ملک میں سیاسی ابتری
ملک کے تمام غیر جانب دار سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 8 جنوری کے انتخابات میں تحریک انصاف نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن پہلے ہی فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ عمران خان کو کسی صورت حکومت نہیں دی جائے گی۔ اس لیے فارم 47 کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو جعلی مینڈیٹ دے کر حکومت بنا دی گئی۔ تب سے تحریک انصاف احتجاج کر رہی ہے، لیکن اس کے احتجاج کو مسلسل طاقت کے زور پر بے اثر کیا جا رہا ہے۔
ہمارے کچھ دوست ملک میں ہونے والے ہر جرم کا الزام عمران خان پر ڈالتے ہیں کہ وہ کوئی جمہوری رہنما نہیں، جو کچھ اس نے کیا وہ بھگت رہا ہے۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ عمران خان سے یہ سب کچھ کروایا گیا تھا۔ عمران خان کے اپنے بیانات موجود ہیں جن میں وہ کہتا ہے کہ ”میں سیاست کیوں کروں گا، میں پاگل ہوں؟“ اس کے باوجود ملک میں جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے عمران خان کو سیاست میں لایا گیا۔ تمام اداروں میں عمران خان کے حامی لوگوں کو لایا گیا، اور جو مخالفت کرتا رہا، اسے جسٹس شوکت صدیقی کی طرح گھر بھیج دیا گیا۔
عمران خان کو یہ باور کرایا گیا کہ حکمران سب چور اور ڈاکو ہیں، اس لیے وہ میدان میں اترے، اور اس کے لیے میدان صاف کیا گیا۔ عمران خان کو 10 سے 15 سال کا منصوبہ دیا گیا کہ وہ حکومت کریں گے اور ملک میں جمہوریت کو ختم کر کے صدارتی نظام نافذ کریں گے۔ لیکن یہ منصوبہ اس وقت ناکام ہوا جب سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔
اختلافات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے۔ اس کے بعد عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اور عمران خان کو ملنے والی حمایت واپس لے لی گئی۔ ایم کیو ایم کو اشارہ دیا گیا، اور انہوں نے فوری طور پر عمران خان کی حمایت چھوڑ دی، جس سے عدم اعتماد کامیاب ہوا اور عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی۔
کچھ عرصے بعد فوج کی قیادت بھی تبدیل ہو گئی، اور عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے مکمل طور پر الگ کر دیا۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے لیے میدان صاف ہو گیا۔ نواز شریف، جنہیں چور کہا جا رہا تھا اور جن پر سیاست کرنے پر تاحیات پابندی تھی، کو واپس لایا گیا اور ان کے تمام کیسز ختم کر دیے گئے۔ آج نواز شریف ملک کے محب وطن لیڈر ہیں، جبکہ عمران خان ملک دشمن قرار دیے جا رہے ہیں، حالانکہ انہیں ملک کی اعلیٰ عدالت نے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
اس وقت وزیرِ اعظم شہباز شریف ہیں، لیکن پردے کے پیچھے حکومت کوئی اور کر رہا ہے۔ بظاہر 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد حکومت مضبوط نظر آتی ہے، لیکن ملک میں سیاسی استحکام نہیں۔ دو دن پہلے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خود کہا تھا کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہو گا، معاشی استحکام نہیں آئے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوگی۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی خبریں آ رہی ہیں، لیکن حقیقت میں حکومت ان مذاکرات میں کبھی سنجیدہ نہیں ہوگی۔ عمران خان کی آزادی کے حوالے سے بات ہوگی، جو حکومت کے لیے ناقابل قبول ہے۔ تحریک انصاف مطالبہ کر سکتی ہے کہ انتخابات کا آڈٹ کرایا جائے، جو حکومت کے لیے ناممکن ہے۔
اگر انتخابات کا آڈٹ ہوا تو مسلم لیگ (ن) کی 18 سے 20 سیٹیں نکلیں گی، اور تحریک انصاف انتخابات جیت سکتی ہے۔ اسی طرح اگر جائز مخصوص نشستیں بھی تحریک انصاف کو دی گئیں تو مسلم لیگ (ن) حکومت نہیں کر سکے گی۔
خیبرپختونخوا کے کچھ اضلاع میں رات کو طالبان کا راج ہوتا ہے، جبکہ بلوچستان میں روزانہ جوانوں کی شہادتوں کی خبریں آتی ہیں۔ پنجاب میں شدت پسند عناصر کی سرگرمیاں اور اقلیتوں کے خلاف حملے بڑھ گئے ہیں۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، لیکن وہاں بھی مسائل ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے سندھ کے دریاؤں پر کینال بنانے کا منصوبہ وہاں کی عوام میں بے چینی پیدا کر رہا ہے۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال جمہوریت کے کمزور ہونے کا ثبوت ہے۔ جب تک تمام صوبوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے اور جمہوری اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا، نہ سیاسی استحکام آئے گا اور نہ معاشی استحکام ممکن ہو گا۔


