کھچڑی کی دیگ پک گئی ہے، مہمانوں کا انتظار ہے


پاکستان کے سیاسی پارے میں اس قدر شدت آ چکی ہے کہ دسمبر کی سخت سردی بھی اس میں کمی لانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جہاں اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان ایسی سرد جنگ جاری ہے کہ عوام اس کا براہ راست نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک طرف عمران خان سول نافرمانی تحریک سے اسٹیبلشمنٹ کو زیر کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں وہیں اسٹیبلشمنٹ بھی سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی میں چارج شیٹ اور نو مئی کے واقعات میں ملوث قرار دے کر اپنے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔

ان سب حالات سے پہلے رواں سال میں ہونے والی کچھ صورتحال کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ ملک کے نامور تجزیہ کار اور حال ہی میں اسٹیبلشمنٹ کی خبریں لانے والے سہیل وڑائچ صاحب نے ایک کالم لکھا تھا جس کی سرخی تھی کہ، کہیں دور کھچڑی پک رہی ہے۔ ان کی رائے فوج کے اندر سے سخت بیانیے کی طرف تھی لیکن شاید وہی دن تھے جب پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کی قربتیں بھی بہت بڑھ رہی تھیں۔

اپریل میں پشاور میں ایک ایسی پیشرفت ہوئی کہ اس نے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔ کور کمانڈر پشاور نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو کابینہ سمیت افطار ڈنر میں مدعو کیا اور اعلیٰ قیادت کے پیغامات کے ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل کی بھی تیاری کی۔

ماہ رمضان سے شروع ہونے والے اس کھٹے میٹھے تعلقات میں وقت کے ساتھ مضبوطی بھی آتی رہی اور کبھی کبھی گلے شکوے بھی ہوئے لیکن آج تک اس میں کوئی تعطل نہیں آیا ہے۔ بات چیت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ آج مذاکرات کی صورت میں سامنے ہے۔

پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کی بحالی میں بہت دوستوں کی دوستی نے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن جب اس صورتحال کا علم نون لیگی حکومت اور پیپلز پارٹی قیادت کو معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے سیاسی رنگ دکھانے شروع کیے۔ اور بہت سے ایسے مسائل پیدا کیے جن کی وجہ سے حالات نے آج کی سنگین صورتحال کا روپ ڈھال لیا۔

ساری صورتحال میں جہاں سپہ سالار یہ کہتے ہیں کہ فساد فی الارض کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے گا وہی عمران خان بھی بار بار آخری کال یا آخری کارڈ کا کہہ ڈالتے ہیں۔ لیکن ان سب معاملے میں آج بھی اہم کرداروں کا فیصلہ حتمی ہے۔ جہاں تک پاکستان کے لیے کسی بیرونی دباؤ کا معاملہ ہے وہ ایک مختصر سا قصہ ہے۔ اصل کہانی اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان میں ہی ہے۔ لیکن یاد رکھیں اسٹیبلشمٹ اور پی ٹی آئی کی کہانی شروع پشاور سے ہوئی تھی تو اختتام بھی وہیں ہو گا۔

سال دو ہزار پچیس پاکستان کے لیے انتہائی اہم سال ہے جس میں ہم وہ چیزیں ہوتے ہوئے دیکھیں جس کا ہم سوچ تو سکتے ہیں لیکن بیان نہیں کرتے۔ عالمی منظر نامے کی تبدیلی سب سے اہم کردار ہے، چاہے وہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ ہوں یا مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورتحال، سب کے اثرات پاکستان کے حالات پر ضرور پڑیں گے۔ چین، سعودی عرب اور برطانیہ کی جانب سے ایسی ہوائیں چلیں گی کہ پاکستان کے اندر بڑے بڑے برج الٹ پلٹ ہو جائیں گے۔

آخر میں ایک بات ہی کرنی ہے کہ پہلے کہتے تھے دور کہیں کھچڑی پک رہی ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ کہیں کھچڑی پک چکی ہے بس مہمانوں کا انتظار ہے، ویسے دعوت کا اہتمام اور فرائض میزبانی میرے شہر کو نصیب ہو رہی ہے۔ امید ہے تیار کھچڑی کی دیگ سب کو تو نہیں بس اس کے چاہنے والوں کو ضرور پسند آئے گی۔

Facebook Comments HS