سیلز پرسن اور کمپنیز: مفاد پرست تعلق
کارپوریٹ دنیا میں سیلز پرسن اور مینیجمنٹ کے درمیان تعلقات ایک نازک توازن پر قائم ہوتے ہیں۔ سیلز پرسنز وہ ستون ہیں جو کسی کمپنی کی کامیابی کو ممکن بناتے ہیں، لیکن جب ان کی محنت، مہارت اور خدمات کو وقت پر تسلیم نہیں کیا جاتا تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف سیلز پرسن کے لیے مایوسی کا باعث بنتا ہے بلکہ کمپنی کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ کمپنیز کا رویہ بعض اوقات کسی موقع پرست سے کم نہیں ہوتا۔ جب تک سیلز پرسن ان کے لیے نتائج لاتا ہے، اس کی تعریف اور حمایت کی جاتی ہے، لیکن جیسے ہی وہ اپنی محنت اور خدمات کی پہچان کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا اُس وقت تک اُس کے مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی جب تک وہ استعفیٰ دینے جیسا انتہائی قدم نہ اٹھائے۔ یہ طرزِ عمل کمپنی اور سیلز پرسن دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کمپنی کو کسی اہم موقع پر کسی سیلز پرسن کی اشد ضرورت ہوتی ہے، جیسے کہ کسی اہم کلائنٹ کا وزٹ، ٹینڈر، کانفرنس، یا ایکسپو، تو وہی سیلز پرسن اپنے مطالبات لے کر مینیجمنٹ کے سامنے آتا ہے۔ اس موقع پر مینیجمنٹ، اُس سیلز پرسن کی اہمیت کے باعث، بلیک میل ہونے پر مجبور ہو جاتی ہے اور اُس کے مطالبات ماننے پر تیار ہو جاتی ہے۔ یہ رویہ صرف سیلز پرسن تک محدود نہیں، بلکہ کمپنیز بھی اکثر ایسے موقعوں پر سیلز پرسن کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں جب انہیں معلوم ہو کہ وہ ان کے لیے ناگزیر ہے۔ لیکن جب سیلز پرسن کی خدمات کو وقت پر تسلیم نہیں کیا جاتا، تو یہی صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے فائدے کے لیے ایک دوسرے کو استعمال کر رہے ہیں۔
جب ایک سیلز پرسن اپنی اہمیت کے وقت مینیجمنٹ سے اپنے مطالبات منواتا ہے، تو کمپنیز ایسے حالات سے بچنے کے لیے متبادل حل تلاش کرنے پر غور کرتی ہیں۔ اس میں اکثر یہ شامل ہوتا ہے کہ وہ سیلز پرسن کے علاوہ دیگر افراد کو ٹرین کریں یا آٹومیشن اور دیگر نظامات کے ذریعے ان کے کردار کو کم کریں تاکہ مستقبل میں بلیک میلنگ سے بچا جا سکے۔ سیلز پرسن کو وقت پر تسلیم کرنا اور ان کی محنت کا اعتراف کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر مینیجمنٹ وقت پر ان کے کام کی تعریف کرے، ان کے مسائل پر توجہ دے، اور انہیں عزت دے، تو نہ صرف یہ ان کی مایوسی کو کم کرتا ہے بلکہ انہیں کمپنی کے ساتھ زیادہ وفادار بھی بناتا ہے۔ اس طرح وہ انتہائی اقدامات جیسے استعفیٰ دینے یا منیجمنٹ کو بلیک میل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
سیلز پرسن اور کمپنی کے درمیان ایک صحت مند تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔ یہ تعلق صرف تنخواہ یا انسینٹیوز تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں اعتماد، شفافیت، اور باہمی احترام شامل ہونا چاہیے۔ جب مینیجمنٹ سیلز پرسنز کی محنت اور خدمات کو وقت پر تسلیم کرے گی، تو وہ خود بھی کمپنی کے مفاد میں کام کریں گے اور ایسے رویوں سے اجتناب کریں گے جو کسی بھی فریق کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ سیلز پرسن اور مینیجمنٹ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے وقت پر قدر اور اعتراف کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف سیلز پرسن کے حوصلے کو بڑھاتا ہے بلکہ کمپنی کی کامیابی کے امکانات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ اگر دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور وقت پر مسائل کو حل کریں، تو کارپوریٹ دنیا میں اس طرح کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے اور کمپنیز اور سیلز پرسنز دونوں کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔
اگر چہ اس مسئلہ کے مختلف حل تلاش کیے جا سکتے ہیں جیسا کہ جونہی کمپنی میں کوئی بھی شخص اپنے دیے گئے ٹاسک کو مکمل کرے تو اس کے کام کو سراہنے کے لئے ایک خصوصی چائے یا کھانے کی نشست کر لی جائے جس میں اس کے کام کی تعریف کی جائے۔ اسی طرح اس کو کارکردگی پر کوئی سرٹیفیکیٹ یا ٹوکن آف اپریسیشن کے نام پر چھوٹا سا تحفہ دیا جائے۔ ایک مرتبہ ایک سیلز مینیجر کی جدوجہد سے ایک فارن کلائنٹ مل گیا جس سے کمپنی کے ایک سال میں اتنا منافع ہوا کہ کمپنی کے بیس سالوں میں نہیں ہوا اور تمام ڈائریکٹرز نے اس سال اپنے لئے گاڑیاں بدلیں جبکہ اس مینیجر سیلز کو ایک تعریفی جملہ بھی سننے کو نہیں ملا۔ مینیجر سیلز ایک سال تک دیکھتا رہا حتیٰ کہ انکریمنٹ کا وقت آیا تو اس کو باقی لوگوں کی طرح روٹین کا انکریمنٹ ملا جس سے وہ اتنا دلبرداشتہ ہوا کہ اگلے ہی دن استعفیٰ دے دیا اور اس کمپنی کے کمپیٹیٹر کو ڈبل سیلری پر جوائن کر لیا مینیجمنٹ نے بہت کوشش کی کہ وہ کسی طرح رک جائے حتیٰ کہ سی ای او نے کمپیٹیٹر کی سیلری سے زیادہ کی آفر بھی کی لیکن یہاں معاملہ صرف سیلری کا نہیں تھا بلکہ اکنالجمنٹ کا تھا اپریسیشن کا تھا سی ای او کو پتا تھا کہ منیجر ایسے دو تین کلائنٹس پر کام کر رہا ہے جس کی بدولت اس کمپنی کی حالت بدلی ہے لیکن اس مفاد پرست منیجمنٹ نے اپنی حالت تو بدلی لیکن اپنی ٹیم کے بارے میں بالکل نہیں سوچا۔
اس کے برعکس ایک سیمنٹ سیکٹر کی مثال میں دیتا ہوں ایک مرتبہ ایک سیمنٹ پلانٹ کے مینٹیننس مینیجر نے ایک فالٹ پکڑا جس کی بدولت کمپنی شٹ ڈاؤن ہونے سے بچ گئی یعنی اگر وہ منیجر نشاندہی نہ کرتا تو فیکٹری چند گھنٹوں کے لئے بند ہو سکتی تھی تو اس منیجر نے جونہی نشاندہی کی اور جس کی بدولت مینٹیننس ٹیم نے ایک چھوٹی سی بریک لے کر وہ مسئلہ حل کیا جس سے فیکٹری کو کروڑوں کے نقصان سے بچت ہو گئی۔ کمپنی کی تمام منیجمنٹ نے تعریفی فون اور ای میلز تو کیے ہی کیے سی ای او نے اس منیجر کے گھر پہنچنے سے پہلے ایک 1800 cc گاڑی گھر پر پہنچا دی۔ منیجر کے گھر والوں کو جب گاڑی وصول ہوئی تو اُن کے اہل خانہ نے فون پر لفافہ جس میں کمپنی نے تعریفی کلمات درج کیے ہوئے تھے اور کار کے بارے میں مطلع کیا جس سے اس خوشی کو پورے گھر والوں اور خاندان والوں نے انجوائے کیا۔ بات صرف یہاں تک نہ رکی بلکہ پوری کمپنی کے اندر ایک تحریک پیدا ہوئی اور مزید اچھا کام کرنے کی تحریک پیدا ہوئی جس کو ہم پوزیٹیو موٹیویشن کہتے ہیں۔


