شکستہ ناخنوں والے غازی
”اس ملک کا اب اللہ ہی حافظ ہے۔ بس یہ فنا ہونے کو ہے۔ اب یہاں سے نکل لو۔“
یہ وہ جملے ہیں جو ہم پچھلی کئی دہائیوں سے سنتے آ رہے ہیں۔
پہلا جملہ تو در حقیقت دعائیہ ہے۔ اللہ رب العزت ہمیشہ سب کا حامی و مدد گار رہے۔ آمین۔ تیسرے جملے پر ہم پوری ہمت اور قوت کے ساتھ مسلسل عمل پیرا ہیں۔ دوسرا جملہ البتہ تحقیق طلب ہے۔ میں بہر حال اس کو پہلے جملے کے سپرد کیے دیتا ہوں۔ بال کو زیادہ بے کھال نہیں کرتا۔ اس کے بجائے میں کچھ دلچسپ مشاہدات اور اُن کے زیر اثر چند اتنی ہی دلچسپ ذاتی آراء آپ کی نظر کیے دیتا ہوں۔
دوسرے جملے کی عمرِ دراز کے برعکس ملک بدستور قائم و دائم ہے۔ خدا کرے کہ پہلا جملہ ہم پر ہمیشہ لاگو رہے۔
میں بہر حال حقائق کو مکمل جھٹلانے والوں میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے مسائل یقیناً موجود ہیں۔ بہت سے معاشرتی اور قومی نوعیت کے مسائل، اور بہت سے حکومتی نوعیت کے۔ زیادہ ٹھوس تو نہیں البتہ ایک جواز بہر حال یہ ہے کہ بنی نوع انسان کا کون سا ایسا گروہ ہے جس کو معاشرتی، قومی اور حکومتی مسائل درپیش نہ ہوں۔ مشکل تو ہے لیکن کوئی ایسی انہونی بات نہیں۔ انہی مسائل کو سہلاتے ہوئے آگے بڑھتے رہنے کا نام ہی تو زندگی ہے۔
عوام اور حکومت کے درمیان تعلق ایک دلچسپ توازن ہے۔ اس نوعیت کے دیگر ”few to many relationships“ بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ استاد اور کلاس کا تعلق ایک اچھی مثال ہے۔ کبھی بھی پوری کلاس استاد سے بیک وقت خوش یا ناخوش نہیں ہوتی۔ جہاں بہت سے ناخوش ہوتے ہیں، وہیں بہت سے دل و جان سے گرویدہ بھی ہوتے ہیں۔ عوام اور حکومت کا تعلق بھی ایسا ہی ہے۔ کچھ اثر متاثرین کی فطرت کا بھی پڑتا ہے۔ زیادہ تعداد میں موجود منفی یا مثبت متاثرین ماحول پر اپنے مزاج کا اثر ڈھاتے ہیں۔ ہم نے سن رکھا ہے کہ ہمارے ملک کی لگامیں جن ہاتھوں نے تھام رکھی ہیں، وہ ہاتھ ایماندار نہیں، روپے پیسے اور اختیار کی ہے ایمانی کرتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ بلا ثبوت اس خیال پر نہ صرف ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کا بھرے زمانے میں پرچار بھی کرتے ہیں۔ میں پورے دعوے کے ساتھ آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ دنیا کے ہر ملک کے باسیوں کی کچھ نہ کچھ تعداد اپنے عمائدینِ سلطنت کے بارے میں بالکل یہی سوچتی اور کہتی ہے۔ چہار دانگ عالم میں جہاں جہاں ”افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر“ جکڑی ہوئی ہے، وہاں بالکل ایک سے مسائل ہیں، ایک سی باتیں ہیں، ایک سے احساسات ہیں۔ تھوڑا بہت جو فرق ہے وہ تعداد، شدّت اور اوقات کا ہے۔
میری رائے میں ہمارا ایک بڑا حقیقی مسئلہ، ایک عظیم المیہ یہ ہے کہ ہم منفی فطرت کے حامل ہیں۔ ہم اپنی چھوٹی بڑی بہت سے اچھائیوں کو پس پشت پھینک کر منفی باتیں اپنے پلو سے باندھ لیتے ہیں اور خود اپنے ہی خلاف واویلا کرتے ہیں۔ ہم خوش نہیں ہوتے۔ ہمیں اپنی ہر کامیابی کمیابی ہی لگتی ہے۔ دور سے نظر آتا ہوا ملک مجھے تو ترقی کی جانب ہی گامزن لگتا ہے۔ لیکن دور و نزدیک سے مجھے یہ بھی نظر آتا ہے کہ ہم اس بات کو سراہنے کے بجائے جھٹلاتے ہیں۔ اور ایسا کرنے میں ایک اطمینان اور راحت محسوس کرتے ہیں۔
کیا دس بیس سال پہلے کی نسبت آج ہمارے پاس زیادہ اور بہتر وسائل نہیں۔ کیا پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ اور بہتر طبی سہولیات موجود نہیں؟ ہمارے بڑوں نے جن سکولوں میں تعلیم پائی، ہمیں اُن سے بہتر سکول مہیّا کیے اور آج ہمارے بچوں کے لئے ایسے سکول دستیاب ہیں جن کے طلسماتی قصے ہمارے بزرگوں نے الف لیلوی داستانوں میں بھی نہ سنے ہوں گے۔ ہمارے بڑوں نے چالیس چالیس سال کھپا کر جس آمدنی پر اپنے پیشہ ورانہ سفر ختم کیے، ہمارا نوجوان اُس سے زیادہ آمدنی سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔ دنیا بھر کے مقابلے میں زیادہ مہنگی اور گئے وقتوں سے کہیں بہتر گاڑی خریدتا ہے۔ جتنے میں ایک پورا خاندان سال بھر کا راشن خرید سکتا ہے، اتنے روپے میں ایک موبائل فون خریدتا ہے، پھر اس فون کو زندہ رکھنے کی فریاد لیے اتنی ہی رقم حکومت کی تجوری میں ناجائز ٹیکس کی مد میں جھونک دیتا ہے۔ اور نئے فون سے تصاویر بنانے کے شوق میں کبھی ترکی کا رخ کرتا ہے تو کبھی سیاحت کے مزے لوٹنے آذربائیجان پہنچ جاتا ہے۔
دنیا کی ہر آسائش اس کو دستیاب ہے۔ ہمارے بڑوں نے ایسے پر تکلف طرز زندگی کے شاید خواب ہی دیکھے ہوں گے۔ بے شمار نوجوان ہزاروں ڈالر ماہانہ کماتے ہیں۔ کوئی ٹیکس نہیں۔ والدین کی چھت کے نیچے رہن سہن کا بھی خرچ نہیں۔ نوٹوں سے بھرے تھیلے اپنی عیاشیوں پر لٹاتے ہیں۔ پھر بھی وہ خوش نہیں۔ ایسی شاہانہ زندگی گزارنے والے کسی بھی نوجوان کو آپ کسی اور ملک کا مستقل ویزا تھما دیں، وہ پلک جھپکتے اٹیچی کیس گھماتے ہوئے ہوائی اڈے پر پہنچ جائے گا۔
ایسی مسلسل پھلتی پھولتی بہتری پر ہم خوش نہیں ہوتے۔ تعریف نہیں کرتے۔ اپنی کامیابیوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ سینا پھلاتے نہیں، پیٹتے ہیں۔ دہائی مچاتے ہیں۔ سر پر خاک ڈالتے ہیں اور ماتم کناں ہیں۔ کیسے سیاہ بختی ہے۔ کامیابی کی ہم نے ایک اذیت بخش تشریح کر رکھی ہے۔ اور وہ ہے ”ملک بدری۔“ ایسے میں کون مطمئن زندگی بسر کر سکتا ہے۔ کوئی جتنا بھی کامیاب ہو جائے، دولت اور جائیدادوں کی سلطنتیں قائم کر لے، اس کی نبض اس خیال نے جکڑ رکھی ہے کہ اس ملک نے فنا ہو جانا ہے۔ چوہدری صاحب کے بیٹے تو نیو زی لینڈ کو سدھار گئے۔ بھٹی صاحب کی بیٹی بیاہ کر انگلستان چلی گئی۔ میرے بچوں کا کیا ہو گا۔
پھر ہم نے خود کو خود ہی ”غریب“ مانا ہوا ہے۔ اگر بقول ہمارے گاڑیاں بھی مہنگی ہیں، بجلی بھی مہنگی ہے، خوراک، لباس، آرام، آسائش ہر شے مہنگی ہے تو اتنی کثیر تعداد میں آخر بکتی کیوں اور کیسے ہے۔ ہر بدلتے موسم کے مطابق ہم کپڑوں کے تھان خریدتے ہیں، لیکن ہم غریب ہیں۔ خنجراب سے گوادر تک کوئی شاپنگ مال، کوئی بازار، کسی بستی کی کوئی دکان ایسی نہیں جہاں گاہکوں کا ہجوم دیکھ کر حج کا اجتماع یاد نہ آئے۔ مہنگی کافی شاپس ہوں یا ریستوران، چائے کے ڈھابے یا ٹرک ہوٹل، کون سا کاروبار ہے جہاں گاہکوں کا ہجوم نہ ہو۔ ہر سرخ ٹریفک لائٹ پر بیک وقت کروڑ ہا کروڑ روپے کی گاڑیاں رُکتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اُن میں سے پچھتر فیصد سے زائد نقد رقم ادا کر کے خریدی گئی ہوتی ہیں۔
مورٹگیج کا ہمارے یہاں فیشن ہی نہیں۔ ہم بنگلے بھی نقد قیمت ادا کر کے خریدتے ہیں۔ یہ کیسی غربت ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق ہماری ”غربت“ کی تشریح یہ ہے کہ ہم ہر روز برگر پیزا کھانا چاہتے ہیں لیکن نہیں کھا سکتے لہٰذا ہم غریب ہیں۔ ہم آئی فون کیسے خریدیں، ہم تو غریب ہیں۔ ہم موٹر سائیکل پر سوار ہیں تو کار والے کی نسبت غریب ہیں اور چھوٹی کار میں ہیں تو لمبی کار کے مالک کی نسبت غریب ہیں۔ یہ غربت نہیں، آمدنی کا فرق ہے۔ کم آمدن اور غربت دو الگ موضوعات ہیں۔
”کیا وہ آپ کے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں، ان کی روزی تو ہم نے ان کے درمیان دنیا کی زندگی میں تقسیم کی ہے، اور ہم نے بعض کے بعض پر درجے بلند کیے تاکہ ایک دوسرے کو محکوم بنا کر رکھیں، اور آپ کے رب کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“ (قرآن 43 : 32 )
حقیقی سفید پوش خلق خدا میری اس گستاخانہ تحریر سے مبرا ہیں۔ اُن کی عظمت کو سلام!
ہم تعریف کرنے میں بھی کنجوس ہیں۔ آپ غور کیجئے، ہم ارد گرد کسی کا کوئی کارنامہ دیکھیں تو تعریف کے دو بول پھوٹنے کے بجائے ہمارا دماغ کہتا ہے ”یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔ یہ تو بشمول میرے کوئی بھی کر سکتا ہے۔“
ہم نے ہر مشکل کا سامنا بہادری سے کیا ہے۔ ہم ہر ستم مسکرا کر سہتے ہیں۔ ہم ہر قسم کے حالات سے سرخروئی کے ساتھ گزرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنی اس طاقت کو مانتے نہیں۔ ہم ہر کام کرنے کی سکت رکھتے ہیں اور بخوبی نبھا رہے ہیں۔ لیکن ہم اپنی تعریف نہیں کرتے۔ ہم اپنے اُوپر فخر نہیں کرتے۔ ”انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل“ والا گھسا پٹا محاورہ تو سنا ہو گا آپ نے۔ ہماری مثال اُن غازیوں جیسی ہے جو فتوحات کے پرچم گاڑ کر لوٹیں لیکن ایک ناخن ٹوٹ جانے پر رنجیدہ ہوں۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ہم من حیث القوم ناشکرے ہیں یا ہمارا کامیابی کا معیار اتنا بلند ہے کہ وہ ہمیں خوش نہیں ہونے دیتا۔
ہمیں رونے دھونے سے عشق ہے۔ ہم منفی باتیں کرتے ہیں۔ پہلے ہم ڈرائنگ روموں اور محافل میں بیٹھ کر منفی باتیں کرتے تھے۔ اب ہم سوشل میڈیا کے ذریعے من حیث القوم منفی باتیں کرتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمارا ایک حقیقی اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کئی کروڑ ہیں اور ہم مل کر ہمہ وقت منفی باتیں کرتے ہیں اور ایسے میں اپنے ماحول کو منفی بناتے ہیں۔
جس جوش کے ساتھ ہم کئی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی سکت رکھنے والی جنونی توانائی سے ہاتھ ہلاتے ہوئے مذہبی مباحثے کرتے ہیں اور جس ولولے کے ساتھ ہم اپنی معشوق سیاسی ہستی کی خاطر کٹ مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں، اس جوش اور ولولے کے ساتھ ہمیں دن میں تین مرتبہ دوا کی طرح موٹیویشنل تقاریر گوش گزار کرنی چاہئیں۔ میری رائے میں جس سمت ہم چل رہے ہیں اور جس رفتار پر چل رہے ہیں، دونوں مناسب ہیں۔ بس ذرا سینا پھلا کر چلیے۔ اپنی پیٹھ تھپتھپا کر چلیے۔ اپنی کامیابیوں اور قابلیتوں کو تسلیم کیجئے۔ خود کو حقیر ماننا چھوڑ دیجئے۔ جب اپنا موازنہ دوسری اقوام سے کرنا ہو تو عینک کے شیشے صاف کر کے اور حقائق جان کر کیجئے۔ شکرگزاری آزما کر دیکھیے۔ آپ بہت بہتر محسوس کریں گے۔


مضمون خلوص نیت اور حب الوطنی کے جذبے سے لکھا گیا ہے ۔ پرانے وقتوں سے موازنہ بظاہر درست لگتا ہے ۔ یہاں تک مضمون بہت اچھا ہے ۔ باقی جو باتیں کی گئ ہیں وہ طفل تسلیاں ہیں۔ ہمارا ملک معاشی طور پر ، خیرات یا قرض پر ڈنگ ٹپاو کی پالیسی پر عمل پیرا،رہا ہے ۔ جھوٹی تاریخ اور متروک خیالات پر مبنی تعلیم دی جاتی ہے ۔ 50 فیصد آبادی جو خواتین پر مبنی ہے ، ملک کی معاشرت اور معیشت میں اضافہ کا،سبب نہیں ہے ۔ اسے جان بوجھ کر مذہب کی غلط تاویل سے تمام حقوق سے عمومی طور پر محروم رکھا گیا ہے ۔ ایسے لگتا ہے کہ ہم چھٹی صدی کے زمانے کی طرف جا رہے ہیں۔ امیر لوگ بچوں کو اعلی درجہ کہ مغربی تعلیمی اداروں میں تعلیم دلواتے ہیں۔ اگر یہ پاکستان آئیں تو صرف حکمرانی یا خاندانی مجبوریوں جن میں وراثت سب سے اہم ہے ورنہ یہ بیرون ملک رہنا پسند کرتے ہیں۔ جو لوگ محنت مزدوری کے لئے گئے ہیں۔ ان کی آمدنی سے ان کے خاندان کے افراد قدرے خوشحال زندگی گزار لیتے ہیں۔ حکومتی ادارہ ، عوام کی بھلائ کے لئے کوئ کام نہیں کرتے ۔ سرکار صحت تعلیم آمدو رفت اور امن و امان کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو چکی ہے ۔ رشوت کا بہت زور ہے ۔ بتائے کہ نوجوان ملک کے مستقبل کے بارے میں کیوں پریشان نہ ہوں۔ ؟ والسلام۔