علامہ اقبال کی اردو شاعری کا مختصر تعارف


اقبال کی شاعری اردو روایت میں بلند مقام رکھتی ہے۔ ان کی شاعری ایک خاص عہد یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ وہ انسانی عہد کے بنیادی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے اور اس کے بلند مقاصد کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ اقبال کی شاعری میں فلسفہ خودی کو عالمگیر پذیرائی حاصل رہی ہے۔ اقبال اسے مسلمانوں کی موجودہ تنزلی کا علاج قرار دیتے ہیں۔ اور اپنی شاعری میں مسلمانی کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مربی کے بقول اقبال کی شاعری میں کبھی انسان کا بیان آتا ہے اور کبھی وہ مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہیں۔ جب وہ مسلمانوں سے خطاب کرتے ہیں تو کافی کھل کر اپنا غم و غصہ بھی نکالتے ہیں اور کھری کھری سناتے ہیں۔ اپنی شاعری میں انسانیت اور مسلمانوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں اور بنیادی سوالوں کو اٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان کی شاعری بڑے شاعری مجموعوں میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اقبال کی اردو شاعری کے چار مجموعے ہیں۔

1۔ بانگ درا
2۔ بال جبریل
3۔ ضرب کلیم
4۔ ارمغان حجاز

اکر آپ گستاخی کی اجازت دیں تو ان شاعری مجموعوں کے نام کا عام لوگوں کے لیے عوامی ترجمہ کر دوں۔

1۔ بانگ درا (کارواں کی گھنٹی)
2۔ بال جبریل (جبرائیل کے پر )
3۔ ضرب کلیم (عصائے موسی)
4۔ ارمغان حجاز (حجاز کا تحفہ)

ہم اور عام لوگ اس بارے میں بہت واجبی معلومات رکھتے ہیں۔ تو اس لئے چند فقروں میں خلاصہ بیان کر دیتے ہیں۔

1۔ بانگ درا میں اقبال جس معاشرے کا ذکر کرتے ہیں اس میں تصور انسان اس کی خودی سے منسلک ہے۔ جہاں مسلمان کی عظمت اس کے احساس مسافرت میں پوشیدہ ہے۔ جب تک اس کا احساس مسافرت بیدار رہتا ہے وہ بلندیوں اور عظمتوں کا سفر جاری رکھتا ہے۔ اسی طرح معاشرے کی ترقی اور کامیابی کا راز بھی اس کی قافلے والی کیفیت میں رہنے سے منسلک ہے۔ بانگ درا (کارواں کی گھنٹی) اس آواز کو کہیں گے جب ایک کارواں یا قافلہ لمبے سفر پر نکلا ہو مگر اپنی توجہ کا مرکز منزل کے بجائے راستے میں قیام کو بنا لے۔ اور رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ قافلہ اب قیام کو منزل سمجھنا شروع کر دے اور اسی وجہ سے سب سو جائیں تو پھر ایک انسان قافلے کو جگانے کے لئے زور و شور سے گھنٹیاں بجائے تاکہ کارواں یا قافلہ جاگ جائے اور تمام مسافر جو خواب غفلت کا شکار ہیں اب جاگ اٹھیں اور قافلے میں دوبارہ شامل ہو جائیں۔ کیونکہ قافلے کے دل میں اب منزل کو پانے کا شوق اور اس کا خیال بھی سویا ہوا ہے۔ اقبال اس کتاب کے ذریعے کارواں کی گھنٹی مسلسل بجاتے چلے جاتے ہیں اور سب کو بلا رہے ہیں۔ آواز لگاتے ہیں کہ بیدار ہو جاؤ۔ اٹھو اور نئے راستے پر قدم رکھو۔

2۔ بال جبریل۔ اس کتاب میں اب یہ کارواں یا قافلہ جاگ گیا ہے تو اسے نئی روح عطا ہوتی ہے اور اقبال اسے راستے کا سراغ دیتے ہیں اور اسے نور ہدایت سے جوڑنے کی کاوشیں کرتے ہیں۔ یہ نور ہدایت حضرت جبرائیل لے کر آتے ہیں جو اللہ کی طرف سے بنی آدم کو دی جاتی ہے۔ جب یہ کارواں نور ہدایت کو جان لیتا ہے اور اس کی روشنی پا لیتا ہے تو پھر اسے جبرائیل امیں کے پر عطا ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد اس کارواں کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے۔ اب یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔

3۔ ضرب کلیم (عصائے موسی) ۔ اقبال ضرب کلیم کو عصر حاضر کے خلاف اعلان جنگ قرار دیتے ہیں۔ یعنی اقبال کے نزدیک ضرب کلیم سے مراد وہ طاقت ہے جس سے باطل کی ان قوتوں کا مقابلہ کیا جائے جن کے پنجوں میں انسانیت قید ہے۔ اقبال کے خیال میں ضرب کلیم (عصائے موسی) مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کتابوں کو اگر ایک لڑی میں جوڑا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کا کارواں جا رہا ہے جس نے منزل کی آگہی حاصل کرنے کے بعد مل کر چلنا شروع کیا اور اس جوہر کو پایا جس کی مدد سے اس نے اپنے عہد کی بڑی ظالم قوتوں کے رائج نظام کے سامنے اپنا نظام، نکتہ نظر اور کلمہ حق بیان کیا اور مقابلے کی لیاقت پیدا کی۔ فرد نے کارواں سے تعلق سمجھ لینے کے بعد اپنی عطا کردہ قوت کو پا لیا اور خودی کا اسرار دیکھا۔

4۔ ارمغان حجاز۔ اب مسلمانوں کو جو جوہر عطا ہوا تو اس کے نتیجے میں ایک ایسی دنیا نظر آتی ہے جو راہ ہدایت کے پیروکاروں کو خدا اور اس کے بندوں سے جوڑتی ہے اور پھر انسانیت خدا کے وعدے کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ اور خلق خدا سکھ کا سانس لیتی ہے۔ اس کتاب کا کچھ حصہ فارسی میں بھی ہے اور کچھ حصہ اردو میں ہے۔ لگتا ہے کہ مولانا رومی کا اثر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اقبال کو مولانا رومی نظر آتے تھے تو ان کی طبیعت فارسی میں شاعری پر مائل رہتی تھی۔ اقبال کی پہلی فارسی مثنوی میں بھی مولانا رومی چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ان شاعری مجموعوں سے پہلے اقبال کی ایک کتاب ”علم الاقتصاد“ کے نام سے شائع ہو چکی تھی۔ اقبال کے خیال میں مسلمانوں کو دنیا کے معاشی معاملات کی بالکل بھی آگہی نہیں ہے۔ اور وہ دنیاوی حقائق سے بھی بہت دور ہیں۔ مسلمانوں کو اس بارے میں بنیادی معلومات ہونی چاہئیں۔

کتاب روشن مسکراتی ہے اور آیات جھلملاتی ہیں۔ اور آنکھ اس نشانی پر جا رکتی ہے جہاں وعدہ موجود ہے۔ بے شک اللہ کسی قوم کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنے آپ کو نہیں تبدیل کرتی۔ (سورت رعد۔ آیت 11 جزوی)

Facebook Comments HS