کیا آپ اقبال حسن آزاد کو جانتے ہیں؟
میرے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ میں آج کے اہم ادیبوں کو سامنے لانے میں مگن رہتا ہوں۔ ہاں کبھی کبھار نوخیز لکھاریوں کے کام کو بھی ہائی لائیٹ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ مگر اس مضمون میں اردو کے ایک اہم افسانہ نگار کا شخصی و ادبی و پروفیشنل تعارف کروانے کی سعی کر رہا ہوں۔ جس سے ادب کے طلباء کو اس ادبی آواز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
اقبال حسن آزاد 26 جنوری 1955 ء کو صوبہ بہار کے شہر کھگڑیا (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ اپنی پیدائش سے متعلق کچھ یوں رقم طراز ہیں :
”جاتی سردیوں کے دن تھے اور دو چھوٹے چھوٹے بھائی بہن ایک رکشے پر سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنے والد صاحب کو کھوجتے پھر رہے تھے تاکہ انہیں یہ خوش خبری سنائی جا سکے۔ مگر والد صاحب مرحوم سید محمد صالح ان دنوں کھگڑیا میں رجسٹرار کے اہم عہدے پر فائز تھے۔ یومِ جمہوریہ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریبات میں انہیں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہونا تھا۔ دونوں بچوں کو اچانک تقریب میں پا کر پہلے تو حیران ہوئے لیکن انہوں نے یہ خبر سنی تو نہال ہو گئے۔“ (بحوالہ: اک ذرا آوارگی، قومی تنظیم، پٹنہ، 20 جون 2022 ء)
ابتدائی تعلیم دربھگہ سے حاصل کر نے کے بعد انہوں نے بی اے اردو مولانا آزاد کالج، کلکتہ سے فرسٹ کلاس میں پاس کیا۔ پٹنہ یونیورسٹی میں گولڈ میڈلسٹ کی پوزیشن پہ براجمان ہوتے ہوئے انہوں نے ایم اے اردو (سال 1977 ) کا سنگ میل پار کیا۔ بہار یونیورسٹی، مظفر پور سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی۔ ملازمت کے اعتبار سے انہوں نے معاون پروفیسر کے طور پہ برسوں کام کیا۔ پھر صدر شعبہ اردو کے طور پہ جمالپور (مونگیر) میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے ہیں۔
ان کی درج ذیل تصانیف شائع ہو چکی ہیں :
1) : قطرہ قطرہ احساس (افسانوی مجموعہ) 1987 ء
2) : مردم گزیدہ (افسانوی مجموعہ) 2005 ء
3) : نثری اصناف ادب اور طنز و مزاح کی روایت (تنقید) 2014 ء
4) : پورٹریٹ (افسانوی مجموعہ) 2017 ء
5) : مردم گزیدہ (دوسرا ایڈیشن) 2024 ء
آج کل وہ اپنا سوانحی ناول مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ بھی گاہے بگاہے شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکتوبر 2013 ء سے وہ ایک اہم ادبی رسالہ ’ثالث‘ نکال رہے ہیں۔ اپنی بیگم نشاط پروین، بیٹے ثالث آفاق صالح کے ساتھ مل کر مسلسل گیارہ سال سے ادبی رسالہ چھاپا جا رہا ہے۔ جس میں اردو کے نامور، سینئرز، نووارد الغرض ہر طرح کے لکھاریوں کو خوش آمدید کیا جاتا رہا ہے۔ ہاں کوالٹی کام کو اولین میرٹ ٹھہرایا ہوا ہے۔
اب آزاد صاحب کے ادبی محاسن پہ سرسری نگاہ ڈالتے جاتے ہیں۔ آسکر وائلڈ نے لکھا تھا: ”اگر آپ لوگوں کو سچ بتانا چاہتے ہیں تو انہیں مزاحیہ انداز میں بتائیں۔ وگرنہ وہ لوگ آپ کو جان سے مار دیں گے۔“
اپنی ایک نظم میں اقبال حسن نے لطیف پیرائے میں روایتی زندگی کو چیلنج کیا۔
کوئی ایسا اسکول بھی تو کھلے
نہ کرنی پڑے یاد یہ ہسٹری
نہ جغرافیہ ہو اور نہ کیمسٹری
کہ شیطان بننے پہ ہم ہیں تلے
کوئی ایسا اسکول بھی کھلے
بڑے ہو کر بھالو نچائیں گے ہم
اکھاڑے میں مگدر گھمائیں گے ہم
نہ پڑھنے کو انگلینڈ جائیں گے ہم
(بحوالہ: شرارت نگر: ریختہ ڈاٹ کام)
افسانہ کیسے شروع کیا جائے؟ اس سوال کا جواب کثیر الجہت ہے۔ ہاں ایک خوبصورت مثال ان کے افسانے ’کھوئے ہوئے سال‘ کے شروع میں ملتی ہے :
”تیز بہتی ہوئی ہوا یکایک جیسے دھیمی ہو گئی تھی۔ پانی کی اٹھتی ہوئی لہریں بھی کچھ دھیمی ہو گئی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی بھی کچھ دھیمی ہو گئی تھی۔ ایسے میں جھریوں بھرے چہرے اور سفید بالوں والے بوڑھے نے پاس بیٹھی، آنکھوں پہ عینک لگائے اپنے ہی جیسی بوڑھی عورت سے دھیمے لہجے میں کہا۔ تمھیں یاد ہے، کبھی ہم بھی یہاں بیٹھا کرتے تھے؟“
(بحوالہ کتاب: قطرہ قطرہ احساس 1987 ء)
درج بالا پیراگراف میں جس طرح ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ہے وہ قابل توجہ ہے۔ قاری کو کہانی کے اندر اچانک جمپ دینے کی بجائے دھیرے دھیرے پانی کنارے کا ماحول بیان کر کے ہولے سے پہلے کردار کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ تکنیک نئے لکھاریوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ وگرنہ اچانک کہانی کے کردار اگر حرکت میں آ جائیں تو قاری کو سیاق و سباق سمجھنے میں دقت کا سامنا ہوتا ہے۔
مشہور روسی افسانہ نگار چیخوف نے کہا تھا:
”مجھے یہ مت بتاؤ کہ چاند چمک رہا ہے۔ مجھے دکھاؤ کہ کیسے چاندنی ٹوٹی کھڑکی سے اندر آ رہی ہے۔“
Yarmolinsky, Avrahm (1954) The Unknown Chekhov
انہوں نے اپنے اک افسانے ’بٹا ہوا آدمی‘ میں کچھ یوں شروعات کی ہیں :
”آدمی کبھی کبھی کسی چیز کو کہیں پر رکھ کر بھول جاتا ہے۔ یا شاید بھول جانے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ میں بھی اس خط کو نہیں بھولا تھا۔ مگر ہفتہ بھر سے بھولا بیٹھا تھا۔ آج جب میں نے بستر کو الٹا تو وہ ہرے رنگ کا لفافہ کونے میں دبکا پڑا تھا“ ۔
(قطرہ قطرہ احساس: صفحہ نمبر: 63 )
ان شروعاتی سطور سے ہی قاری کے دل میں ایک سسپنس سا پیدا ہوجاتا ہے۔ بھلا خط میں کیا لکھا ہو گا۔ یا وہ خط کہیں کھو گیا، اگر مل گیا ہے تو اس کے اندر کا مضمون کتنا اہم ہے۔ الفریڈ ہچکاک نے بھی مشہور زمانہ کہا تھا:
”دھماکہ ہو جانے میں کوئی ڈر نہیں بنتا بلکہ دھماکہ کیسے ہوا، اس سارے عمل میں ڈر پیدا ہوتا ہے۔“
اور بعض دفعہ افسانہ کا نام ہی ایسا کرسپی یا کیچی ہونا چاہیے جو قاری کو مجبور کرے کہ وہ صفحات تلاش کر کے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرے۔ جیسے ’کس کے لیے؟‘ تجسس ابھار دینے والے ٹائٹل سے ریڈر متوجہ ہوتا ہے اور یوں افسانے کا تالا کھل جاتا ہے۔
(قطرہ قطرہ احساس: کس کے لیے؟ صفحہ نمبر : 63 )
وہیں افسانے کو ایک جذباتی ٹون دے کر Foreshadowing Technique وجود میں آتی ہے۔ آگے کون سے واقعات آرہے ہیں اور قاری کو کہانی سے احساسات جوڑ دیتے ہیں۔ بطور نمونہ اک ابتدائی پیراگراف پیشِ خدمت ہے :
”وہ دروازے کی چوکھٹ سے لگی اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی، اور جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا اس کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ دوپہر ڈھل رہی تھی اور اب تک اس کے شوہر کا کوئی پتہ نہیں تھا۔“
(افسانہ: نروان: ص نمبر 44 )
مذکورہ بالا پیرا کو پڑھ کر گھر کی چوکھٹ پہ ایک پریشان بیوی کا ڈھلتی دوپہر کے ساتھ ماحول بنتا چلا جاتا ہے۔ بیک وقت سسپنس اور ماحول کی باریکی پڑھنے اور جاننے کے لیے کیٹالسٹ کا کام کرتی ہے۔
سینئر افسانہ نگار کے اسلوب سے متعلق ڈاکٹر جمشید پوری نے لکھا ہے :
”اقبال حسن آزاد نے نہ تو جدیدیت، نہ مابعد جدیدیت اور نہ کسی اور رجحان کو اپنا آئیڈیل بنایا بلکہ خود جو جو محسوس کیا وہی لکھا اور اپنے آس پاس کے کرداروں کا ظاہر اور اندرون پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔“
(بحوالہ: سلیم انصاری: جبل پور: اقبال حسن آزاد کے افسانوں کا تخلیقی نظام)
میری ریسرچ کے مطابق ان کا نعتیہ یا حمدیہ کلام کم کم ملا ہے۔ ممکن ہے کہ ابھی زیرِ طبع ہو۔ بہرطور اک نمونہ نعتِ رسول ﷺ پیش خدمت ہے کہ جس میں وہ اپنی مدحت کم بیان کرنے کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ وہیں اپنی الفت پہ فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔
پہلے کبھی تو کی نہیں مدحت رسول کی
پھر بھی لی ہے مجھ کو محبت رسول کی
میں بھی چند ایک شعر سناؤں گا بزم میں
مجھ کو اگر ملے گی اجازت رسول کی
اس کا نصیب اوج ثریا سے ہے بلند
دیکھی ہے جس نے خواب میں صورت رسول کی
لطف و کرم سے دیکھیے ہر دوست کو یہاں
ہے خاطر حبیب بھی سنت رسول کی
لطف و کرم سے دیکھئے ہر دوست کو یہاں
ہے خاطر حبیب بھی سنت رسول کی
جو ہیں گناہگار سراپا جہان میں
ان پہ بھی ہوگی نظر عنایت رسول کی
امیدوار ہوں کہ قیامت کے روز بھی
حاصل مجھے بھی ہوگی شفاعت رسول کی
دنیا انہی کے در پہ جھکاتی ہے اپنا سر
اقبال جن کے دل میں ہے الفت رسول کی
(بحوالہ: روزنامہ پندار: 15 نومبر 2024 )
المختصر، افسانہ نگاری کے دائرے میں اقبال حسن آزاد ایک شفاف اور انتہائی مخلص تخلیق کار معلوم ہوتے ہیں۔ میرے خیال سے گزشتہ پچاس برسوں کے اہم ادیبوں کا اگر مطالعہ کیا جائے تو جناب کے بغیر ادھورا ہو گا۔


