آنکھ دھندلائی ہوئی تھی، شہر دھندلایا نہ تھا


 وطن سے نکلنا خواہش، ضرورت یا مجبوری کے تحت ہوتا ہے مگر وطن کو مراجعت کا کچوکا پردیسی ہو جانے والے ہر فرد کو ٹیس پہنچاتا رہتا ہے۔ بڑھاپا اور ناستلجیا مراجعت کرنے کی جانب راغب کرتے ہیں۔ پھر سے اپنوں اور اپنوں جیسوں میں بس جانے کی آرزو بھی دور دیس میں بسنے والوں کو مراجعت کی جانب اکساتی ہے۔ پردیس میں کام نہ ملنے کی مجبوری اپنے وطن میں جا کر کام کرنے کی انگیخت بن سکتی ہے۔

کچھ ایسا میرے ساتھ بھی ہوا کہ ریڈیو کی اردو سروس بند ہو گئی۔ دو ہی کام آتے ہیں لکھنا پڑھنا بولنا یا اگر ہمت کی جائے تو مریض دیکھنا اور ان کا معالجہ کرنا۔ یہ نہیں کہ دوسرے کام کوئی بہت ادق ہیں بس اتنا ہے کہ عمر کے ہر حصے کے معاملات اپنے ہوتے ہیں۔

ماسکو میں کام تمام ہو جانے کے بعد کا موسم گرما یہیں پر بسر کیا اور سات ستمبر کو کیونکہ جلد ہی عیدالاضحٰی تھی وطن روانہ ہو گیا۔ پچیس برس سرد ملک میں قیام کے دوران پہلی بار 1992 کی گرمیوں میں گیا تھا۔ کراچی کے پوائی اڈے سے باہر نکلتے ہی اختلاج قلب ہونے لگا تھا چنانچہ طے کرلیا تھا کہ گرمیوں میں وطن کا رخ نہیں کروں گا۔ اس بار سوچا تھا کہ جاتی گرمی ہے ہفتہ دس روز میں تمام ہونے لگے گی لیکن اللہ کی پناہ گرمی کی تو عمر ہی طویل ہو چکی ہے یوں پہلے دو ماہ تو قریباً گرمی سے بچنے کی نذر ہو گئے۔ دوسرے دو ماہ ملنے ملانے اور ادبی میلے اور ادبی کانفرنسیں بھگتانے میں کٹ گئے، قیام کا باقی دورانیہ یہ سوچتے سوچتے گذر گیا کہ مزید رہا جائے یا لوٹ جایا جائے یعنی دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں قسم کا معاملہ رہا۔ واپسی کا ٹکٹ 30 جون کا تھا جس کی منطق "آم خوری” کی خواہش کی تکمیل تھی لیکن وطن کے سونے سے کان چرنے لگے تھے چنانچہ بالآخر دس ہزار روپے مزید دے کر 19 مارچ کو رخت سفر باندھ لینے کا اہتمام کیا۔

وطن کو مراجعت کی گود میں اپنی اور وطن دونوں کی خدمت کے نونہال ہمکتے تھے۔ جانے سے پہلے سوچا تھا کہ پہلے تو میڈیا میں کام ڈھونڈنے کی سعی کی جائے گی دوسری ترجیح بڑے شہر میں "فیمیلی کنسلٹیشن” دیے جانے کو دی جائے گی اور تیسری اور آخری ترجیح نجی مطب کھولنا ہوگی۔

وطن پہنچنے کے دوچار روز بعد ہی ٹاک شوز میں شرکت کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا لیکن یہ بلا معاوضہ تھا۔ اس پر دوست عزیز وجاہت مسعود نے کہا تھا کہ ہم سیاستدان تھوڑا ہیں، جن کی ٹاک شوز میں شرکت سے مشہوری ہوتی ہو۔ ہم تو صحافی ہیں ہمیں تو معاوضہ چاہیے۔

میں ایک ڈائیلاگ شو کرنا چاہتا تھا مگر ادھر ادھر جہاں کہیں بات ہوئی وہاں ٹاک شوز کا فارمیٹ تبدیل کرنے کا رجحان مفقود پایا۔ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں پچاس کے اوپر کے اگر کچھ اینکر پرسن ہیں وہ دراصل وہ لوگ ہیں جو چینل شروع کیے جانے سے پہلے ان کے مالکان کے اخبارات میں کام کیا کرتے تھے اور بیشتر اپنے مالکان کے منظور نظر تھے۔ میں نے زندگی بھر کسی سیٹھ کے لیے کام نہیں کیا اس لیے کھل کر بات بڑھانے سے گریز کرتا رہا، دوسرے چینلوں پر تازہ رجحان ہے کہ مسلسل بول سکنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو بطور اینکر پرسن لیا جاتا ہے چاہے ان کی معلومات کتنی ہی کم اور ناقص کیوں نہ ہوں۔ چنانچہ خواہش کی یہ کونپل کھلنے سے پہلے مرجھا گئی۔

وضعداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں نے ایک بار ایک اخبار کے مالک سے پاکستان کے محترم ترین مدیر کے بارے میں سنا تھا،” اس نے کیا چھوڑنا تھا، میں نے اسے نکال دیا تھا” اس لیے کسی سے کوئی بات کی ہی نہیں بس معلومات لیں۔ پتہ چلا کہ شروعات اتنے کم مشاہرے سے کی جاتی ہیں کہ وہ رقم ایک ماہ ٹیکسیوں کے اخراجات پورے کرنے سے کچھ ہی زیادہ ہوتی ہے۔ چلو یہ دروازہ بھی بند ہوا۔

 "فیمیلی کنسلٹینسی” دراصل پاکستان کی عورتوں اور مردوں کو آپس کے "انسانی” تعلقات سمجھانے کا پیشہ ورانہ نام ہے۔ رہائش اور کنسلٹیشن آفس کے لیے مثال کے طور پر لاہور کے کسی مناسب علاقے میں اگر درمیانے حجم کی عمارت کرائے پر لی جائے تو اسی ہزار سے ڈیڑھ لاکھ ماہانہ پر ملتی ہے۔ چھ ماہ کا ایڈوانس، تین ماہ کا کرایہ بطور سیکیورٹی اور تزئین و آرائش علیحدہ یعنی نو لاکھ سے پندرہ لاکھ مالک مکان کے حوالے کرکے چھ ماہ اپنے کھانے کے لیے بھی پاس ہو تو امید کی جا سکتی ہے کہ کام چل نکلے۔ چیل کے گھونسلے میں ماس ہے لیکن اتنا نہیں۔ چل، چناں، اس آرزو کو بھی چلتا کر۔

شخصی مطب کھولا جا سکتا تھا لیکن اپنے آبائی قصبے میں۔ آمدنی بھی ہو جاتی، انٹرنیٹ موجود ہے، لکھنا لکھانا بھی چلتا رہتا لیکن سوچا پہلے شخصی مطب کر کر کے کیا بنایا تھا جو اب بنا لو گے۔ پھر پچیس برس بھی تو گذر گئے ہیں۔ علم ریفریش کرنا ہوگا۔ کون اس جھنجھٹ میں پڑے واپس چلتے ہیں، من کھوٹے نے سوچنا شروع کر دیا تھا۔

پچیس برس ایک صدی کا ایک چوتھائی بنتا ہے۔ انسان کی عمر کا ایک بڑا حصہ۔ لوگوں میں اور لوگوں کے رویوں میں بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ میرے ہم عمر یا تو خوشحال ہو کر ریٹائر زندگی گذار رہے ہیں ہیں یا اگر کچھ کرتے ہیں تو بس کرنے کے لیے۔ انہوں نے اتنا مال و منال اکٹھا کر لیا ہے کہ آئے آئے نہ آئے تو کھسما نوں کھائے۔ بچے پڑھ گئے ہیں، خوب کمانے لگے ہیں۔ یا کچھ ایسے ہیں جو دنیا تیاگ بیٹھے ہیں اور کچھ دنیا سے منہ موڑ گئے ہیں۔ اپنا ایک ہی بڑا بچہ ہے اپنی طرح ڈانواڈول۔ لچھن بھی کچھ اچھے نہیں صبح کو سونا، شام کو اٹھ کر دھیرے دھیرے تیار ہونا اور جم چلانے لاہور نکل جانا۔ جو کمایا وہ کرائے اور آنے جانے میں اڑا دیا۔

پاکستان میں لوگوں کو کسی کو انکار کرنا نہیں آتا۔ اقرار کرکے کچھ کام کہنے والے کو لٹکائے رکھیں گے۔ شروع میں ایسے باتیں بنائیں گے جیسے ان سے بڑا آپ کا کوئی ہمدرد اور ساتھی نہیں ہے لیکن آخر میں نتیجہ یہی نکلے گا کہ آپ کا فائدہ تو ہوتا رہے گا پہلے ان کا رانجھا راضی ہونا چاہیے۔ کسی کام سے انکار کرنے کو اخلاقیات کے خلاف سمجھتے ہیں اور ٹرک کی سرخ بتی کے پیچھے لگائے رکھنے کو اخلاقیات کے عین مطابق۔

پاکستان میں مفت مشورے دینے کا بھی بہت رواج ہے اور پیار سے پھٹکارنے کا بھی کہ اتنے سال سے باہر ہو کوئی پاکستان میں گھر ہی بنا لیا ہوتا۔ اپنے لیے نہ سہی، بچوں کے لیے ہی بنا دیا ہوتا۔ ایسی باتیں کرنے پر مجھے اپنے ایک دوست ٹریڈ یونین رہنما ملک انور یاد آتے تھے۔ ان کے پاس ایک روز ایک مزدور ساتھی آیا، کہنے لگا ،”ملک صاحب بڑا مسئلہ ہے گھر نہیں بن رہا”۔ ملک بولا،” اس میں کیا مشکل ہے، چلتے ہیں سیمنٹ ۔ سریا اور اینٹیں لے آتے ہیں اور گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں”۔ "ملک صاحب یہ سب لانے کے لیے پیسے تو ہیں نہیں”۔ اس پر ملک نے استہزائیہ انداز میں کہا تھا "تو یوں بولو ناں بھائی کہ پیسے نہ ہونا بڑا مسئلہ ہے”۔۔۔۔ مشورہ دینے میں پیسے تھوڑا نا لگتے ہیں چنانچہ سب دیے چلے جاتے ہیں۔

بھلا ہو سابقہ اہلیہ کا کہ اس نے جوانمردی کے ساتھ میرا اپنے ہاں رہنا بڑی خوش اسلوبی سے برداشت کیا۔ اگرچہ اس کے حالات بھی کوئی اتنے اچھے نہیں لیکن اس نے مجھے علیحدہ کمرہ دینے سے لے کر کھانے پینے وغیرہ تک سب معاملات کا خاص خیال رکھا۔ اللہ بہو کو بھی خوش رکھے کہ خدمت بجا لاتی رہی۔ پوتے کو صحت دے کہ طمانیت کا موجب بنا۔

جہاں نہ بجلی ہو نہ گیس وہاں گرمیاں کاٹنا ہیبت ناک لگتا تھا۔ ساتھ ہی اگر لوگوں کے رویے بھی سہنے پڑیں تو فشار خون بڑھنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے چنانچہ ہم ماسکو کی اپنی کوٹھڑی میں واپس آ گئے، اپنے لوگوں کے بیچ کیونکہ پاکستان میں اپنے تو ہیں مگر اپنے جیسے عنقا ہو چکے ہیں۔

 محفلِ اہلِ و فا میں ہر طرح کے لوگ تھے

یا تیرے جیسا نہیں تھا یا میرے جیسا نہ تھا

Facebook Comments HS