تعصب کی نفسیات اور سماجی اثرات
تعصب سماجی نفسیات میں زیر بحث آنے والا اہم موضوع ہے۔ جس کو سمجھنے کے لئے کئی پہلو ہیں۔
تعصب یا Prejudice انسانی سماج میں بقا کے لئے استعمال ہونے والا ایسا منفی نفسیاتی احساس ہے جو کسی سماج یا سماج کی کسی اکائی میں فرد اپنی کم مائیگی پر قابو پانے کے لئے ایسے خیالات اور احساسات کو اپنے اندر اجاگر کرتا ہے یا سمو لیتا ہے جس سے اس کو احساس تفاخر ملتا ہے جو نتیجتاً اس کے دماغ میں ایسے ہارمون پیدا کرتے ہیں جو خوشی اور برتری کا احساس دے کر اس کو دائمی بقا کا تصور دیتے ہیں۔ یہ احساس کوئی فرد یا گروہ دوسرے لوگوں کی رائے، تجربات اور علم سے لیتا ہے۔ یعنی یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں فرد جس گروہ، خاندان، مذہب، عقائد، رنگ، نسل، ذات، قومیت سے تعلق رکھتا ہے اس کے دوسرے افراد کے خیالات، نصاب، تاریخ کے جانبدارانہ اسباق کے تابع اپنی رائے بھی استوار کر لیتا ہے۔ اور جبکہ اس کا براہ راست دوسرے گروہ سے واسطہ نہ بھی ہوا ہو وہ قبل از تجربہ وہی رائے قائم کرنا سیکھ جاتا ہے جو پہلے سے اس نے سن رکھی یا پڑھ رکھی ہو۔
تعصب کسی جذبے کا نام نہیں بلکہ ایک احساس ہے جو روئیے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک گروہ کے دوسرے گروہ کے بارے میں برائیاں اچھالنے کا غیر صحتمندانہ طریقہ ہے خواہ یہ برائیاں اصل میں موجود ہوں یا نہ ہوں لیکن چونکہ دوسرے لوگ ان برائیوں کی بات کرتے چلے آرہے ہیں لہذا ایک فرد تساہل، اپنی اوسط ذہانت، گروہی دباؤ، کم علمی، ذاتی تجربے کے ناپید ہونے کی وجہ سے فرد ان احساسات کا اسیر بن جاتا ہے۔
بقائے شناخت کی خواہش انسان کو دوسروں سے برتر ہونے کے احساس سے آشنا کرواتی ہے۔ درحقیقت بقائے شناخت اور برتری کا احساس انسان کی کم مائیگی سے جنم لیتا ہے جب اس کو اپنے گروہ میں کمزوریاں اور خامیاں نظر آتی ہیں اور اسے عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے تو وہ دوسرے سماجی گروہ کے بارے میں منفی رائے قائم کر کے اپنے گروہ کے دوسرے افراد تک پہنچاتا ہے اور اس طرح وہ تمام افراد بلا کسی ذاتی تجربے اور مکمل علم کے اس رائے کی بنیاد پر وہی محسوس کرتے ہیں۔
تعصب کو اس لئے منفی کہا جاتا ہے کہ اس میں منافرت سے بھرپور تقاریر، الفاظ اور منفی دفاعی میکانزم شامل ہوتا ہے
عموماً متعصب فرد یا گروہ دوسرے گروہ کو جو چھوٹا اور کم اکثریت کا گروہ ہوتا ہے اس کی برائیوں اور کمزوریوں کی طرف انگلی اٹھا کر اپنے آپ کو برتر گرداننے کا پروپیگنڈا جاری رکھتا ہے اور دوسرا گروہ اس پروپیگنڈا کے منفی اثرات کی وجہ سے سکیپ گوٹ یا وکٹم بن جات ہے اور اس سماج میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔ اس طرح اس گروہ کو آگے بڑھنے اور کھل کر جینے کے مواقع حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ تعصب کے یہ معاشرتی روئیے اور احساسات کیسے اور کہاں سے جنم لیتے ہیں اور یہ کن معاشرتی صورتحالوں میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
خاندانی ڈھانچے میں رشتوں کا تعصب :
اس کا ذکر کرنا اس لئے ضروری ہے کہ سماج کا ہر رویہ اسی اکائی سے جنم لیتا ہے۔ شادی کے کنٹریکٹ کے آغاز میں ہی ذات برادری، مذہب، عقائد اور مسلک، رنگ نسل اور قومیت کا خیال رکھنا اور اپنے سے الگ خاندان میں شادیاں محض اس خیال سے نہیں کی جاتیں کہ دوسرے خاندان کو حسب نسب کی بنیاد پر کم تر ثابت کیا جاتا ہے اور اس خاندان کی برائیاں سامنے لائی جاتی ہیں۔ اور اگر شادیاں ہو بھی جائیں تو تمام عمر شادی کے بندھن کو اس تعصب کے جہنم میں جھونکا جاتا ہے ہے مثلاً دونوں طرفین ایک دوسرے کو ان کی ذات، برادری حسب نسب، مسلک عقائد اور علاقائیت کی برائیوں کا ذکر کر کے اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بقائے شناخت کی برتری جتانے کی منفی کوشش ہے جو احساس کمتری کی ایک شکل ہے جو دوسرے فریق کو نیچا دکھانے کے لئے کی جاتی ہے۔
دوسری بد ترین شکل جو معاشرے میں مرد عورت کے تعلقات پر اور خاندانوں کے استحکام کو بری طرح متاثر کرتی ہے وہ ساس بہو اور سسرالی رشتوں کے بارے میں متعصب روئیے ہیں جو شادی سے قبل ہی جنم لیتے ہیں۔ مثلاً لڑکیاں محض سنی سنائی باتوں اور مروجہ کلچر کی اقدار کے عمومی رائے اور قبل از صورتحال کے بارے میں یہ احساس پیدا کر لیتی ہیں کہ ساس اور سسر اور دیگر سسرالی رشتہ دار اس کے لئے چیلنج ہو سکتے ہیں۔ یہ تاثر غیر تعقلی خوف پر مبنی ہوتا ہے۔ رشتے طے ہوتے وقت بہت اچھا ماحول ہوتا ہے لیکن۔ شادی کی تقریبات کے دوران یہ خوف لڑکی کے کانوں میں ڈالا جاتا ہے وہ پہلے سے شادی شدہ لوگوں کے تجربات اور گفتگو کو سن کر بغیر کسی ذاتی تجربے کے اس رائے کے تحت یہ تاثر قائم کر لیتی ہیں کہ ساس اور سسر اور دیگر سسرالی رشتے نئے گھر میں ایک بہت بڑا چیلنج ہوں گے۔ شادی کی تقریبات کے شروع ہوتے ہی لڑکی اپنے دفاع کا سوچنے لگتی ہے۔ اس احساس کو پیدا کرنے کے لئے ثقافتی اقدار کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کے گانے جو لڑکی کی جانب سے گائے جاتے ہیں وہ خوشی کی بجائے نفرتوں کے نوحے ہوتے ہیں۔ جن میں شوہر، ساس سسر اور مرد کے رشتہ داروں کے کرداروں کو منفی بنا کر پیش کیا جاتا ہے، لعن طعن، مذاق اور گالیاں تک دی جاتی ہیں۔ ( اس کی وجہ وہ واقعات اور تجربات ہیں جو حقیقت میں رونما ہوئے ہوں گے اور سننے میں آئے ) مگر لڑکی اپنی شادی سے قبل ہی اس منفی پروپیگنڈا کی وجہ سے اپنے دفاع کے لئے منفی حکمت عملیاں بنانا شروع کر دیتی ہے اور اس کی ماں، بہن اور دیگر رشتہ دار اسے اس شادی کے رومانوی اور ازدواجی خوشیوں کا ذکر کرنے کے بجائے اپنی تربیت میں احساس عدم تحفظ اور اپنے خاندان کی برتری جتانے کا سبق دینا شروع سے ہی کر دیتے ہیں۔ اور لڑکی جو ابھی ان میں سے کسی خطرے سے دوچار ہی نہیں ہوئی ہوتی وہ بھی منفی احساس اپنے اندر سمو کر نئے خاندان میں جاتی ہے۔ اور دیکھا گیا ہے کہ نئے گھر میں اس کے ساتھ کتنا بھی اچھا سلوک، محبت اور احترام مل رہا ہو اس کے گزشتہ گھر والے اسے باور کراتے رہتے ہیں۔ ہر ملاقات اور رابطے پر اس سے ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن سے نہ چاہتے ہوئے بھی لڑکی منفی ہی سوچتی ہے مثلاً تم خوش ہو ”تمہاری ساس تم پر ظلم تو نہیں کرتی“ تمہارا شوہر ماں باپ کو زیادہ وقت دیتا ہے یا تمہیں ”، یا تم سے کام تو نہیں کروایا جاتا۔ ایسی لڑکیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں جو ہر طرح سے عیش و آرام اور خوشگوار زندگی گزار رہی ہوتی ہیں اور ان کا شوہر اور سسرالی خاندان ہر لحاظ سے بہترین کہلائے جانے کے مستحق ہوتے ہیں لیکن لڑکی کے ماں باپ اپنی بیٹی کے شوہر اور سسرالی خاندان کی معاشی، معاشرتی اور سٹیٹس کو نیچا دکھانے کے لئے کوئی نہ کوئی نکتہ نکالتے رہتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے ہے کہ ایک عورت دوسرے لوگوں کی محض پہلے سے قائم کردہ منفی آراء کو غیر شعوری طور پر سموتی رہتی ہے اور اس کے اندر بھی نفرت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے اور پڑھی لکھی لڑکیاں بھی اس احساس کو ختم نہیں کرنا چاہتیں بلکہ اسی تعصب کے ساتھ رہنے میں مزہ لیتی ہیں۔ اسی تعصب کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اپنے سسرال کی اچھی خصوصیات، نظریات اور علمی قابلیتوں اور اچھے اخلاق سے عملی فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنے آپ کو اور بچوں کو سسرالی رشتوں سے دور رکھتی ہیں۔ دراصل یہ رویہ اس تعصب کا نتیجہ ہے جو انہوں نے اس پروپیگنڈا کے نتیجے میں اپنایا جو انہیں یہ سکھاتا آیا کہ تمہاری سسرال کسی طور پر ہمارے خاندان سے برتر نہیں۔ حتی کہ رہن سہن، کھانے پینے، عبادات کے طریقوں مسلکی انداز بچوں کی تعلیم و تربیت کے پہلووں پر بھی منفی تنقید کی جاتی ہے۔ اس میں بڑے غور سے مشاہدہ کیا گیا ہے کہ دراصل لڑکی کی ماں اور باپ اپنے طرز زندگی اور سوچ بچار تک کا خود ہی موازنہ کرنے لگ جاتے ہیں اور ارادتاً بلا وجہ لڑکی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور لڑکی کو برسر پیکار رہنے کے لئے اکساتے ہیں۔ دراصل لڑکی کے خاندان کی یہ شعوری اور غیر شعوری کوشش ہے جو اپنے احساس کمتری اور عدم تحفظ کو آگے اپنی لڑکی کو منتقل کرتے ہیں۔ یہاں سے ساس بہو کے کے تعلقات میں خرابی کی وجہ کو سمجھا جا سکتا ہے کہ اس رشتے میں کس طرح تعصب کا عمل دخل ہے اور کس طرح تعصب کا منفی رویہ ان اہم خاندانی رشتوں میں دراڑ ڈالتا ہے اور خاندان مقدس سے غیر مقدس بن جاتا ہے۔ اس سے انکار نہیں ہے کہ یہ خوف کسی حد تک بجا ہے۔ لیکن اس کو تجربہ کیے بغیر بلا وجہ فروغ دینا منفی رویہ ہے۔
یہی صورتحال مرد کے خاندان میں بھی پائی جاتی ہے۔ جس کے بد ترین مظاہرے اب تک کے پدر سری سماج میں مقبول عام رہے ہیں مرد کو عورت سے دب کر نہ رہنے کی تلقین کی جاتی ہے اور لڑکی اور لڑکی کا خاندان اقلیت کی حیثیت اختیار کر کے قربانی کا بکرا یا وکٹم بنا رہا۔ لیکن تعصب کے یہ جراثیم آج کی خود مختار عورت کے خاندان میں منتقل ہو گئے ہیں۔ اس سطح کے تعصب سے جنم لینے والی بد معاشی
Bully or victimization کی وجہ سے خاندان کی اکائی ٹوٹتی جا رہی ہے۔
خاندان سے باہر نکلیے تو سکولوں، تعلیمی اداروں اور بعد میں ورک پلیس پر ہونے والی بدمعاشی بھی اسی تعصب کی اعلیٰ مثال ہے دراصل یہ تعصبی رویئے بھی بچے گھر سے سیکھ کر جاتے ہیں۔ جہاں رنگ نسل، زبان معاشی اور معاشرتی فروق بچے کو بتائے جاتے ہیں مثلاً تم نے فلاں بچے سے دوستی نہیں کرنی کیونکہ وہ فلاں ملک سے ہے، اس کا مذہب ہم سے مختلف ہے، اس کا رنگ ہم سے مختلف، یہ لوگ اچھے نہیں ہوتے، ان سے بچ کر رہنا، ان کے مذہبی عقائد غلط ہیں، وغیرہ۔ گھر سے نکلی ہوئی یہ نفرت اکثریت کے گروہوں میں اقلیت کے گروہوں کی جانب ہوتی ہے جس میں کسی جگہ، محلے یا ملک میں نو واردوں کی آمد سے پیدا ہوتی ہے جس کی بناء پر کسی فرد اور گروہ کو نفرت کے رویوں ک ساتھ امتیازی سلوک، مراعات سے محرومی اور سماجی بائیکاٹ کی اذیتوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نشانہ بنانے والے اپنے رویوں کو پرکھنے اور بدلنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتے۔ اگر وہ جانتے بھی ہوں کہ دوسرا گروہ جس کے خلاف وہ منفی احساس رکھتے ہیں وہ ہر لحاظ سے برتر ہے وہ اپنے گروہ کی قائم کردہ رائے اور روش پر ہی چلتے رہتے ہیں۔ کیونکہ متعصب فرد اور افراد کے گروہ کا منفی پروپیگنڈا اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اس کے طلسم سے نکلنا مشکل ہوتا ہے دوسرے یہ کہ نکل کر چیلنج کرنے والے پر اکثریتی گروہ کا دباؤ اور تیسرے علم اور ذاتی تجربات کی کمی تعصب کے بت کو توڑنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس تعصب کا نقصان صرف اقلیتی گروہ کو ہی ہوتا ہے یا تعصب کرنے والے بھی نقصان اٹھاتے ہیں؟
اس کا جواب ہے کہ اقلیتی گروہ تو امتیازی سلوک، مراعات سے محرومی، بدمعاشی کے مظاہروں سوشل بائیکاٹ کی اذیتوں سے دوچار ہوتا ہی ہے، لیکن متعصبانہ رویہ رکھنے والے فرد اور گروہ کو ہر سطح پر نقصان پہنچتا ہے مثلاً وہ اقلیتی گروہ کے اچھے خواص، علمی قابلیتوں سے فائدہ اٹھانے، اچھے لوگوں کی صحبت اور ان کی معاشرے میں عدم شمولیت کی وجہ سے انفرادی اور اجتماعی کارکردگیوں اور خدمات سے محروم رہتے ہیں اور ارتقاء کے عمل میں رکاوٹ ڈال کر خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ اور پے در پے نقصانات کے باوجود باز نہیں آتے۔ اس کی بہترین مثالیں مذہبی، سیاسی اور علاقائی منافرتیں ہیں۔ جن کی بنیاد پر ہجوم مشتعل ہو کر جارحیت اور نقص امن کی وجہ بنتے ہیں۔ اور ایک معاشرہ بد امن کہلاتا ہے۔
تعصب کے اس منفی روئے سے معاشرے میں خوف، بے چینی اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
سماج کے اس منفی نفسیاتی روئیے کو اجتماعی زیادتی سے تشبیہ دینا غلط نہ ہو گا کیونکہ اس سے متاثرہ فرد یا گروہ ہر لحاظ سے ایسے صدمے سے دوچار ہو سکتا جو اسے پیشہ بدلنے، سکول بدلنے، جگہ چھوڑنے، شناخت بدلنے اور ترک وطن جیسے نفسیاتی سماجی اور معاشی مسائل سے دوچار کرتا ہے۔
تعصب کے تدارک کے لئے تجاویز:
تعلیم کا فروغ، علمی مکالمے، بچوں کو گھروں میں بقائے باہمی کا درس، تعلیمی اداروں کے نصابوں میں بقائے باہمی کے اسباق پر زور، رواداری کا احساس اجاگر کرنے کے لئے علمی اور عملی طور پر ترغیب، مطالعے کا شوق، دوسرے مذاہب کا علمی موازنہ، ثقافتوں اور زبانوں کا سکھانا، کثیر الثقافتی علاقوں میں رہائش، موسیقی اور فنون لطیفہ کے مشاغل کا فروغ، حیثیت کے مطابق بین الاقوامی تفریحی سفر یعنی ٹورازم کا اہتمام ان منفی سماجی رویوں کی روک تھام کے لئے چند تجاویز ہیں۔


