موت، محبت اور مزاحمت کی نظمیں
مجھے لاہور کے دانشور اور سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے ایک ادبی تحفہ بھیجا ہے جو ساری دنیا کے مختلف ممالک کے بیس شاعروں کی ساٹھ نظموں پر مشتمل ہے۔
ان نظموں کے مجموعے کو پاکستان کی شاعرہ رمشا اشرف نے مرتب کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے دو ہزار سترہ میں لکھاریوں کے بین الاقوامی پروگرام میں خود بھی شرکت کی تھی اور اس اینتھالوجی میں ان کی اپنی معنی خیز نظمیں بھی شامل ہیں۔
اس مجموعے کی نظمیں موت ’محبت اور مزاحمت کی نظمیں ہیں۔ میں نے ان ساٹھ نظموں میں سے چار نظموں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے تا کہ اردو پڑھنے والے بھی اس ادبی تحفے اور تخلیقی بفے کا کچھ ذائقہ چکھ سکیں اور جان سکیں کہ کرہ ارض کے دوسرے خطوں میں بسنے والے شاعر اور دانشور کس انداز سے سوچتے اور لکھتے ہیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ آپ کو میری یہ عاجزانہ کوشش پسند آئے گی۔
خالد سہیل
کینیڈا
1۔ اپنی بیٹی کا نام
شاعر: کرمن یوریبے ہسپانیہ
ترجمہ: خالد سہیل
۔ ۔
رڈ یارڈ کپلنگ کی تخلیق ’اگر‘ سے متاثر ہو کر
جو انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے لکھی تھی۔
۔ ۔
کسی کو بھی
اپنے سے بہتر و برتر نہ سمجھنا
خاص طور پر اگر وہ مرد ہو
اپنی عزت نفس کا ہمیشہ خیال رکھنا
یاد رکھنا
انسان محنت سے عزت پاتا ہے
اپنی روزی روٹی خود کمانا
تا کہ تم کسی کی دست نگر نہ ہو
کسی کی حاکمیت قبول نہ کرنا
وہ تمہارا استحصال کرے گا
محروموں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہنا
سادہ لوحوں کی طرح خواب دیکھنا
ایسے لوگ ہی دنیا بدلتے ہیں
عظیم خواب لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں
خود بھی زندہ رہنا اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے دینا
ہر انسان کے اپنے تجربات اور اعتقادات ہوتے ہیں
ان کا احترام کرنا
چاہے وہ تمہارے خلاف ہی کیوں نہ جاتے ہوں
اس کی مدد کرنا جسے اس مدد کی ضرورت ہو
اپنے گھر کے دروازے مہمانوں کے لیے کھلے رکھنا
لوگوں کے نظریات کا احترام کرنا
اپنی مادری زبان کی حفاظت کرنا
یہ صرف تمہاری ہی نہیں
یہ ساری دنیا کا قیمتی اجتماعی ورثہ ہے
زندگی کو بھی قبول کرنا
اور موت کو بھی
موت کو قبول کرنا زندگی کا سب سے مشکل کام ہے
نئی خوشیوں کے لیے دل کا دروازہ کھلا رکھنا
رنگ نسل اور صنف سے بالا تر ہو کر
لوگوں سے محبت کرنا
جو کام تم نہیں کرنا چاہتی
اس سے انکار کر دینا
نا انصافی تفریق اور تعصب
کا کبھی ساتھ نہ دینا
انسانی حقوق کا احترام کرنا
اگر تم چاہو اور بن سکتی ہو تو
ماں بن جانا
تمہارے بچے تمہیں عاجزی و انکساری سکھائیں گے
اگر ماں نہیں بن سکتی تو پھر بھی
اپنی زندگی بھرپور طریقے سے گزارنا
شہروں سے محبت کرنا
ویرانوں کو بھی دل کے قریب رکھنا
اپنے دل میں ابھرنے والی ہر خواہش کا احترام کرنا
اگر کبھی خوف زدہ محسوس کرو
تو اس خوف کو بھی گلے لگانا
اگر تم افسردہ محسوس کرو
تو اس افسردگی سے بھی ہاتھ ملانا
ہم ہر وقت خوش نہیں رہ سکتے
ہم ہر لمحے بہادر نہیں بن سکتے
جو شخص بھی تمہارے قریب آئے
اس کی بات غور سے سننا
اس طرح تم دانائی حاصل کرو گی
بچوں کی باتیں غور سے سننا
اور بزرگوں کی بھی
جو تم ہو اسی طرح دکھنا
اپنے سچ کا برملا اظہار کرنا
چاہے اس سے تمہارا ہمسایہ ناراض ہی کیوں نہ ہو جائے
اپنی غلطیوں سے نہ ڈرنا
انسان اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھتا ہے
جو شخص ہر کام ہر وقت درست کرتا ہے
اس کا غرور و تکبر اسے اندھا بنا دیتا ہے
زندگی کی عظمت پر دھیان دینا
اور
زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنا
عجلت سے پرہیز کرنا
لمحہ موجود میں زندہ رہنا سیکھنا
تفاصیل کو نظر انداز نہ کرنا
اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا
یاد رکھنا تم ہی اپنی زندگی کا مرکز ہو
اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کرنا
کسی کو اجازت نہ دینا کہ وہ
تمہارے خوابوں کے شیش محل چکنا چور کر دے
اور اب آخری نصیحت
کسی کی نصیحت پر عمل نہ کرنا
چاہے وہ میری ہی کیوں نہ ہو

2۔ لاوا درویش کی نظمیں
تخلیق : لاوا درویش: عراق
ترجمہ: خالد سہیل
۔ ۔ ۔
یہ نظمیں
اس قوم کی نظمیں ہیں
جو زندہ رہنے کے لیے مرتی رہتی ہے
یہ نظمیں
ان بچیوں کی نظمیں ہیں
جنہیں محبت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے
یہ نظمیں
ان باپوں کی نظمیں ہیں
جو اپنی بیٹیوں سے محبت کرنے اور کروانے کے لیے
انہیں قتل کر دیتے ہیں
یہ نظمیں
ان ماؤں کی نظمیں ہیں
جو اپنے بیٹوں کے جنازوں میں شریک ہوتی ہیں
یہ نظمیں
اس قوم کی نظمیں ہیں
جو حرف انکار پر فخر کرتی ہے
امن کی خاطر جنگ لڑتی ہے
یہ نظمیں
محبت کی نظمیں ہیں
تاکہ دنیا سے نفرت کا خاتمہ ہو جائے
یہ نظمیں
ان شہیدوں کی نظمیں ہیں
جن کی کہانیاں
سو سال پیشتر
تاریخ کی بوسیدہ کتابوں میں گم ہو گئی تھیں
یہ نظمیں
مختصر ترین الفاظ میں تاریخ لکھنے کی کوشش کرتی ہیں
یہ نظمیں
زندگی میں چھپی زندگی
کی کہانی رقم کرتی ہیں
3۔ ایک نظر
تخلیق : ولادمیر مارٹینوسکی
ماسی ڈونیا
ترجمہ : خالد سہیل
۔ ۔ ۔
اپنی موت سے چند سال پیشتر
میرے نانا
ایک صبح
اچانک گھر سے غائب ہو گئے
ہم نے انہیں ہر جگہ ڈھونڈا
رشتہ داروں سے پوچھا
بازاروں میں جا کر دیکھا
پارکوں میں تلاش کیا
ان کے دوستوں سے پوچھا
کسی کو ان کی کوئی خبر نہ تھی
اگلے دن
وہ لوٹے تو مسکرا رہے تھے
پتہ چلا
وہ ایک بس پر چڑھ گئے تھے
دس گھنٹوں کا سفر کر کے
ڈوبروونک پہنچے تھے
وہاں انہوں نے دو تین گھنٹے گزارے تھے
پھر وہ
ایک اور بس پر سوار ہو گئے تھے
اور دس گھنٹوں کا سفر کر کے
لوٹ آئے تھے
ہم نے بار بار پوچھا
آپ نے دو تین گھنٹوں کے قیام میں
کیا کیا تھا؟
کہنے لگے
میں سمندر کو
ایک دفعہ پھر دیکھنا چاہتا تھا

4۔ وصل کی معراج
تخلیق: فاطنہ الگورا۔ بیلجیم
انگریزی ترجمہ: کلیر جیکب سن
انگریزی سے اردو ترجمہ: خالد سہیل
(1)
جب موت مجھ سے ملنے آئے گی
میں اس کا ایسے استقبال کروں گی
جیسے ایک محبوبہ اپنے محبوب کا خیر مقدم کرتی ہے
میں اپنے گھر میں شمعیں جلاؤں گی
خواب گاہ کے پردے گرا دوں گی
تا کہ باہر سے کوئی نہ جھانک سکے
میں اپنے سراپا کو
نرمی اور شرارت سے غسل دوں گی
اسے خوشبو سے معطر کروں گی
پھر اس پر
تیل سے ہلکی سی مالش کروں گی
شب خوابی کا مخملیں لباس زیب تن کروں گی
دل گداز موسیقی لگاؤں گی
اور
اس کے زندگی سے بھرپور
پیار بھرے بوسے کا انتظار کروں گی

(2)
جب موت مجھ سے ملنے آئے گی
میں اس کا ایک ویشیا کی طرح استقبال کروں گی
اپنے کمرے کو شوخ سرخ رنگوں سے سجاؤں گی
جسم پر تیل کی مالش کروں گی
ان مردوں کی یاد کو
ذہن سے محو کرنے کی کوشش کروں گی
جو لوٹ کر نہیں آئے
سستی خوشبو استعمال کروں گی
راہداری میں
اپنے ماضی کے تجربوں اور بازاری حربوں سے لیس
کھڑی ہو جاؤں گی
تا کہ
جونہی وہ میرے گھر میں داخل ہو
میں اسے اپنی خواب گاہ میں لے آؤں
اس کی پتلون کی زپ کھولوں
اور
وقت ضائع کیے بغیر
اپنا کام شروع کر دوں
(3)
میں موت کا انتظار کروں گی
ایک ایسی بیوی کی طرح
جو جمعے کی شام
باورچی خانہ صاف کرتی ہے
بچوں کی بکھری چیزیں ٹھکانے لگاتی ہے
پھر نہاتی ہے
بے دلی سے
آنکھوں میں کاجل
اور
ہونٹوں پر لپ سٹک لگاتی ہے
ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنتی ہے
اور اپنے بستر پر لیٹ جاتی ہے
تا کہ
وقت آنے پر
اپنا فرض ادا کر سکے
(4)
میں موت کا انتظار کروں گی
ایک راہبہ کی طرح
میں کمرے میں مقدس لوبان جلاؤں گی
تا کہ چاروں طرف
اتنی پاک اور پرسکون خوشبو پھیل سکے
کہ کسی اور چیز کی کوئی جگہ نہ بچے
پھر میں
قربانی کے تخت پر
تابع فرمان اور تابعدار بن کر
تصوراتی خوشی سے سرشار ہو کر
تمام شکوک و شبہات کو دل سے نکال کر
ایسے لیٹ جاؤں گی
جیسے مجھے کبھی
کسی مرد کی قربت نصیب ہی نہ ہوئی ہو
تا کہ وقت آنے پر
اس کی خدمت میں وہ چیز پیش کر سکوں
جس کا وہ حقدار ہے
(5)
میں موت کا ایسے استقبال کروں گی
جیسے ایک رکھیل
اپنے محبوب کا انتظار کرتی ہے
اپنی کھڑکی پر اس کی دستک کی راہ تکتی ہے
اس کے لیے اس کی پسند کا
شراب کا گلاس
سگریٹ کی ڈبیہ
رومانوی گانے اور وڈیو
تلاش کرتی ہے
تا کہ جب وہ ملیں
اور مل کر
موسیقی سنیں اور وڈیو دیکھیں
تو اتنا زور زور سے ہنسیں
کہ ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ جائیں
پھر وہ مسرت کی دھن پر
مل کر رقص کریں
اور ان کی انگلیاں
دھیرے دھیرے
ایک دوسرے کی سرشاری میں کھو جائیں
۔ ۔ ۔


