نو من تیل اور رادھا کا ناچ!
اس نوجوان کی عمر 18، 19 سال تھی، قد درمیانہ اور رنگ گورا ہی گورا۔ اس نے سیاہ رنگ کی عینک اور کانوں میں ہیڈ فون لگا رکھا تھا۔ میں نے اُسے شہر کے اندر چلنے والی ٹرام میں چڑھتے دیکھا، وہ ساتھ ساتھ ایک عدد سائیکل کو ٹرام پر سوار کر رہا تھا۔ سائیکل کو ٹرام کے اندر لانا مجھے کچھ عجیب سا لگا، غالباً اس لیے کہ میں یہ منظر پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ سائیکل ٹرام کی ایک جانب کھڑی کر کے وہ دوبارہ باہر نکل گیا، اِسی دوران ٹرام چل پڑی۔
جونہی ٹرام چلی وہ باہر والے دروازے کے پاس ایک اور سائیکل لے کر پہنچ چکا تھا۔ تاہم ٹرام کا خود کار دروازہ بند ہو چکا تھا اور ٹرام نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیا تھا۔ میرے سمیت چند اور سواریوں نے اُس کا واپس سوار نہ ہو سکنا دیکھا تھا اور بے بسی کا اظہار کیا تھا کیونکہ ٹرام کا نظام کمپیوٹرائزڈ تھا۔ ایک خاتون بڑی بے تابی سے ڈرائیور کے کیبن تک بھاگتی ہوئی گئی اور اس نے ڈرائیور کو اس صورتِ حال سے مطّلع کیا مگر جب واپس آئی تو بے بسی اُس پر بھی طاری تھی۔
چند لمحے گزرے تھے کہ میں یہ سب کچھ بھول چکا تھا اور اپنے کاموں کو ذہنی طور پر ترتیب دینے میں مصروف ہو چکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ٹرام کا اگلا اسٹیشن آ گیا، حسبِ معمول سواریاں اترنے اور چڑھنے لگیں، پھر اچانک میں نے دیکھا کہ وہی نوجوان اپنی دوسری سائیکل لیے، سیاہ چشمہ اور ہیڈ فون لگائے نہایت اطمینان کے ساتھ ٹرام پر سوار ہو رہا تھا، تاہم اس بار اُس میں پہلے سے زیادہ برق رفتاری تھی۔ یہ نوجوان میری توجہ کا مرکز بن گیا اور اس کی حرکات و سکنات، ہیڈ فون پر جرمن زبان میں گفتگو اور اپنی دونوں سائیکلوں کی حفاظت کرنے کے انداز کو غور سے دیکھتا رہا۔
دو تین سٹیشن گزرنے کے بعد جب ٹرام ایک جگہ رکی تو اُس نے نہایت تیز رفتاری سے پہلے ایک سائیکل اتاری، جست لگا کر واپس آیا اور دوسری سائیکل پکڑ کر ٹرام سے اُتر گیا۔ میں نے دیکھا کہ دونوں سائیکلیں اُتر چکیں تھیں اور وہ آرام سے اُسی اسٹیشن پر، غالباً کسی کے انتظار میں، کھڑا ہو گیا تھا جبکہ ٹرام کو چلنے میں ابھی بھی کچھ وقت باقی تھا!
ٹرام کی رفتار سائیکل سے تیز ہوتی ہے، پھر یہ نوجوان کس طرح ٹرام تک پہنچ گیا؟ اس کا جواب سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ کام بڑی ہّمت سے، پورا زور لگا کر، پٹری کے قریب رہتے ہوئے، کسی سچے جذبے کے تحت مسلسل سائیکل چلاتے ہوئے سر انجام دیا ہو گا!
میں نے یہ واقعہ جرمنی میں دیکھا تھا۔ اس معمولی واقعے پر سوچتے سوچتے میرے سامنے ایک اور منظرنامہ آ گیا کہ اگر یہ صورتِ حال میرے وطن میں کسی نوجوان کو پیش آئی ہوتی تو وہ کیا کرتا؟ پہلے تو وہ خوب شور مچا مچا کر ٹرام کو روکنے کی کوشش کرتا اور دیگر لوگوں سے دہائی دے دے کر مدد مانگتا، جب اِس کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلتا تو ٹرام کا نظام بنانے اور چلانے والوں کو گلا پھاڑ پھاڑ کر خوب گالیاں دینے لگتا اور ہمّت کر کے ایک آدھ پتھر اٹھا کر ٹرام پر دے مارتا اور اُن میں سے کوئی ایک شاید لگ بھی جاتا اور وہ پھر وہیں رونے دھونے بیٹھ جاتا۔
بہت سے لوگ اُس کے اِرد گرد اکٹھے ہو جاتے، کچھ اُس سے ہمدردی کا اظہار کرتے، کچھ اُسی کی طرح گالیاں دیتے، کچھ اس کی اس صورتِ حال کو اس کے کسی کَرن کا نتیجہ قرار دے رہے ہوتے، جبکہ کچھ اس بات پر افسوس کرتے کہ پتہ نہیں اب اُس کی سائیکل ملے گی بھی یا نہیں اور یوں جو وقت ہمّت دکھانے، دوڑ لگانے، زور لگانے اور جذبے کو حصولِ مقصد کے لئے استعمال کرنے کا تھا وہ ضائع ہوجاتا۔ یہی نہیں بلکہ وہ کئی دن تک اس واقعے پر اپنی طاقت اور صلاحیت کو منفی انداز میں صرف کرتا رہتا۔
ایک ہی طرح کے واقعے کے یہ دو مختلف منظر نامے کیوں ہیں؟ میں نہ تو جرمنی کے نوجوان کو مکمّل کریڈٹ دوں گا اور نہ ہی اپنے وطن کے نوجوان کو پورا الزام، کیونکہ جرمنی کے نوجوان کو سوچنے کا یہ انداز، اپنی صلاحیتوں پر بھر پور اعتماد، برق رفتاری، خودی اور بر وقت درست سمت میں قدم اٹھانے کی تربیت اور ما حول کس نے دیا؟ اور ہمارے نوجوان کو خود سوزی، پست ہمّتی، بے سمتی اور بے مقصدیت کی کھائی میں کون کون سے مادّی، معاشی، سیاسی، تعلیمی، مذہبی، مفادات دھکیل رہے ہیں؟
ان سب عوامل اور وجوہات کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہی ہیں۔ تاہم یہاں ایک اُلجھن بھی ہے کہ کیا واقعی نوجوان رادھا کی مانند ہوتا ہے کہ جب تک نو من تیل نہ ہو وہ ناچے گا/ ناچے گی نہیں؟
نوجوان بھر پور جذبے، قوّتِ ارادی، طاقت، مستقبل بینی اور بے شمار صلاحیتوں کے ارتکاز کا نام ہے اور اگر اِس نوجوان کو شعور اور تعلیم بھی میسّر ہو تو وہ سونے پر سہاگہ ہوتی ہے اور اُسے چار چاند لگا دیتی ہے۔ اگر ہمارا نوجوان اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کے ادراک کی طرف تو جہ دے، قوّتِ ارادی کو اُستاد کرے، ربّ کی طرف سے عطا کردہ بے شمار قابلیتوں کی بنیاد پر اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرے اور پست ہمّتی پیدا کرنے والے ارد گرد میں پائے جانے والے اسباب کو ضرورت سے زیادہ اہمّیت نہ دے تو وہ جرمنی کے اُس نوجوان کی مانند بغیر نو من تیل کے اپنے جوہر کے بل بوتے پر اپنا پنوں اور اپنے ملک کا نام روشن کر سکتا ہے۔ ان حالات میں تو اس کی سوچ ہی نو من تیل ہو سکتی ہے۔

