یہ کیا مذاق ہے؟


آج کل ہمارے معاشرے میں فیشن کی دنیا میں اردو پرنٹس کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان پرنٹس کو پہننے والوں کو ادب سے بہت زیادہ دلچسپی تو شاید نہ ہو، لیکن قمیص پر ’کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو‘ لکھا ہو تو وہ فوراً خود کو غالب کا جانشین سمجھنے لگتے ہیں۔ معاشرت میں دانشور، فکری اور ادبی دکھائی دینے کی یہ کوشش مزاحیہ بھی ہے اور باعثِ حیرت بھی۔ اور اس کو مہمیز کرنے میں ہاتھ ہے ہمارے بڑے بڑے برانڈز کا جو اپنے ملبوسات پر اردو کے الفاظ یا جملے لکھ کر ایک نیا ترقی یافتہ فیشن پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ ادبی ترقی اکثر زبان کے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اُڑا دیتی ہے۔ مثلاً، حال ہی میں لاہور میں ملبوسات کی ایک مشہور دکان پر جانے کا اتفاق ہوا، جہاں کچھ ٹی شرٹس پر غلط اردو تحریر دیکھ کر نہایت حیرت اور افسوس ہوا۔ ایک ٹی شرٹ پر پر لکھا تھا ’آپ کا میرا مذاق ہے‘ ۔ جی واقعی! آپ کا اور میرا ”مذاق“ بالکل نہیں ہے۔ آپ فیشن کے نام پر ٹی شرٹس پر اردو الفاظ کے غلط ہجے پرنٹ کر کے اردو کا مذاق بنائیں اور اس کی فخریہ نمائش اپنی تخلیقی اشتہاری ترکیب کے طور پر اپنی بڑی بڑی دکانوں میں کر کے کاروباری ذہانت کا مظاہرہ کریں تو اس مذاق کو سنجیدہ لینا چاہیے کیونکہ تحریر کا مقصد اظہارِ خیال ہے، نہ کہ محض دکھاوا۔ مزید اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس برانڈ نے نہ تو تحقیق کی زحمت کی اور نہ ہی زبان کے ماہرین سے مشورہ لیا۔ یہ صورتحال اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ بڑے برانڈز اور کمپنیز اردو زبان کی اہمیت اور درستگی کے حوالے سے کتنی غیر حساس ہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں لوگ اردو بولتے اور لکھتے ہیں، وہاں بڑے کاروباری ادارے زبان کی درستگی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اردو ہماری قومی زبان ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس کے الفاظ اور املا کو درست طور پر استعمال کرنے کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ ”مذاق“ کو ”مذاق“ لکھنا نہ صرف ایک غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ زبان کی اہمیت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

یہ مسئلہ صرف ایک برانڈ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عمومی رویہ بن چکا ہے۔ اردو کے الفاظ کے غلط ہجے اور غیر معیاری تحاریر مختلف جگہوں پر عام ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا، اشتہارات، اور ملبوسات کے ڈیزائنز میں۔ بہت دفعہ ٹیلی ویژن کے مختلف چینلز پر بھی غلط اردو لکھی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے منفی اثرات اردو زبان کی تہذیبی اور ثقافتی حیثیت پر واضح نظر آتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ غلط اردو کے عام استعمال نے ہمارے ادب، صحافت، اور روزمرہ کے ابلاغ کی سطح کو بہت کمزور کر دیا ہے اور اردو زبان کے جمالیاتی اور علمی پہلوؤں کو بہت حد تک متاثر کیا ہے۔ لیکن ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کہ ان غلطیوں پر کوئی شرمندگی یا معذرت نہیں ہوتی بلکہ ان پر فخر کیا جاتا ہے۔ وجہ وہی کہ ہمارا معاشرہ انگریزی زدہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا رویہ روا رکھنا نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اسی طرح ان برانڈز کے ڈیزائنرز اور مارکیٹنگ ٹیمز شاید یہ سمجھتی ہوں کہ غلط اردو لکھنا یا بولنا فیشن کا حصہ ہے لیکن ان کو احساس نہیں کہ زبان کی صحت کو نظر انداز کرتے ہوئے، وہ نہ صرف اپنے صارفین کی ذہانت کی توہین کرتے ہیں بلکہ اردو کے وقار کو بھی مجروح کر نے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آج کے پاکستانی معاشرے میں نوآبادیاتی اثرات کی جھلک نہ صرف زبان کے استعمال میں بلکہ تعلیمی، سماجی، اور پیشہ ورانہ میدانوں میں بھی نمایاں ہے۔ ہم سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ روزمرہ کی زندگی میں اردو کے بجائے انگریزی کا زیادہ استعمال ہو رہا ہے تاکہ ہم ’ترقی یافتہ‘ اور ’مہذب‘ دکھائی دے سکیں۔ اسی طرح والدین بھی اپنے بچوں سے انگریزی میں گفتگو کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکیں۔ اس عمل سے بچے نہ تو اردو میں روانی حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی اس کی درست گرامر سیکھتے ہیں۔ انگریزی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے طلبہ و طالبات کو اردو لکھنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور نہ ہی اردو درست طریقے سے سکھائی یا پڑھائی جا رہی ہے۔ ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ اردو ادب کے مطالعے کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ لوگ کتابیں پڑھنے کے بجائے ڈیجیٹل مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جو اکثر غیر معیاری زبان پر مشتمل ہوتا ہے۔ اردو ادب سے دوری کے باعث زبان کی گہرائی اور درست استعمال کو سمجھنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ انگریزی کو اتنی اہمیت دینے کے بعد بھی نہ تو ہم انگریزی کے ماہر ہیں اور نہ ہی ہماری شناخت قائم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زبان و تہذیب کی عزت کریں اور انگریزی کو صحیح طریقے سے، مناسب جگہ پر استعمال کریں۔

ان سب سے ہٹ کر اہم سوال تو یہ ہے کہ ادبی پرنٹس کے پیچھے اصل ادب کہاں گم ہو گیا ہے۔ کسی نے غالب، اقبال یا فیض کو حقیقی طور پر سمجھنے کی کوشش نہیں کی، مگر ان کے اشعار پہن کر خود کو دانشور ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح ٹی شرٹس جو کہ بظاہر ہمارے روایتی لباس کا حصہ نہیں ہیں ان پر اردو لکھنا اور وہ بھی غلط! اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف ثقافتی اثرات کے امتزاج کو لے کر بحیثیت معاشرہ ہم کتنے غیر سنجیدہ ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ زبان کا احترام ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر ہم خود اپنی زبان کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے تو ہم اپنی قومی شناخت اور ثقافت کو نقصان پہنچا رہے ہوں گے۔ اردو زبان کو مذاق کے طور پر نہیں، بلکہ ایک قیمتی اثاثے کے طور پر سنجیدگی سے لینا ہو گا۔

ادبی پرنٹس پہننا کوئی جرم نہیں، بلکہ ایک فیشن ہی ہے۔ لیکن اگر آپ ایسی قمیص پہننا چاہتے ہیں تو کم از کم اس سے متعلقہ کتابوں کے صفحات بھی کبھی کھول لیں۔ اور یہ بھی دیکھ لیں کہ الفاظ اور ان کے ہجے درست ہیں کہ نہیں اور بیچنے والوں تک اپنا احتجاج تو پہنچائیں۔ اور اگر آپ کی قمیص پر ’یہ عشق نہیں آسان‘ لکھا ہو، تو یاد رکھیں کہ قمیص پہننے سے عشق واقعی آسان نہیں ہوتا! اور ویسے بھی ہم سب کو یاد ہے ح سے حلوہ والی قمیض نے کیا آفت مچائی تھی۔ ادھر تو یوں بھی ہماری زندگیوں کا تو ہر لمحہ، ہر موڑ کسی نہ کسی مذاق کا شکار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے ان کا حصہ کیوں بن جاتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے ان مذاقوں کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھ لیا ہے۔ لیکن کب تک؟ کیونکہ آخر میں تو یہی کہنا پڑتا ہے، یہ کیا مذاق ہے؟

Facebook Comments HS

One thought on “یہ کیا مذاق ہے؟

  • 10/12/2024 at 12:11 صبح
    Permalink

    کیا انگریزی، فرانسیسی یا اطالوی زبان سے مزین ٹی شرٹ میں گرائمر یا الفاظ کی درستگی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
    مارکیٹنگ میں غلط اسپیلنگ کو کامیابی کی ایک سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ آپ کا مضمون بھی اسی کا سبب ہے۔
    لطف کی بات ہے کہ جانے آپ کی غلطی ہے یا ایڈیٹر کی حماقت کے آُپ نے جہاں جہاں "مزاق” لکھا اس کو بھی اسپیل چیکر سے مذاق چھاپ دیا گیا۔
    14 مقامات پر مذاق ہے اور مزاق تحریر میں صفر فقط قمیض پر نظر آتا ہے۔

Comments are closed.