریک شرپسندوں کے بارے میں سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے جھوٹی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والے افراد اور گروپس اور تنظیموں، ملک کے اندرون بیرون ملک مذموم مہم چلانے والے ان افراد اور گروپس کی نشاندہی کرے گی اور انہیں ملکی قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ اس سلسلے قانون میں بھی ترمیم کی جا رہی ہے ٖصحافتی حلقوں کی جانب سے اس قانون کو آزادی صحافت کو کچلنے کے لئے استعمال کرنے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے پی ٹی آئی کی فائنل کال کے حوالے فوج کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر سرگرم عمل گروپ عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت ان کے خلاف کوئی بات کرنے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

