ماضی کی خوش مزاج جیا امیتابھ بچن اتنی چڑچڑی کیسے ہو گئیں؟
ایک زمانہ تھا جب ہندی فلموں کی خوبصورت، بھولی بھالی، دلکش اور باوقار فلمی ہیروئن جیا بچن فلم بینوں کی جان تھی۔ لیکن اب نرم اور دھیمے مزاج کی جیا ایک چڑچڑی اور غصہ ور عورت میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اپنی بد مزاجی اور چڑچڑاہٹ کی وجہ سے وہ لوگوں کی تنقید کا موضوع بن گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ ان کی وائرل ہونے والی ویڈیو پہ کمنٹس میں انہیں فریسٹریٹڈ، ”گڈی“ کی ہیرؤین سے گھمنڈی اور بد دماغ بڈھی ”تک کہا گیا ہے۔ وہ ماضی کی دوسری اداکاروں مثلاً شرمیلا ٹیگور، وحیدہ رحمان اور نیتو سنگھ وغیرہ کی طرح نہیں رہیں جو بڑھاپے میں بھی خوش مزاج، مطمئن اور دلکش لگتی ہیں۔ اس کے برعکس جیا ہر وقت تیوروں پہ بل ڈالے کبھی فوٹو گرافرز، کبھی صحافیوں تو کبھی راجیہ سبھا میں مخالف رکن اسمبلی کے طور پہ گلا پھاڑ پھاڑ کے چیختی ایک ناپسندیدہ شخصیت بن چکی ہیں۔ (واضح ہو کہ وہ کئی برس سے اترپردیش کی سماج وادی سوشلسٹ پارٹی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔)
باوجود کامیاب فلمی اور سیاسی کیریئر کے، جس خلا نے جیا کی زندگی میں شدید کڑواہٹ، بے ہیجان، غصہ، یاسیت اور دوسروں پہ عدم اعتماد کی کیفیت پیدا کردی ہے اس کی ڈور ان کے ماضی کے ٹراما یا المیے سے بندھی ہوئی ہے۔ جس میں ان کے شوہر امیتابھ کی بے وفائی اور شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی مختلف ہیروئنوں مثلاً زینت امان، پروین بابی اور بطور خاص ریکھا کے ساتھ عشق کی داستانیں ہیں۔ جیا جنہوں نے امیتابھ سے سچی محبت کی تھی وہ ٹراما کی جس کیفیت سے گزری ہیں، نفسیات میں اس کے لیے پوسٹ انفیڈیلٹی اسٹرس ڈس آرڈر (پی آئی ایس ڈی) یا (پارٹنر بیٹریل) کی اصطلاح مستعمل ہے۔ یعنی پارٹنر کی بے وفائی کے بعد شدید جذباتی صدمے اور تناؤ کی کیفیت جو پی ٹی ایس ڈی کی کیفیت سے مماثلت رکھتی ہے۔ جوانی کے برسوں میں شوہر کی بے وفائی، دھوکے، اپنی محبت کی پامالی، کم وقعتی، بے بسی، محرومی اور غصے کا خاموش لاوا بڑھاپے میں، آتش فشاں بن کے نکل رہا ہے۔
ان کا مزاج ہر وقت قابو سے باہر کیوں رہتا ہے؟ شاید شعوری طور پہ اس سوال کا جواب خود انہیں بھی نہ معلوم ہو۔ جس کی تلاش کے لیے ہمیں امیتابھ، جیا اور ریکھا کے مابین محبت کی مثلث کو سمجھنا ہو گا۔
نو اپریل 1948ء کو پیدا ہونے والی جیا بہادری کے فلمی کیریر کا آغاز پندرہ برس کی عمر میں 1963ء میں مشہور ہدایتکار ستیہ جیت رے کی بنگالی فلم ”مہانگر“ سے ہوا۔ جیا کے والدین خاص کر صحافی، ادیب اور شاعر والد ترون کمار بہادری نے بیٹی کے فلمی کیریر کو بہت سراہا۔ ان ہی کے مشورے سے جیا پونا کے فلم اور ٹیلیویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا گئیں اور گولڈ میڈل کے ساتھ امتحان پاس کیا۔ گریجویشن سے پہلے ہی بمبئی میں ان کی اداکاری کی دھوم مچ گئی تھی۔ انہوں نے فلم ”گڈی“ سے ہندی فلموں کا آغاز کیا۔ جس کی شاندار کامیابی کے بعد ان کے پاس فلموں کی لائن لگ گئی۔ ستر اور اسی کی دہائی میں جیا کی شمولیت ہندی فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھیں۔ اور اس وقت کے بڑے ہیروز ان کے مقابل کام کرنا اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔
جس وقت جیا بہادری صف اول کی اداکارہ میں شمار تھیں، اسی زمانے میں ایک نوجوان امیتابھ بچن بمبئی کی فلم نگری میں ناکامیوں سے دوچار تھے۔ ان کا چھ فٹ تین انچ لمبا قد، اس وقت کے روایتی ہیرو کے حلیہ سے میل نہ کھاتا چہرہ اور شخصیت، سانولی رنگت اور گہری آواز ان کی ترقی کی راہ میں حائل تھے۔ امیتابھ آل انڈیا ریڈیو میں دو بار آواز کے ٹیسٹ میں ناکام ہوچکے تھے۔ ایک ابتدائی فلم ”ریشم اور شیرا“ میں رول حاصل کرنے کے لیے انہیں اندرا گاندھی کے سفارشی نوٹ کا سہارا لینا پڑا، جو ان کی والدہ تاجی کی گہری دوست تھیں۔ ان کے والد پروفیسر ہری ونش رائے بچن نے انگریزی میں ڈاکٹریٹ کیا تھا اور ہندی کے مشہور شاعر تھے۔ باوجود اس کے کہ امیتابھ کا گھرانا بارسوخ اور متمول تھا، ابتدائی دنوں میں امیتابھ کو بمبئی میں کچھ راتیں میرین ڈرائیو کی فٹ پاتھ کی بینچوں پہ گزارنی پڑیں۔
اپنی پہلی فلم ”سات ہندوستانی“ میں نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے کے باوجود امیتابھ کے کھاتے میں یکے بعد دیگرے کئی فلاپ فلمیں آئیں۔ وہ اتنے مایوس تھے کہ واپسی کا سوچ لیا تھا۔
ایسے میں پانچ فٹ دو انچ کی کوتاہ قامت مگر قد آور فنکارہ جیا بہادری، کو امیتابھ میں چھپے اداکاری کے جوہر نظر آ گئے تھے۔ اسی لیے جب بہت سی بڑی اداکاراؤں نے ان کے مقابل کام کرنے سے انکار کر دیا، جیا نے ان کے ساتھ اپنی پہلی فلم ”زنجیر“ سائن کی۔ جس میں امیتابھ نے اینگری ینگ مین کا کردار ادا کیا جو اگلے کئی سال ان کی پہچان بنا رہا۔ خوش قسمتی سے یہ فلم باکس آفس پہ کامیاب ترین ثابت ہوئی۔ پھر تو قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوتی ہی چلی گئی۔ چھ نیشنل، سولہ فلم فیر کے علاوہ کئی ایوارڈ ماضی کا اس وقت کا ناکام اداکار آج ہندی فلموں کا ”شہنشاہ“ کہا جاتا ہے۔ ٹائمز میگزین نے انہیں ”صدی کا اسٹار“ قرار دیا۔ وہ ”بگ بی“ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ”زنجیر“ کی کامیابی کے فوراً بعد جیا اور امیتابھ نے اپنے بہت روایتی اور سادہ انداز سے جون 1973ء میں شادی کر لی۔
سمی گروال سے اپنے ٹی وی انٹرویو میں جیا نے بتایا کہ امیتابھ سے وہ اتنی متاثر تھیں کہ انہیں ان سے (امیتابھ کے ساتھ اپنی محبت سے) خوف آتا تھا کیونکہ وہ ان کو خوش کرنا چاہتیں تھیں اور ان کی کسی بات کو رد نہیں کرتی تھیں۔ یہ انٹرویو ان کی شادی کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پہ لیا گیا تھا۔ امیتابھ نے کہا کہ انہیں جیا کا چہرہ اور آنکھیں پسند تھیں۔ جس میں انہیں روایت اور قدامت پسندی کا امتزاج نظر آیا تھا۔ اور وہ ایسی ہی بیوی چاہتے تھے۔
سمی گروال نے ان کے دو انٹرویوز لیے۔ جن میں باڈی لینگویج اور گفتگو کے اعتبار سے جیا کی امیتابھ کے لیے وارفتگی اور شوہر کی نظروں میں قبولیت جبکہ امیتابھ کی شخصیت میں غرور، مردم بیزاری اور خود پسندی صاف عیاں ہے۔ جنہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہ تھا کہ وہ جیا کی تعریف یا محبت کا عموماً بالکل اظہار نہیں کرتے اور ان سے بہت کم گفتگو کرتے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں ”یہ وقت کا زیاں ہے۔“
شادی کے بعد بھی امیتابھ اور جیا نے کئی فلموں میں بطور جوڑی کام کیا۔ مثلاً ابیہمان، چپکے چپکے، ملی، شعلے (جس کی فلم بندی کے دوران جیا پہلے بچے کی ماں بننے والی تھیں۔) 1974ء میں شریتا اور 1976ء میں ابیشیک کی پیدائش کے بعد جیا نے اداکاری کو تیاگ دیا، اب ان کی ترجیحات میں گھر اور بچے کی پرورش تھی۔ تاہم امیتابھ کی فلموں کا سلسلہ چلتا رہا۔ اور یہی وہ وقت تھا کہ ریکھا رومانوی پارٹنر کے طور امیت کی زندگی میں داخل ہوئیں۔
فلمی دنیا میں کامیابی کے باوجود ریکھا کو اصل زندگی میں اپنی قبولیت اور خوشیوں کے حصول لیے کڑی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے ماں باپ ساوتھ انڈیا کے بڑے فلم اسٹارز تھے۔ لیکن وہ جلد ہی علیحدہ ہو چکے تھے۔ ریکھا کی پیدائش اپنے والدین کی قانونی شادی سے قبل ہوئی تھی۔ ریکھا کو ناجائز اولاد ہونے کے علاوہ، گہری سانولی رنگت اور موٹاپے کی وجہ سے اسکول اور بعد میں فلمی دنیا میں بھی تمسخر کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ اپنے خول میں بند ہوتی چلی گئیں۔ دنیا کی ہزیمت ایک طرف خود ان کے باپ نے ہی بیٹی کو اپنے پیار سے محروم رکھا اور نہ ہی کسی قسم کا تحفظ دیا۔
اپنی اداکارہ ماں کی بیماری کی وجہ سے ریکھا کو بہت کم عمری میں گھر کا خرچہ چلانے کے لیے اسکول کی تعلیم چھوڑ کے بمبئی کی فلمی دنیا میں بغیر کسی سپورٹ کے رہنا پڑا۔ ان کی خودنوشت میں درج ہے۔ ”بمبئی ایک جنگل کی طرح تھا۔ جہاں میں بغیر کسی حفاظت کے تھی۔“ کمسن ریکھا مردوں میں تحفظ اور محبت کا سہارا ڈھونڈتی رہیں۔ ہر ایک نے انہیں دھوکہ تو دیا لیکن سچی محبت اور تحفظ سے محروم رکھا جس کی وہ بھوکی تھیں۔ وہ سب سے مایوس ہوئیں لیکن امیتابھ کی بارعب اور متاثر کن شخصیت نے اپنے سحر میں مبتلا کر دیا۔ جو فلمی سینما کے قدآور، متاثر کن اور با اعتماد ہیرو کی حیثیت سے شہرت کے بام پہ پہنچ چکے تھے۔
ریکھا کی خوبصورتی، بے باکی، متاثرکن اداکاری اور خوبصورت رقص نے فلم بین کے ساتھ ساتھ امیتابھ کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ دونوں نے سیٹ پہ شوٹنگ کے علاوہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ وقت گزارنا شروع کر دیا۔ ان کی پہلی فلم ”دو انجانے“ تھی جس کے بعد دونوں کے بیچ یگانگت کا رشتہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔ عوام کو ان دونوں کی کیمسٹری بہت پسند آئی تھی۔ نمک حرام، الاپ، مقدر کا سکندر وغیرہ چند مثالیں ہیں۔
جس وقت ریکھا اور امیتابھ کا رومان اپنے زوروں پہ تھا، جیا پوری تندہی سے دو ننھے بچوں اور گھرکی دیکھ بھال میں مصروف تھیں، اپنے شوہر کی ریکھا کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کے سلسلے سے بے خبر۔ لیکن عشق اور مشک بھلا کب چھپے ہیں۔ اخبارات میں دونوں کی قربت کی کہانیاں اور تصاویر شائع ہو رہی تھیں۔ چھوٹے موٹے معاشقے تو فلمی دنیا میں اداکاروں کا شیوہ رہا ہے۔ اس سلسلے میں امیتابھ بھی پلے بوائے کی شہرت رکھتے تھے لیکن ریکھا کے ساتھ اس گہری سطح پہ معاشقے اور بے وفائی کی خبروں کو قبول کرنا جیا کے لیے یقیناً بہت مشکل رہا ہو گا جو اپنے بچوں کے باپ اور شوہر کے ساتھ ہر صورت میں یہ رشتہ برقرار رکھنا چاہتی تھیں۔
ایک دن جب امیتابھ کسی شوٹنگ کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے، جیا نے ریکھا کو اپنے گھر رات کے کھانے پہ بلایا۔ تادیر بہت دوستانہ انداز میں گفتگو کی مگر جاتے وقت بس ایک جملہ کہا کہ ”میں امیت کو کبھی نہیں چھوڑوں گی۔“ ان کا یہ جملہ سن کر سناٹے میں آئی ریکھا کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ وہ امیت کے نام کا سیندور تو لگا سکتی ہیں لیکن شادی نہیں کر سکتیں۔ انہیں ان کی شادی شدہ زندگی سے نکلنا ہی ہو گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ امیت نے گھریلو، خاص کر والدین کے دباؤ کے سبب ریکھا کے ساتھ مزید فلمیں نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
1981 ء میں ان کی آخری فلم ”سلسلہ“ ثابت ہوئی۔ فلم کی کہانی کی بنیاد ان کی حقیقی زندگی تھی، جسے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر یاش چوپڑا نے بنایا۔ فلم میں جیا نے امیتابھ کی بیوی اور ریکھا نے محبوبہ کا کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جیا نے پہلے تو فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا مگر پھر اس لیے رضامند ہوئیں کہ کہانی کے آخر میں ان کا محبوب شوہر، امیتابھ بالآخر ان کی طرف لوٹ آتا ہے۔ شاید وہ امیتابھ کی گھر واپسی کو ہی اپنی فتح سمجھتی ہوں۔
ریکھا بھی امیت سے نہ ملنے کا عہد کرچکی تھیں مگر جب 1982 ء میں فلم ”قلی“ کے سیٹ پہ جب امیتابھ شدید زخمی ہوئے تو بے قرار ریکھا پھولوں کا گلدستہ لے کر ہسپتال جا پہنچیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جیا نے ان کو امیتابھ سے ملنے کی اجازت نہ دی۔
جیا اور امیتابھ کے درمیان اعتماد کا پل ڈھے جانے کے بعد بھی جیا کی شادی شدہ زندگی میں بہت پیچ و خم آئے جس میں امیتابھ کے حادثے کے بعد علاج، بیکاری کا لمبا دورانیہ، نوے کی دہائی میں ان کی کمپنی اے بی سی لمیٹڈ کا دیوالیہ ہو کر نوے کروڑ کا مقروض ہونا شامل تھا۔ ایسے میں کنگال اور بیوفا شوہر کو چھوڑنے کے بجائے جیا نے سترہ سالہ وقفے کے بعد فلم میں دوبارہ کام کرنے کا فیصلہ کیا اور ”ہزار چوراسی کی ماں“ میں اپنے کام پہ ایوارڈ لے کے ثابت کر دیا کہ امیتابھ کی بیوفائی کے زخم نے ان کے فن کی مہارت پہ آنچ نہیں آنے دی۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ اندر کے جن زخموں کو صرف ڈھانپ دیا جائے اور ان کے اندمال پہ کام نہ ہو تو وہ برسوں ہرے بھرے ہی رہتے ہیں۔ اور ان کا زہر نسلوں تک میں منتقل ہوتا ہے۔ میرے تجزیے کے مطابق امیتابھ اور جیا کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ امیتابھ کی بے وفائی کے زہر کو جیا بچوں اور گھر کی ساکھ کے لیے پی تو گئیں مگر اپنے آپ کو مضبوط عورت بنانے کے لیے اپنی خود وقعتی پہ کام نہیں کیا۔ اگر کیا ہوتا تو وہ امبانی کے بیٹے کی شادی میں گلے میں کروڑوں کی لاگت کا ہار اور تن پہ مہنگے ترین کپڑے سجانے کی محتاج نہ ہوتیں۔ وہ اپنی بہو ایشوریا رائے کو دل سے قبول کر کے اس کو آزادی سے جینے کا موقع دیتیں۔ بد کلامی، تلخ لہجے اور غصہ میں اونچی آواز سے اپنے اندر کا زہر دوسروں میں نہ اتارتیں۔ یہی کچھ امیتابھ کے رویے میں محسوس ہوتا ہے۔ بلاشبہ انہوں نے حوصلے کے ساتھ اپنی مالی مشکلات کو عبور کیا اور دوبارہ کروڑوں کی جائیداد اکٹھی کرلی۔ لیکن کاش خوشیوں کا پیمانہ صرف دولت ہی ہوتا۔ لگتا ہے کہ وہ آج بھی ماضی کے اینگری مین (غصیلے آدمی) ہیں۔ نجی زندگی میں وہ دوسروں سے اکھڑے رہتے ہیں۔ حتی کہ سگے بھائی سے بھی۔ ان کے پرانے دوست ان کے خودغرض اور مغرور رویے کے شاکی ہیں اور دور رہتے ہیں۔ وہ ان دوستوں کی بھی قدر نہ کر سکے جنہوں نے کڑے وقت میں ان کو سہارا دیا، بشمول اپنی بیوی کے۔ اس کا اظہار انہوں نے اپنے انٹرویو میں کیا کہ ”انہیں لوگوں سے ملنا نہیں پسند۔“ حالانکہ ان کی کمائی کا ذریعہ ٹی وی شو ”کون بنے گا کروڑ پتی“ کی کامیابی کا انحصار ہی ان کی لوگوں سے بات چیت پہ ہے۔
امیت اور جیا نے ریکھا کے معاملے میں ہمیشہ خاموشی برتی۔ سچ کا حوصلہ سب کے پاس نہیں۔ خاص کر جب وہ ہمارے مفاد سے نتھی ہو۔ جبکہ ریکھا نے اپنے انٹرویوز میں امیتابھ سے اپنی محبت کی وارفتگی کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس یک طرفہ محبت میں ہی سرشار رہتی ہیں۔ جبکہ امیتابھ میں کبھی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ اس تعلق کی ذمہ داری قبول کرسکیں۔ وہ کم سماجی حیثیت کی وجہ سے ریکھا کو رکھیل کے طور پہ تو قبول کر سکتے تھے جبکہ بیوی کے لیے روایتی اور قدامت پسند اونچے گھرانے کی عورت جیا بچن ہی قبول تھی۔ افسوس سماجی رتبے سے جڑے دوغلے رویہ میں وہ کسی کے ساتھ بھی انصاف نہ کر سکے۔
مجھے نہیں معلوم کہ امیتابھ اور جیا دونوں نے یا بچن گھرانے نے فیملی تھرپی کی اہمیت کو کس حد تک سمجھا۔ جس میں آپ اپنی غلطیوں کو قبول کرنے اور زخموں کو مندمل ہونے کا موقعہ دیتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کا اثر نسلوں میں منتقل ہوتا ہے جو ہم بچن گھرانے میں دیکھ ہی رہے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ماہر سائیکو تھرپسٹ ہونا ضروری نہیں۔
میری نظر میں جیا، امیتابھ اور ریکھا کی مثلث میں اگر کسی نے سب سے زیادہ اپنے پہ کام کیا تو وہ ماضی میں زمانے کی ٹھکرائی اور ہزیمت کے زخم اٹھائی ریکھا ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے باقاعدہ کسی سائیکو تھرپسٹ کی مدد لی یا نہیں، لیکن ان کے نہایت مثبت رویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کی محرومیوں کو قبول کر کے دوسروں کو معاف کرنے اور خوشی سے جینے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ انہوں نے جان لیا ہے کہ خوشیوں کی چابی آپ کے اندر ہی ہے۔ اور اس کا گر انسانوں سے بغیر توقع کے بے غرض محبت کرنا اور نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی غلطیوں کو درگزر کرنے میں ہے۔
حالیہ کپل شرما شو میں ریکھا نے ستر سال کی عمر میں بھی جوان رہنے کا راز بتایا کہ سب سے محبت کرو لیکن ”سب سے پہلے اپنے آپ سے محبت کرو۔“








میرے خیال میں ریکھا – امیتابھ کے تعلق کو بہت زیادہ اچھالا گیا جب کہ معاملہ رائی کے پہاڑ جیسا زیادہ تھا۔
دوستی یا ملنا یا قریب رہنا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی لیکن پاپا رازی صحافی اور دنیا انہیں ایک ہی نظر سے دیکھ کر جینے نہیں دیتی۔
پروین بابی شدید ڈپریشن اور نفسیاتی بیماری کا شکار تھی اور اسے خودساختہ یہ خیال تھا کہ امیتابھ اس کی محبت میں پاگل ہے۔ بعد میں کبیر بیدی نے اسے مدد کرنے کی کوشش کی مگر وہ علاج سے دور ہوچکی تھی۔
زینت امان 1978 میں کئی اداکاروں کے قریب تھی۔ 1978 میں سنجے خان سے شادی اور پھر علیحدگی اور اس کے بعد اس کے کئی اداکاروں سے معاشقے چلتے رہے۔ بہت بعد میں وہ مظہر خان سے شادی کرکے سیٹ ہوچکی تھی مگر مظہر کی 1998 میں موت کے بعد وہ پھر پلٹ کر نہیں آئی۔
ریکھا امیتابھ کے تعلق میں بھی یہ یک طرفہ زیادہ تھا۔ ریکھا کی طرف سے۔ 1978 میں ریکھا کا زبردست افیئر اس
کی فلم گھر کے ہیرو ونود مہرہ سے چل رہا تھا اور ایسے میں امیتابھ کو اس میں لانا خام خیالی ہے۔
ونود مہرہ نے اپنی ماں کی پسند سے ایک لڑکی سے شادی کی ہوئی تھی لیکن اسے بھی سچے پیار کی تلاش تھی۔ وہ ان
دنوں بھی ریکھا کے ساتھ بندیا گوسوامی کے ساتھ تعلق میں تھا۔
–
ونود کی ماں نے یہ سمجھا کہ ریکھا اس کی بہو کی دشمن ہے اور اس نے ریکھا کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ یوں ریکھا ونود سے دور ہوتی گئی اور یہ خلا بندیا گوسوامی نے پورا کیا۔
ریکھا اس وقت بری طرح توٹ چکی تھی اور مختلف اداکاروں کے ساتھ اس وقت بھی اس کے اسکینڈل سامنے آئے تھے جن میں امیتابھ کے علاوہ متعدد بزنس مین بھی شامل تھے۔ یہ مسئلہ بھی 1990 میں مکیش اگروال سے شادی اور اسکی
ناگہانی موت پر ختم ہوا
–
یہ درست ہے کہ اے بی لمیٹڈ نے امیتابھ کو مالی کنگلا کردیا اور اس کو واپس لانے میں جیا کا بہت اہم کردار تھا۔ کامیابی میں لیکن اصل ہاتھ کون بنے گا کروڑ پتی سے ملنے والا مالی فائدہ تھا جس نے امیتابھ کو ایک نئی زندگی دی۔
–
حالیہ دنوں میں جیا کے چڑچڑے پن کی وجہ امیتابھ نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو آپ نہیں چھو پائیں اور اسی مسئلہ نے ابھیشک اور ایشوریہ کی شادی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔
–
یہ جیا کی بیٹی "شویتا بچن” کی عائلی زندگی ہے۔ شویتا کی شادی ایک انتہائی امیر بزنس مین نکھیل نندا (ایسکورٹس لمیٹڈ) سے ہوئی۔ شویتا کی ساس "ریتو نندا” راج کپور کی بیٹی اور رشی کپور کی بہن ہے وہ خود ایک ڈسٹرب خاتون رہی ہے۔ نکھیل دراصل رنبیر کرشمہ اور کرینہ کا پھوپھی زاد بھائی ہے۔
–
شویتا پچھلے کئی سالوں سے اپنے شوہر سے الگ ہوکر (طلاق نہیں ہوئی ہے) اپنی ماں کے ساتھ رہ رہی ہے جہاں 50 سالہ شویتا کی کبھی بھی اپنی ہم عمر ایشوریہ سے نہیں بنی۔ ایشوریہ اور ابھیشک کے درمیان شویتا کی لگائی آگ اور مداخلت میں جیا بچن نے ہمیشہ اپنی بیٹی کو فوقیت دی اور یہ فی الوقت اس کے مزاج میں تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
–
فی الوقت جیا بچن اپنی زندگی میں ایک عام سی ہندوستانی ساس کا کردار ادا کررہی ہے جو غصیل بڈھی اور چڑچڑی ہی مانی جاتی ہے جب کہ اکلوتا بیٹا بھی اس سے دور ہورہا ہو اور اس کی بہو اگر ایک اچھی زندگی گزاررہی ہو جب کہ بیٹی اس کے گھر واپس آچکی ہو تو ایسا ہی عموماً ہوتا ہے جو بچن فیملی میں ہورہا ہے۔ قصہ مختصر حالیہ دنوں میں اس کے چڑچڑے پن کی وجہ امیتابھ نہیں بلکہ اس کی بیٹی شویتا نکھیل آنند ہے جو گھر بیٹھی ہوئی ہے اور الٹا بیٹی نے بہو بیٹے اور پوتی کے تعلق کو خراب کردیا ہے۔یہ ایک عام سی ہندو پاک کے گھرانے کی کہانی ہے جہاں نند بھاوج کے پھڈوں میں بہو کی ساس بیٹی کا ساتھ دیتی ہے اور بس !
بہت شکریہ تفصیلی جواب کا ۔ ہم پہ الفاظ کی قید ہوتی ہے۔ پھر بھی ہم سب کی مہربانی کہ وہ میری قواعد کی پابندی کا نہ خیال رکھنے کے باوجود چھاپ دیتی ہیں ۔ اسی وجہ سے اولادوں کا انفرادی طور پہ لکھنے کے بجاۓ اس ٹراما کا اثر نسلوں تک جاتا ہے لکھ دیا ہے۔ لوگ خود بھی جانیں ۔ مگر نظر میں ہر ساس اور بہو کے روایتی منافرتوں کا مسلئہ بھی سادہ نہیں ہوتا۔ اسی بھی کوئ جڑ ہوتی ہے اور زیادہ تر اسکا تعلق سماج کے روتی سے جڑا ہوتاہے۔ میں بطور سوشل سائنٹسٹ واقعات کو مرچ مصالحہ کے طور پہ نہیں بلکہ حقیقی تصویر دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میرے نزدیک سچ کی تلاش عبادت ہے۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ ہم سب مختلف زاویے سے سچ کی تلاش کرتے ہیں۔ آپکی شکر گذار ہوں کہ آپ نے مزضمون توجہ سے پڑھا اور راۓ دی۔
جوابی شکریہ۔
لیکن ضروری نہیں کہ آج کے پاپا رازی صحافیوں اور یوٹیوبرز کے سامنے اگر کوئی 76 سالہ خاتون سیاست داں چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرے تو اس کے ڈانڈے اس کے شوہر کی 35 سال قبل کی گئی "بادی النظر” کی بے وفائی سے جوڑے جائیں۔ میرا بہرحال ماننا ہے کہ موجودہ چڑچڑے پن کی وجہ بہو اور گھر آ بیٹھی بیٹی زیادہ ہیں۔
مرد اداکاروں کا المیہ بھی یہی رہا ہے کہ اگر ان کی کیمسٹری کو کسی اداکارہ کے ساتھ جوڑا جائے اور کہیں اٹھ بیٹھ بھی رہے ہوں تو مصالحہ لگانے والوں کو موقع مل جاتا ہے۔
پاکستان میں ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ جتنی دیر ندیم اور شبنم ایک دوسرے کے شوہر رہے ہیں (اتنا روبن گھوش شبنم کا شوہر نہیں رہا)۔
سلطان راہی بمقابلہ آسیہ اور پھر انجمن کے معاملے کو دیکھ لیں۔ راہی صاحب چونکہ چلتے پھرتے ان اسکینڈلز کی نفی کرتے تھے اس لئے وہ اتنے بدنام نہیں ہوئے لیکن امیتابھ کی وجاہت قد اور معاملہ کچھ اور تھا۔ یہ اور بات کہ ان کی فلموں پر پیسہ لگانے والے ایسے اسکینڈلز کو خود بھی بھڑکاتے ہیں تاکہ ان کی فلم کی پبلسٹی ہوتی رہے۔
حالیہ "الو ارجن” کی پشپا ٹو کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اب چونکہ انڈیا میں لونگ ریلیشن عام بات بن چکی اس لئے اب اسکیندلز پر کوئی غور نہیں کرتا۔
–
شویتا کی ناکام شادی کو کامیاب بنانے کے لئے جیا نے ایک اور قدم اٹھایا تھا اور کوشش کی تھی کہ ابھیشک کی شادی وٹے سٹے جیسی ہوجائے یعنی شویتا کی شادی کامیاب کرنے کے لئے ابھیشک کی شادی "کپور خاندان” کی کسی لڑکی سے ہوجائے۔ مگر کرشمہ اور کرینہ دونوں نے جھنڈی دکھادی۔
–
ایشوریہ ۔۔۔جیا کے لئے ایک مجبوری تھی اور ایک ماں کے لئے بہت تلخ ہوتا ہے کہ بیٹی گھر آ بیٹھے اور کسی اور کی بیٹی یعنی اس کی بہو (بیٹا نہیں) اس کے گھر میں خوش و خرم ہو۔۔۔۔۔۔ پھر یہی لاوا گھر میں اور گھر کے باہر ہر جگہ پھوٹنے کو تیار ہوتا ہے۔
فلمی اداکارائیں کو عموماً علم ہوتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی شادی کو کامیاب رکھنا ہے تو کیا کرنا ہوگا۔
ہیما مالنی ہو یا ڈمپل کپاڈیہ، ریکھا، سمیتا پاٹل، بندیا گوسوامی، زرینہ وہاب، پروین بابی، راکھی (گلزار)، ۔
ساریکا (کملا حسن) اور زینت امان۔۔۔ یہ سب خود ایک مسئلہ رہیں
اور شادیوں میں ناکام رہیں
دلیپ صاحب سے زیادہ کسی کے کیا اسکینڈل رہے ہونگے لیکن سائرہ بانو نے آرام سے زندگی گزاری۔
دوسری طرف جیا بچن کی طرح شبانہ اعظمی یا نیتو سنگھ کودیکھا جائے تو انہوں نے کامیاب عائلی زندگی کے لئے فن کو قربان کردیا اور وہی راستہ اختیار کیا جو شرمیلا ٹیگور نے اپنایا تھا۔
–
خود انڈین فلمی صنعت کے لوگ بھی یہی مانتے ہیں کہ جیا بچن کے موجودہ نفسیاتی مسائل کے ڈانڈے کم عمری میں ہونے والی شویتا کی ناکام شادی سے ملتے ہیں ۔
میں سالہا سال سے مینٹل ہیلتھ اور منشیات کے شعبے سے منسلک ہوں۔ میرا خاص رجحان اور سرٹیفیکیشن پوسٹ ٹرامیٹک اسٹرس ڈس آرڈر میں ہے ۔ اپنے سالوں کے تجربے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچی ہوں کہ انسان اپنے اسٹرس سے بچنے کے لیے جو مدافعتی حربے استعمال کرتا ہے وہ بہت نقصان پہنچاتے ہیں ماسوا چند کے۔ نفسیات میں اسے ڈیفنس مےکنزم کہتے کہا جاتا ہے۔ فرائیڈ اور اسکی بیٹی اینا فرائیڈ نے انکو تفصیل سے بتایا ہے ۔ گوگل کیجیے ۔ میں مصالحہ دار مضمون لکھنے یا سستی شہرت کی بیماری میں مبتلا نہیں۔ ساری عمر استاد رہی ہوں تو اپنا حقیر سا علم دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہوں۔ میری ماسٹرز سوشل ورک اور مائیکرو بیالوجی میں ہے لیکن مجھے مسلۓ کی جڑ تک پہنچنے کی عادت ہے۔ مجھے جیا سے ہمدردی ہے۔ اگلے اسکی بیٹی اور بیٹے کے مسائل اس کی کڑی ہے۔ تراما نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ جیسے غربت اور نسلی تفریق کا ٹراما۔ ہوسکے تو generational trauma کے اثرات پہ Ted talk دیکھیے یو ٹیوب پہ۔ بہت شکریہ
شکریہ۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا کبھی امیتابھ یا ریکھا نے اقرار کیا کہ وہ ایک دوسرے میں اتنا ملوث تھے کہ جسے جیا سے بے وفا قرا ر دیا جاسکے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا۔
جب کہ انہی ادوار میں ریکھا دوسرے مردوں کے ساتھ نئے رشتے بنا رہی تھی۔
آپ مجھ سے بہتر جانتی ہوں گی کہ مرد اور عورت کے درمیان صرف ایک ہی رزتہ نہیں ہوتا۔
پروین بابی مرنے سے چند سال پہلے جب ادویات اور منشیات لے رہی تھی کبیر بیدی اسے سہارا دے رہا تھا۔ لیکن کسی غلط معنوں مین نہیں مگر پاپارازی نے اسے بھی گھسیٹ لیا تھا۔
–
پروین یک طرفہ محبت میں گرفتار تھی جب کہ زینت امان کے افیئر گننے کے لئے ہاتھ کی انگلیاں کم پڑجاتیں-
–
ریکھا نے متعدد مرتبہ اقرار کیا کہ وہ امیتابھ سے حد درجہ عقیدت رکھتی تھی اور اس کو متعدد مرتبہ مینٹور بھی مانتی تھی۔ کیا جیا یا کسی اور نے ریکھا امیتابھ کو قابل اعتراض دیکھا۔ کوئی ریکارڈ نہیں۔ بلکہ جن دنوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے ریکھا کئی مردوں کو ڈیٹ کررہی ہوتی تھی۔
–
اصل پریشان زندگی ریکھا نہ گزاری تھی کہ والدین کی شادی سے پہلے پیدائش اور باپ کا اسے نہ پالنا۔
ہیلن کی زندگی پڑھیں۔ ان سب کا پروین کی طرح چڑچڑا ہونا یا منشیات کی طرف جانا بنتا تھا لیکن نہیں گئیں۔
–
آپ نے جس بے وفائی کو امیتابھ سے منسوب کیا وہ محض کہانی اور سن سنائی بات زیادہ ہے۔
–
ایک مریضۃ جیا سے آپ ملی نہیں ۔ اور کہانیوں سے نتیجہ اخذ کرلیا۔ کیا ضروری ہے ایسا ہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے جیا نے کبھی اسے کوئی اہمیت ی نہ دی ہو۔
ممکن تو یہ بھی ہو کہ جو آپ نے قیاس لگایا وہ درست ہو لیکن معروضی شواہد ناکافی ہیں۔
–
میرا موقف یہ بھی تھا کہ ہر معاملے اور عورت کی کسی مشکل میں ایک مرد کو ڈھونڈ کر اسے الزام دے دیا جاتا ہے اور چھٹی ہوئی۔
–
فلموں میں جیا کی آنکھیں اور ہونٹ ضرور مسکراتے تھے لیکن کیا اصل زندگی میں بھی وہ ان دنوں مسکراتی تھی ۔ کیا آپ کو علم ہے۔
آپ مے کہا چڑچڑاپن کی وجہ نسلوں تک چلتا ہے تو کیا آپ نے جیا کی شادی سے ٌپہلے کی زندگی کو کھنگالا۔ میرے پاس تو وہ معلومات بھی ہیں۔
–
چند لوگوں کی خود نوشت، اخبار کے انٹرویوز، کپل شرما اور سیمی گریوال کے انٹرویو ہی نہیں کرن جوہر اور تیس ساک پرانے انٹرویو بھی مجھے یاد ہیں۔
–
فرائیڈ اور اس کی بیٹی کی تحقیق اپنی جگہ لیکن اگر بنیاد۔۔۔شک قیافہ یا قیاس پر ہو تو ایسی بیماری کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں جس میں عورت کی ہر کمزوری کو مرد سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
–
اگر آپ کے پاس فرائیڈ ہے تو میرے پاس اسلامی تعلیمات بھی ہے جس کی رو سے آپ بھی متعدد غلط باتوں کا ارتکاب کررہی ہیں۔ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنا۔ جو سچ ہو بھی سکتی ہیں اور نہیں بھی۔
–
بہرحال شکریہ۔
worth to read following as well
Amitabh Bachchan And Jaya Bhaduri’s Love Story, From His Linkup With Rekha To Their 50 Married Years
https://www.bollywoodshaadis.com/articles/love-tale-of-amitabh-bachchan-and-jaya-bhaduri-bachchan-4715
یہ بات دل چسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ 1981 میں ریلیز ہونے والی سلسلہ سے کچھ عرصے پہلے چٹ پٹے رسائل ریکھا کے ونود مہرہ اور ایک کم معروف بزنس مین سے ناکام عشق کے بعد اسے شادی شدہ امیتابھ کے ساتھ جوڑ رہے تھے جس میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ اگروال سے ریکھا کی شادی بہت بعد میں ہوئی تھی۔
–
1980 میں جب یش چوپڑا نے سلسلہ کا اسکرپٹ پڑھا تو فلم کے رائٹر اور کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ یہ ریکھا امیتابھ اور جیا کی کہانی بن جائے گی۔
–
اس فلم کے لئے پروین بابی (ریکھا) اور سمیتا پاٹل (جیا) کے کرداروں کے لئے پہلے منتخب کی گئیں مگر بات نہیں بنی۔ ہیرو میں بھی مختلف لوگ دیکھے گئے۔ امیتابھ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کیوں کہ اس کی شہرت مار دھاڑ اور اینگری ینگ مین ہیرو کے جیسی تھی اور رومانوی کرداروں میں اس کو ناکام سمجھا جاتا تھا بلکہ فلم بین دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ مگر امیتابھ کسی طرح سے لیڈ کاسٹ میں آگیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی ہیروئن منتخب نہ ہوپائی تو یہ امیتابھ کا مشورہ تھا کہ جیا اور ریکھا کو کاسٹ کیا گیا۔ فلم کی کہانی نویس ساگر سرحدی پدمنی کولہا پوری کو ریکھا کے کردار میں دیکھنا چاہتے تھے۔
–
جیا کہ بچے بڑے ہوچکے تھے۔ کچھ امیتابھ اور کچھ یش چوپڑہ کی محنت تھی جو یہ تینوں فلم میں آگئے اور پھر رہی سہی کسر چٹ پٹے رسائل نے پوری کردی اور فلم اپنے گانوں سے زیادہ اس مثلث کی وجہ سے ہٹ ہوگئی اور لوگ آج تک اس اسکینڈل کو سچ سمجھتے ہیں۔ ریکھا شروع سے آج تک جیا کو دیدی بھائی کہتی ہے ۔ لیکن کون سنتا ہے۔
–
فلم کی ریلیز کے بعد بھی نقاد استوری سے زیادہ اس اسکینڈل کو کہانی میں ڈھونڈتے رہے جس کو کوئی تعلق ان کی زندگیوں سے نہیں تھا۔ بالی ووڈ میں رہنے والے اچھی طرح جانتے تھے کہ اصل کہانی کیا ہے جو کچھ نہیں تھی۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس فلم کا گانا "رنگ برسے بھیگے چنر والی رنگ برسے” جو امیتابھ بھنگ پی کر گاتا ہے اس کے شاعر امیتابھ کے والد ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن تھے۔
اور سوچنے کی بات ہے کیا جیا۔امیتابھ اور ڈاکٹر بچن بے وقوف تھے جو ایسی کسی فلم کو پروموٹ کررہے تھے جو ان لوگوں کی زندگی خراب کرسکتی تھی۔