Foul language 2024


گفتگو، تقریر اور خطابت ملکی سیاست کا اہم حصہ رہی ہے۔ ایک مہذب جمہوریت محض سیاسی پارٹیوں کی حمایت یا مخالفت کا نام نہیں۔ بلکہ یہ زبان کی جمہوریت یعنی لینگویج ڈیموکریسی ہے۔ جس طرح آزادی کے بعد سیاست میں تبدیلی آئی، اسی طرح زبان اور سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات لگانے کا اسٹائل بھی تبدیل ہوا ہے۔ سیاست میں زبان کا معیار دن بدن گر رہا ہے۔ ناشائستہ اور لچر زبان سیاست کی شناخت بن گئی ہے۔ سیاست انحطاط کا شکار ہے، اس کا اظہار سیاستدانوں کے روئیے اور زبان سے ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کے الفاظ استعمال ہو رہے ہیں کہ انہیں مغلظات کہنا بجا ہو گا۔ سماجی اور سیاسی پلیٹ فارمز پر گالی گلوچ ایک ٹرینڈ بن گیا ہے۔ بعض دفعہ تو سوشل میڈیا پر دیے جانے والے کمنٹس کا معیار اتنا پست ہوتا ہے کہ گالیاں بھی اس سے بہتر لگتی ہیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ لوگ زبان کو اتنی پست سطح پر لے آئے ہیں کہ اب نئی طرح کے لفظ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی۔ گزشتہ چند سالوں میں ہمارے سیاسی ماحول میں یہ صورت حال زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔

قارئین! آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ باتیں پاکستان کے بارے میں کر رہی ہوں لیکن یہ الفاظ میرے نہیں ہیں اور یہ باتیں ہندوستان کے بارے میں ناگا لینڈ پوسٹ میں ستمبر 2024 میں شائع ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمارے ہاں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے اور اس کی تصدیق درج ذیل واقعات سے ہوتی ہے :

ستمبر 2024 کے وسط میں اسلام آباد میں حزب اختلاف کی ایک ریلی میں گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ نے جو زبان استعمال کی وہ اکثر لوگوں کے لئے تکلیف دہ تھی کیونکہ گلگت بلتستان کے لوگ بہت با اخلاق، نرم گو اور مہمان نواز مشہور ہیں۔ مگر انہوں نے غلیظ زبان استعمال کر کے اپنے لوگوں کے جذبات مجروح کیے۔

جون 2024 میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے گندی زبان استعمال کرنے پر تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے رکن کو بجٹ سیشن کے دوران معطل کر دیا۔ اور ان کے بولے ہوئے الفاظ کو کارروائی سے حذف کر دیا گیا۔

جون 2024 میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز کے خلاف نا زیبا الفاظ استعمال کرنے پر حزب اختلاف کے گیارہ ارکان کو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے سے روک دیا۔

اپریل 2024 میں پی پی پی کی سینیٹر نے صدر کے خطاب کے دوران سنی اتحاد کونسل کے رویے پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اگر وہ پارٹی کی قیادت کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے رہے تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا اور اس طرح کی زبان کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔

مئی 2024 میں قومی اسمبلی میں ایک حکومتی رکن طارق بشیر چیمہ نے پی ٹی آئی سنی اتحاد کی ایک خاتون رکن زرتاج گل کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ چیمہ نے اپنی تقریر میں بار بار کہا کہ آئی ایس آئی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید بجٹ سیشن میں کورم پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے، اس پر زرتاج نے انہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں منشیات اور وڈیو اسکینڈل میں مبینہ طور پر ان کے بیٹے کا کردار یاد دلایا۔ اس پر چیمہ خاتون کی نشست کی جانب لپکے اور توہین آمیز اور مغلظ زبان استعمال کی۔ اس پر ساری خواتین احتجاج کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اس پر پی ٹی آئی کے مرد ارکان چیمہ کی طرف لپکے مگر وہ اسمبلی سے غائب ہو گئے۔ اسپیکر نے جمعے کے سیشن کے لئے چیمہ کی رکنیت معطل کر دی۔ اسپیکر نے ارکان کو یقین دلایا کہ طارق چیمہ معافی مانگیں گے۔

مئی 2024 میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بلاول بھٹو پر الزام لگایا کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران فاؤل لینگویج استعمال کی۔

ستمبر 2024 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کی اپنے پاور شو میں نامناسب زبان استعمال کرنے پر شدید مذمت کی۔

بات صرف پاکستان کے لیجسلیٹرز تک محدود نہیں رہی بلکہ 2024 میں کینیڈا کے قانون سازوں نے بھی نا شائستہ زبان استعمال کی۔ وہاں ہاؤس آف کامنز میں اس طرح کے الفاظ استعمال کیے گئے :Wacko، Phony، Petro puppet (خبطی، جعلی، نقلی، پٹرو کٹھ پتلی)

تفتیشی صحافت فاؤنڈیشن IJF کے تجزیے کے مطابق 2006 کے بعد 2024 وہ سال قرار پایا جس میں کینیڈا میں سب سے زیادہ غیر پارلیمانی زبان استعمال کی گئی۔ اپریل میں جب اسپیکر نے قدامت پسند پارٹی کے رہنما پولیور کو سوالات کے وقفے میں ہاؤس آف کامنز سے باہر نکال دیا تو اخبارات میں غیر پارلیمانی زبان کا استعمال شہ سرخیوں کی زینت بنا۔ قدامت پسند رہنما نے وزیر اعظم ٹروڈو کے خلاف اپنے الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو ’خبطی‘ کہا تھا۔ اسپیکر کی تنبیہ پر انہوں نے کہا وہ اس کی بجائے ’انتہا پسند‘ کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں۔ کچھ دن پہلے اسپیکر ایک اور قدامت پسند رہنما جو شیڈو منسٹر بھی تھے کو ایوان سے باہر نکال چکے تھے۔ اس سے ایک دن پہلے بھی پولیور کو ایوان میں مغلظ زبان استعمال کرنے پر اسپیکر نے اپنے الفاظ واپس لینے کو کہا تھا اور انہوں نے اپنے الفاظ واپس لے لئے تھے۔

اسپیکر فرگس کا کہنا تھا ”ایوان کا احترام اور ارکان کا طرز عمل ایک ہمہ وقتی چیلنج ہے۔ لیکن ان مسائل سے نمٹنے کے لئے ہی میرے ساتھیوں نے مجھے منتخب کیا ہے۔ رولز آف پروسیجرز کا اطلاق کرتے ہوئے ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنا میری ذمہ داری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ارکان ایک دوسرے پر ذاتی حملے کیے بغیر بھی پالیسیوں کے بارے میں بحث و مباحثہ کر سکتے ہیں“ ۔ ایک منتخب اسپیکر کی حیثیت سے وہ اپنے صوبائی ہم منصبوں سے ملتے رہتے ہیں۔ اور بہترین طریقہ کار کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایوان میں نظم و ضبط واپس لانے کے لئے انہیں اکثر کارروائی روکنا پڑتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ افہام و تفہیم کی فضا پیدا کی جائے۔ ”

پاکستان میں فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک، فافن نے 2024 میں قومی اسمبلی کی فروری میں حلف اٹھانے کے بعد سے پہلے سو دنوں کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے صنفی حساسیت کا بھی جائزہ لیا۔ فافن کے مطابق کچھ ارکان کی جانب سے صنفی بے حسی کے مظاہرے سے قطع نظر مجموعی طور پر عورتوں کے مسائل کے بارے میں حساس رویئے کا مظاہرہ کیا گیا۔ عورتوں کے بارے میں نا مناسب جملے کسنے کی روایت کو ختم کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے ایک قرارداد بھی پیش کی گئی تا کہ مستقبل میں عورتوں کے لئے ناشائستہ زبان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

آسٹریلیا میں پارلیمنٹ میں ناشائستہ زبان کا استعمال تحقیق کا موضوع رہا ہے۔ ”پارلیمانی امور“ مجلہ کے اپریل 2024 کے شمارے میں اس بارے میں ایک تفصیلی مقالہ شائع کیا گیا۔ 1970 کے عشرے سے اب تک غیر مہذب رویئے کے مظاہرے میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔ چھوٹی سیاسی پارٹیوں خاص طور پر دائیں بازو اور گرین پالیٹکس کی نمائندگی کرنے والے ارکان اکثریتی پارٹیوں کے ارکان کے مقابلے میں نامعقولیت اور جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

”دی پارلیمنٹیرین“ کے مارچ 2024 کے ڈیجیٹل شمارے میں کامن ویلتھ میں جمہوریت کو در پیش ان چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے جو آرٹیفشل انٹیلیجنس، ڈس انفارمیشن اور سنتھیٹک میڈیا کی وجہ سے سامنے آرہے ہیں۔ اس میں آسٹریلیا اور کینیڈا میں غیر پارلیمانی زبان کے استعمال پر بحث کی گئی ہے۔

کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے مطابق آسٹریلیا میں غیر پارلیمانی زبان کے استعمال کو روکنے کے لئے اسٹینڈنگ آرڈر بنایا گیا ہے جس کے مطابق کوئی رکن بحث کے دوران ملکہ، گورنر جنرل، اسٹیٹ گورنرز کا بے ادبی سے حوالہ نہیں دے گا۔ کوئی رکن پارلیمنٹ کے کسی ایوان یا کسی رکن یا عدلیہ کے بارے میں جارحانہ گفتگو نہیں کرے گا۔ ذاتیات پر حملہ نہیں کرے گا۔ یورپین پارلیمنٹ نے بھی 2024 کے الیکشن کے بعد خود کو زیادہ فعال اور ماڈرن بنانے کا تہیہ کیا ہے۔ اس میں باہمی مسابقت اور تنازعات کو ختم کرنا اور اپنے طرز عمل کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ جسے وکٹورین پارلیمنٹ بھی کہا جاتا ہے میں کافی سخت قواعد و ضوابط کے باوجود 2024 میں بھی نازیبا الفاظ کا استعمال ہوتا رہا۔ شاہ چارلس کے دورہ کینبرا کے موقع پر ایک سینیٹر لیڈیا تھورپ نے چیخ کر کہا تھا ”تم میرے بادشاہ نہیں ہو“ ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حلف اٹھاتے وقت بھی ایک غلط لفظ استعمال کیا تھا۔ گرین پارٹی کی رہنما الزبتھ مے نے جولائی 2024 کوایک پریس کانفرنس کے دوران گندی زبان استعمال کی۔ ان کے ساتھیوں نے اسے ایک غیر پیشہ ورانہ حرکت قرار دیا۔ پارلیمینٹیرین فار گلوبل ایکشن نے جون 2024 میں نفرت انگیز گفتگو کے خلاف دن منایا۔ نفرت انگیز گفتگو تشدد پر اکساتی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہیں قوانین بنانے اور منظور کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں گندی زبان اور نفرت انگیز گفتگو کے خلاف بھی قوانین بنانے چاہئیں۔

برطانیہ کے دارالعوام میں فروری 2024 میں سیاست میں زبان کے استعمال کے بارے میں بحث ہوئی۔ بحث و مباحثہ اور اختلاف رائے صحت مند جمہوریت کا حصہ ہیں۔ لیکن اگر بحث میں زہریلا پن آ جائے تو یہ جمہوریت کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ اکثر سیاستدانوں کو آن لائن اور آف لائن زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مقامی اور قومی سطح پر جمہوریت پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے۔

ہندوستان کی پارلیمنٹ میں بھی تلخ نوائی عام ہے۔ اکتوبر 2024 میں ٹی ایم سی کے رکن پارلیمان کلیان بنر جی اور بی جے پی کے ابھیجت گنگوپدھے کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ ترینمول کانگرس کے ایم پی کلیان بینر جی کی وقف بل کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکنیت کو زبان پر قابو نہ پانے کی وجہ سے ایک دن کے لئے معطل کر دیا گیا۔ صورتحال نے اس وقت ڈرامائی موڑ لیا جب بینر جی نے پانی کی شیشے کی بوتل کو توڑنے کی کوشش کی اور اپنی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو زخمی کر بیٹھے اور انہیں ابتدائی طبی امداد دینا پڑی۔

انگلینڈ میں اگست 2024 میں تھینٹ ڈسٹرکٹ کونسل کے عوامی جگہوں پر گندی زبان کے استعمال کے پروٹیکشن آرڈر کو فری اسپیچ یونین نے جوڈیشل ریویو کی دھمکی دی۔ کونسل کا کہنا تھا کہ یہ آرڈر ہر طرح کی گالی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ عوامی جگہوں پر ایسی گندی زبان کے استعمال کے بارے میں ہے جس سے دوسرے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور ان میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS