شام میں تبدیلی اور ایران


پیغمبروں کی سرزمین شام سے اسلامی تاریخ کی عظمت رفتہ وابستہ ہے عرب دنیا میں شام کی تہذیب و ثقافت سب سے پرانی ہے۔ بشار الاسد خاندان اور بعث پارٹی کے تقریباَ 54 سالہ اقتدار کے خاتمے پر شام میں جشن کا سماں ہے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے لواحقین اور امدادی ٹیمیں آمر بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق کی بدنام زمانہ صیدیانا جیل میں اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں کیونکہ ہیئت تحریر شام (تنظیم آزادی شام) نے جیلوں میں قید بچوں اور خواتین سمیت تمام افراد کو آزاد کر دیا ہے شام میں مسلح اپوزیشن کی عسکری کارروائیوں کے سربراہ محمد ابو الجولانی نے بشار حکومت گرانے کے بعد دمشق کی مسجد اموی میں اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ ”بشار الاسد نے شام کو ایرانی خواہشات کی کھیتی بنا ڈالا اس نے فرقہ واریت پھیلائی اور بشار الاسد کے دور میں شام کیپٹاگون کی فیکٹری بن گیا۔

شام پر تقریباً 54 برس سے بعث پارٹی کی حکمرانی قائم رہی اور اسد خاندان نے سیاسی اختلاف کرنے والے ہزاروں افراد کو جبری قید و قتل اور جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا، حکومت نے اپنی ہی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جس سے ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہو گئے۔ 2011 ء میں تیونس سے شروع ہونے والی عرب بہار کے دوران شام میں بشار الاسد مخالف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج شروع ہوا مظاہرین نے جمہوریت و آئین کی بحالی، انسانی حقوق اور آزادی کے مطالبات کیے مگر ان سے مذاکرات کرنے اور مسئلے کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی بجائے بشار کی حکومت نے مظاہرین پر تشدد کر کے صورتحال کو خانہ جنگی میں بدل دیا جس سے پانچ لاکھ لوگ شہید لاکھوں زخمی اور 60 لاکھ شامی بے گھر ہو گئے مگر روس اور ایران کے عسکری تعاون کی بدولت بشار الاسد حکومت مخالفین کو کچل کر اپنے دور اقتدار کو وسعت دینے میں کامیاب رہے۔ بعث پارٹی کے حافظ الاسد ان کے بھائی رفعت الاسد اور ان کے صاحبزادے بشار الاسد نے شامی عوام اور اخوان المسلمون پر جو مظالم ڈھائے مہذب دنیا اس کا تصور نہیں کر سکتی۔ جس میں حلب شہر میں اخوان المسلمون کے چالیس ہزار کارکنوں کا قتل عام بھی شامل ہے مگر اب شام میں اسد خاندان کے لگ بھگ 54 سالہ ظالمانہ اقتدار کا خاتمہ پیغام دیتا ہے کہ عوامی احتجاج اور مزاحمت کے نتیجے میں طویل عرصے سے بر سر اقتدار آمرانہ حکومتیں بھی زوال پذیر ہو سکتی ہیں۔

بشارالاسد کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ منظم عوامی احتجاج کی طاقت، بین الاقوامی دباؤ، مشرق و سطیٰ کے بدلتے ہوئے حالات اور اندرونی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ ہیت تحریر شام نے دمشق کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد انجینئر محمد بشیر کو مارچ 2025 ء تک عبوری وزیر اعظم مقرر کر کے شامی پناہ گزینوں سے وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے شام واپس آنے کی اپیل کردی ہے۔ ہیت تحریر شام (ایچ ٹی ایس) کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ عیدالفطر دمشق میں منائیں گے مگر 10 دن کی تیز رفتار پیش قدمی کے بعد مسلح جنگجووں نے دمشق پر بغیر کسی ر کاوٹ کے قبضہ کر لیا ہے جبکہ بشار الاسد نے ماسکو فرار ہو کر سیاسی پناہ لے لی۔

13 سالہ خانہ جنگی کے دوران شام کی معیشت کو ڈھیر ہونے پر کیپٹاگون کی صنعت نے ہی حکومت کو مالی سہارا دیا، نشہ آور گولی کیپٹاگون کو ”غریب آدمی کی کوکین کا نام، دیا جا رہا ہے یہ منشیات اسد حکومت کو سالانہ پانچ ارب ڈالر فراہم کرتی تھی اسی وجہ سے CAPTAGON شام کی برآمدات میں سر فہرست ہے اور خطے میں استعمال ہونے والی کیپٹاگون میں سے 80 فیصد شام فراہم کرتا ہے۔

علوی خاندان کے نصف صدی سے زائد اقتدار کا خاتمہ ایران کے لئے کسی صدمے اور دھچکے سے کم نہیں کیونکہ نہ صرف حلب، حما اور جنوبی ادلب میں فوجی ڈھانچہ ایران نے تعمیر کروایا تھا بلکہ شام، ایران و حزب اللہ کے بیچ رابطوں کا حصہ تھا، ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنا قائدانہ کردار بڑھانے کے لئے دمشق میں بشار حکومت کو فوجی، دفاعی، سیاسی اور مالی معاونت فراہم کی مگر اب اسرائیل سے جنگ کے بعد حزب اللہ کی طاقت میں کمی اور اب اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کے لئے اس خطے پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایران جہاں ایک طرف اسلام، جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات کرتا ہے وہاں ایران نے نصف صدی سے شام پر قابض اسد خاندان کا ساتھ دے کر لاکھوں شامی شہریوں کے قتل عام اور انہیں پناہ گزین بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ شام کی 25 ملین آبادی میں 12 ملین شامی مہاجرین ترکی، لبنان اور دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔ اسد حکومت کا خاتمہ امریکہ، اسرائیل، ترکی اور سعودی عرب کے لئے ایک بڑا اسٹریٹیجک فائدہ جبکہ ایران، حزب اللہ اور روس کے لئے ایک دھچکہ و صدمہ ہے۔

اگرچہ ہیت تحریر شام نے شام کی جیلوں میں بند تمام قیدیوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شام سے بشار الاسد حکومت کے طویل دور کا خاتمہ ہو گیا ہے اور ہم نہ صرف شام کی خود مختاری اور سالمیت کو یقینی بنائیں گے بلکہ شام میں سیاہ دور کا خاتمہ کر کے کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کریں گے مگر شام میں افراتفری اور تشدد کا خدشہ موجود ہے اور خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق شام میں عسکری گروپوں کے درمیان ایک نئی خانہ جنگی شروع ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں جس سے شام کے 3 چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہونے کا اندیشہ ہے (دمشق میں مرکزی حکومت ہوگی، حلب میں ایک اسلامی حکومت اور باقی علاقوں میں ایک کرد حکومت قائم ہو سکتی ہے ) ۔

چونکہ جمہوری نظام اور بروقت شفاف انتخابات کا انعقاد ہی شام میں تمام مذاہب اور قومیتوں کو متحد رکھ سکتا ہے اس لئے اب شام کی وحدت و سالمیت کو برقرار رکھنے اور آگے تعمیر نو کا دشوار مرحلہ شروع کرنے کے لئے ایک وسیع البنیاد اور عبوری قومی حکومت کی تشکیل اس وقت بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے والے مسلح اپوزیشن ہیت تحریر شام کے سربراہ محمد ابو الجولائی کی سربراہی میں اپوزیشن گروپوں کو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔

Facebook Comments HS