دنیا کی عظیم ہستی کو 88 ویں سالگرہ مبارک
اکتوبر 1960 کے آخری ہفتے میں اپنا دورہ مکمل کرنے کے بعد جب آپ روانگی کے لیے گلگت ائرپورٹ پہنچے تو ایک غیر ملکی صحافی نے سوال کیا کہ ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان آپ واحد عالمی رہنما ہیں جنہوں نے پہلی بار شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا ہے۔ آپ نے اپنے ہفتہ بھر کے دورے کے دوران اس علاقے میں کیا دیکھا؟ آپ نے فرمایا کہ ”میں نے ایک خوفناک ڈرانے والی غربت دیکھی،“ صحافی نے پھر سے پوچھا ہز ہائنس اس خوفناک غربت کے خاتمے کے لیے اپ کیا اقدامات کریں گے؟ آپ نے فرمایا کہ ہم اس غربت کو ختم کرنے کے لیے دن رات ایک کر کے کام کریں گے اور تب تک کریں گے جب تک ہمارے روحانی بچے اور یہاں بسنے والی دیگر کمیونٹیز اس غربت سے باہر نہیں آ جاتیں۔ اس دن کے بعد شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان نے اپنے روحانی فرزندوں کے ساتھ ساتھ اس خطے میں بسنے والی دیگر برادریوں کی خوشحال زندگی کے لیے کام نہ کیا ہو۔
آپ نے غربت کے خاتمے کے لیے یہاں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) جیسا ایک نجی، غیر منافع بخش ادارہ قائم کیا جس نے گلگت بلتستان اور چترال (GBC) کے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام شروع کیا جس سے ان علاقوں کے لوگوں کے سماجی و اقتصادی حالات بہت بہتر ہوئے۔ آپ نے غربت اور جہالت کے خاتمے کے لیے تعلیم کے شعبے میں یہاں پہلے پرائمری، پھر مڈل، پوسٹ سیکنڈری اور پھر ہایئر سیکنڈری جیسے معیاری اسکول بنائے ہیں، اور مزید معیاری تعلیم کو فروغ دینے کے لیے، پروفیشنل ڈویلپمنٹ سینٹر، نارتھ (PDC، N) قائم کیا گیا جو گورنمنٹ اور نجی غیر منافع بخش اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے AKU۔ IED کے توسیعی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔ صحت کے شعبے میں آپ نے سب سے پہلے یہاں چھوٹے ہیلتھ یونٹس بنائے تاکہ لوگوں کی مشکلات کم ہو سکیں۔ اس سے قبل خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران شدید تکلیف سے گزرنا پڑتا تھا بلکہ کئی خواتین موت کے منہ میں بھی چلی جاتی تھیں، اب گلگت شہر میں آغا خان ہسپتال قائم ہوا ہے جس میں علاج کا ایک الگ معیار ہے۔ جو علاج ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں ہوتا تھا وہ اب گلگت میں بھی ممکن ہے۔
اس کے علاوہ آپ نے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) بنایا جو کہ خاص طور پر ایشیا اور افریقہ میں ضرورت مندوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے وقف ہے اور یہاں گلگت بلتستان اور چترال میں اس تنظیم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ہم آغا خان کی مزید خدمات کی بات کریں تو کووڈ۔ 19 جیسی مہلک وبا پر قابو پانے کے لیے ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان کے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ تعاون کو کون بھول سکتا ہے، اور اب جب کہ پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہی ہے وہاں ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان ان آفات سے نمٹنے کے لیے اپنے وژن کا اشتراک کر رہے ہیں۔
یہ تو ہیں ہز ہائنس کی خدمات، اب ان کی روحانی زندگی پہ بھی بات کرتے ہیں۔ اگر ہم شیعہ اسلام اور سنی اسلام کے بنیادی عقائد کو مختصراً بیان کریں تو یہ ہو گا کہ شیعہ اسلام حضرت محمد ﷺ کے بعد امامت کے قائل ہیں، اور امام اہلِ بیتِ ہی سے ہوتا ہے اس لیے حضرت علیؑ ان کے پہلے امام ہیں، جبکہ سنی اسلام حضرت محمد ﷺ کی سنت کے پیروکار ہیں۔ شیعہ اسلام میں بھی رسول پاک کی سنت کے ساتھ بڑی عقیدت ہے لیکن سنت کے پیروکار نہیں، جبکہ سنی اسلام میں اہلِ بیتِ کے ساتھ عقیدت ایک خاص مقام رکھتی ہے لیکن سنت کے پیروکار امامت کے قائل نہیں ہیں۔
ہز ہائنس آغا خان کا اصل نام مولانا شاہ کریم الحسینی ہے اور وہ حضرت امام علی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق کے بعد شیعہ اسلام دو فرقوں میں بٹ گیا، ایک گروہ نے حضرت امام جعفر صادق کے بیٹے حضرت موسیٰ کاظم کو امام مانا، انہیں اثنا عشری یا اہل تشیع کہا جاتا ہے جو شیعہ اسلام کا سب سے بڑا فرقہ ہے، جب کہ دوسرے فرقے نے حضرت امام جعفر صادق کے دوسرے بیٹے حضرت امام اسماعیل کو امام مانا، وہ اسماعیلی کہلاتے ہیں۔ ان کو اب آغا خانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ پرنس کریم آغا خان اسماعیلی فرقے کے 49 ویں امام ہیں جبکہ آغا خان چہارم ہیں۔ آغا خان ایک لقب ہے، آغا خان کا لقب ان کے دادا کے دادا امام شاہ حسن علی شاہ ( جو اسماعیلی فرقے کے چھیالیس امام تھے ) کو دیا گیا تھا جو تہران کے بادشاہ فتح علی شاہ قاچار نے دیا تھا۔ سر آغا خان سوئم جو پاکستان کے بانیوں میں سے ہیں اور اسماعیلی فرقے کے 48 ویں امام تھے کی وفات کے بعد آپ کو 21 سال کی عمر میں 1957 کو امامت کی تخت نشینی ملی تھی، آج 13 دسمبر 2024 کو ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان کے مریدوں نے اپنے زمانے کے امام کا 88 واں یوم ولادت منایا۔
انسانیت کی خدمات میں اسماعیلی ائمہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ تقریباً گیارہ سو سال قبل تعلیم کے میدان میں اسلام کی پہلی جامعہ، جامعہ الازہر جو کہ مصر کے شہر قاہرہ میں واقع ہے، کو بھی اسماعیلی امام ہی نے بنایا تھا اور آغا خان یونیورسٹی، ہسپتال بھی پرنس کریم آغا خان ہی نے بنایا ہے۔ پاکستان بنانے میں مرکزی کردار سر آغا خان سلطان محمد شاہ نے ادا کیا جب کہ گوادر کو عمان سے خرید کر آغا خان نے پاکستان کو بطور تحفہ دیا ہے۔
اگرچہ اسماعیلی ائمہ کی خدمات کو ایک مضمون میں قلمبند کرنا ممکن نہیں، کتابیں لکھنی پڑیں گی، لیکن یہ مضمون آج پرنس کریم آغا خان کی 88 ویں سالگرہ کے موقع پر لکھ رہا ہوں۔ اپنی عمر کے اس حصے میں وہ اپنی روحانی اولاد اور پوری انسانیت کی بہترین فلاح کے لیے دن رات کوشاں رہتے ہیں۔
مولانا حاضر امام آپ کو 88 واں یوم ولادت بہت بہت مبارک ہو۔


