علم کے ساتھ اخلاص بھی ضروری ہے
آج جمعہ کے خطبے میں امام صاحب فرمانے لگے ”صرف علم کافی نہیں ہوتا۔ علم کے ساتھ عمل اور اخلاص کا ہونا بھی ضروری ہے، تب کوئی عالم بن سکتا ہے۔“ میں سوچنے لگا کہ ہمارے مسائل میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ کتنے ہی علم والوں کے پاس درست عمل نہیں، اخلاص نہیں۔ اور کتنے ہی عمل و اخلاص والے لوگ ہیں جن کے پاس درست علم نہیں۔ کتنے اساتذہ ہیں جو علم ہوتے ہوئے اس کو آگے بانٹ نہیں پاتے کیوں کہ ان کے عمل میں کمی رہ جاتی ہے، ان کی نیت میں خلوص نہیں ہوتا۔ کتنے ہی علماء ہیں جن کے پاس علم تو بہت ہے لیکن ان کے عمل ٹھیک نہیں ہوتے، ان کے کاموں میں نیک نیتی نہیں ہوتی۔
کتنے ہی فلاحی کام کرنے والے نامور لوگ ہیں جن کی نیت ٹھیک ہوتی ہے، کوشش پوری ہوتی ہے لیکن وہ درست علم نہیں رکھتے ہوتے اور ساری محنت کے باوجود وہ کسی کا ٹھیک سے بھلا نہیں کر پاتے، اپنے فلاحی کاموں کا صلہ نہیں پاتے۔ جیسے کوئی ریچھ مکھی مارنے کے لیے پتھر سے اپنے مالک کا سر کچل دے، اس نے کوشش تو پوری کی ہو گی لیکن اس کا عمل درست نہیں ہو گا کیونکہ اس کے علم میں کمی تھی، اسے مکھی اڑانے کے درست طریقے کا پتا نہیں تھا۔
ہمیں انفرادی طور پہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ کیا میرے پاس علم ہے؟ اگر ہے تو کیا وہ درست علم ہے؟ اور اگر درست ہے تو کیا میں اس علم کے مطابق عمل کرتا ہوں یا نہیں۔ اگر کرتا ہوں تو کیا اس عمل میں میری نیک نیتی، میرا خلوص شامل ہوتا ہے؟ یا میری کوئی غرض، میرا کوئی مفاد میرے عمل کو اپنے مطابق موڑ لیتا ہے۔ کوئی لالچ میرے علم یا عمل کو مجروح تو نہیں کرتا؟
اگر ہم خلوص سے کوئی کام کرنا چاہ رہے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ صرف خلوص اور کوشش کافی نہیں، اس کام کے لیے پہلے مطلوبہ علم، اسے کرنے کا طریقہ جاننا بھی ضروری ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہمارے پاس مطلوبہ علم ہے؟ کیا ہم اس کام کو کرنے کے اہل ہیں؟ کیا ہماری نیک نیتی، ہماری کوشش کے ساتھ ہمارے پاس موجود علم درست ہے کہ نہیں۔
ہم کسی بھی معاملے میں شامل ہوں، ہمیں یہ سب پہلو دیکھتے رہنا چاہیے۔ یہ کام چھوٹے ہوں یا بڑے، چاہے ہم سادہ سی بریانی ہی کیوں نہ بنا رہے ہوں، ہمیں سب سے پہلے بریانی بنانے کے طریقے کا علم ہونا چاہیے۔ پھر اس طریقے پہ درست انداز اور صحیح نیت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے تبھی بریانی بن سکے گی، ورنہ تو چوں چوں کا مربہ ہی بنے گا، بریانی نہیں۔
خدا سے دعا ہے کہ علم رکھنے والوں کو درست عمل اور اخلاص کی توفیق دے، ان کے ذاتی مفاد، لالچ ان کے عمل پہ اثرانداز نہ ہو سکیں اور عمل و اخلاص رکھنے والوں کو درست علم عطا کرے، کام کرنے کا درست طریقہ، کوشش کا درست رستہ نصیب کرے۔ جب یہ تینوں چیزیں ملیں گی، تب ہی عام سا انسان بہترین انسان بن سکے گا۔ تب ہی مذہبی طور پہ اس کا سونا جاگنا، کھانا پینا عبادت بن سکے گا۔ اور تب ہی دنیاوی سطح پہ اس کی کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ نکل سکے گا، اس کی محنت کا کوئی میٹھا پھل مل سکے گا۔


