فیض حمید کا کورٹ مارشل


 

از مکافات عمل غافل مشو
گندم از گندم بروید جو زجو​

فارسی کا یہ شعر جس کا مختصر مفہوم ہے کہ مکافات عمل سے انسان کو غافل نہیں ہونا چاہیے وہ جو بوئے گا وہی کاٹے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید بھی مکافات عمل کی زد میں ہیں انہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے لیے باضابطہ طور پر چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔ ان پر اہم اور قابل ذکر الزامات سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی متعدد خلاف ورزیاں کرتے ہوئے ریاست کے تحفظ اور مفاد کو نقصان پہنچانا، اختیارات و سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا ہیں۔ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد متعدد وارننگز دی گئیں کہ وہ خود کو سیاسی و دیگر امور جو ادارے اور ریاست کے وقار اور سالمیت کے منافی ہیں، ان سے دور رکھیں۔ لیکن بدقسمتی سے انہوں نے ان وارننگز کو خاطرخواہ اہمیت نہ دی۔ جس کی وجہ سے آج وہ تنہا ہیں۔

اسی لیے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر

فیض کہانی 2017 سے شروع ہوتی ہے کہ جب پہلی دفعہ ان کا ٹی ایل پی دھرنا ختم کرانے والے معاہدے پہ نام لکھا گیا۔ اسی معاہدے پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس وقت کے آرمی چیف کو پابند کیا کہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث جنرل فیض سمیت دیگر آرمی افسران کے خلاف آئین، قانون کی خلاف ورزی اور حلف سے رو گردانی پہ کارروائی کی جائے۔ اسی دور میں جنرل فیض پر 2018 کے قبل از الیکشن اور الیکشن مہم کے دوران سیاسی انتقام، مخالف پارٹی لیڈروں کی ناحق گرفتاریوں اور کھل کر پی ٹی آئی کی حمایت اور مسلم لیگ نون کے نامزد امیدواروں کی سیاسی وفاداریوں کی جبری تبدیلی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی جنرل فیض حمید پر الیکشن کے نتائج میں تبدیلی، آر ٹی ایس، غیر فعال کرانے، پی ٹی آئی حکومت بنوانے کے لیے آزاد امیدواران پہ دباؤ ڈال کر پی ٹی آئی میں شامل کرانے جیسے الزامات لگائے۔ اسی طرح اسمبلی میں قانون سازی کے لیے تعداد پوری کرنے کا الزام بھی لگا اور پھر یہی بات عمران خان نے بھی کنفرم کی کہ جنرل فیض حمید اس سارے عمل کا حصہ رہے اور حکومت کو ہر موقع پر مدد فراہم کرتے رہے۔ اسی عرصے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت صدیقی نے بھی جنرل فیض پہ الزام لگایا کہ وہ عمران حکومت بنوانے کے لیے اپوزیشن لیڈروں کے کیسز میں مرضی کے بنچ بنواتے اور فیصلے لیتے رہے اور اس عمل میں اعلیٰ عدلیہ کے کچھ عناصر بھی ان کے حواری بنے رہے۔

نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے آخری دنوں میں عمران اور جنرل فیض کی چالیس سے زائد خفیہ ملاقاتوں نے ہی عمران خان کے لیے وزارتِ عظمیٰ کا دروازہ کھولا۔ دوسری جانب جنرل باجوہ نے چیف بنتے ہی یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ تین سال بعد توسیع لیں گے۔ چونکہ نواز شریف یہ کام نہ کرتے اس لیے عمران خان کو وزیر اعظم بنوا کر جنرل باجوہ نے 2019 ء میں ایکسٹینشن لینے کے ساتھ نومبر 2022 ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد فیض حمید کو نیا آرمی چیف بنانے کا منصوبہ بھی بنا لیا۔ اس سارے کھیل کے مرکزی کردار فیض حمید تھے جنہوں نے باجوہ کی توسیع ممکن بنائی۔ فیض حمید عمران خان کے سیاسی مخالفوں کو فکس بھی کرتے رہے اسی لیے عمران انہیں چیف بنانے کے خواہاں تھے۔ خان نے آن دی ریکارڈ کہا کہ انہیں ایوان میں کسی بل پر ممبرانِ اسمبلی کے ووٹ کی ضرورت پڑتی تھی تو انہیں ایجنسیوں کی خدمات حاصل ہو جاتی تھیں۔ فیض حمید نے عمران کے کہنے پر سیاسی مخالفین اور میڈیا اینکرز اور مالکان تک کو فکس کیا۔ ٹویٹر پر خان کے خلاف کوئی ٹویٹ آتا تو بھی فیض کی ٹیم کو کہا جاتا کہ وہ اسے ڈیلیٹ کرائیں۔ اگر کچھ صحافی مزاحمت کرتے تو کہا جاتا تھا کہ ٹویٹ ڈیلیٹ کریں یا خود کو نوکری سے فارغ سمجھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ فیض حمید نے یہ راستہ کیوں اختیار کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ڈیل کے تین کرداروں میں سے جنرل باجوہ اور عمران خان تو اپنا حصوں کی وصولی کرلی لیکن جنرل فیض کے ساتھ:

کھل کے گل کچھ تو بہار اپنی صبا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مرجھا گئے

والا معاملہ ہو گیا۔ عمران خان نے بھی محسوس کیا کہ باجوہ ان کے ساتھ بھی ہاتھ کر کے، شریفوں اور زرداریوں سے مل گئے۔ یوں جنرل فیض اور خان جنرل باجوہ کے خلاف ہو گئے او ایک خطرناک کھیل شروع ہوا۔ جنرل فیض نے ریٹائرمنٹ کے بعد خاموش زندگی گزارنے کے بجائے اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا بدلہ لینے کی ٹھان لی۔ اس لیے ملکی سالمیت اور قوم کی بھلائی کو پس پشت ڈالتے ہوئے ذاتی منفعت کے لیے 9 مئی کو اپنی پسندیدہ جماعت کو اپنے ہی سابق ادارے پہ چڑھ دوڑنے کا سبق سکھایا۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے پورے ملک میں 200 سے زائد مقامات پر سکیورٹی فورسز کے ارکان اور املاک پر حملے کیے، انہیں نذر آتش کیا اور شہداء کے مجسموں تک کی بے حرمتی کی۔ جس سے ادارے میں غم و غصے کی لہر دوڑنا لازمی امر تھا اس لیے اس قبیح ترین عمل میں فیض سمیت ملوث تمام لوگوں کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ کسی نے خوب کہا ہے۔

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے

اپریل 2022 میں عمران حکومت خاتمے کے بعد فیض حمید کورکمانڈر پشاور تھے تو ان کی مبینہ سیاسی سرگرمیوں میں تلوث کے الزامات پر جی ایچ کیو طلب کر کے وارن کیا گیا لیکن وہ باز نہ آئے تو انہیں پشاور سے بہاولپور تعینات کر دیا گیا جہاں چار ماہ خدمات کے بعد مستعفی اور آرمی چیف بننے کی حسرت لیے رخصت ہو گئے۔

قسمت تو دیکھ، ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کے واقعات پر جنرل فیض کی سروس اور ریٹائرمنٹ کے بعد ہونے والے تمام معاملات پر تحقیقات مکمل کر کے ان کے خلاف اگست 2024 میں کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کئی تھری سٹار جرنیلز کے خلاف کارروائی ہوئی ہے لیکن یہ دوسری بار ہے جب آئی ایس آئی کے کسی سابق سربراہ کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ جنرل فیض سے قبل جنرل اسد درانی کے خلاف کارروائی ہوئی تھی۔ اصغر خان کیس میں اسد درانی کا نام آیا تو انہیں آئی ایس آئی سے جی ایچ کیو بلوا لیا گیا تھا۔ سیاسی امور میں ان کی مبینہ دوبارہ مداخلت پر قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ تاہم سیاسی مداخلت کے الزامات کے برعکس فروری 2019 میں انڈین ایجنسی ”را“ کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مشترکہ کتاب لکھنے کے جرم میں ان سے رینک اور مراعات واپس لی گئیں۔ جنرل فیض اور جنرل درانی کے خلاف کارروائی میں فرق یہ ہے کہ جنرل درانی کے خلاف سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں اور عدالتیں کارروائی چاہتی تھیں جبکہ جنرل فیض کے خلاف کارروائی خود فوج چاہتی ہے۔ اگرچہ شکنجہ جنرل فیض کے گرد کسا جا رہا ہے لیکن وہ عمران خان کے لیے ہی سب کچھ کرتے رہے۔ اس لیے خان کو بھی ملٹری ٹرائل کے لیے فوج کے حوالے کیا جاسکتا ہے کیونکہ شنید ہے کہ ان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

Facebook Comments HS